بی بی نگر

ضلع نلگنڈہ سے قریباً 80 کلو میٹر ، حیدر آباد اور ورنگل فور وے اور ضلع یاد ادری بھو نگیر جو کہ ماضی میں ضلع نلگنڈہ کا تعلقہ رہ چکا ہے اب ضلع کی جگہ لے لی ہے اس سے 11 کلو میٹر کے فاصلے پر لہلہاتے کھیت ، مور اور پرندوں کے آلاپ اور جانوروں کے گردنوں میں بجنے والی گھنٹی کی سریلی آوازیں دور دور تک انتہائی خوب صورت مناظر فطرت سے آراستہ و پیراستہ منڈل آپ کو نظر آئے گا جوکہ شہر حیدر آباد سے صرف 34 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے رقبہ کے اعتبار سے 11.12 مربع کلو میٹر اور آبادی کے لحاظ سے 8,320(2011 مردم شماری کے حساب سے) پھیلا ہوا ہے .۔ سونچے مت یہ کچھ زیادہ مشکل یا کوئی انتہائی پیچیدہ ہجے شناس نام نہیں بلکہ بلکل آسان تلفظ اور نہایت ہی خوب صورت نام ہے اور وہ ہے" بی بی نگر " جی ہاں میں اسی بی بی نگر کی بات کررہی ہوں جسے بی بی نگر جنکشن سے بھی بلایا جاتا ہے کیونکہ بی بی نگر جنکشن ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور و معروف ہے جہاں پر ملک کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی ریلوں کی دن رات سیٹیوں کی گونج سے سارا گاؤں عادی ہوچکا ہے . جو دن بھر محنت کرکے آرام کرنے والوں کو لوری اور رات میں جاگ کر کام کرنے والوں کو نغمہ سرائی کے مترادف معلوم ہوتی ہے . دن کی مصروف ترین زندگی میں ریلوں کا گا ہے بہ گاہے آنا جانا ہمیں محسن جلگانوی کی نظم ریل اور قومی یک جہتی کی یاد دلاتی ہے 
. صبح صادق ہر دوکان پر ہجوم نظر آتا ہے پھر شام پانچ بجے سے سودا سلف لینے کے لئے پھر افراتفری نظر آتی ہے .

 "زندگی کی اک علامت بن کے لہراتی ہے ریل... کوئی بھی موسم ہو بس دوڑی چلی جاتی ہے ریل...
کیسے لڑتے ہیں اندھیروں سے یہ بتلاتی ہے ریل... گھپ اندھیرے کی گھ پاؤں سے گزر جاتی ہے ریل .

     ریلوے اسٹیشن کے دونوں طرف بسا ہوا ہے ایک طرف آبائی گاؤں تو دوسری جانب نیا گاؤں( جس کو آبائی لوگ جینے کے لیے آئے ہوئے لوگ) کہتے ہیں . ا سٹیشن کے آگے کی جانب یعنی کہ اگلے حصے میں ساری نئی آبادی ، بسی ہوئی ہے اور پچھلے حصے میں جاگیر دار اور آبائی طبقہ مقیم ہے 
یوں تو آبادی کا تناسب برابر نظر آتا ہے کہیں ہندووں کی بستیاں زياده ہیں تو کہیں مسلمانوں کی زیاده اور ساتھ ساتھ عیسائی مذہب والے بھی موجود ہیں . اس لئے یہ اندازه لگانا مشکل ہے کہ کس مذہب کے رہنے والے زیادہ ہیں گاؤں میں بیروں ریاست کے خاندان بھی اچھے خاصے ہیں جوکہ روزگار کے سلسلے میں بذریعہ ریل یہاں آکر بس گئے ہیں جن میں مراٹھی ، بہاری اور آسامی اور اوڑیا و غیره شامل ہیں ، چونکہ بی بی نگر کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں موجود مختلف مصنوعات کے لۓ جانا جاتا ہے یہ فیکٹریاں ہر خانہ بدوش کے جینے کا سہارا بن چکے ہیں اس طرح سے کئی خاندان ان میں برسر روزگار ہیں ، خود بی بی نگر کے احاطہ میں مشہور و معروف کپمنی بام بینو(Bambino) قائم ہے جو کہ ساری ریاست تلنگانہ میں سوئیاں ، آٹا اور مصالحے جیسے vermicelli,Macaroni,Soan papdi,badam Treat mix,Spices Masalas,and Upma Mix کے لئے مشہور ہے . یہاں پر بھی کئی ایک خاندان کا روز گار اس کمپنی سے منسلک ہے . لوگ ٹرین کے ذریعے آکر یہاں اپنی زندگیوں کو پرسکون انداز میں گزار رہے ہیں . انھیں دیکھ کر اقبال کی نظم " چاند اور تارے " کے یہ اشعار ہمیں زندگی کی طرف اشاره کر کے ان محنت کش طبقہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ملاحظہ فرمائیں ..
