اشاعتیں

مضامین لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

يوم اُردو ، يوم قومی تعلیم ، يوم اطفال ، یوم قومی یک جہتی

  يوں تو سال کے باره ماه میں ہر ماہ کسی نہ کسی عظیم ہستی کی يوم پیدائش ہوتی ہے . ، لیکن ماه نومبر کو جسے چار چاند والا ماہ کہنا بے جا نہ ہوگا . کیونکہ ماہ نومبر کی خاصیت یہ ہے کہ اس ماہ میں چار نامور ، مہشور و معروف ہستوں کی ولادت ہوئی ہے . جو کچھ اس طرح سے ہیں .   9/ نومبر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ   1 1 / نومبر مولانا ابوالکلام آزاد   14 / نومبر پنڈت جواہر لال نہرو   19 / نومبر اندرا گاندھی        يوم اردو : .... ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ 9 / نومبر 1877ء سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، آپ بیسویں صدی کے ایک مشہور و معروف اسلامی و مذہبی شاعر ، قانون داں ، مصنف، اور سیاستدان ہیں ، ڈاکٹر اقبال کی شاعری اردو اور فارسی ، دونوں زبانوں میں ہے . اقبال کی شاعری کا بنیادی رحجان تصوف اور احیائے امت مسلمہ کی طرف تھا۔         انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ملت کے نوجوانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنا ہی نہیں بلکہ ان کے لۓ دعا ئیہ الفاظ کا سہارا بھی لیا ہے ، اور قوم کو جہالت کے اندھیروں اور تہذیب کی پستی کے پاتال ...

بابائے قوم مہاتما گاندھی

تعارف : ... موہن داس کرم چند گاندھی جنھیں " باپو " اور بابائے قوم " اور " گاندھی جی " جیسے القاب سے ساری دنیا جانتی ہے . اور ان کے يوم پیدائش 2 / اکٹوبر کو " بین الاقوامی يوم عدم تشدد "کے طور پر منایا جاتا ہے اور ملک میں "گاند ھی جینتی " کے نام سے قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ـ اور تعطیل عام کا درجہ رکھتا ہے . وہ 2 / اکتوبر 1869ء میں پوربندر میں پیدا ہوئے والد کا نام کرم چند گاندھی اور والده کا نام پتلی بائی تھا . شریک حیات کا نام کستور با کپاڈیہ ہے . جو بعد میں کستور با گاندھی سے جانی جاتی رہیں مہاتما گاندھی کی شادی 13 سال کی عمر میں ہوئی   تعلیم : ... ابتدائی تعلیم والده کی نگرانی میں پور بندر میں حاصل کی ۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے راجکوٹ روانہ ہوئے اور وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کرکے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ولایت ب بھیجے گئے ، اور امتحان کامیاب کرکے وہاں سے ہندوستان لوٹ آئے .    ہندوستان میں بیرسٹری کا کوئی خاطر خواہ سلسلہ قائم نہ کرسکے اسی لیے 1894ء میں جنوبی افریقہ روانہ ہوگئے۔    گاندھی جی کی ظلم کے خلاف پہلی ل...

پھلوں کے اجزاء اور فوائد

تصویر
  ہماری روز مرہ زندگی میں سبزیاں اور پھل بہت اہمیت کے حامل ہوتےہیں ان کے استعمالات ہماری بہتر صحت اور آئے دن لاحق ہونے والی بے شمار بیماریوں سے بچنے کا بہتر اور موثر ذریعہ ہیں ۔ پھل ہمیں قدرتی طاقت اور قوت مدافعت فراہم کرتے ہیں اور دوائیوں سے دور رہنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں. جہاں تک ہو سکے ہم پھلوں کو صبح نہار منہ یعنی نہار پیٹ استعمال کریں تاکہ ان کی قدرتی صلاحیت کو بہتر طورپر استعمال میں لانے والے بن سکیں ۔     ہر پھل میں کچھ نہ کچھ خصوصیت پائی جاتی ہے ۔ جو ہماری صحت پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے ـ بشرطیکہ اس کا صحیح اور بہتر طریقہ استعمال عمل میں لایا جائے۔     ⬅️ شیریں پھل: جو کہ قدرتی طورپر سورج کی حرارت کے ذریعہ پکتے ہیں ، ان میں شکر اور دوسرے طاقتور اجزاء زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔       ایسے پھلوں میں دوسرے پھلوں کی بنسبت نشائستہ اور شکر زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ دوسری قسم کی شکر کے مقابلہ میں زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتی ہے ۔ اور یہ انسانی جسم کی نشوونما اور طاقت میں اضافہ کرنے میں بہت مفید ہوتی ہے . یہی نہیں جسم کو...

