اشاعتیں

ناولٹ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زندگی کے رنگ ‏قسط ‏۲۹

تصویر
محبت تولی ناپی نہیں جاتی صرف اور صرف کی جاتی ہے ،  محبت کے بدلے محبت ملنا یہ ضروری نہیں ہے . بے لوث بے غرض محبت ہونی چاہئیے ، اگر  عشق کے بدلے میں معشوق سے اتنی ہی محبت کی آس رکھیں گے تو یہ سودا بازی ہوگی محبت نہیں ، سچی محبت صرف اپنے محبوب کی خوشی چاہتی ہے . اپنی غرض يا اپنی خوشی کے حساب سے محبت نہیں کی جاتی  ایسا کرنے والے کو ہم عاشق نہیں بلکہ خود غرض کہہ سکتے ہیں ، خیر یہ سب چھوڑ و ہما نے ساره کو سنجیده طور پر محبت کا خلاصہ بیان کردیا ، سب سننے کے بعد سارہ خاموش ہوگی ، سارہ ! جی بھابھی ! میں نے آپ کے بھائی سے شادی کی ہے اور یہ رشتہ ایک مضبوط محبت والا ہوتا ہے جس میں ہم سمجھوتہ کرکے داخل ہوتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے لئے جان دینے کو تیار رہتے ہیں یہ وہ پاکیزه رشتہ ہوتا ہے ! نکاح سے دو دلوں میں محبت قائم ہو جاتی ہے نا چاہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے کے ہو جاتے ہیں ایک انجانی سی کشش ہوتی  ہے اور ایک خوب صورت سا بند هن ہوتا ہے جو دلوں کے راستے سے ہوکر روح میں بس جاتا ہے ، اسے دنیا کی کوئی  طاقت ہٹا نہیں سکتی .  آپ کی بھی شادی ہوگی نا تو یہ سب باتیں س...

زندگی کے ‏رنگ ‏ ‏قسط ‏٢٨

تصویر
ہما کو ڈاکٹر نے بیڈ رسٹ کہہ دیا ہڈی فرا کچر ہوئی تھی . . ا شہر بہت پریشان ہوگیا ، وہ ہما کو پوری طرح سے دیکھ بھال کرنے کے لئے ایک خاص ملازمہ کا انتظام کرديا ـ اور خود بھی زیادہ تر وقت اس کی خدمت میں صرف کردیتا .  ساره بھی اثیر کی اچھی خاصی دیکھ رکھ کرلیتی. عاصمہ کو ہما کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملی وہ اور ردا دونوں مزاج پرسی کے لئے آگئے۔ " ارے یہ سب کیسے ہوا ، گھر میں آئے کچھ ہی عرصہ ہوا اور یہ حادثہ رونما ہوگیا ، یہ تو بہت بُرا ہوگیا " وہ اشہر کو کہنے لگی ، امی یہ سب تو اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے کسی جگہ یا مقام ، یا پھر انسانوں سے نہیں ہوتا ،   تم اس بات پر یقین کرویا نہ کرو مجھے تو گھر صحیح نہیں ہے ایسا کچھ سمجھ آرہا ہے ، وہ اپنی ہی دھن میں کہے جارہی تھی پاس میں سارہ کھڑی سب سن رہی تھی۔ اشہر اور ہما خود میں شرمنده ہورہے تھے ، ردا نے بھی ماں کو اشاره کیا مگر وہ ہر ایک سے لاپرواہ بولی جارہی تھی .  ساره کا زياده تر وقت نیچے ہی گزرتا تھا . جوان دلوں میں امنگیں اور جذبات اور محبت کے ولولے زیادہ ہوتے ہیں . کچھ ایسا ہی حال ساره کا ہونے لگا وہ آہستہ آہستہ اشہر کی جا...

زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٧

تصویر
   ہیلو اسلام علیکم .. وعليكم اسلام ! کیا ہورہا ہے رانی صاحبہ جی کچھ نہیں آپ بتائیے ناشتہ ہوگیا ؟ ہاں اثیر کیا کررہے ہیں ؟ کھیل میں مصروف اچھا ، اب سنو ایک اچھی خبر ، وہ کیا ؟ امی نے نئے بزنس کے بارے میں حامی بھرلی ہے . سچ ... ہاں شکر ہے خدا کا ! اب میں ذرا آفس کے لئے بلڈنگ کی تلاش میں جارہا ہوں . دوپہر میں آنے دیر بھی ہوسکتی ، جی ، ٹھیک ہے الله حافظ .. جی فی امان الله .     کہیں ملی بلڈنگ کچھ آفس کے لئے ہاں بتاتا ہوں ذرا سانس لینے دو اور جی بھر کے تمہیں دیکھنے دو پھر بچے کو بھی پیار کرنے دوارے بھئی آتے ہی حملہ وہ روم میں داخل ہوتے ہی ہما کے سوال پر ہنستا ہوا کہنے لگا۔ اوکے بابا آپکی ساری تھکان اترنے کے بعد ہی بات کرتی ہوں . وہ بھی مسکرادی    آسیہ آنٹی کے ہاں خالی ہے سامنے آفس اور پیچھے گھر ہے مجھے تو سمجھ میں آگیا آپ بھی چل کر دیکھ لیتیں . ارے مجھے دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اگر آپ کو بہتر لگا تو آنٹی سے بات کرلیں ، ہاں وہ فرسٹ فلور میں رہنے لگی ہیں . اچھا تو پھر ٹھیک ہے . بات کیجیے اوکے با ت کرکے آج ہی اڈوانس دے دیتا ہوں . جی ، چلئے کھانا نکا...

زندگی ‏کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٦

تصویر
عاصمہ ورده کو لیے ہال میں ٹہل رہی تھی ۔ السلام عليكم امی ا شہر ماں کو سلام کرتا ہوا اپنے روم کی جانب جارہا تھا ، وہ حیران کن نظروں سے بیٹے کو تاک رہی تھی ، آج وہ بہت خوش اور مطمئن نظر آرہا تھا، عشائیہ پر عاصمہ نے پوچھ ہی لیا. کیا بات ہے آج بہت مسرور نظر آرہے ہو کوئی خاص بات ہے کیا؟ کچھ نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں ، اسے  ابھی سے اس مدعا پر بات کرنا پسند نہیں تھا . اچھا ہما اور اثیر خیریت سے ہیں ناں ، وہ غیر ارادی طور پر پوچھ ڈالی ، اتنے مہینوں بعد بیوی اور بچے کی خیر خیریت ماں کے منہ سے سننے کے بعد اسے عجیب سا لگا ، ہاں امی سب ٹھیک الحمد لله، ردا اور شرجیل فارغ ہو کر اپنے روم میں چلے گئے اور وہ بھی اپنے روم میں آ گیا .   رشتوں میں وہ پہلی جیسی محبتیں کہاں باقی رہیں سب رشتے مفاد پرست ہوگئے ہر کوئی خودنمائی کے بھنور میں پھنس گیا ہے . ریاکاری عام ہوگئی ہے ، ایسے مواقع بہت کم میسر ہوتے ہیں جہاں ہم خود کو رشتوں سے صاف دل اور نیک نیتی سے ملتے ہیں . ورنہ ایک دوسرے کی تذلیل ، ہتک اور توہین ، گستاخیاں ، بزرگوں سے ہے ادبی یہ سب عام سا ہوگیا ہے .   دنیا چاہے جتنی بھی ترقی...

