يوم جمہوریہ ... ملک کی سالمیت کا ضامن

ایسا تہوار جس کو بھارت کا ہر شہری مناتا ہے قومی تہوار کہلاتا ہے کیونکہ اس قسم کے تہواروں میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ، 15 / اگست يوم آزادی، 26 / جنوری يوم جمہوریہ ، گاندھی جینتی 2 / اکتوبر ، يوم اطفال 14/ نومبر قومی تہوار مانے جاتے ہیں ، جن میں يوم آزادی اور يوم جمہوریہ کو ہندوستا نى عوام بڑے پرجوش انداز میں مناتی ہیں کیونکہ یہ دو قومی تہوار ہندوستانیوں کے لئے کافی اہمیت کے حامل ہیں اس لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں اور ہر محکمے میں ترنگا لہرا کر ہم اپنی یک جہتی اور سالمیت کی پہچان بتاتے ہیں خوشیاں مناتے اور یہ بھی ظاہرکرتے ہیں کہ اپنے ملک کے امن اور خوشحالی میں ہم سب شراکت دار ہیں  .
ایک جمہوری میں سماج میں بسنے والے مختلف قسم کے لوگوں کے خیالات کی یکسوئی ہوتی ہے اس کے علاوہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ افراد کی روک تھام جمہوری طرز حکومت ميں کی جاتی ہے یہاں پر حکومت کی دسترس سے ہر غلط فعل اور ہر غلط ہاتھ خود کو نہیں چھڑا سکتا ہے .
انگریزوں کی غلامی سے ہمارا ملک سونے کی چڑیا سے ایک مٹی کی کلیا میں تبدیل ہوگیا سماجی رہنماؤں اور ساری ملک کی عوام نے ملکر ملک کو آزادی دلائی اور پھر دوبارہ ملک کو  سونے کی چڑیا بنانے کے لئے يوم قوانین بنائے گئے . جس طرح سے آزادی کے لۓ تمام مذاہب کے ہندوستانیوں نے ملکر ہندوستانی جنگ آزادی میں حصہ لیا اور ملک کو ظلم و ستم اور بربریت کے پنجوں سے آزاد کروایا ، اسی طرح ملک کا شیرازہ بکھیرنے سے روکنے کے لئے ملک کو جمہوری بنایا گیا تا کہ آئندہ پھر کسی غلط ہاتھوں میں ملک کی باگ دوڑ نہ پکڑی جائے . اس دن کی اہمیت کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت ہند ایکٹ جو 1935 سے ملک میں نافذ تھا اسے منسوخ کردیا گیا اور اس کی جگہ آئین ہند کی عمل آوری ہوئی ، اس طرح سے دستور ساز اسمبلی نے آئین ہند کو 26/ نومبر 1949 کو اخذ کیا اور 26 / جنوری 1950 کو تنفیذ یعنی نفاذ عمل میں آیا . ارادے مصمم تھے خیالات بلند تھے دلوں میں قوم کی ترقی کے جذبات پنہاں تھے . تعصب پسندی سے عار ان قومی مصلحان نے ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو مد نظر رکھتے ہوئے سب کی بھلائی کےلئے قوانین کو ترتیب دیا گیا جہاں پر ذات بات ، مساوات ، جنس اور زبانوں کو ترجیح دی گئی . تبھی تو یہ قوانین کو بنے 74 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی عوام انھیں اپنی فلاح و بہبود کی ضامن مانتی ہے . پنڈت جواہر لعل نہرو نے پنج سالہ منصوبوں کے ذریعے ملک کے معاشی بحران کو زوال پذیر کرنے کی سعی کی اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد نے خواندگی کو ملک کی ترقی کا راز مان کر اس کے لئے کئی ثمر آور تعلیمی حکمت عملیوں کو روبہ عمل لایا . ڈاکٹر بی آر ـ امبیڈکر نے ذات پات اور علاقہ واریت جیسے گندے نظریات کا خاتمہ کرنے کے لئے ہمارے قانون کو بہتر سے بہتر انداز میں فریم کیا تاکہ آئندہ کی نسلوں کو سود مند ثابت ہوسکے .
