سماج میں دجالی فتنوں کا ظہور ... ذمہ دار کون؟




 
 اللہ رب العزت نے بنی نوح انسان کو اس دنیا میں جب سے بھیجا ہے تب سے  شیطان نے حتی المقدور کوشش اور اپنے شیطانی حربوں کے ذریعہ  مصیبت میں ڈالنے کی کوشش جاری رکھا ہے اور انسان خاص کر مسلمان کو آخرت میں شرمندہ ہونے ، ذلت و رسوا کرنے کی سعی میں مصروف ہے جبکہ مالک حقیقی ان شیطانی حربوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنے بندوں پر رحم و کرم فرما کر ،  اسلام کو فتح یاب کرنے  اور اصلاح معاشرہ کے لئے  پیغمبروں کو اس سر زمین پر بھیجا جس سے نہ صرف شیطان کی شکست ہوئی ہے بلکہ اسلام کا پرچم بھی بلند و بالا لہرایا  ،ان کے جانے کے بعد  اس تسلسل کو خلفائے راشدین نے انجام دیا پھر اولیائے کرام نے اس کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی اب اس پیغام صراط مستقیم کی ذمہ داری ہم سارے امت مسلمہ پر عائد ہوگئی ہے . کیونکہ جس طرح سے شیطان اپنے بد فعل میں آگے ہوتا جائےگا اُسی طرح ہمیں اپنی نیکیوں کی طرف زیاده مائل ہوتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دینی ضروری اور لازمی ہو گئی ہے.
زمانے قدیم کے لوگوں میں دین کی سمجھ بوجھ کم تھی اس دور کے لوگ شرک و بدعت اور توہم پرستی کے زیادہ شکار ہوا کرتے تھے اندھی تقلید اور ادھورے دینی معلومات کی وجہ سے وہ اکثر دين اسلام سے مرتد  تھے .
آباد و اجداد کے عقائد میں کبھی شب برات  جوکہ شعبان کی پندرہویں شب کو منائی جاتی ہے ، اس دن مسلمان اپنے گھروں کو پاک صاف کرتے  اور لذیذ کھانے تیار کرکے انھیں بطور مردوں کے چکھنے کے انتظار میں رکھتے ،یہی نہیں اپنے گھر کے مرحومین کے طلب و شوق کا بھی پورا پورا خیال رکھا جاتا اور انکی استعمال کی جانے والی اشیاء  کو صاف ستھرا کرکے رکھا جاتا اور جو عادتیں ان میں ہوتی تھیں اسکی بھی  ادائیگی کی جاتی تھی جیسے کے حقہ ، پان ، سگریٹ لائٹر وغیره تاکہ وہ آکر استعمال کرکے جائیں گے اسکو دوسرے معنوں میں بڑوں کی عید یا مردوں کی عید سے بھی موسوم کیا جاتا ہے مناتے تو کبھی دیگر شرکیہ عقائد کو اپنا کر اپنے دین سے دوری کا کھلا ثبوت دیتے ، شعبان المعظم کی پندرہویں رات شیعہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے امام غائب صاحب کی يوم پیدائش کا دن ہے اس لیے اس دن وہ لوگ حلوه اور لذیذ پکوانوں کا اہتمام کرتے ہیں اور اس خوشی میں آتش بازی کرتے ہیں اور جھنڈیاں لگاکر خوب چہل پہل ہوتی ہے .
مر کر  انسان دوبارہ  آخرت کے دن ہی اٹھایا جائے گا اس روحوں کے چکر میں ہم اپنے زندوں کے حقائق سے دست بردار ہوتے چلے جارہے ہیں . اس پر آشوب دور میں یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں پر اس طرح کے نت نئے تہوار کو لوگ بہت جلد اپنا لیتے ہیں جہاں حقوق العباد کی ادائیگی کا ذکر ہو تو خود کو ایک ایسے خول میں مقید کر لیتے ہیں جہاں سے کوئی رشتہ نظر نہیں آتا اور برعکس اس کے اگر اپنی تفریح کی بات ہو تو عجیب و غریب ماسک لگا کر دنیا کے سامنے پیش ہوجاتے ہیں .
بچے  He man یا ، Spiderman یا پھر shakti maan جیسے لباس پہن کر وہ خود کو انھیں کی طرح پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں . یہ ایک معنوں میں بہروپیا کہلاتے ہیں یا پھر انھیں ہم Fancy Dress کا نام بھی دے سکتے ہیں . لیکن کچھ لباس ایسے بھی پہنے جاتے ہیں جن کو ڈراونی لباس یا دجالی فتنہ بھی کہیں تو بے جا نہ ہوگا اس لباس کو نہ صرف بچے بلکہ بڑے اور تذکیر و تانیث  زیب تن کرتے ہیں .
آئیے اب ہم اس دجالی فتنے کی بات کرتے ہیں جس کو  "ہیلووین " کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،یہ ہیلووین کیا ہے اس کا ہمارے مذہب وسماج سے کیا تعلق ہے اور اسکے نقصانات کیا ہیں ان ساری باتوں کو ذرا اپنے علم و فہم میں لانا ضروری ہے تا کہ آئندہ کی نسلوں میں اس کی لت سے حفاظتی  اقدامات کرسکے اور انسداد و تدراک کا لائحہ عمل ممکن ہو سکے .
