بچوں میں کردار سازی .....
بچوں کے لیے گھر کا ماحول پہلی درس گاہ مانی جاتی ہے ، افراد خاندان سے بچہ جو کچھ سیکھتا ہے اس کا لائحہ عمل اسکول یا مدرسہ میں پختگی پاتا ہے ، اور یہی سلسلہ بچے کی آئندہ زندگی کے لئے محفوظ ہو کر ره جاتا ہے ، معاشرتی زندگی میں خود کو بہتر انداز میں ڈھالنے کے لئے انسان کو جو جد و جہد کرنی پڑتی ہے ، اور جس طرح سے اطوار کو اختیار کرنا پڑتا ہے اورآگے چلکر یہ کردار اسے کامیابی یا ناکامی کی زندگی مہیا کرتے ہیں . اس کی مشق بچپن سے ہی اسے کرنی پڑتی ہے . اب والدین پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچہ کو ایک بہتر شہری بنائے اور اچھی وسلیقہ مند زندگی جینے کی مشق کروائیں . یا پھر سماج پر بوجھ بنا کر چھوڑ دیں یہاں اس بات کی تصدیق بہت ضروری ہو جاتی ہے کہ پہلے والدین خود کو اچھے کردار میں ڈھال کر ایک مثالی ماں باپ کا کردار ادا کریں ،کیونکہ بچے ماں باپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں اگر ماں باپ کا رویہ اور طرز زندگی بچوں کے لئے غلط ہوگی تو آئندہ بچہ بھی وہی زندگی کا استقبال کرے گا جسے اس کے ماں باپ نے اسے بچپن میں دیا تھا .
* بچے کو ایک اچھا شہری اور نیک صفت بنائیں : .... گھر کے ماحول سے بچے اپنی زندگی کی ابتداء کرتے ہیں ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ کہلاتا ہے ، اس لیے ماں باپ یا افراد خاندان کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے خود کو اچھے ماڈل کی طرح پیش کریں ہمارا رہن سہن اور ہماری عادتیں، انداز گفتگو اور دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات ان تمام باتوں پر ماں باپ اور دیگر افراد خاندان کو خاص توجہ دینی ضروری اور لازمی ہوتی ہے . اکثر گھرانوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ماں باپ بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی قدر و منزلت کی پرواہ نہیں کرتے اخلاقی گراوٹ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی ہے ، اس ساری صورتحال کا جائزہ بچہ اپنے ذہن پر نقش کرلیتا ہے . جب یہی بچہ مدرسہ میں اخلاق پر مبنی اسباق کا مطالعہ کرے گا اور اسے استاد اچھے اخلاق کی تربیت دیں گے تو وہ الجھاؤconfusion کا شکار ہوگا اس کی سمجھ میں واضح طور پر یہ بات نہیں آئے گی کہ ماں باپ صحیح ہیں یا استاد یا پھر یہ سبق . جسے وہ سن رہا ہے اور آخر کار اس نتیجہ پر پہنچ پاتا ہے کہ یہ سب کتابی باتیں ہیں اسکا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ عمل ندارد . اور اس طرح سے بچہ سماجی برائیوں میں خود کو مبتلا کرنے لگتا ہے آج مسلم معاشره میں شراب نوشی کی لت اتنی عروج پاگئی ہے کہ تقریباً دس گھرانوں میں سے چار گھرانے اس بری عادت سے اپنے خاندان کو تباہی کی جانب لے جارہے ہیں . دوسرا گٹکھا جس کی بو سے ہی آس پاس کے افراد کو چکر آنے لگتی اور اسکے مسلسل استعمال سے کینسر جیسی مہلک بیماری ہو جاتی ہے . اس طرح کی غیر صحت بخش خوراک اور مشروبات و منشیات کی لت سے اپنے بچوں کی حفاظت کرنا ماں باپ کا فریضہ اول ہے لیکن بجائے اس کے خود ان بری عادتوں میں مبتلا ہو کر گھر اور معاشرہ میں برائیاں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اورسب کو پریشان کررہے ہیں . جس کی وجہ سے آئے دن گھروں میں تشدد کا ماحول برپا ہو رہا ہے جس سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں رکاوٹ ہو رہی ہے ، اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہمارے مسائل اور بحث و مباحثہ سب بچوں کی غیر موجودگی میں ہونے چاہیے . گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرنے کی عادت بنالیں جس سے سارے مسئلے مسائل حل ہو جاتے ہیں اور رات دیر گئے تک بچوں کو جاگنے نہ دیں .* گھر کے ٹیچر : ...... پڑھائی لکھائی اور نظم و ضبط ہر چیز کی تربیت دینا صرف مدرسہ یا مدرس کی ذمہ داری نہیں ہوگی. جتنا وقت بچہ گھر میں گزارتا ہے ماں باپ اور افراد خاندان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بچے کی ذاتی و انفرادی تربیت کے ساتھ ساتھ اسکی اسکولی تعلیم پر بھی بچے کی توجہ مبزول کروائیں جس میں ہوم ورک اور پراجکٹ ورک ، فیر نوٹس ، ڈائری اور غذائی عادات اور سونے جاگنے کے اوقات وغیرہ شامل ہیں ساتھ میں ڈسپلین کے بارے میں بتانا بے حد ضروری ہے . جس کے فقدان سے بچے کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو کر ره جاتی ہیں اگر گھر میں نظم و ضبط کا ماحول رہا تو بچہ مدرسہ میں بھی ہر کام منظم طریقے سے انجام دے پائے گا . .