اصول و ضوابط انسانی زندگی کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں ، ہر کام کو ایک نظام کے تحت کرنے سے اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں اور رائے مشوره سے کئے گئے افعال بہترین نتائج کی عکاسی کرتے ہیں جمہوری ملک کی تشکیل کے لئے کمپیٹا ں تشکیل دی گئی اور کئی مرتبہ ردوبدل کے بعد ایک آئین ہند کی شکل حاصل ہوئی . جمہوریت کے مفہوم کو امریکہ کے 16 ویں صدر ابراہم لنکن نے بہت ہی خوب صورت انداز میں وضاحت کی ہےof the people ,by the people, for the people.
ایک جمہوری ملک جو عوا می حکومت عوام کے ذریعہ عوام  کے لئے  معنوں میں آتی ہے اور جمہوری حکو مت کا اہم اور بہت بڑا حصہ عدالت ہوتی ہے . جس کے تیئں قانونی تنازعات اور مجرموں کو سزائیں ہوتی ہیں اور انصاف کے لئے عوام عدالت سے رجوع ہوتی ہے .
ہمارے ملک کی سالمیت کی نشانی تاریخی لال قلعہ  اور ترنگا ہے جس کے تین رنگ سکھ ، امن خوش حالی کی نشانی مانے جاتے ہیں بیچ کا دستور چکر یا اشوک چکر جو کہ متحرک ز ندگی کی نشانی ہے . اگر اس ایک ترنگے کو بھارت کا ہر شہری سمجھ جائے تو ملک مفاد پرست اور شر پسند عناصر کے گندے ارادوں کو آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے بلکہ کچل سکتا ہے . یہی نہیں جمہورکے مفہوم کو سمجھنا ہر ہندوستانی کا فرض ہے یعنی وہ طرز حکومت جس میں حاکمیت اعلی اور اقتدار جمہور کے نمائندوں کو حاصل ہو . یہ ایک غیر آمرانہ طرز حکومت ہے . جوکہ عام رعایا کو قانون میں رائے دینے کی مجاز ہو یہ ایک ایسی طرز حکومت ہوتی ہےجو مطلق العنان نہیں ہوتی. بلکہ اپنا نمائندہ رعایا خود چنتی ہے اور حاکمیت کے اختیارات ملک کے عام باشندوں کو نمائندوں کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں . جس میں ملک کے سارے ذرائع اور طاقتیں عوام کے فائدے کے لئے ہوتے ہیں اسی میں ملک کی سالمیت ، بقاء اور تحفظ مضمر ہے . ورنہ یہ جمہوری نظام حکومت کے بجائے آمرانہ حکومت کہلائے گی . جو عوامی زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دے گی . ہم ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے تمام لوگ مرد وزن ، تعلیم یافتہ ، ناخوانده ، امیروغریب ، اور ہر محمکہ کہ عہدیدار کو چاہیے کہ عوامی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں ہمیں آئین ہند کا مطالعہ کرنا چاہیے تا کہ ملک کو غیر جمہوری ہونے سے بچایا جاسکے . نیم معلومات سے لاحاصل نتائج ہی ہاتھ لگے نگے ، اس لئے مطلوبہ معلومات کی سہولیتں حاصل ہونے کے لئے اپنے ذہنوں کو مثبت بنائیں تا کہ صحیح فیصلے صادر کر سیکس اور ادھورے معلومات کو لے کر ہم کبھی حقوق و فرائض کی جنگ نہیں لڑ سکتے ہیں اور ملک کی سالمیت کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں  .

  اس لئے اس دن کی اہمیت کو اساتذہ اور سرپرست بچوں کو تفیصل سے بتائیں علاوه بھارت کے آئین کا درس ہر قسم کی تعلیم کے ساتھ دینا ضروری ہے کیونکہ موجود ہ دور میں احکامات الہی کے ساتھ ساتھ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے قوانین کو بھی جان لینا چاہیے ورنہ پڑھے لکھے جاہل کہلائیں جائے نگے اور سب پڑھیں گے تو ہی سب بڑھیں گے اور پھر قومی تہوار يوم جمہوریہ کہ موقع پر ترنگا فخر سے لہراتے ہوئے ہم کہیں گے کہ يوم جمہوریہ ملک کی سالمیت کا ضامن ہے .۔ 
   فہمیدہ تبسم اردو پنڈت ، ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد .

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]