 "ہیلووین "  یہ  شیطان ، چڑیلوں اور کئی خداؤں کی عبادت کرنے والے قدیم مذہب کا ایک تہوار مانا جاتا ہے ، اس کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ ہیلوویں کی رات مرے ہوئے لوگ بھوت اور چڑیلیں بن کر ان کے درمیان اترتے ہیں اور اس طرح سے وہ خود کو ان بد روحوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان جیسا ہی روپ دھار کر ، جانوروں کی کھالیں اور ان کے سر پہن کر الاو لگاکر اس کے گرد رقص کرتے ہیں ، اور ساتھ میں قربانیاں پیش کرتے ہیں ، اس طرح سے اسی آگ کو اپنے گھروں میں بھی جلا کر یہ مانتے ہیں کہ ان کی حفاظت یہ آگ کرے گی . یہیں پر ہیلووین کا اختتام عمل میں نہیں آتا بلکہ ان مرے ہووں کی روحوں کے لئے کھانے کا سامان بھی گھر کی چوکھٹ کے اس پار رکھا جاتا ہے تاکہ یہ روحيں انھیں تنگ نہ کریں .
ہیلووین ایک ایسا تہوار ہے جس میں بچے اور بڑے دونوں ڈراونے کپڑے اور ماسک پہن کر موج مستی اور پارٹیاں کرتے ہیں . یوں تو یہ تہوار ساری دنیا میں منایا جاتا ہے لیکن اس کے موجد یوروپ کے موجوده ممالک آئرلینڈ اور فرانس ہیں، اس تہوار کی بنیاد  سیلیتھک(Celtic) نامی قبیلہ نے رکھی ان کے مطابق 31/ اکتوبر سال کا آخری دن اور یکم نومبر سال نو کا ماہ ہوتا تھا اور گرمائی فصل 31 / اکتوبر کو کاٹی جاتی تھی چونکہ اس کے بعد سردیوں کا آغاز ہو چکا ہوتا اس لیے اس رات مرده انسانوں کی روحیں اور شیطانی طاقتیں زمين کی طرف اترتی ہیں اس طرح سے انسان کے جانی و مالی اور مویشی دولت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں لہذا اس رات اس قبیلہ کے افراد ایک بڑی آگ جلا کر مال مویشی کی بلی یعنی قربانی دیا کرتے تھے . اور خود مو شیوں کی کھالیں اور سینگ پہن کر آ گ کے ارگرد جمع ہو کر جشن مناتے ، ان کا ماننا تھا کہ اس طرح کرنے سے روحیں ڈر کر بھاگ کھڑی ہو جائیں گیں . اور جانوروں کی قربانی سے ان کا دیوتا خوش ہوکر ان کی مویشی دولت اور فصل کی حفاظت کرے گا .
اس طرح سے یہ تہوار روم اور یوروپ کے دیگر ممالک میں بھی پہنچ گیا 1921 میں پہلی بار امریکہ کے چند شہروں میں ہیلووین منایا گیا اور 1950 تک پورے امریکہ میں اس تہوار کو منایا جانے لگا . مگر ایک اہم بات یہ دیکھنے کو ملی کہ امریکہ نے اس کی مذہبی حیثیت کو ہٹاکر اسے ثقافتی حیثیت کی فہرست میں لا کھڑا کیا . اس طرح سے یہ ساری دنیا کا ایک " ٹریک اور ٹریٹ" والا تہوار بن چکا جس میں بچے ، نوجوان لڑکے لڑکیاں عجيب و غریب ڈراونی لباس پہن کر اپنے دوست احباب اور  رشتہ داروں کے یہاں جاتے ہیں اور ٹریٹ کھاکر چلے جاتے ہیں اور نہ دیں تو وہ ان کے ساتھ ٹریک یعنی شرارت کرکے انھیں تنگ کرتے ہیں .
موجوده دور میں اس تہوار میں ڈراونی شکلوں کے لئے pumkin يعنى پیٹھا کو کاٹ کر مختلف شکلیں بنانے کے لئے استعمال کیا جارہاہے اور اسے پہن موم بتی جلا کر ڈراونی لباس پہن کر پارٹیاں منائی جارہی ہیں اور آج یہ تہوار عربوں ڈالرس کا بزنس بن چکا ہے یوروپ ، امریکہ جیسے براعظموں میں ہیلووین سے قبل ہزاروں کی خریداری کی جاتی ہے .
افسوس اس بات کا ہے کہ اب یہ بیماری اسلامک ممالک میں بھی پھیل رہی ہے اللہ رب العزت نے ہمیں دو پاکیزه عیدین منانے کے احکامات دیئے ہیں ان پاکیزه تہوار کے ہوتے ہوئے یہود و نصارٰی کی نقل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ سعودی عرب جیسے اسلامک ملک میں ہیلووین کا تہوار منایا گیا یہ اہل عرب کے لیے ایک عبرت کا مقام ہے اور یہ اندازه لگا سکتے ہیں کہ قیامت کے آثار نمودار ہورہے ہیں .
