اشاعتیں

نظمیں لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بچپن‎

تصویر
  صبح سویرے اُٹھ جانا  گھر کے باہر چلے جانا منھ نہ دھوکر کچھ بھی کھانا گھر آکر پھر ڈانٹ کھانا امی ابو دیدی بھیا    دادا دادی سے بھی لاڈ جتلانا پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن لینےآس چھٹی کی  دوڑ  مدرسه کولگانا سب سے پہلے بھاگ کر پھر گھر کو جلدی آنا خوشی خوشی داخل ہوکر سلام بڑوں کوکرنا پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن آوازیں پرندوں جیسی ہر وقت کرتے رہنا بہانا نیند کا کرکے آدھی رات تک جاگتے رہنا پریوں کی کہانیاں دادی سے سنتے رہنا پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن دعوت آنے پر خوشی خوشی تیار ہوجانا پھر دعوت میں جاکر کرسی پر سوجانا خوابوں میں ہی دعوت کا مزه لوٹنا پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن نہ کسی سے بیر نہ حسد اور نہ ہی لڑائی کرتے بڑے لڑائی تو چپ ہوکر کر جانا پڑھائی چپکے چپکے دعا کرنا کہ  ہو جائے ختم یہ لڑائی پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمان یہ )

تعلیمی سال

تصویر
کہاں گیا وہ تعلیمی سال   کدھر گیا وہ تعلیمی سال امنگیں نئ تھیں ارادے نئے تھے    کتابوں کے سارے اسباق ننے تھے خوشی سے نہال دل سب کے تھے     آنکھوں میں ستارے چمک رہے تھے سبھی اسباق پہلے پہل پڑھ لیے تھے۔۔     مدرسہ جا نے کی طلب لیے تھے  مگر تھا نہ پتہ ہر کسی کو۔    کہ قدرت کے ارادے کچھ اؤرہی تھے و با نے یہ کیسی مچائی ہے دھوم     سب ہی بشر سکون کی سانسیں لئیے   تھے ہے قدرت جلال پر آج لوگو۔ تم گناہ کی خبر سے بے خبر   سوئے ہوئے تھے   غلطیوں کی زد میں بڑوں کے آئے بچے    جو  شو غیوں میں بچپن کی  مگن تھے   دوبارہ نازل کی سزایں  جو صدیوں پہل خدا نے نازل کئے تھے قدر نہ جانی نعمتوں کی سبھی نے۔    چھین لیے قدرت نے سوغات جو دیئے تھے ہے وقت تو بہ کا سب کے لیے    گنا ہوں کی گٹھڑی جو سر پر لیے تھے   ۔ عرش مولا کے ساے میں آجایں سب     مٹاکر گناہ جودلوں میں موجود تھے بحال زندگی سبھی کی ہو گی  خدا کی قدرت جو رحم کھا ے گی پھر ہم ب...

دریا

تصویر
دریا دریا پیاریا پیاریا   بہہ کر جاتا سارا سارا بہتا پانی کیسا سچا   لگتا جیسے آئینہ اچھا گلہ نہ کرتا بہتاجاتا   مشکل آساں  کرتا جاتا رنگت اسکی نیلی دیکھو    آکاش زمین پر  اترا دیکھو مذہب ، ملت یہ نہ کہتا  پانی نعمت ہے یہ کہتا حکم ربی بجا ہےلا تا    دوڑ اجاتا بہتا جاتا بہتا دریا اٹھتا دریا   پیار ادریا نیلا دریا ناگن جیسا لگتا دریا   سب کی دلار ا اپنا دریا سبق  ہم کو  دیتا دریا  مدام چلنا کہتا دریا طوفانوں سے ڈر ہے کیسا  سیلابوں سے  خطرہ کیسا علم کو مانوپانی جیسا  بہتا جائے دریا جیسا  دریا جیسا چلتاجائے    علم رکے نہ بڑھتاجائے    علم کا کوئی مول نہیں  وہ خاص ہے کوئی عام نہیں کرنا چاہو قوم کی خدمت     دینا چاہو سب کو راحت لازم علم کو خود پر کرنا  دریا جیسا خود کو کرنا  دریا جیسا بہتے جانا     علم و ہنر دیتے جانا (فہمیدہ تبسّم , نلگنڈہ،تلنگانہ)