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی ... یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
ہے دوڑتا اشہب زمانہ ... کھا کھا کے طلب کا تازیانہ
اس ره میں مقام بے محل ہے ... پوشیده قرار میں اجل ہے 
چلنے والے نکل گئے ہیں ... جو ٹھہرے ذرا کچل گئے ہیں .
خلوص محبت اور بھائی چارے کا گاؤں بی بی نگر ہے . لوگوں میں بھید بھاؤ اور مذہب کا کوئی تفرقہ نہیں يا يا جاتا ہے .
کہتے بی بی نگر کی بیناد ایک تحفہ ہے خدمت گزار خادمہ کا . حضور نظام کی ایمان دار ملازمہ کو اس کے بہترین خدمات کے صلہ میں نظام سرکار نے خوش ہو کر ایک گاؤں کو دیا گیا تھا ، اس ملازمہ کا نام "بی بی " تھا اس لحاظ سے اس گاؤں کا نام بی بی نگر ہوگیا . بی بی کے دو بھائی تھے رحیم خان اور چھترے خان . پولیس ایکشن کے موقعہ پر دونوں بھائیوں نے اپنی بہن کے ہمراہ بی بی نگر کی راہ لی۔ تاکہ زندگی محفوظ رہ سکے ، گاؤں کے شمال میں رحیم خان اور جنوب میں چھترے خان نے نگران کار کی طرح گاؤں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی . جوکہ آج رحيم خان گوڑم کے نام سے گاؤں مشہور ہے . یہ دو گاؤں بی بی نگر کی سرحدیں مانی جاتی ہیں . اور بی بی نگر کی چاروں سمت چار قلعہ نما حصار بنائے گئے تھے جس پر کروڑ گری محمکہ کے اہلکار حفاظت کے لئے تعینات کردیئے گئے . جہاں سے دور دور تک کا نظارہ کیا جاتا اور دشمن کے آنے کی خبر رکھی جاتی تھی جو کہ پستول لئے ہوئے دن رات اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہتے 
گاؤں میں اس وقت دو مساجد ہیں ایک نئی بستی اور ایک پرانی ، نئی بستی میں قدیم مسجد ہے جوکہ جامع مسجد کے نام سے موسوم ہے اس مسجد کے مقام پر زمانہ قدیم میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جوکہ بڑی مشکل سے نظر آتی تھی ، ویسے پہلے پہل اکثر مصليان گھروں میں ہی نمازیں ادا کرتے رہے ، آہستہ آہستہ چھوٹی مسجد کی سنگ بنیاد ڈالی گئی . پھر وقت کے ساتھ ساتھ R &B محکمہ کے ایک مسلمان افسر نے پختہ مسجد کی شکل دیکر مسلم آبادی کے لۓ سہولت فراہم کی ہے . قدیم ممبر اور مینار کو اس کی جگہ پر قائم رکھا گیا . اسی تسلسل میں ایریا ہاسپٹل اور دیگر سرکاری دفاتر کو قائم کیا گیا ہے . اور گاؤں میں حیوانات دواخانہ بھی موجود ہے .
