اشاعتیں

افسانہ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ممتا کی قربانی

تصویر
اُف یہ دونوں پھر آگئے ! آخر کتنی بار سمجھاؤں مجھے تو اب چڑ سی ہونے لگی ہے ان دونوں بچوں اور ان کی ماں سے . کئی بار وارننگ دے چکا ہوں پھر بھی باز نہیں آتے آخر کس کھیت کی مولی ہیں یہ لوگ پتہ نہیں ، بے شرمی کی حد ہوتی ہے اور اس حد کو بھی پار کرگئے ہیں یہ تینوں آج فیصلہ ہوکر رہے گا کہ یا تو یہ کبھی میرے گھر کا رخ نہ کریں یا پھر ان کی ماں کوہی ساتھ لے جائیں ہمیشہ قصہ ہی ختم ! نار ہے بانس نہ بجے بانسری . وہ بے انتہا غصہ کی حالت میں گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے آپ پر قابو پارہے تھے . دور سے عاصم کو آتا دیکھ کر عریشہ اور اریب دونوں ماں سے لپٹ گئے اور معصوميت سے اپنی ماں کو تکنے لگے ان کی آنکھوں میں آنے والے طوفان کو لیکر دہشت برپا تھی اور وہ نظروں سے سوال کررہے تھے کہ امی کیا ہمارے ساتھ آپ نہیں ره سکتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھ سکتی ؟ صائمہ نے بچوں کی آنکھوں کو پڑھ لیا اور گیٹ کی طرف دیکھنے لگی ، اس کا بھی دل گھبرا رہا تھا وہ ظاہر میں مطمئن نظر آرہی تھی پر اندر کی ہیبت اور پریشانی کو چھپا رہی تھی کیونکہ بچے کہیں پریشان نہ ہو جائیں . یہ عاصم آج آفس سے جلد کیسے آگئے ...

میں غلط نہیں ہوں

تصویر
وہ 80 سال کے ضيعف العمر شخص سے تم نکاح کرنا چاه رہی ہو ؟ اور تمھاری عمر سے سے آدھی ؛ لگتا ہے تمھارا دماغ کام نہیں کررہا ہے ارے کیا پریشانی ہے تمھیں تین وقت بے فکری کی روٹی مل رہی ہے کھا کر آرام سے زندگی گزارو کیوں یہ نئے تماشے کرنے جا رہی ہو بھائی کی باتیں سن کروہ خاموش بیٹھی رہی  میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا وہ مردود شوہر مرگیا اب سکون سے رہ لے مگر میری کہاں سنتی ہے گھروں میں کام کرلونگی کچھ ذریعہ بن جائے گا یہ کہہ کر اس بڈے کے گھر کام کرنے گئی بس کیا ڈالا کی بڈا ایک ہفتہ سے رٹ لگائی کہ اس سے نکاح کرلونگی امی کی غصہ سے بھرپور اور طعنوں و تشنیع کی ملاوٹ سے بھری باتیں یہ بھی وہ برداشت کرتی رہی . آخر کچھ بولوگی یا اسی طرح بت بن کر ہم سب کی سنتی رہوگی بڑی آپی غصہ سے چیخنے والے انداز میں پوچھنے لگی . کیا کہوں آپی ؟ آپ سب نے تو کہہ دیا ہے اب اور کچھ باقی رہا کہنے کو ؟ ہاں تو تم نے جو ارادہ ظاہر کیا اس کا جواب ہے یہ سمجھی ! اب آئندہ اس آدمی کا ذکر گھر میں نہیں ہونا چاہیے اور تم کام کو نہیں جاؤ گی سن لیا بھائی نے بھی دخل دیتے ہوئے کہا . رضیہ جو کہ ایک بيوه تھی لاولد بھی ، شادی ہ...

انتقام

تصویر
حنائی ہاتھوں میں قلم تھامے وہ دستخط کرنے کے لئے تیار بیٹھی تھی ، سامنے اسکی نند ہاتھ جوڑے اسے دستخط کرنے سے روک رہی تھی . حریم جس کے ماتھے پر خوب صورت چاند اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا دلہن بنی پر سکون انداز میں وہ اپنی گردن کو روایتی دلہنوں کی طرح جھکائے بیٹھی رہی  بھابھی پلیز یہ ظلم نہ کرو میرے بچوں پر رحم کھاؤ ماہرہ کی آنکھوں سے آنسو بہے چلے جارہے تھے اور وہ یک ساتھ التجا کرتی اور رحم کی بھیک مانگ رہی تھی . آخر آپ کچھ کہتی کیوں نہیں اس نے حریم کے مہندی لگے خوب صورت ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا  ، وہ سندھ بدھ جیسے کھو چکی تھی ارد گرد کے سارے منظر اور حالات سے بے خبر اپنے ساجن کے خوب صورت خیالوں میں کھوچکی تھی وہ جو اسکی محبت تھا وہی جو اسکی چاہت اسکی دنیا اسکا کل سرمایہ اور نہ جانے کیا کیا تھا . اسی کی موت کا بدلہ لینے کے لئے ، انتقام لینے کے لئےاس نے یہ قدم اٹھایا تھا ، وہ اب پوری طرح ٹوٹ چکی تھی بکھر چکی تھی اسے کوئی رشتہ حقیقی اور پائیدار نظر نہیں آرہا تھا وہ اس کھوکھلے رشتوں کے بند هن سے خود کو الگ تھلگ رکھنا چاه رہی تھی جن رشتوں کو وہ اپنی کائنات کل سمجھ...