نساء

تصویر
اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی درجہ دیا ہے۔ مذہب السلام نے عورت یعنی آزادی نسوان کے بارے میں ہر جائز اقدامات کو نافذ العمل کیا ہے انھیں میں تعلیم نسواں بھی ایک ہے جس کو کافی اہمیت سے اجاگر کیا گیا ہے اور زیاده فوقیت دی گئی ہے . یوں ہمارے مذہب اسلام نے مرد اور عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے جوکہ دیگر مذاہب میں موجود نہیں " حديث مبارکہ ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے " اس حديث سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ مرد کے برابر عورت بھی علم حاصل کرسکتی ہے اور یہی نہیں اور ایک بات یقینی ہوگی ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر درجہ بلند عطا فرمایا ہے۔   دیکھا جائے تو مرد کو جتنا تعلیم یافتہ ہونا ضروری اس سے کہیں زیادہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرنے سے ایک گھرانہ یا خاندان تعلیم یافتہ ہوسکتا ہے لیکن ایک عورت کے علم حاصل کرنے سے پورا ایک سماج تعلیم یافتہ ہوسکتا یوں کہنا بے جا نا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تحت الثرى سے اٹھا کر فوق اشعور تک پہنچا دیا ہے   اگر عورت تعلیم یافتہ نا ہوکر...

جامعہ عثمانیہ‏ ‏کچھ تعارف

تصویر
حیدر آباد میں ایک اردو یونیورسٹی کے قیام کا خیال عہد مختار الملك ہی میں پیدا  ہوچکا تھا اور 1692ء میں شیخ احمد حسین خاں رفعت یار جنگ اول نے اس بارے میں ایک تحریر ی یاد داشت مختار الملک کی خدمت میں پیش کی تھی جس پر انھوں نے لکھا تھا، " ہمہ را حری دیدم و مسرور شدم و تحسین کردم درا کثر مطالب اتفاق وارم وایں تدبیر رامفید ہندارم " لیکن اس خوشنودی کے باوجود یہ درسگاہ اس عہد میں قائم نہ ہوسکی غالباً فضا ہموار نہ ہوسکی تھی . اس کے نو سال بعد لما دا سلطنة میں یہ تحریک پھر اٹھی اور انھوں نے 1301ء میں باغ عامہ کے ایک جلسہ میں جس کی صدارت جو حکمران وقت غفران مکان کر رہے تھے تظام یونیورسٹی کی خیالی بنیاد رکھی جو برطانوی پارلمینٹ کے ایک رکن مسٹر بلنٹ کے تخیل جامعہ مشرقیہ پر مبنی تھی اور اسکے کچھ عرصوں بعد جب غفران مکان اور عماد ا سلطنتہ دونوں نیلگری میں تھے اور سرسید احمد خان بھی وہاں پہنچے تو جریدہ روزگار نے یہ خبر شائع کرکہ : ... " ہم سمجھتے ہیں کہ صاحب ممدوح نظام یونیورسٹی کی بنائی مشورت کیلئے طلب کئے گئے ہیں  " .   مگر بقول محمد مرتضٰی یہ تحریک ایک بجلی تھی جو چمکی اور غائب ہ...