اسی مقام پر ایک بڑا کنواں موجود تھا جوکہ " میٹھے پانی کا کنواں " کے نام سے مشہور تھا سارے گاؤں میں کھارے پانی کی فراہمی تھی سوائے اس کنواں کے پانی کے اسی لئے گاؤں کے سارے خاندانوں کا انحصار پینے کے پانی کے لئے اس کنواں پر تھا .
اُردو اور تلگو میڈیم سرکاری مدارس بی بی نگر میں موجود ہیں ، اردو میڈیم اسکول وسطانیہ کی سطح تک قائم ہے جبکہ تلگو میڈیم اور اب اس کے ساتھ انگلش میڈیم جماعت دہم یعنی فوقانوی سطح تک قائم ہے . عمارتیں انتہائی پختہ اور کشادہ ہیں . حیدر آباد روڈ پر AIIMS (All India Institute of Medical Sciences)جو کہ طبی سولیات سے مالا مال ہے ، قائم کیا گیا ہےاب تو سارے گاؤں مشن بھگی رتہ کے تیئں میٹھے پانی کی سپلائی گھر گھر نل کا کنکشن دیکر کیا گیا ہے . میٹھےپانی کی قلت درکنار خود بہتات ہوگئی ہے .
سرکاری مدارس کے علاوہ خانگی اسکولس کی بہتات ہے چونکہ آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے گاؤں سارا رونق افروز ہوگیا ہے .
کہتے ہیں کہ سارا بی بی نگر چار پل اور چار دروازوں کے اندر مقید تھا جس کو " گراما کن ٹھم " سے موسوم کیا گیا تھا رات کے وقت چاروں دروازوں کو بند کردیا جاتا تھا تاکہ کوئی باہر سے اندر داخل نہ ہو سکے۔
بی بی کی سہولت کے لئے پیشہ وارانہ خاندانوں کو بسایا گیا جن میں کمہار ، دھوبی ، سنار ، اور دائیاں ، زراعت کرنے والے اور دیگر پیشہ ور افراد رہنے لگے .جن کو بی بی نے زمینات بانٹ کر دے دی اور پانی کی سہولت کے لئے ایک تالاب بھی کھودوایا گیا جس کو ایک مسلمان انجنیر نے اپنی ذمہ داری پر قبول کیا ، جن کی قبر آج بھی تالاب کے کنارے پر موجود ہے انتہائی اونچائی کی سطح پر پانی کی سطح آنے پر اس قبر سے ہوکر پانی گزرتا ہے یہ ایک محفوظ تالاب ہے جو ایک دفعہ بھر جانے کے بعد چار پانچ سال تک نہیں سوکھتا الحمد للہ .
دو مساجد کا ذکر کیا گیا تو دوسری مسجد کے بارے میں بھی کچھ معلومات دینی ضروری ہے اس دوسری مسجد کا نام مسجد " رضوان " ہے اس مسجد کی سنگ بنیاد رکھنے والے خیر خواه کا اسم گرامی محمود على صاحب ہے جو ک. V.D.O کے عہدے سے وظیفہ حسن پر سبک دوش ہوئے اور اس دار فانی سے کوچ کر گئے . موصوف کا تعارف کچھ اس طرح سے ہے ان کے والد کروڑ گری میں ملازم تھے جو کہ نظام سرکار کی پولیس مانی جاتی تھی جوکہ ڈیوٹی کے سلسلہ میں بی بی نگر میں خدمت انجام دے رہے تھے   اہل خانہ بچے حیدرآباد میں ہی مقیم تھے . وہ خود ریل کے زریعے اپنی ڈیوٹی کو آنا جانا کیا کرتے رہے اس گاؤں میں زراعت کی زمين کو خرید کر اپنے بڑے فرزند محمود علی صاحب کو یہاں رہنے کی تلقین کی جو کہ انھیں پسند نہیں تھی ، اس طرح سے بری صحبت میں وہ خود کو مبتلا کرنے لگے لیکن کہتے ہیں نا کہ الله تعالٰی جس سے راضی ہوتا ہے اسے اپنے برگزیده بندوں میں شامل فرماتا ہے اور اس سے بے حساب دین کے کام لیتا ہے بس محمود علی صاحب کی زندگی کو بھی اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت اور رحم و کرم کی نظر سے تبدیل کردیا ، اور وسیلہ بنایا حبيب صاحب کو جو کہ اسٹیشن ماسٹر کی حیثیت