سوتیلی ماں

تصویر
کہتے ہیں کہ ماں اگر مرجائے تو باپ بھی سوتیلا ہو جاتا ہے ، اسے آج پتہ چلا کہ حقیقی اور سوتیلے رشتوں میں فرق کیا ہوتا ہے اور کس طرح سے حقیقی رشتہ مجازی اور سوتیلا رشتہ ایک حقیقی رشتے میں تبدیل ہوسکتا وہ جان چکا تھا ، اس نے کبھی اپنی ماں سے ایک لمحہ کی جدائی کا بھی نہیں سونچا تھا وہ تو اپنے ماں باپ کا اکلوتا اور لاڈلہ بیٹا تھا اسکو تو ماں باپ کا پیار بے حد نصیب تھا بچپن سے لیکر آج تک اس نے ماں کی ممتا لو ٹی اور باپ کی شفقت سیمیٹی تھی یہی وجہ ہے کہ آج عمر کے اس دور میں داخل ہونے کے بعد بھی وہ اپنی ماں کی ممتا کو محسوس کرتا ہوا محرومی کا شکار ہو رہا ہے تب کہیں جاکر پتہ چلا کے ماں تو ماں ہی ہوتی ہے اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اسی لئے قدرت نے شائد ماں کا درجہ اتنا بلند رکھا کہ اس کے پیروں تلے جنت کو قائم کیا پر دوسری طرف با پ کا مقام بھی تو اتناہی بلند ہے کہ وہ جنت کا بیج کا دروازه ہے پھر ہمیں باپ سے زیادہ ماں کی طرف دل کیوں مائل ہوتا ہوا دیکھائی دیتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ سارا گھر ماں سنبھال لیتی ہے اولاد کی تعلیم سے لے کر تربیت اور اسکی خوشیاں ، ضروریات اچھا برا سب بے چاری ماں ...

محبت کی منزل

تصویر
آج پھر مجھے وہ مسکراتی آنکھیں نظر آگئی ، جس کو دوبارہ دیکھنے کی آس لیے میں نہ نجانے کتنے طویل انتظار سے گزر چکا تھا ، وہ آنکھیں جن سے مجھے پیار ہوگیا تھا وہ آنکھیں جو مجھے زندگی کا پیغام دے گئی تھی وہی آنکھیں جن کو میں دل میں بسائے پھرتا ہوں ، ویسے میں یہاں تھا بھی کہاں گذشتہ برسوں سے دیار غیر میں اپنوں سے جدا ہو کر زندگی گزار رہا تھا ، یہ زندگی کی بھاگ دوڑ اور یہ رشتوں کی کشمکش ہمیں یہ سونچنے کا اور یہ دیکھنے کا موقع کہاں فراہم کرتی ہے کہ کون کدھر ہے اور کس کو کس کی فکر لگی ہے بس دوڑتے جانا ہے یہاں تک کہ پیر آہستہ آہستہ قبر کی طرف رواں دواں ہوتے چلے جاتے ہیں . اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہم کب بوڑھاپے کی چوکھٹ پر قدم رکھ چکے ہیں اور کب عصر سے مغرب کی جانب گامزن ہو گئے ہیں ، اور موت جو کہ ہماری حقیقی دوست ہے ، ہمارے راستے صاف کئے ہماری منتظر ہے . ہاں بس جب سے میں نے جوانی کا خوب صورت لبادہ اوڑھ لیا تھا واقعی میں مجھے اللہ تعالٰی نے بہت خوب رو اور پرکشش بنا دیا تھا . مہذب خاندان اور معتدل آمدنی والی ہماری فیملی تھی ، نہ کوئی ریاکاری اور نہ ہی کسی اندھی تقلید میں گرفتار ...

