اشاعتیں

مضمون لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تکبر سے کیا حاصل؟

تصویر
تکبر کے معنی غرور ، گھمنڈ ، خود پسندی ، شیخی، فخر ، پرواہ نہ کرنا ، سالک کا اعمال سے بے اعتنائی اور خود بینی کے لۓلیئے جاتے ہیں . غرور کا سر نیچے یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ جو غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کی دنیا اور آخرت دونوں خراب ہو جاتیں ہیں . حديث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے گرا دیتے ہیں " دوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح سے دنیا تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک امریکی سپر پاور، بڑی طاقت ، دوسرا روسی سپر پاور بڑی طاقت اور تیسری دنیا جو دونوں کے ساتھ دوستی اور غیر جانبداری کا برتاؤ کرتی ہوئی ہردو سے دوستانہ تعلقات کو قائم کئے ہوئے ہے   اسی طرح سے مسلم معاشره بھی آج تین حصوں میں بٹ چکا ہے ایک دولت مند طبقہ ، دوسرا حاسدین اور تیسرا جو ان دونوں کو برداشت کر رہا ہے . دولت مند طبقہ اپنی جائز اور ناجائز دولت کے بل بوتے پر ساری کمیونٹی کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لئے آئے دن سماج میں نت نئے شیطانی حربے ایجاد کررہا ہے جس کی وجہ سے سماج پراگنده اور متردد قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوچکا ہے آج بہت ہی گندے اور واہیات قسم کے ...

آداب گفتگو یا انداز بیاں

تصویر
گفتگو ہی وہ واحد ذریعہ ہےجس سے بنی نوح انسان ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرتا ہے ، جانور اور انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق زبان کا ہے ، اور اس زبان کے تعلق سے اسلام ہی و ہ واحد مذہب ہے جس نے گفتگو کے آداب سکھائے ہیں انسان کو معاشرتی زندگی جینے کے لیے دوسرے آداب و اطوار کی جس طرح ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایک بہتر شہری کی پہچان بنانے کے لئے گفتگو کے آداب کو ملحوظ رکھنا یاخود پر لازم کرنا اشد ضروری ہے ، مذہب کی پہچان سب سے پہلے رویہ سے اجاگر ہوگی اور ہمارے پیارے بنی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان مبارکہ ہے کہ " تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں . " اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود پیکر حسن اخلاق اور اسوہ حسنہ میں ایک عظیم مثال ہیں اور انسانیت کی فلاح و نجات اسوة الحسنہ کی اتباع میں پوشیده ہے ، ہر قوم کے نبی کا پیغام واحد لاشریک کی عبادت کےساتھ حقوق العباد تھا اور اس حقوق العباد کے بنیاد کی سب سے پہلی اینٹ حسن خلقی ہے جو اللہ کی خلقت کے ساتھ کی جانی ہے اور اس حسن خلقی کی اینٹ شائستہ گفتگو کی بھٹی میں جل کر تیار ہوگی تب کہیں جاکر مضبوط ب...

پھلوں کے فوائد

تصویر
   ہماری روز مرہ زندگی میں سبزیاں اور پھل بہت اہمیت کے حامل  ہوتےہیں ان کے استعمالات ہماری بہتر صحت  اور آئے دن لاحق ہونے والی بے شمار بیماریوں سے بچنے کا بہتر اور موثر ذریعہ ہیں ۔ پھل ہمیں قدرتی طاقت اور قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں اور دوائیوں سے دور رہنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں. جہاں تک ہو سکے ہم پھلوں کو صبح نہار منہ یعنی نہار پیٹ استعمال کریں تاکہ ان کی قدرتی صلاحیت کو بہتر طورپر استعمال میں لانے والے بن سکیں ۔     ہر پھل میں کچھ نہ کچھ خصوصیت پائی جاتی ہے ۔ جو ہماری صحت پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے ـ بشرطیکہ اس کا صحیح اور بہتر طریقہ استعمال عمل میں لایا جائے۔       ⬅️ شیریں پھل:  جو کہ قدرتی طورپر سورج کی حرارت کے ذریعہ پکتے ہیں ، ان میں شکر اور دوسرے طاقتور اجزاء زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔       ایسے پھلوں میں دوسرے پھلوں کی بنسبت نشائستہ اور شکر زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ دوسری قسم کی شکر کے مقابلہ میں زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتی ہے ۔ اور یہ انسانی جسم کی نشوونما اور طاقت میں اضافہ کرنے میں ب...

