‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

تو سمندر بن میں ایک لہر بن جاؤں گی تیری
 اس طرح سے ہم ساتھ چلکر ساحل پا ہی جائیں گے

آجائے درمیاں میں طوفاں تو فکر نہ کرنا ذرا  بھی
تیری آغوش میں  لے مجھے ہم کنارہ پا ہی جائیں گے

حالات کی کشتی پر سوار ہونا تو لازم ہوگا ہی
نا خدا تم جو ہو تو منزل مقصود پاہی جائیں گے

جھوٹی، مجتیں اس جھوٹ سے بھری دنیا کی
تیری سچائی کا مگر ہم  یقین کر ہی جائیں گے

کچی ڈور سہی  رشتوں کے بند هن کی اے تبسّم
 چاہت کورقیب کی ڈور ٹوٹے بھی نبھاہ ہی جائیں گے

Popular Posts

نساء

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]