شبعہ اردو جامعہ عثمانیہ کا ایک روزہ سیمینار .... سماج میں انسانی اقدار و مساوات ... بين الاقوامی دانشوران کی اصلاحی و فکری تحریک !




 رب ذوالجلال والاکرام نے حضرت آدم اور حضرت حواکو جس وقت زمین کی نظر کیا  تب ہی سے ہم پر اقدار اور مساوات جیسے کردارکے نظام کو بھی جاری و ساری کردیا گیا ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواکے دونوں بیٹے ہابیل اور قابیل  کی ایک دوسرے پر مخالفت کردار ی کی ضرب نے روئے زمین پر اقدار کے وصف کو  ظہور پذیر کردیا اور ساتھ میں  مثبت اور منفی کردار کو نمایاں کر دیکھا یا گیا . انسانی اقدار کی بات نکلتی ہے تو شخصیت کا نکھار اور ایک مثبت ذہنیت کی نشوونما انسانی اقدار و مساوات میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں ، مساویانہ حقوق کی ادائیگی ایک دوسرے کی قدر کا میزان اس میں مساوی رکھا جاتا ہے تب ہی ہم انسانی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے نظر آئیں گے . لفظاً اقدار اور مساوات جدا ہیں لیکن معناً میں ایک ہی ہیں .


      دنیا میں جتنے بھی پیغمبر الله تعالى کے احکامات کو بنی نوح انسان تک پہنچاتے آئے ہیں ان میں پوشیده یا ظاہری طور پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ہی تلقین کی گئی ہے اقوام عالم میں بڑھتے ہو ئے منفی رحجانات ، منفی تاثرات ، برائیوں کے تدراک کے لئے سماجی مصلح قوم کے معماروں اور دانشورانہ ملت سب نے اپنے تئیں بہت کوشیش کیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے سماج کو ایک بہترین سانچے میں ڈھالنے کی سعی کرتے آ رہے ہیں ان کوششوں کو زبانی و تحریری طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے  کہیں ڈرامائی انداز ، کہیں ادبی خدمات کے ذریعہ تو کہیں زبانی تبلیغیں کیں تو کہیں پر تحریکوں کی شکل میں پیش کیا گیا لیکن تمام کا مقصد ایک ہی تھا بس انداز رہنمائی جداگانہ حیثیت رکھتی تھی شعراء اور ادبا نے اپنے سخن آفریں کے ذریعہ بے شمار لوگوں تک انسانی اقدار و مساوات کا پیغام پہنچایا. پیغام رساں اداروں نے بھی اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گا ہے بہ گاہے انسانی حقوق ، اقدار و مساوات جیسے عنوانات کے تحت باشعور احباب کو گفتارکے مواقع فراہم کئے  ، یہی نہیں تشویقی و ترغیبی تحریک برائے طلباء آج عام ہوچکی ہے يو ٹیوب پر با ضابطہ طور پر شہرت یافتہ مقررین ، حوصلہ افزائی پر رغبت دلانے والے خطیب کے motivational speekers                  کے بہترین اور آزمودہ خطبات کی تشہیر کی جا رہی ہے . تاکہ آئندہ کی نسلیں اپنے اقدار و مساوات میں کھری اتریں کھوٹی نہ ثابت ہونے پائے ، دیگر یہ کہ اس طرح کے ویڈیوز  ہمیں سماج میں ایک بہتر شہری اور خاندان کا ایک ذمہ دار فرد بننے کی ترغیب  دیتے ہیں . یہی نہیں ہمارے اندر پائے گئے منفی کردار کی نشاندہی کروا کر اس کے سدھار کیلئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ، حکایات بتائے جاتے  ہیں جو کہ ایک مثبت لائحہ عمل کا آغاز و ارتقاء مانا  جا سکتا ہے . 

