ممتا کی قربانی
اُف یہ دونوں پھر آگئے ! آخر کتنی بار سمجھاؤں مجھے تو اب چڑ سی ہونے لگی ہے ان دونوں بچوں اور ان کی ماں سے . کئی بار وارننگ دے چکا ہوں پھر بھی باز نہیں آتے آخر کس کھیت کی مولی ہیں یہ لوگ پتہ نہیں ، بے شرمی کی حد ہوتی ہے اور اس حد کو بھی پار کرگئے ہیں یہ تینوں آج فیصلہ ہوکر رہے گا کہ یا تو یہ کبھی میرے گھر کا رخ نہ کریں یا پھر ان کی ماں کوہی ساتھ لے جائیں ہمیشہ قصہ ہی ختم ! نار ہے بانس نہ بجے بانسری . وہ بے انتہا غصہ کی حالت میں گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے آپ پر قابو پارہے تھے . دور سے عاصم کو آتا دیکھ کر عریشہ اور اریب دونوں ماں سے لپٹ گئے اور معصوميت سے اپنی ماں کو تکنے لگے ان کی آنکھوں میں آنے والے طوفان کو لیکر دہشت برپا تھی اور وہ نظروں سے سوال کررہے تھے کہ امی کیا ہمارے ساتھ آپ نہیں ره سکتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھ سکتی ؟ صائمہ نے بچوں کی آنکھوں کو پڑھ لیا اور گیٹ کی طرف دیکھنے لگی ، اس کا بھی دل گھبرا رہا تھا وہ ظاہر میں مطمئن نظر آرہی تھی پر اندر کی ہیبت اور پریشانی کو چھپا رہی تھی کیونکہ بچے کہیں پریشان نہ ہو جائیں . یہ عاصم آج آفس سے جلد کیسے آگئے ...