سے بی بی نگر پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے . حبيب صاحب دین کی خدمت انجام دینے والے نیک بندے تھے شام کے وقت گشت اور تبلیغ کی نیت سے وہ گاؤں کے دورے پر نکل پڑے اور اس طرح سے محمود على صاحب سے ملاقات ہوگئی بس پھر کیا تھا الله تعالٰی نے ان کے ذریعے ایک بندے کی زندگی بدل دی جماعت میں جاکر آنے کے بعد محمود علی صاحب نے خود کو پوری طرح دین کے لئے وقف کردیا تہجد گزار بن کر وہیں اپنی ماباقی زندگی گزارنے کی ٹھان لی اور سرکاری ملازمت سے اللہ تعالیٰ نے نوازا اور اس طرح سے وہ اپنی زمين کا کچھ حصہ مسجد کے لۓ متعین کرکے خود اپنی ذمہ داری پرمسجد کو تعمیر کیا . اس طرح سے مسجد رضوان کی بنیاد ڈالی گئی . نماز عصر کے بعد مسجد کے باہر آرام کرسی پر براجمان ہو کر گاؤں والوں کی خیر خبر لیتے اور دعاؤں کے ذریعے علاج بھی کیا کرتے تھے . 
منادر کی بات کی جائے گی تو بے حساب منادر ہیں صبح صادق سے بھجن شروع ہو جاتے ہیں مگر مذہبی رواداری کی بہترین مثال یہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ فجر کی اذان کے ساتھ سارے لوڈ اسپیکر بند کردیے جاتے ہیں بعد نماز کے دوباره سلسلہ جاری رہتا ہے.  رمضان المبارک کے مقدس ایام میں افطار کے وقت سارے منادر خاموش ہوجاتے ہیں .
بی بی نگر سکون کا گاؤں سرسبز اور شاداب گاؤں فضائی آلودگی سے پاک اور تازی ہوا اور  خوش مزاج لوگوں کا گاؤں تعصب اور تنگ نظری سے آزاد گاؤں ـ جس میں  زندگی کی ترقی مضمر ہے اور بھولے بھالے لوگوں کی نیک نیتی ہر نئے آنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے . اور اس گاؤں سے جانے والوں کو اپنی خلوص اور محبت کے جذبات ، احساسات اور خوبصورت رشتوں میں باندھ کر سدا بہار موسم کی طرح جوڑے رکھتی ہے .
پولیس اکشن سے پہلے پہل لوگوں میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا اس لیے بہت سارے خاندان شہر حیدر آباد کا رخ کرنے لگے .جو کروڑی میں ملازمت پیشہ تھے صرف انھیں کے خاندان بی بی نگر میں آباد و اجداد کے ساتھ بسے ہوئے تھے .
یوں تو بی بی نگر میں چار قبرستان موجود ہیں جن میں شیخ ، سید، نداف اور مجاور پر مشتمل ہے 
آخر میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بی بی نگر کو جو جاتا ہے بس ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے . ہر جینے والے کو زندگی کی بہتر سہولیات مہیا کرتا ھے بی بی نگر بشرطیکہ وہاں کے بندروں سے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جائے .  ہر مقام کی جہاں بے شمار خوبیاں پائی جاتی ہیں وہاں چند خامیاں بھی موجود ہوتی ہیں اور بی بی نگر میں کوئی چور اچکے کا ڈر نہیں بلکہ بندروں کے جھلڑ آکر لوگوں کی زندگیوں کو پریشاں کر دیتےہیں ، کب ، کد ھر اور کہاں سے بندر آجائے گا خبر نہیں ہوتی ہر وقت دروازه بند رکھنا اور ہوشیار رہنا پڑتا ہے . پر زندگی تو 
ترقی کی راہ میں رواں دواں ہے .
  ✍️ فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 28/ جولائی 2022

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]