سوتیلا رشتہ بھی حقیقی رشتہ کی طرح قابل احترام ہے

تصویر
ماں کو دنیا کی عظیم ہستی کہا گیا ہے. ماں کے قدموں تلے جنت ہے . ماں دنیا کے لئے ایک عظیم نعمت ہے ۔ اگر ماں نہ ہوتی تو آج دنیا میں ہر کوئی در بدر بھٹکتا رہتا     ہاں یہ صد فیصد سچائی ہے اس بات سے کسی کو انکار نہیں لیکن جب یہی " ماں " کے نام کے ساتھ اگر لفظ " سوتیلے " کا اضافہ کردیتے ہیں تو پھر ماں کے معنی و مفہوم پوری طرح سے بدل کیوں جاتے ہیں . کیا تب وہ ماں عظیم نہیں کہلاتی جب اسکے پیروں تلے جنت نہیں ہوتی ؟ اور کیا تب وہ ممتا کی دیوی نہیں کہلاتی ؟ " سوتیلا پن " یہ ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے ۔ جو تقریبا جانبداری برتا کرتا ہے اس رشتے کو نبھانا بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور یہ مسلہ آج تک سماج میں زیر بحث ہے . آج کئی خاندانوں میں سوتیلی مائیں موجود ہیں اور انکے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے وہ تو کسی کو دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی انکا کوئی ہمدرد ہوتا ہے       مرد حضرات کا یہ حال ہوتا ہے کہ بیوی کے انتقال، طلاق یا پھر خلع لینے پر درسری شادی یعنی عقد ثانی کر لیتے ہیں اس سے ان کی زندگی تو بہتر ہو جاتی ہے لیکن اگر آنے والی بیوی چاہے کتنی ہی نیک سیرت کیوں نہ ہو خاندان والے اسکی دل آ...

عہد آصفی کی قدیم تعلیم میں بہمنی عہد حکومت کے مدارس پر ایک نظر‎

اسلامی قانو ن سے معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے ہر مسلمان کو خواه وه مرد ہو یا عورت تعلیم کا حکم ہے اور علم حاصل کرنے کی بڑی ترغیب دی گئی ہے . مسلمانوں کے لئے علم حاصل کرنا بمنزلہ فرض گردانا گیا ہے . انحضرت صلی الله علیه وسلم کے اقوال یعنی "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے " اور . "علم حاصل کرو اگر وہ چین میں کیوں نہ ہو " یہ ایسے صاف اور صریح احکام ہیں جن کے بعد مزید کسی صراحت کی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر حمیداللہ نے اپنے مقالہ " عہد نبوی میں نظام تعلیم " میں تفصیل کے ساتھ اس امر پر روشنی ڈالی ہے . اور ثابت کیا ہے کہ ہر مسلمان پر خواه وه مرد ہو یا عورت تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے . ارشاد نبوی صلہ اللہ علیہ وسلم کے تحت ہر مسلم حکومت نے یہ کوشش کی ہے کہ اسکی جانب سے نثر و اشاعت تعلیم کا بھی پورا حق ادا ہو  رعایا کو اس نعمت سے مستفید کرنے کے ذرائع پوری فراخدلی سے مہیا کئے جاتے رہے         اسلامی ممالک میں خواه وه عربوں کی حکومت کے تحت ہوں یا ترکوں کے مغلوں کے تحت ہوں يا ایرانیوں کے افغانوں کے تحت ہوں یا مصریوں کے تعلیم کسی نہ کسی طریقہ سے رائج رہی اور حک...