* ٹی وی اور موبائل سے خود کو دور رکھیں : ..... جدید ٹکنالوجی سے ہم اپنی زندگیوں کو ترقی دینے کی کوشش کررہے ہیں ہمیں اس بات کی خبر تک نہیں کہ اس ٹکنالوجی کے استعمالات کی ضرورت کب اور کیسے کی جائے آیا وہ ہمارے لئے سود مند ہیں یا نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں اور ہم اس ڈور میں کہیں ایسے خندق میں چھلانگ تو نہیں لگا رہے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا، بس معاشره اور سماج میں ہم سچ مچ کے حیوان بن کر ایک دوسرے کی تقلید میں اس قدر آگے بڑھ رہے ہیں کہ گویاخود اپنا گڑھا آپ کھود رہے ہیں . اس میں ٹی وی اور اسمارٹ فون نے ہماری زندگی کے دائرے کو اندھیر نگری میں قدم بہ قدم لے جانے میں کلیدی کردار ادا کر دیا ہے . ان آلات نے ہماری اعصابی نظام اور معاشرتی نظام کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے . جس کی بدولت ہم بحيثیت مجموعی اپنی اولاوں سے غافل ہورہے ہیں ، خاص کر گھر کی عورتیں گھریلو ذمہ داریوں سے بے خبر اور بے دخل ہوتی چلی جارہی ہیں . ، جس سے بچوں کی تربیت پر بہت برا اور غلط اثر نمودار ہو رہا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ایسا آرہا ہے کہ ایک تو بچوں کو اقامتی اسکول میں داخل کروایاجارہاہے اور تربیت کی طرف سے بالکل غیر ذمہ داری برتی جارہی ہے ، دوسرا تغذیہ بخش غذا اور بچوں کی تعلیم کو بالائے طاق رکھا جارہاہے تیسراخود کی شخصی ترقی اور تفریح کے سامان مہیا کرنے میں مائیں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہی ہیں جس سے وقت ، پیسہ اور صحت اور تمام رشتوں کی پامالی ہورہی ہے . باہر کی غذا اور عدم توجہ نے بچوں کو ماں اور بچے جیسے پاکیزه رشتہ سے جدا ہونے پر مجبور کر دیا ہے تھامس الوا ایڈسن عالم سائنس داں کی ماں نے انھیں گھر پر پڑھا کر ایک مشہور سائنس داں بنایا جبکہ انھیں اسکول سے ایک کند ذہن طالب کے خطاب سے نواز کر نکال دیا گیا تھا . اس سے پتہ چلتا ہے کہ ماں اگر ٹھان لے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے . اس لیے اپنے نونہالوں کو اپنی آغوش شفقت سے نکھاریں .
. حديث مبارکہ ہے کہ "علم کا حاصل کرنا ہر مومن مرد اور عورت پر فرض ہے " ، اور جو شخص طلب علم کے لیے نکلا وه گویا اللہ کی راه میں جہاد کرنے والا ہے ، پھر ہم حصول علم میں ایسی غفلت کیوں برت رہے ہیں . جب مائیں اسمارٹ فون اور اس کے سارے آئپس استعمال ، use کرنا ، چلانا سیکھ سکتی ہیں تو کیا اولاد کی تعلیم و تربیت میں خود کو ایک اچھی ماں ثابت نہیں کرسکتی ؟ جب بات بچے کی صحیح تعلیم و تربیت کی آتی ہے تو مدرسہ یا اسکول کے اساتذہ کی ذمہ داری کیسے بن جاتی ہے . ؟ یاد رکھیں جتنا بچہ گھر میں ڈسپلین سے رہے گا اتنا ہی وہ اسکول میں ایک قابل طالب علم کہلائے گا اور نظم و ضبط برقرار رکھ پائے گا۔ نظم و نسق ہمارے کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں . اور یہ خوشی و کامیابی کے ضامن ہیں . جو انسان کو صحیح سمت لے جاتے ہیں آج کے دور میں بچے یو ٹیوب پر واہیات اور بے ہودہ قسم کی ویڈیوز كا نظارہ کرکے انھیں عملی زندگی میں داخل کررہے ہیں جس سے ادب اخلاق اور ڈسپلین میں بہت بڑی گراوٹ آرہی ہے . ماں کا فریضہ ہے کہ وہ بچے کو اچھے اور برے کاموں سے روشناس کروائے .