سچی محبت

تصویر
کیا کہا اس نے ؟ وہی ضد پکڑے بیٹھی ہے اب کیا کریں ؟ میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ! اس بچی نے پریشان کررکھا ہے . بس ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے کہ اب میں اس گھر میں نہیں جاؤنگی ! ہاں تو یہ سب آپ ہی کا کیا کرایا ہے ، میری کہاں سنتے ہیں آپ .... بیگم رضا نے سختی سے جواب دیا ، دیکھو بیگم یہ وقت ہم دونوں لڑائی جھگڑے کرنے کا نہیں ہے ، بہت ہی نازک گھڑی آن پڑی ہے ہم پر مختار رضا نے بیوی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا . الشباجو ان کی اکلوتی بیٹی تھی . شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی میکے آکر دوبارہ نہ جانے کی ضد لگائے بیٹھی ہے . وجہ صرف یہ ہے کہ نمازوں کو ادا کرنے کے لئے شوہر کی طرف سے سختی ! مختار رضا کی اپنی ذاتی دوکان تھی جس میں وہ لیڈیز ایمپوریم لگائے ہوئے تھے . الحمد للہ بہت ہی عمده طریقہ سے دوکان چل رہی تھی اولاد میں صرف ایک لڑکی تھی الشبا جو کہ بی ٹیک کرچکی تھی . مختار رضا صاحب نے اپنے دوست ابراہیم صاحب کے لڑکے التمش جو کہ لکچرر ہے سے اپنی بیٹی کی شادی کرڈالی. نکاح تو ہر دو کی رضا مندی سے ہی طے پایا پر اب لڑکی سسرال جانے سے انکار صرف ایک ہی وجہ سے کررہی ہےاور وہ ہے نماز .... اب بیگم رضا یعنی بلقیس رضا کا...

میرا اپنا

تصویر
کہتے ہیں کہ عورت اپنے دل کے دکھ درد کو آنسوؤں کی شکل میں ڈھال کر باہر نکالتی ہے اور دل کو ہلکا کرلیتی ہے ، لیکن مرد اپنے دکھ درد کو کس طرح باہر نکالے وہ نالاں فریاد تو کرنہیں سکتا اور دل کھول کررو بھی نہیں سکتا کسی سے درد دل بیاں بھی نہیں سکتا اس لیے شائد اندر ہی اندر اپنے غموں کو چھپا کر رکھتا ہے اور گھٹن بھری زندگی کو خود اپنے ہی کا ندھوں پر بوجھ بنا کر اسی بوجھ تلے ہر روز تل تل  مرتا جاتا ہے اور یہی اسکا نصیب سمجھ لیتا ہے . مگر آج یوسف احمد نے اپنے تکیہ کو اپنا ہمراز بنالیا اور اپنے سارے غم آنسوؤں کی شکل میں تکیہ کی نظر کرنے لگے اور تکیہ بھی یوسف احمد کی دی ہوئی سوغات کو اپنے دامن میں بھرنے لگا . .وہ آج بہت رونا چاه رہے تھے اور اکیلے رونا چاه رہے تھے انہیں کوئی ہمدرد کندھے کی ضرورت نہیں تھی نہ ہی کسی درد شریک کی وہ خود آپ ہی اپنے غمگسار بن کر اپنے غموں کا معاملہ طے کرنے جارہے تھے ، پہلو تکیہ پر سوئی ہوئی نادره پر ایک اچٹی نظر ڈالی ، جو بے خبر سورہی تھی شائد زیادہ تھک چکی تھی یا پھر سارے معاملات خالق حقیقی کے سپرد کرچکی تھی ورنہ وہ بھی ہر طرح سے ان کی شریک حیات کے ساتھ ساتھ شریک ...

امید کا دامن

تصویر
کیا ہوا؟ کچھ نہیں ہر بار کی طرح  ! مگر کیوں ؟ ہادیہ خاموش ہوگئی  سعدیہ بھی بات کو آگے نہ بڑھا کر اپنی طرف سے خاموش ہوگئی . لڑکے والے جانے کے بعد ہادیہ کے سوال کا جواب دیتی ہوئی وہ اپنے کمرے کا رخ کرنے لگی. مشتاق احمد صاحب کی دو ہی لڑکیاں بڑی سعدیہ اور چھوٹی ہادیہ بیگم مشتاق یعنی نازیہ مشتاق ایک پڑھی لکھی اعلیٰ خاندان کی بیٹی تھی اور مشتاق احمد بھی بہت سنجیده اور دین دار آدمی تھے ، سرکاری ملازمت تھی اور دونوں لڑکیوں کو اچھی تعلیم و تربیت اور اعلیٰ اخلاق جیسے زیور سے آراستہ کیا ،گھر میں نہ کوئی شور نہ شرابا بس پُرسکون ماحول اور سلجھی ہوئی زندگی ، بچیاں بھی ماں باپ کی فرمابردار . بڑی لڑکی Msc کر لینے کے بعد شادی کا ارادہ کیا اور جان پہچان والوں میں کہنا شروع کیا ، ویسے گھرانہ بہت ہی اچھا تھا نام رکھنے کو کچھ ن تھا ہی نہیں ، کوئی بھی اچھا رشتہ سعدیہ کے لئے آسکتا تھا لیکن ایک مسئلہ یہ تھا کہ رنگت میں سعدیہ ہار گئی یعنی گہری سانولی رنگت رکھنے کی وجہ سے ہر اچھا رشتہ واپس چلا جاتا ، نیک ، پڑھی لکھی ، دین دار بہرحال ہر اچھے وصف کی مالک سعدیہ صرف اور صرف رنگ کی وجہ سے لوگوں ...

