اشاعتیں

زندگی کی سرکس نظم لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نظم

میں نے غریبی کو بہت ہی قریب سے دیکھا زندگی کی سرکس کو پہلی بنچ پر بیٹھ کر دیکھا نئے نئے کرتب نرالے اور انوکھے انداز اس کے رنگ ماسٹرتو کبھی جو کر کے قہقہے دیکھا کبھی خوشی تو کبھی غم میں ڈوبتی ہوئی ایک سے دوسری جگہ نقل مقام کرتے دیکھا صعبتوں کے باریک تار پر پاؤں رکھ کر چلتے خوشی کی منزل کو لپک کر حاصل کرتے دیکھا میں نے غریبی کو بہت ہی قریب سے دیکھا تجسس حقارت، نفرت کی نگاہیں دیکھیں مگر کبھی کسی ہمدرد تماشائی نہیں دیکھا رات ڈھل گئی سناٹوں میں آسمان کے تارے گنتے اگنے والا سورج پھر سے وہی غریبی میں دیکھا جانوروں کی طرح انسان بھی بن جاتے جانور  اور جانور کو انسان سے بہتر اور اعلی دیکھا ٹکٹ لے کر سب آتے اور دیکھ کر لطف اٹھا تے جاتے جاتے پیسوں کو ضائع کیا ، کہتے دیکھا سرکس دیکھاتی ہے زندگی کے روپ اور رنگ کسی کو سیدھا تو کسی کو الٹا چلتے دیکھا میں نے غریبی کو بہت ہی قریب سے دیکھا کوئی آگ کا کھلاڑی تو کوئی گیند اچھالتا جھولوں میں بیٹھ کر زندگی سے لڑتے دیکھا کسی کو حسینہ بھا گئی ، کوئی فدا ہوگی  کسی نے دل دیا تو ، کسی کو بے وفا دیکھا   یہ ہے دنیا کی سرکس اس میں ہر کردار پیارا ہر ک...