   اسی تناظر میں ادب میں انسانی اقدار و مساوات جیسے اہم عنوان پر بتاریخ 15 / ڈسمبر بروز جمعرات ، جامعہ عثمانیہ شبعہ اردو کے تحت ایک روزه بين الاقوامى سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا گیا . اس سیمینار میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے مہمانان اعزازی نے شرکت کی یہ اپنی  نوعیت کا پہلا بين الاقوامی سیمینار تھا جس کو شبعہ اردو کی گسٹ فیکلٹی نے انتہائی ذمہ دارانہ اور بہترین انداز میں پر سکون ماحول میں پر امن  طور پر منعقد  کر کے کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا یا اور ثابت کر دیکھا کہ زبان و ادب کے ساتھ ساتھ اقدار کافروغ  صرف ایک تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ ہر میدان جیسے سیاسی ، مذہبی ، معاشی ، تجارتی میں بلا مبالغہ ثابت قد می اور جستجو سے ہونا چاہیے ، خود میں اگر قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہوتو کوئی رکاوٹ اپنے عزائم کی انجام دہی کے لیے حائل نہیں ہو سکتی ہے .

یوں تو یہ ایک روزه سینمینار رہا پر اس کے عنوان سے مدعوین ، حاضرین نے ماضی بعید کے تمام ادوار کا پوری طرح سے تجزیہ عملی طور پر کیا ، یہ ایک اصلاحی و فکری تحریک مانی جا سکتی ہے جس کے ذریعہ بین الاقوامی طور پر اقدار و مساوات کا انقلاب لایا جاسکتا ہے ! کیونکہ یہ عوامی تحریک ہے جس میں عوام الناس کی متحدہ و متفقہ کوششیں شامل ہیں ،کلید ی خطبہ میں  پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدين سابق ڈائرکٹر ، این سی پی یو ایل ، و پروفیسر ، جے این یو ، نئی دہلی نے انسانی اقدار و مساوات کا رشتہ ادب سے کس طرح جڑتا ہے انتہائی تفیصلی طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتا یا موصوف نے  آج کے انسان کو اپنے محدود دائرے سے باہر نکل کر سماج میں اپنے مثبت اقدار اور خیالات کو پھیلانے کی تلقین کی ، انھوں نے ادبا و شعرا کے کلام کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں ہرمذہب اور ہر ادب و زبان ، ہر رہنما صرف اور صرف انسانی حقوق یعنی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے آیا ہے ہندوستانی شعراء و ادبا غالب ، میر ، پریم چند ، کرشن چندر اور امیر خسرو ، اقبال نظیر اکبر آبادی جیسوں کے گہرائی والے مطالعوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کی عوام کو پیغام امن و سلامتی دیا ہے ،دنیا میں موجود ہرانسان حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کی اولاد ہی کہلاتا ہے تو پھر یہ تفرقہ بازی کس لیے ہے ، آج کے دور کا ہر آدمی خود کو ایک خول میں بند کردیا ہے اس  مقید ہونے کو انھوں نے ایک  بہترین مثال کے زریعہ بيش کیاکہ اگر ہم ایک مچھلی کو بوتل میں پانی ڈال کر بند کردیں اور اس بوتل کو سمندر میں پھینک دیں گے تو کیا مچھلی سمندری پانی میں رہے گی یا بوتل میں قید ہو کر ره جائے گی ؟ بالکل اسی طرح آج سماج میں انسان خود کو موبائل فون سے جوڑے رکھا ہے وہ رہتا ، بستا تو سماج میں ہے  پر صرف اپنے محدود دائرے میں ره کر زندگی بسر کررہا ہے نہ رشتوں کی قدر اور نہ اقدار و مساوات کی ادائیگی بس نام نہاد مراسم سے اپنے تعلقات کو فروغ دیا جا رہا ہے ، پروفیسر اکرام صاحب نے مہمانان خصوصی پروفیسر یوسف عامر ، سابق وائس چانسلر، الازہر یونیورسٹی مصر کے خطاب کی ستائش کی جھنوں نے اردو ادب میں انسانی اقدار و مساوات کا بہترین نمونہ نظیر اکبر آبادی کی نظم کا پیش کیا ، " آدمی نامہ" جس میں آدمی کے تمام صفات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے .

 " دنیا میں پادشہ ہوہے وہ بھی آدمی :

 اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی :

زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی 

ٹکڑے چبارہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی !

مہمانان خصوصی کے طور پر مدعو ہونے والے پروفیسر یوسف عامر جوکہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں ، ایک غیر زبان و ملک کے باشندے ہونے کے باوجود اردو کو بہترین انداز میں صحیح تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ ادا کرنے کی مہارت آپ میں بد درجہ اتم موجود ہے انھوں نے " آدمی نامہ " کو ایک جامعہ حیات فلسفہ اور تمام تہذیب و ثقافت کا نچوڑ کہا ہے ،  نظیر اکبر آبادی نے جس انداز اس نظم کو لکھا ہے اس سے اس دور کے ساری تہذیبیں اور انسانی صفات کا پتہ چلتا ہے اس نظم سے سماج اور انسان کے اقدار و مساوات اور روایات انسانی صفات پر شاعر کی گہری تحقیق و تجزیہ کے مطالعہ کا ثبوت ملتا ہے . جناب يو سف عامر نے اپنے کلمات کے ذریعہ اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اردو زبان کے شیدائی ہیں اور اس زبان سے انسیت ہی انھیں جامعہ عثمانیہ کھینچ لائی ہے ۔

پروفیسر سراج الدین نور مطوف جو کہ ازبکستان سے تعلق رکھتے ہیں اپنے خطبہ میں ازبکستان میں اردو کی ترقی کی تفصیلات بتائی اور کہا کہ غیر مذاہب کی طلباء کا اندراج قابل رشک بات ہے اردو کی چاشنی اور اس زبان میں پایا جانے والا خلوص ہی اس زبان کی ترقی کا راز ہے .

یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں بلا مذہب و ملت  سب شامل ہونا چاہیے کیونکہ آج کی سخت ضرورت انسانی اقدار و مساوات ہیں جس کی کمی نے سماج کے ہر رشتہ کو کھوکھلا کر دیا ہے ، ہمارے رشتوں کی استواری کو ختم کردیا ہے معاشرہ میں مساوات کا ہونا لازمی ہے ، جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ایک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارا کہلایا جاتا ہے یہ ساری دنیا کی مہشور و معروف جامعات میں شمار کی جاتی ہے ،کیونکہ اس جامعہ میں سماج کے تمام مذاہب و طبقات کے طلباء زیر تعلیم ہیں اس بات کا انکشاف یہاں کے وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر یادو نے  کیا انھوں نے جامعہ عثمانیہ کے بانی نواب میر عثمان علی خان کو خراج عقیدت پیش کیا .

ادب میں انسانی اقدار کا اہم رول رہا ہے ، شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے نزدیک جو انسان کا احترام نہیں کرتا وہ انسان دوست نہیں ہے ، خدا پرستی کا دعویٰ نہیں کرسکتا ، مخلوق سے محبت ہی خالق سے محبت ہے . اقبال کا تمام کلام انسان کے احترام اور اسکی بقاء و ترقی کی تعلیمات پر مشتمل ہے . " حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو : چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو ! "

پروفیسر سی گنیش پر نسپل آرٹس کالج و انچارچ ، صدر شبعہ اردو نے بہت ہی اچھی بات کہی کہ ہم انسانی اقدار و مساوات کو عملی شکل دینے کے لئے کوئی بڑا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنے ماتحتین کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا ہے اور محمود و ایاز کی مساوات کا شعر یاد دلوایا کہ " ایک ہی صف میں کھڑے ہیں محمود و ایاز : نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز !" پروفیسر ا یس اے شکور سابقہ صدر شبعہ اردو نے غیر ملکی مہمانان خصوصی کی آمد کا استقبال کرتے ہوئے ان کی اردو دوستی کی ستا ئش کی اور کہا کہ یہ انسانی اقدار کی ایک بہتر مثال ہے جو اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر مصر اور ازبکستان سے احباب تشریف لائے ہیں .

انسانی اقدار و مساوات کو سماج میں لاگو کرنے کے لئے پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ

ہم جس محفل یا مجلس میں بیٹھے ہوں بس اس ایک بات کو ذہین نشین کرلینا چاہئے کہ ہم سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے بھلے ہی فائدہ مند ہم ثابت نہ ہوسکے پر کسی کے لیے نقصاندہ ثابت نہ ہوں ... 

   فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔   

روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 22 ڈسمبر 2022

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]