خوب صورت حصار

تصویر
بہت دیر لگادی آپ نے ؟ وہ مصنوعی غصہ کو ظاہر کرتے ہوئے پوچھنے لگی ، سوری دیر تو ہوگئی پر کیا کرتا عين نکلتے وقت باس نے کام دے دیا اب منع بھی نہیں کرسکتا اس لئے کرکے آرہا ہوں ، وہ صفائی بیان کرنے لگا ، خیر چھوڑو یہ بتاؤ کہاں چلنا ہے وہ مسکراتا ہوا اسکے آگے جھک سا گیا . وه بھی زیر لب مسکرادی اور اس کے پیچھے بیٹھ کر گاڑی کو آگے بڑھانے کا اشاره کرنے لگی . زیبا.. جی ! اس طرح سے ہم کب تک ملتے رہیں گے ؟ ہاں مجھے بھی یہی خیال آ رہا ہے ! آپ اپنے گھر میں میرا ذکر کئے ہیں یا نہیں ؟ میں امی سے دبے لفظوں میں تمھارے بارے میں جانکاری دے دیا ہوں اور تم ؟ ابھی تک تو نہیں ... اگر آپ کہیں تو آج کہہ کر دیکھوں ؟ ہاں زیبا اب یہ روز روز جھوٹ ہم کیوں کہیں تم بھی پڑھی لکھی اور باشعور اور میں بھی ، ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ لینا کا حق ہے . ہاں پر ہمارے بزرگ بھی تو ہمارے حق میں صحیح فیصلہ ہی کرتے ہیں . تو تمھارا مطلب ہے ہماری یہ ملاقاتیں غلط ہیں وہ ذرا سخت لہجہ میں گویا ہوا اور گاڑی کی رفتار کو دھیمی کرنے لگا ، ارے کیا ہوا آپ ناراض ہو گئے ہیں ! میں نے کیا غلط کہا ؟ اب دیکھئے نا ہم دونوں پڑھے ...

رشتے

تصویر
بھا بھی آپ پہلے پسند کرلیں اس کے بعد دوسروں کی باری ہوگی ! اس کا دیور رحمت خان بہت ہی عزت سے عید کی خریداری میں لائے ہوئے ملبوسات کو رکھتا ہوا کہنے لگا . " مجھے کونسا بھی چلے گا رحمت آپ یہ سب یہاں کیوں لے آئے ؟ وہ نقاہت سی مسکراہٹ لبوں پر لیے کہنے لگی . پھر بھی آپ پہلے پھر دیگر ، پلیز لیجیے وہ ساری گھٹڑی اس کی طرف کرتا ہوا کہنے لگا . بار بار اصرار سے وہ شرمنده ہونے لگی اور ایک ساڑی اپنے لیے نکال لی . شکریہ بھابھی وہ گھٹڑی اٹھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا .  وہ افطار کی تیاری میں مصروف تھی وقت کم تھا اور کام زیاده . قریباً دس ، پندرہ افراد کا پکوان اور افطار تیار کرنا ہوتا ہے ، ملازموں کے ساتھ وہ اور پھوپھی خدیجہ دونوں ملکر کرتیں ہیں سارے خاندان میں یہ دو ہی بیوائیں تھیں . جو کہ  لاولد بھی تھیں اس لئے ہر چھوٹے بڑے کاموں کی ذمہ داری ان دونوں کو ہی سونپی جاتی   داؤد خان صاحب کو الله تعالٰی نے چار لڑکے اور تین لڑکیوں جیسی عظیم نعمت سے نوازا ، وہ تو خود کاروباری آدمی تھے مدراس سے چمڑے کی درآمد کرتے اور یہاں فروخت کرتے اچھے خاصے منافع کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے تھ...