نوجوانوں کی خودکشیاں ... سماجی برائی کا عروج لڑکیوں کی بہ نسبت لڑکوں کی زیادہ ریکا رڈ کی گئی ! نوجوان نسل بزدلی کا شکار ... اضلاع میں تشویش کی لہر ....

تصویر
آئے دن نہ سہی ماه دو ماہ میں اضلاع میں اموات کی خبروں میں ایک خبر ضرور خودکشی کی سننے کو ملتی ہے اور خودکشی بھی کسی ضیعف شخص یا عورت کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے نوجوان غیر شادی شده تو کبھی شادی شده کی ، خود کشی کرنا گناہ ہے اس بات سے ہم سب واقف ہیں اور اسلامى تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے پھر کیوں کی جاتی ہیں یہ خودکشیاں کون ہیں اس شیطانی حرکت کے ذمہ دار ، وجوہات اور اسباب جاننے کے لئے ہمیں سماج کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ان خودکشیوں کے پیچھے کہیں سماجی عناصر کا بڑا ہاتھ تو نہیں ہے ؟      انسان کی زندگی قدرت کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے اس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ، انسانی جسم اور اسکی روح دونوں پر اللہ تعالٰی نے انسان کے لئے کچھ اصول و ضوابط قائم کئے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ چند احکامات اتارے گئے ہیں قدرت کی طرف سے جس کو عمل میں لاکر وہ دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتا ہے . اگر اس میں ذرا سی بھی لاپرواہی یا بددیانتی و کوتاہی اختیار کی گئ تو پھر پکڑ میں آجائے گا .  جس طرح سے ہم دنیا میں آنے کا اختیار نہیں رکھتے اسی طرح سے دنیا سے ج...

يوم جمہوریہ ... ملک کی سالمیت کا ضامن

تصویر
ایسا تہوار جس کو بھارت کا ہر شہری مناتا ہے قومی تہوار کہلاتا ہے کیونکہ اس قسم کے تہواروں میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ، 15 / اگست يوم آزادی، 26 / جنوری يوم جمہوریہ ، گاندھی جینتی 2 / اکتوبر ، يوم اطفال 14/ نومبر قومی تہوار مانے جاتے ہیں ، جن میں يوم آزادی اور يوم جمہوریہ کو ہندوستا نى عوام بڑے پرجوش انداز میں مناتی ہیں کیونکہ یہ دو قومی تہوار ہندوستانیوں کے لئے کافی اہمیت کے حامل ہیں اس لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں اور ہر محکمے میں ترنگا لہرا کر ہم اپنی یک جہتی اور سالمیت کی پہچان بتاتے ہیں خوشیاں مناتے اور یہ بھی ظاہرکرتے ہیں کہ اپنے ملک کے امن اور خوشحالی میں ہم سب شراکت دار ہیں  . ایک جمہوری میں سماج میں بسنے والے مختلف قسم کے لوگوں کے خیالات کی یکسوئی ہوتی ہے اس کے علاوہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ افراد کی روک تھام جمہوری طرز حکومت ميں کی جاتی ہے یہاں پر حکومت کی دسترس سے ہر غلط فعل اور ہر غلط ہاتھ خود کو نہیں چھڑا سکتا ہے . انگریزوں کی غلامی سے ہمارا ملک سونے کی چڑیا سے ایک مٹی کی کلیا میں تبدیل ہوگیا سماجی رہنماؤں اور ساری ملک کی عوام نے ملکر ملک ...

مدرسہ سماج کی بنیاد ہے .... مریال گوڑه میں تعلیمی میلہ کا انعقاد

تصویر
 شریمتی جیوتی بائی پھولے کی يوم پیدائش کے موقع پر 3 / جنوری کو بمقام منڈل پر جا پریشد آفس ، مریال گوڑه ، ضلع نلگنڈہ میں منڈل سطح پر ایف ۔ ایل ۔ این پہلا قدم کے تحت تدریسی و اکستابی اشیاء کے شاندار میلہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں تلگو و اردو میڈیم تحتانوی سطح کے ستر سرکاری مدارس کے اساتذہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحتیوں کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہمہ اقسام کے تمام مضامين کے تیار کرده چارٹس کی نمائش کی ، بہتر سے بہترین چارٹس جو کہ معلم کے لئے ایک معاون کی حیثيت رکھتے ہیں . اور جو کہ اسباق کی مناسبت سے تیار کئے جاتے ہیں طلباء کے اندر شعور بیدار کرکے سبق کو با معنی اور فائده مند بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں منتظمین کی زیر نگرانی اپنے اپنے کامپلیکس کے تحت لائے گئے ان چارٹوں کے میلہ کا افتتاح رکن اسمبلی جناب این بھا سکراؤ صاحب کے ہاتھوں عمل میں لایا گیا جھنوں نے اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہر ایک استاد کو انعام کا مستحق قرار دیا اور کہا کہ استاد مدارس میں اسی طرح سے بچوں کو اپنے تدریسی و اکتسابی اشیاء کے ہمراہ درس و تد...

شبعہ اردو جامعہ عثمانیہ کا ایک روزہ سیمینار .... سماج میں انسانی اقدار و مساوات ... بين الاقوامی دانشوران کی اصلاحی و فکری تحریک !

تصویر
 رب ذوالجلال والاکرام نے حضرت آدم اور حضرت حواکو جس وقت زمین کی نظر کیا  تب ہی سے ہم پر اقدار اور مساوات جیسے کردارکے نظام کو بھی جاری و ساری کردیا گیا ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواکے دونوں بیٹے ہابیل اور قابیل  کی ایک دوسرے پر مخالفت کردار ی کی ضرب نے روئے زمین پر اقدار کے وصف کو  ظہور پذیر کردیا اور ساتھ میں  مثبت اور منفی کردار کو نمایاں کر دیکھا یا گیا . انسانی اقدار کی بات نکلتی ہے تو شخصیت کا نکھار اور ایک مثبت ذہنیت کی نشوونما انسانی اقدار و مساوات میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ، مساویانہ حقوق کی ادائیگی ایک دوسرے کی قدر کا میزان اس میں مساوی رکھا جاتا ہے تب ہی ہم انسانی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے نظر آئیں گے . لفظاً اقدار اور مساوات جدا ہیں لیکن معناً میں ایک ہی ہیں .       دنیا میں جتنے بھی پیغمبر الله تعالى کے احکامات کو بنی نوح انسان تک پہنچاتے آئے ہیں ان میں پوشیده یا ظاہری طور پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ہی تلقین کی گئی ہے اقوام عالم میں بڑھتے ہو ئے منفی رحجانات ، منفی تاثرات ، برائیوں کے تدراک کے لئے سماجی مصلح قوم کے معماروں ...

سماج میں دجالی فتنوں کا ظہور ... ذمہ دار کون؟

تصویر
   اللہ رب العزت نے بنی نوح انسان کو اس دنیا میں جب سے بھیجا ہے تب سے  شیطان نے حتی المقدور کوشش اور اپنے شیطانی حربوں کے ذریعہ  مصیبت میں ڈالنے کی کوشش جاری رکھا ہے اور انسان خاص کر مسلمان کو آخرت میں شرمندہ ہونے ، ذلت و رسوا کرنے کی سعی میں مصروف ہے جبکہ مالک حقیقی ان شیطانی حربوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنے بندوں پر رحم و کرم فرما کر ،  اسلام کو فتح یاب کرنے  اور اصلاح معاشرہ کے لئے  پیغمبروں کو اس سر زمین پر بھیجا جس سے نہ صرف شیطان کی شکست ہوئی ہے بلکہ اسلام کا پرچم بھی بلند و بالا لہرایا  ،ان کے جانے کے بعد  اس تسلسل کو خلفائے راشدین نے انجام دیا پھر اولیائے کرام نے اس کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی اب اس پیغام صراط مستقیم کی ذمہ داری ہم سارے امت مسلمہ پر عائد ہوگئی ہے . کیونکہ جس طرح سے شیطان اپنے بد فعل میں آگے ہوتا جائےگا اُسی طرح ہمیں اپنی نیکیوں کی طرف زیاده مائل ہوتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دینی ضروری اور لازمی ہو گئی ہے. زمانے قدیم کے لوگوں میں دین کی سمجھ بوجھ کم تھی اس دور کے لوگ شرک و بدعت اور توہم پرستی کے زیادہ شکار ہوا ک...

بچوں میں کردار سازی .....

تصویر
بچوں کے لیے گھر کا ماحول پہلی درس گاہ مانی جاتی ہے ، افراد خاندان سے بچہ جو کچھ سیکھتا ہے اس کا لائحہ عمل اسکول یا مدرسہ میں پختگی پاتا ہے ، اور یہی سلسلہ بچے کی آئندہ زندگی کے لئے محفوظ ہو کر ره جاتا ہے ، معاشرتی زندگی میں خود کو بہتر انداز میں ڈھالنے کے لئے انسان کو جو جد و جہد کرنی پڑتی ہے ، اور جس طرح سے اطوار کو اختیار کرنا پڑتا ہے اورآگے چلکر یہ کردار اسے کامیابی یا ناکامی کی زندگی مہیا کرتے ہیں . اس کی مشق بچپن سے ہی اسے کرنی پڑتی ہے . اب والدین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچہ کو ایک بہتر شہری بنائے اور اچھی وسلیقہ مند زندگی جینے کی مشق کروائیں . یا پھر سماج پر بوجھ بنا کر چھوڑ دیں یہاں اس بات کی تصدیق بہت ضروری ہو جاتی ہے کہ پہلے والدین خود کو اچھے کردار میں ڈھال کر ایک مثالی ماں باپ کا کردار ادا کریں ،کیونکہ بچے ماں باپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں اگر ماں باپ کا رویہ اور طرز زندگی بچوں کے لئے غلط ہوگی تو آئندہ بچہ بھی وہی زندگی کا استقبال کرے گا جسے اس کے ماں باپ نے اسے بچپن میں دیا تھا .   * بچے کو ایک اچھا شہری اور نیک صفت بنائیں : .... گھر کے ماحول سے بچے اپنی زند...

مضمون

تصویر
ماہنامہ تعلیمی سفر اکٹوبر 2022

امہات المومنین

تصویر
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف روایات میں اکثر گیاره سے تیره ازواج کے نام ملتے ہیں ۔ جنہیں امهات المومنين کہا جاتا ہے . یعنی کہ مومنین کی مائیں ، اس کے علاوہ انھیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے . زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا ، مورخین کے مطابق اکثر شادیوں کے اس رواج کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں ا ۰ مختف قبائل سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنا تھا . 2. دوسرا ان خواتین کو عزت دینا شامل تھا . آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا نکاح نبوت سے قبل 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ الکبری سے ہوا ، ان سے آپﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم بن محمد کے سوا تمام صاجزادے اور صاحبزاد دیاں انہی کے بطن سے ہوئیں . 25 سال تک آپﷺ کی ازواجی زندگی حضرت خدیجہ کے ساتھ گزری ، جب تک حضرت خديجہ بخیر حیات تھیں آپﷺ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا ، باقی تمام شادیاں 50 سال کی عمرکے بعد کی ہیں . آپﷺ کے رحلت فرماتے وقت نوازواج حیات تھیں .          ازواج مطہرات کا مطلب پاک بیویاں ہیں جس طرح آپﷺ کی ذات گرامی شرف و فضل کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح ازواج مطہرات بھی اپنی ذات میں افضل و اشرف ہیں اس...