بچوں میں کردار سازی کا فقدان : .. یہ بات باعث تعجب نہیں ٹھہرتی کہ. نسل نو میں کردار سازی کا فقدان پایا گیا ہے ، ایک وہ زمانہ تھا کہ بچے بڑوں کو فرشی سلام بجالاتے تھے اور بڑوں کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آتے تھے ، بڑوں کی تعظیم میں دنیا و آخرت کی بھلائی سمجھتے تھے لیکن اب الٹی گنگا بہہ نکلی ہے کون آیا کون گیا کس سے کیا رشتہ سب غیر ضروری باتیں ہیں نہ سلام نہ کلام "میں بھلا مرا فون بھلا " والی بات ہوگئی ، اس میں ماں باپ اور اسکولی عملہ بھی ذمہ دار ہے " بے ادب بے نصیب با ادب با نصیب "کیونکہ بچے کی کردار سازی میں ہر کس و ناکس کی مجموعی طور پر ذمہ داری بنتی ہے . بچوں کی تفریح کا سامان مدرسہ ہے اس لئے اولیائے طلباءحاضری کو مقدم سمجھتے ہوئے بچے کو مدرسہ سے جوڑنا چاہیے . گھر ہو کہ مدرسہ بچوں سے بد اخلاقی سے نہ پیش آئیں ، برے القاب سے مخاطب نہ ہوں ،بد کلامی ہر طرف عام ہوگئی ہے جس سے بچے بہت متاثر ہورہے ہیں ، اس لئے بد زبانی سے گریز کریں ، اپنا تناؤ ، یا مایوسی یاfrustration. معصوم بچوں پر نہ دکھائیں ، خوش اخلاقی اور اپنائیت کا مظاہرہ کریں غصہ اور چڑچڑا ہٹ سے بچوں میں ناامیدی اور اداسی چھا جاتی ہے . اس لئے ایسے برتاؤ سے پرہیز کریں .ایک کردار ہی ہے جو انسان کو زندگی میں اور مرنے کے بعد پہچان بنائے رکھتا ہے . اس کردار سے ہی وہ حقوق العباد کی ادائیگی بہتر طور پر انجام دے پائے گا . آج دنیا میں جتنی بڑی شخصیات نے اپنےطرف سے سماج اور معاشرہ کی اصلاح کابیڑہ اٹھایا ہے اس میں کلیدی کردار ، کردار سازی ہے جو سماج کا جز لاینفک کہلاتا ہے جس میں اخوت ، بھائی چارہ ، خلوص اور محبت ، عدم تشدد ، سچائی ، ایمانداری ، دیانتداری ، رشتہ داری ، عاجزی اور انکساری ، صبر و تحمل نیکی اور ہمدردی شامل ہیں 2 / اکتوبر کو " عالمی يوم عدم تشدد " منایا جاتا ہے کیونکہ اس دن بابائے قوم مہاتما گاندھی کا يوم پیدائش ہے اس لیے ان کی تعلیمات اور فکر و خیالات کو ساری دنیا مشعل راہ مانتی ہے ، گاندھی جی نے ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل کی تعلیم دی ہے گاندھی جی کی نظروں میں بچوں کی روحانی ، فکری اور جسمانی صلاحتیوں کو نکھارنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تعلیم کہلاتا ہے . اور ماں باپ اور اساتذہ مل کر ایسی تعلیم بچوں کو مہیا کریں گے تو وہ ایک اچھا شہری اور فرمابردار اولاد کے زمرہ میں شامل ہوگا. ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو محسن اسانیت کہا جاتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا کو کردار سازی کی تعلیم دی ہے . یہ ساری اسانیت پر بہت بڑا احسان ہے . ہمیں اتباع سنت کی تعلیم بچوں کو دینی چاہیے تاکہ کل کو وہ نہ صرف اچھے شہری بلکہ مومن بھی کہلائے جائیں .
خلفائے راشدین نے بھی سماج اور معاشرہ کی اصلاح اور تعمیر کے لئے اپنی زندگیوں کو قربان کیا ہے ، اور سماجی برائیوں کے انسداد کی کوشیش کی ہیں . اب
" بچوں کی عصری تعلیم سے زیادہ اخلاقی تعليم وقت کی اہم ترین ضرورت سمجھی جارہی ہے "
یہ ہمارے بچے ہیں ، یہ ساری قوم کے رہنما ہیں
ان سے خوشیاں ان ہی سے رونقیں ساری ہیں .
ہے یہ ہم سب کی پہچان ، ہمارا غرور ہیں یہ
عروج ان سے ، انہی سے ساری کامیابیاں ہیں ...
فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔
روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 10 / 11 / 22 دس نومبر 2022