سورج چا چا

تصویر
  آئے دیکھو سورج چاچا  دیکھو آئے سورج چاچا دن کا اجالا لیکر آئے   سب کو جگانے دیکھو آنے جانی جس نے دن کی حکمت      پائی اس نے ساری نعمت دیکھو آئے سورج چاچا    آئے دیکھو سورج چاچا جا گا جو ہے محنت کرنے    بھاگا جو ہے محنت کرنے اس کی تو ہے رات نرالی    میٹھے میٹھے سپنوں والی آئے دیکھو سورج چاچا   دیکھو آئے سورج چاچا سوکر جس نے دن گنوایا    رب کو بھی وہ روٹھا پایا دنیا میں ناکام ہوا وہ    لوگوں میں بدنام ہو اوه دیکھو آئے سورج چاچا  آئے دیکھو سورج چاچا عادت جو تم اب ڈالو گے   صبح سویرے اٹھ جاؤ گے  برکت، رزق سب پاؤ گے  شہرت ، دولت سب پاؤ گے   آئے دیکھو سورج چاچا  دیکھو آئے سورج چاچا   علم روشن ، سورج روشن     ، تارے روشن دن ہے روشن قدر کرو تم وقت اور دن کی   کرلو اپنی قسمت روشن دیکھو آئے سورج چاچا  آئے دیکھو سورج چاجا  بچو بن کر سورج چاچا    تم بھی کردو دنیا روشن  ہوگا کبھی نہ کم یہ اجالا      ع...

جگنو

تصویر
کون جانے کہاں سے آیا   زمین  یا آسمان سے آیا ساتھ میں اس کے چاند نہیں ۔  ستاروں کی برات نہیں دیکھا ہم نے تارہ زمین پر     اڑتا پھرتا ستارہ زمین پر جاکر پکڑے دل للچائے۔  من سےتو  وہ خوب ہے بھا ئے تاریکی کو دن ‌میں بدلے  منظر کو ہر روشن کردے  تب جاکر راز یہ  دیکھا ۔ اللہ کی قدرت کو  دیکھا نہ ہے شمع نہ وہ ستارا    نام ہے جگنو وه ہے اجالا  موسم برسات اس کو بھاتا   رات کو دن کر نے آتا    بولے ابو ڈر ہے کیسا۔   چھو کر دیکھو لگتا کیسا  اس کے پیچھے دوڑا بھاگا۔   مجھ سے  تیز ہےوہ بھاگا   ہنس کر پوچھا جگنو۔     بنو گے تم بھی جنگو ؟ علم سے کر لو خود کو روشن    ۔  کرنامنظرکو ہر روشن  علم فلک کا تم ہو ستارہ۔     روشن تم سے ہوہر کناره   دیں و دنیا کے تم جگنو۔  علم و ہنر کے  تم جگنو میں نے سن لی جگنو کی۔    بات ہے سچی جنگو  کی   ہوگی محنت جگنو جیسی   روشن دنیا جگنو جیسی ...

گنتی

تصویر
  ا یک دو کی گنتی سیکھو   ایک سے الله سب سے پیارے دو سے فرشتے دو کاندھوں والے رکھتے حساب ساری باتوں والے تین سے ہوگا وضو مکل اعضاء ہونگے ستھرائی والے چار کونے بیت الله کے الگ جن کے نام ہے پیارے پانچ نمازیں فرضوں والی ادا کرتے ایمان والے آگے ہوگی چھ کی باری سنت چھ عشاء والے  سات کو دیکھو کیسے اچھے چکر سات طواف ، صفا ومروہ والے آٹھ پر تم جب جاؤ گے پڑھو عصر کی آٹھ رکعتیں .  بن جاؤگے پوری ادا کرنے والے نو کی تو بات الگ ہے ذي الحج کی نو کو عرفہ حاجی بنتے سعادت حج والے دس پر ہوگی شروع دہائی آدم ذات ہے دس انگلیوں والے دس تک گنتی سیکھو بچو ب ن جاؤ  گنتی آنے والے فہمیدہ تبسّم۔ (ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ )

پھول

تصویر
 محبت کے رنگ برساتے  پھول ہر طرف خوبشو بکھرتے پھول نہرو جی کا پیارا پھول پھولوں کا وہ راجہ پھول دیکر کانٹوں کو بسیرا  اپنا پن دکھلاتے  پھول خوشی ہو یا غم ہو کبھی ہر دو میں ساتھ نبھاتے پھول نا زک نازک سبک سبک  سب کے من کو بھاتے پھول پھول محبت پھول ہے چاہت یہی بات سکھلاتے پھول  باغوں میں ہوتے پھول پھولوں کے گلشن میں پھول  مہمان کا استقبال ہے پھول بالوں کی زینت ہے پھول آپ نے کہا بچے باغ کے  پھول ان سے ہے رونق ساری دیتے ہیں پیغام یہ پھول بچوں کو جو دیکھو تم جانو ان کو جیسا پھول یہاں وہاں ہر طرف ہے پھول سنسار کے ہر بچہ میں پھول  مذہب ملت چھوڑ کر آؤ دیش کے بن جاؤ پھول فہمیدہ تبسّم (ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)  

اے وطن

تصویر
               تمھاری  مٹی    میں جو خوشبو ہے اے وطن                وہ دیگر زمینوں میں کہاں ہے اے وطن پیار محبت خلوص یک جہتی یہ ہے تتلیاں گلشن وطن ان سے ٹھنڈک آنکھوں کی سب کو ہے اے وطن دے کر اپنی اپنی خوشیاں مرکر لی ہے آزادی کھو کر پایا ہے اب پاکر کھو نا نہیں ہے اے وطن بہتی ندیاں پربت سارے وادیوں کا یہ کہنا ہے دنیا ساری پیاری ہے اس سے پیارا ہے تو اے وطن علم و ہنر کا گہوارہ تو تیری پہچان میٹھی بولیاں دُنیا نے ہے تجھ سے سیکھا اپنائیت کا درس اے وطن وه دانش ور وہ علمبردار وہ مصلح کہاں ہیں آج پھر تجھےمدرسے کی ضرورت آن پڑی ہے اے وطن اعاده جو تو کرلے گا پھر سے سارے اسباق کا ناکامی نہ ہوگی دُنیا میں پھر سے تجھے اے وطن تیری مٹی میں وہ خوش بو قائم رہے اے وطن جو آکر ہوا آباد اس خوش بو میں ہی مدفن ہوا اے وطن ✍️ فہمیدہ تبسّم (ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)  

سپنوں والے نانو آئے سپنوں والے نانو آئے

تصویر
  سپنوں والے نانو آئے  سپنوں والے نانو آئے ڈھیر سارے سپنے لائے سپنوں والے نانو آئے منو کا ہے کیاسپناکھولو پٹارا  نانو لائے وا ہ واہ بڑیا بڑیامنو بن کر ڈاکٹر آئے منی آئی منی آئی اپنا سپنا ساتھ میں لائی دیکھو منی کیا ہے سپنامنی بولی   ٹیچر آئی چنو بولا اس کاسپنابن کر چنو ملاح آئے نانو بو لے پیارے بچوسچ ہونے کو سپنے آنے بولا پٹارا میرا بچوقوم کے سچے سپنے آئے (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)  

گڑیا رانی بڑی سیانی

تصویر
  گڑیا رانی بڑی سیانی ہنستی پل بھر ،پل بھرروتی باتیں اسکی بڑی نرالی گڑیا رانی بڑی سیانی ہونٹ  گلابی اس کےدیکھو  سونا ہے یا بال ہے دیکھو گڑیا رانی بڑی سیانی کام میں  کرتی چستی دیکھو لمحہ بھر  دم نہ بھرتی دیکھو گڑیا رانی بڑی سیانی بھاتی سب  کے من کو رانی گڑیا رانی بڑی سیانی     (  فہمیدہ تبسّم   )