کچھ نلگنڈہ کے بارے میں ...

تصویر
ہ  ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا .... یوں تو ضلع نلگنڈہ ریاست تلنگانہ میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے یہاں کے ادیب شعراء اور یہاں کے دو خوب صورت پہاڑ اس کے علاوہ حیدر آبادی تہذیب کی کہیں کہیں چھاپ کا نظر آنا لیکن ان ساری خوبیوں کے باوجود ضلع کی ترقی جو ہونی چاہیے تھی وہ ابھی تک ادھوری رہ گئی ہے . سابقہ میں بھونیگر ، سوریا پیٹ اور نلگنڈہ یہ تین اضلاع کا صرف ایک ہی متحدہ ضلع نلگنڈہ کی طرح پہچان تھی ، اب ٹی آر ایس حکومت نے اس کو تین اضلاع میں تقسیم کرکے تین الگ الگ ضلعوں کے نام دیئے ہیں ، جب متحدہ نلگنڈہ تھا اس وقت بھی وہ ترقی پذیر ہی تھا جب کہ سوریا پیٹ تعلقہ کی حیثیت رکھتے ہوئے بھی کافی ترقی کرچکاتھا اور بھونگیر بھی پہلے سے ہی ترقی یافتہ علاقہ میں شمار کیا جاتا رہا ہے . ہماری ریاست کے وزیر اعلی نے نلگنڈہ کی عوام الناس سے وعده کیا کہ سنہ 19 20 کے جنرل الیکشن میں اگر ٹی آر ایس قائد کو ووٹ ڈال کر جیت دلوائی جائے گی تو میرا بھی وعده ہے کہ میں ضلع نلگنڈہ کو اینالوں گا یعنی متبنی کرلوں گا اسی وعده کے مطابق یہاں پر بہت بڑے پیمانے...

بی بی نگر

تصویر
ضلع نلگنڈہ سے قریباً 80 کلو میٹر ، حیدر آباد اور ورنگل فور وے اور ضلع یاد ادری بھو نگیر جو کہ ماضی میں ضلع نلگنڈہ کا تعلقہ رہ چکا ہے اب ضلع کی جگہ لے لی ہے اس سے 11 کلو میٹر کے فاصلے پر لہلہاتے کھیت ، مور اور پرندوں کے آلاپ اور جانوروں کے گردنوں میں بجنے والی گھنٹی کی سریلی آوازیں دور دور تک انتہائی خوب صورت مناظر فطرت سے آراستہ و پیراستہ منڈل آپ کو نظر آئے گا جوکہ شہر حیدر آباد سے صرف 34 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے رقبہ کے اعتبار سے 11.12 مربع کلو میٹر اور آبادی کے لحاظ سے 8,320(2011 مردم شماری کے حساب سے) پھیلا ہوا ہے .۔ سونچے مت یہ کچھ زیادہ مشکل یا کوئی انتہائی پیچیدہ ہجے شناس نام نہیں بلکہ بلکل آسان تلفظ اور نہایت ہی خوب صورت نام ہے اور وہ ہے" بی بی نگر " جی ہاں میں اسی بی بی نگر کی بات کررہی ہوں جسے بی بی نگر جنکشن سے بھی بلایا جاتا ہے کیونکہ بی بی نگر جنکشن ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور و معروف ہے جہاں پر ملک کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی ریلوں کی دن رات سیٹیوں کی گونج سے سارا گاؤں عادی ہوچکا ہے . جو دن بھر محنت کرکے آرام کرنے والوں کو لوری اور رات میں جاگ ...