یہ امیر اور سرمایہ داروں کا ایک مشغلہ ہے اس طرح کے دجالی فتنوں سے محفوظ رہنے کی امت مسلمہ کو سخت ضرورت ہے کیونکہ اس دجالی فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت ہم سب کا فرض اولین ہے اور جہاں تک ممکن ہو اپنی نوجوان نسل کو اس کی حقیقت سے آگاه کریں ...
الله ہم سب کی حفاظت فرمائے اور دجالی فتنوں سے محفوظ رکھے آمين ...
جب عیسائی مذہب کو عروج حاصل ہوا اور  ان قبائل تک رسائی حاصل ہوگئی تو "مردوں کو یاد کرنے کا دن " اور ہیلووین ،  کو مخلوط رنگ دیکر ایک تہوار کی شکل میں ظاہر کرنے لگے تاکہ ایک طرف عیسائیت کی تبیلغ ہو اور ان قبیلوں کو عیسائی مذہب میں سمونے میں آسانی ہو دوسری جانب عیسائی امیروں کے دروازوں پر جو کچھ کھانے کو رکھا جاتا اس کے بدلے میں وہ غرباء ان کے مردوں کے لیے دعا کریں گے . لیکن بنیاد پرست عيسائی اس تہوار کو نا پسند کرتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہودیوں کے ہاں بھی یہ ناپسندیده عمل ہے البتہ یہودی سارے مغربی دنیا میں اس دن کی مناسبت سے اس تہوار کے ڈراونی لباس ، اور دیگر سامان اشیا فروخت کرکے پیسہ کمانے میں پیچھے نہیں ہٹتے .
1966 ء میں شیطانیت نے خود کو دوباره ایک مذہب کے طور پر عوام الناس کے سامنے پیش کیا جس کے تحت تین تہوار اہم مانے جانے لگے
1. ہر شیطان یعنی تنظیم شیطانیت کے رکن کی سالگره منائی جاتی ہے کیونکہ وہ خود اپنی ذات کو خدا مانتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں کہ وہ اپنا آپ اس دنیا میں ظہور پذیر ہوا( نعوذ باللہ) .
2. اس دن یعنی ہیلووین تہوار منانے والے ہرانسان اس دن اس شیطان جیسا بن جاتا ہے اور اپنے وجود میں سے اس جیسے جبلتوں کو پرکھتا ہے جسے عام دنوں میں محسوس نہیں کرتا۔ اور اس دن کھلم کھلا اظہار کرتا ہے .
3. مذہب شیطانیت کا ماننا ہے کہ سارا سال جو ان پر ہنستے ہیں ہیلووین کے دن وہ ان پر ہنستے ہیں . ان کا کہنا ہے کہ یہ ساری باتیں حقائق پر مبنی ہیں . اس تعلق سے مذہبی شیطان کے آفشیل ويب سائٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے .
 اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد ایک سوال بہت بے چین کرتا ہے وہ یہ ہے کہ برصغیر یعنی ہندو پاک کے چند خانگی مدارس جو کہ ابتدائی تعلیم میں اپنے اعلٰی معیار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ، وہ ہیلووین جیسے شیطانی تہوار کا اہتمام کیوں کررہے ہیں ، جس کی کامیابی کے لئے کئی روز پہلے ہی اولیائے طلباء کو مطلع کیا جاتا اور ہدایات بھیج دی جاتیں ہیں  کہ اپنے بچوں کو اس تہوار کی مناسبت سے لباس پہنا کر بھیجا جائے ، قابل غور اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ اس تہوار کے منانے میں کوئی تربیتی ، معاشرتی یا سائنسی ترقی مضمر نہیں ہے تو پھر اس قسم کے تہوار اسکولس میں منانے کے کیا مقاصد و مہارتیں اور کیا ترقیات کا راز پوشیده ہے اگر یہ نا سمجھے اور نابلد ہیں تو پھر یہ لوگ خود کو خوانده اور باشعور کہہ کر سماج کو کیوں دھوکا دے رہے ہیں ، دوسرے معنوں میں یہ جہالت کی ایک سونچی سمجهى تدبیر ہے جس میں شطانیت کو غیر محسوس طریقہ کار سے روزمره زندگی کا حصہ بنایا جارہا ہے . اور اس دجالی فتنہ سے تشدد بھڑکا کر قوم کو گمراہی کے دلدل میں ڈھکيل رہا ہے .
آج ہمارے قلوب میں وہ درد وکسک کی ضرورت ہے جو ہمارے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا میں ناصرف اسلام کو پھیلایا بلکہ اپنے اطوار سے انسانیت کو معطر کرتے چلے یہ اسوه حسنہ ہماری دنیا و آخرت کی اثاثہ اور ذریعہ بخشش ہے .
فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔
روزنامہ منصف ، آئینہ شہر مورخہ 8 / ڈسمبر 2022

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]