قسط٢٥ ‎ ‎زندگی کے رنگ

تصویر
  کیا بات ہوئی ہما آج اشہر سے تم نے پوچھا بیٹی ؟ ہما کی امی روبینہ نے دھیرے سے سوال کرڈالا ، جی امی پوچھ لیا اچھا پھر ؟ پھر کیا اشہر کی امی مجھے اپنانے نے سے انکار کر رہی ہیں . اب ؟ یہ کیا حماقت ہوئی بیٹی شادی ہوچکی اور ایک لڑکا انھیں اب یاد آیا کہ بہو کو اپنائے یا نہیں ، جی تو بہ یہ بات مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی مجھے بھی امی ، پھر کیا سونچا آپ دونوں نے ، میں نے اشہر سے کہا کہ ا لگ بزنس شروع کردیں ، تو کیا بزنس سے بھی اشہر کو بے دخل کردیا جارہا ہے ہاں وہ کیوں شرجیل کے حوالے کردیا جارہا ہے . اوہو یہ بات ہے تو پھر ا شہر کو یہاں کا بزنس سنبھال لینے کو کہہ دو، وہ راضی نہیں ہے امی تب ہی تو میں نے یہ پلان بتایا ویسے وہ بیرون ملک جانے کے لئے تیار ہیں ، میں نے یہیں پر نیا بزنس کرنے کی تجویز رکھی جسے وہ مان گئے، اچھا تو پھر دیر کس بات کی ؛ كريں تو کیا کریں اس بارے میں سونچنا ہے ـ ہاں یہ بات بھی صحیح ہے . الله خیر کا معاملہ فرمائے آمين .   ہما اب بتادو ہم کونسا بزنس شروع کریں ، دیکھئے ہمارے حساب سے مجھے ایک خیال آرہا ہے کہ حج و عمرہ کے ہم پیاکیج رکھ سکتے ہیں اور اس کے لئے ہم ہم...

زندگی ‏کے رنگ ‏ ‏ ‏ ‏قسط ‏٢٤

تصویر
کیا بات ہے آپ کچھ پریشان نظر آرہے ہیں ؟ ہما نے اس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے پوچھ لیا ، ہاں یار پریشانی اور مصیبت کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے کبھی پریشانی تو کبھی مصیبت انسان کب چین کی بانسری بجا پایا ، گود سے گور تک انسان پریشان حال ہی رہتا ہے . کبھی خود کی پریشانیاں تو کبھی دوسروں کو سکون سے دیکھر پریشانی بہرحال ہروقت ٹینشن لگا رہتا ہے ، ارے میں نے آپ کے بارے میں پوچھا اور آپ ہے کہ فلاسفی شروع کردی ، دنیا سے ہمیں کیا لینا دينا ہمارے خاندان کا ہم دیکھیں گے . ہما نے تنبیہہ کر ڈالی. اوکے چھوڑیے ان باتوں کو چلیئے کھانا نکالتی ہوں کھا کر بات کرتے ہیں .   ہاں اب بتائیے سب خیریت سے ہیں نا . ہاں الحمد لله سب ٹھیک، ہما میں آپ سے کچھ بات کرنا چاه رہا ہوں ؛  مجھےبھی آپ سے بات کرنا ہے . ! اچھا تو پھر پہل آپ سے وہ ہما کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا ، ارے نہیں آپ بتائیے وہ بضد تھی ، خواتین پہلے وہ مسکراتا ہوا کہنے لگا . اچھا ٹھیک ہے میں ہی بتا دیتی ہوں . بات یہ ہے کہ امی نے ہمارے مسائل کیا ہیں پوچھا ہے ، میرا مطلب یہ ہے کہ آخر کیا بات ہوئی جو اتنے مہینوں سے میں یہاں مقیم ہوں ، پھر تم نے کی...

زند گی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٣

تصویر
میری زندگی ایسے موڑ پر آکر رکے گی . اس کا شک و شبہ بھی نہیں ہوا تھا . زندگی کے راستے اتنے کٹھن اور دشوار کن ہو جائیں گے اسکا مجھے کبھی  علم نہیں ہوا تھا . کتنی حسین اور خوشگوار تھی میری لائف نہ بزنس کی فکر اور نہ ہی کسی گھریلو جھگڑوں کا جھنجٹ اور نہ ہی رشتوں کو ساتھ لے کے چلنے کی فکر ہر طرف خوشحالی اور محبتوں کے میلے ، ہر سو ممتا اور شفقت کے خوبصورت سہارے نہ کوئی روک نہ ٹوک نہ ڈانٹ نہ ڈپٹ اور نہ کسی کی ناراضگی اور نہ ہی بے رخی ، اب ذرا عمر نے کیا ترقی کی ہر بات میں ترقی ہوگئی ، نفرتوں میں ، بے رخی میں اور رشتوں کی بے اعتنائی میں بہرحال ہر طرف سے مجھے ایسے سایے نظر آرہے ہیں جنھیں دیکھر مجھے زندگی سے ڈر سا ہونے لگا. یہ نااتفاقیاں اور دوریاں کہیں مجھے زندگی سے موت کی ڈگر پر  لے کر تو نہ  جائیں گے ؟، کہیں میں بھی اچانک سے دنیا سے غائب ہونا جاؤں گا . خاص کر امی کا ایسا روپ دیکھنے سے تو بہتر ہوتا میں مر ہی جاتا ، نہ شادی نہ اولاد اور نہ یہ دن دیکھنے کو ملتے ، ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا ؟ واه رے زندگی تیرا رنگ نرالا روپ نرالا اور اب انداز بھی بہت خوب نرالا ہے کب کسے تذ...

زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٢

تصویر
دوپہر کو وہ لنچ ٹیم پر گھر پہنچا. حسب دستور ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا وہ کسی سے کچھ کہے بغیر ظہرانہ شروع کردیا ردا اور عاصمہ بھی اکر بیٹھ گئے جبکہ شرجیل موجود نہیں تھے ۔ بھیا ! . بھابھی کیسی ہیں اور اثیر ، سب خیریت ! وہ طویل گفتگو سے گریز کرتا ہوا کہنے لگا . وہ کھانا ختم کرتا ہوا اٹھ کر چلا گیا .  امی بھیا نے ایسی بے رخی کیوں برتی وہ ماں سے سوال کرنے لگی ، برتنے دو اس سے ہمیں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ، عاصمہ نے برجستہ جواب دیا .  دن گزرنے لگے اور ہما میکے میں رہنے لگی ، قریب چھ ماہ ہونے کو تھے کہ اس کی ماں نے بالمشافہ بات کردی " آخر بات کیا ہوئی بیٹی جو اشہر میاں اس طرح سے تمھیں یہاں رکنے کو کہہ رہے ہیں اور اب چھ ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے ، دیکھو ہما کوئی اولاد ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتی اور خاص کر بیٹی تو رحمت ہوتی ہے لیکن اسکا جائز مقام بیاہ کے بعد سسرال ہوتا ہے ۔ میکہ تو مہمان خانہ ہوتا ہے . " مجھے شک سا ہورہا ہے کہ وہاں کچھ زیاده ہی تناؤ والا معاملہ چل رہا ہے اور ا شہر تم سے کچھ راز رکھے ہوئے ہیں . ہاں امی مجھے بھی ویسا ہی کچھ سمجھ آرہا ہے ، خیر چھوڑئیے اس بات کو م...

زندگی کے رنگ ‏ ‏ ‏ ‏قسط ‏ ‏ ‏٢١

تصویر
حالات ناساز گار ہیں وہ الگ بات ہے لیکن امی کا جاہلانہ رویہ اسکی سمجھ سے قاصر ہے . آخر کو وہ ایک پڑھے لکھے اور مہدب خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے ایسا سلوک کیوں کر رہی ہیں ، وہ ان باتوں کی گہرائیوں میں جانا چاه رہا تھا مگر اسےکچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا . توہم پرستی کو اپنا رہی ہیں آخر ایسا کرکے انھیں کیا حاصل ہوگا . لاکھ کوششوں کے باوجود اسے نیند نہیں آرہی تھی ، ایک تو بیوی ، بیٹا دور دوسرے ماں کی بے رخی کرے تو کیا کریں جائیں تو کدھرجائیں ، سچ اس وقت اسے باپ کی بہت یاد آرہی تھی پاپا اگر ہوتے تو آج مجھے اس طرح پریشان ہوتے نہیں دیکھ سکتے ، ماں تو ممتا کی مورت ہوتی ہے ، بچوں کے لئے سائبان ہوتی ہے ، ایک اچھی دوست ، رہبر اور ایک دعا کی مانند معصوم ہوتی ہے ، کیا یہ سب بے کار باتیں ہیں یا دل کی تسلی کے لئے کہی جانے والی باتیں ہیں . يا دنیا داری یا دکھاوے کے فقرے ہیں ، سب مائیں دنیا کی اگر میری ماں کی طرح سونچیں گئیں تو خاندان سارے کے سارے بکھر جائیں گے اور اولاد کو ماں جیسے مقدس اور پاک رشتے سے نفرت ہوجائے گئی . اس رشتے کی قدر وقیمت اور اہمیت دنیا میں باقی نہیں رہے گی ، وہ سگریٹ پر سگر...