میرا بھارت مہان ہے

تصویر
گزشته چند دنوں سے ایک خبر نظر سے گزار ہی ہے . اور ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے کہ معصوم بچے نے مندر کے اندر جاکر پانی پیا جس کے نتیجے میں لڑکے کو بری طرح زدو کوب کیا گیا . اور ساتھ میں یہ بھی جتلایا جارہا ہے کہ غازی آباد پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں یادو نامی شخص کو گرفتار کرکے اسکے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے    جہاں تک اس بُری خبر کا تعلق ایک مذہبی رنگ دینے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہیں پر اس کے غلط اور زہریلے اثرات سماج کو پراگندہ کرنے میں آگے آرہے ہیں     یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک سکے کے دو رخ ہوتے ہیں . اور ہم صرف ایک رخ سے اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ ملک میں قومی یک جہتی اور بھائی چارگی ختم ہوگی ۔ بلکہ سکے کا دوسرا رخ دیکھنے کے بعد آج بھی ہماری زبانوں سے یہ ضرور نکلے گا کہ  میرا بھارت مہان ہے چند مفاد پرست افراد اور شر پسندعناصروں کی نازیبا حرکیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ہمارے ملک کی سالمیت ختم ہوگی اسيا بالکل بھی گمان نہیں کرسکتے ہیں .        اس ماده پرست دنیا میں جہاں مذہب و ملت ، سیاست اور نسل ورن...

باتوں سے خوشبو آئے

تصویر
            جی ہاں اس مقولہ یا محاورہ پر اگر ہم عمل کربی گے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے . اب ہم یہ دیکھے نگے کہ باتوں سے خوشبو کس طرح آنے گی . یہ بہت آسان سا عمل ہے پر مشکل بھی ہے جس طرح سے ہمارا دین آسان اور مشکل دونوں ہے ….عمل سے آسانی ہے اور لا پرواہی برتنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے . حدیث شریف ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں  زبان ہی ہماری سب سے اچھی دوست بھی ہے اور دشمن بھی زبان شرین ملک گیری ، علم کے ساتھ عمل اور دولت کے ساتھ شرافت لازمی ہے ورنہ ہماری شخصیت بیکار ہے جہاں تک ہوسکے فضول گوئی سے پرہیز کریں اور خاموش کو بہتر سمجھے خاموشی  عبادت میں داخل ہے محبت اور نفرت کا تعلق انسان کے رویہ پر منحصر ہوتا ہے . حبس طرح ایک پودے میں پھول اور کانٹے دونوں ہوتے ہیں ہر کوئی پھول سے محبت اور کانٹوں سے نفرت کا اظہار کیوں کرتا ہے ؟ . کیونکہ پھول صرف مسرت اور خوشی دیتا ہے جب کہ کانٹے ایذا پہنچاتے ہیں ظاہر سی بات ہے تکلیف دہ چیزوں سے پر کوئی نفرت ہی کرے گا بالکل اسی طرح سے ہم اپنی زبان کو ایک پودے کے اس...

اردو کی ترقی میں مستشرقین کا حصہ‌

تصویر
 ( تحقیقی مقالہ) اردو میں شاعری کا مزاق یوروپین باشندوں کو جو کہ ہندوستان میں مقیم تھے انیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوا۔ اور ہندوستان میں اس زمانے میں اردو شاعری بہت شباب پر تھی جا بجا مشاعروں کی مجالس اور گھر گھر شعرا و سخن کے چرچے تھے۔اور ہندوستانیوں اور یوروپین باشندوں میں مخلصانہ تعلقات کے باعث زیادہ تر اہل يورپ مسلمانوں کی مجلسوں اور صحبتوں میں شرکت کرتے تھے جس کی وجہ سے ان میں بھی شعر و شاعری کا مذاق پیدا ہوا اور ان میں تو کچھ اردو کے بہت اچھے اردو صاحب دیوان شاعر بھی ہیں اور کئی اصناف سخن میں ان کا کلام پایا جاتا ہے اور چند ایسے ہیں جو اردو اور فارسیدونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے چند کا ذکر ذیل میں دیا جا رہا ہے آزاد: انکا پورا نام ایکزینڈر ہیڈ لی ہے تخلص آزاد تھا. والد انیسویں صدی کی ابتداء میں دہلی آئے د تھے۔ اور ایک مسلمان عورت سے شادی کرلی تھی . اور آزاد کی پرورش اور تربیت بھی ہندوستانی معاشرت اور اسلامی طرز پر ہوئی ساتھ میں مسلمانوں کی محبت نے ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا کردیا تھا . اٹھارہ سال کی عمر میں آزاد شعر کہنے لگے . مرزا غالب, نواب زين العابدین عارف دہلوی ...