کچھ نلگنڈہ کے بارے میں ...
ہ
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ....
یوں تو ضلع نلگنڈہ ریاست تلنگانہ میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے یہاں کے ادیب شعراء اور یہاں کے دو خوب صورت پہاڑ اس کے علاوہ حیدر آبادی تہذیب کی کہیں کہیں چھاپ کا نظر آنا لیکن ان ساری خوبیوں کے باوجود ضلع کی ترقی جو ہونی چاہیے تھی وہ ابھی تک ادھوری رہ گئی ہے .
سابقہ میں بھونیگر ، سوریا پیٹ اور نلگنڈہ یہ تین اضلاع کا صرف ایک ہی متحدہ ضلع نلگنڈہ کی طرح پہچان تھی ، اب ٹی آر ایس حکومت نے اس کو تین اضلاع میں تقسیم کرکے تین الگ الگ ضلعوں کے نام دیئے ہیں ، جب متحدہ نلگنڈہ تھا اس وقت بھی وہ ترقی پذیر ہی تھا جب کہ سوریا پیٹ تعلقہ کی حیثیت رکھتے ہوئے بھی کافی ترقی کرچکاتھا اور بھونگیر بھی پہلے سے ہی ترقی یافتہ علاقہ میں شمار کیا جاتا رہا ہے .
ہماری ریاست کے وزیر اعلی نے نلگنڈہ کی عوام الناس سے وعده کیا کہ سنہ 19 20 کے جنرل الیکشن میں اگر ٹی آر ایس قائد کو ووٹ ڈال کر جیت دلوائی جائے گی تو میرا بھی وعده ہے کہ میں ضلع نلگنڈہ کو اینالوں گا یعنی متبنی کرلوں گا اسی وعده کے مطابق یہاں پر بہت بڑے پیمانے پر R &B کے کام شروع ہوچکے ہیں جس کے تحت 100 فٹ چوڑائی اور 4 way روڈ کا پلان جاری کردیا گیا . اس کے علاوه Annapurna can teen کا افتتاح عنقریب عمل میں لایا جائے گا جوکہ حکومت تلنگانہ صرف پانچ روپیے میں پیٹ بھر کھانا اسیکم کے تحت شروع کرنے جارہی ہے جس سے کئی خاندانوں میں موجود غذائی قلت دور ہوگی اور معاشی تنگی بھی دور ہوگی خاص کر مزدور پیشہ افراد کو صرف پانچ روپیے میں پیٹ بھر کھانے کا انتظام ہوگا۔ ضلع میں موجود کڑ پوننڈا بھوجنم ( kadpo ninda bhojanam) ، اور تنانتا بھوجنم( tinanta bhojanam) جیسے ہوٹل بھی چل رہے ہیں لیکن صرف 5 / روپیے میں پیٹ بھر کھانا بڑی بات ہے . دوسری جانب دیکھیں گے تو
کلاک ٹور clock Tower جوکہ بڑی گھڑیال سے اپنی شناخت رکھتا تھا اب وہاں چاروں طرف نصب کی گئی گھڑیال کو صرف دو جانب نصب کرکے باقی دو کو اسی کیا نٹین کے باہر ستون پر نصب کر دیا گیا ہے . ضلع میں بچوں کے لئےجگہ جگہ چھوٹے اور خوب صورت پارکس اور فوارے بنائے گئے ہیں جہاں پر عوام کا ہجوم تفریح کے لیے آرہا ہے .
نلگنڈہ بائی پاس پر خوب صورت چمن اور فواروں سے تنصیب کرده تین مورتیاں جو یک جہتی کی طرف اشاره کرتی ہیں جن میں گوتم بدھ ، بابو جگ جيون رام اور امبیڈکر شامل ہیں .
ربيع الثانی کا مہینہ ضلع نلگنڈہ کے لئے بہت اہميت رکھتا ہے کیونکہ اس ماہ میں سید شاہ لطيف اللہ قادری کا عروس مبارک ہوتا ہے صندل مبارک کو ضلع Sp گورنمنٹ کی طرف سے تین کمانوں تک سر پر سبحا کر لے جاتے ہیں نیچے پہاڑ کے دامن میں میلہ لگتا ہے جو کہ ہر طرح کے سامان اور خواتین ، بچوں اور لڑکیوں بہر کیف مصنوعی سنگار اور گہنوں سے مزین دو کانیں اور کھلونوں اور رنگا رنگ فیشن کے جواہرات وغیرہ سے لیس خوب صورت اسٹالس لگائے جاتے ہیں . جھولوں کے آس پاس ہجوم نظر آتا ہے مقامی لوگ کم اور اطراف و اکناف گاؤں کے لوگ زیاده اس میلہ میں شرکت کرنے والے ہوتے ہیں ،حیدر آباد کی نمائش کی ایک جھلک یہاں دیکھنے کو ملتی ہے ہر مذہب و ملت کے لوگ جوق در جوق اس عروس شریف میں آتے ہیں اور 565 سیڑھیاں چڑھ کر چادر گل کا نذرانہ سید شاہ لطيف اللہ قاردی رحمتہ اللہ علیہ کی نظر کرتے ہیں . ایک بات یہاں یہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ مسلم اکثریت سے زیادہ ہندو عوام یہاں حاضری دینے آتی ہے ان کا عقیدہ اتنا زیادہ ہے کہ دو ماه تک بھیڑ لگی رہتی ہے . دامن میں قوالیوں کے پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں عوام صبح تک بیٹھ کر قوالی سے لطف اندوز ہوتی ہےدوسرا پہاڑ امام ضامن کے نام سے مشہور ہے اس پہاڑ کی خاصیت یہ ہے کے اس پر چمچہ باولی اور کٹورہ باولی کے نام سے موسوم دو کنویں ہیں اور سنا ہے کہ ایک سرنگ ہے جوکہ دیور کنڈہ کے پیاڑ تک جا ملتی ہے .
ضلع میں کتب خانہ موجود ہے اس لیبریری کو ہر جمعہ چھٹی ہوتی ہے ضلعی لیبریری میں ہمہ اقسام کے کتب موجود ہیں ، اخبارات کے مطالعہ کے لئے قاریئن کو الگ سکشن رکھا گیا ہے اور یہاں پر ہر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء آسکتے ہیں ان کے لئے ہر طرح کا اسٹڈی میٹریل موجود ہے . اردو کی بہت ساری کتابیں موجود ہیں ہر مضمون میں آپ کو یہاں مواد حاصل ہوگا .
اب تو فی الحال ضلع کی صورتحال ایک زلزلہ آئے ہوئے علاقہ کی تصویر بتارہی ہے کیونکہ ہر طرف توڑ پھوڑ اور انہدامی کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں . لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر ہر کوئی گام بہ گام ضلع کے کاموں میں حصہ لے گا تو
آئندہ چند ماہ میں ضلع ترقی کی راہ میں گامزن ہوگا ان شاء اللہ ....
شکریہ ...✍️ فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے