امہات المومنین

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف روایات میں اکثر گیاره سے تیره ازواج کے نام ملتے ہیں ۔ جنہیں امهات المومنين کہا جاتا ہے . یعنی کہ مومنین کی مائیں ، اس کے علاوہ انھیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے .
زیادہ شادیوں کا عرب میں عام رواج تھا ، مورخین کے مطابق اکثر شادیوں کے اس رواج کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں ا ۰ مختف قبائل سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنا تھا . 2. دوسرا ان خواتین کو عزت دینا شامل تھا .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا نکاح نبوت سے قبل 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ الکبری سے ہوا ، ان سے آپﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم بن محمد کے سوا تمام صاجزادے اور صاحبزاد دیاں انہی کے بطن سے ہوئیں . 25 سال تک آپﷺ کی ازواجی زندگی حضرت خدیجہ کے ساتھ گزری ، جب تک حضرت خديجہ بخیر حیات تھیں آپﷺ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا ، باقی تمام شادیاں 50 سال کی عمرکے بعد کی ہیں .
آپﷺ کے رحلت فرماتے وقت نوازواج حیات تھیں . 
        ازواج مطہرات کا مطلب پاک بیویاں ہیں جس طرح آپﷺ کی ذات گرامی شرف و فضل کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح ازواج مطہرات بھی اپنی ذات میں افضل و اشرف ہیں اس لئے ان کی عزت و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انھیں مومنوں کی ماؤں سے تعبیر کیا گیا ہے .
   ازواج مطہرات کی زندگی کا گوشواره ...
ا ۰ حضرت خدیجہ.. سال نکاح( 15 قبل نبوت) .. سال وفات(10 نبوی) ، بیان کرده احادیث کی تعداد( -) .. متفق علیہ احادیث( -)
2. حضرت سودہ بنت زمعہ ... سال نکاح( شوال 10 نبوت) ... سال وفات( 22 ہجری) ، بیان کرده احادیث کی تعداد(5) ، ... متفق علیہ احادیث(-).
3. حضرت عائشہ صدیقہ ... سال نکاح( شوال 1 ہجری رخصت). سال وفات(57 ہجری) ... ببان کر ده احادیث کی تعداد(2210) ... متفق علیہ احاديث(74)
4. حضرت حفصہ بنت عمر ... سال نکاح( شعبان 3 ہجری) ... سال وفات (45 ہجری) ... بیان کرده حاديث کی تعداد(60), .. متفق علیہ احادیث (4).
5 . حضرت زینب بنت خزیمہ .... سال نکاح(4 ہجری) .... سال وفات(4 ہجری) بیان کرده احادیث, کی تعداد(-) ... متفق علیہ احاديت(-).
6 حضرت ام سلمہ .... سال نکاح( شوال 4 ہجری) ، سال وفات(63 ہجری) ، .. بيان کرده احادیث کی تعداد(378). ... متفق علیہ احادیث(13).
7. حضرت زینب بنت جحش ... سال نکاح( ذی قعدہ 5 ہجری) ... سال وفات(20 ہجری) ... بيان کرده احادیث کی تعداد (۱۱) ، ... متفق علیہ احاديت (2).
8. حضرت جویریہ بنت حارث .... سال (آخر شعبان 6 ہجری) ... سال (50) .. بیان کرده احادیث کی تعد اد (7) ... متفق علیہ احادیث(-).
9. حضرت ام حبيبہ ... سال نکاح(6 ہجری) ، .... سال وفات(44 ہجری) .... بيان کرده احاديث کی تعداد(65) ، ... متفق علیہ احاديث(2).
10. حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب ..... سال ( محرم 7 ہجری) ... سال وفات(50 ہجری) ... بیان کرده احادیث کی تعداد(10) ... متفق علیہ احادیث(1).
11. حضرت میمونہ بنت حارث .... سال نکاح( ذی قعده 7 ہجری) . سال وفات(51 ہجری) .... بیان کرده احاديث کی تعداد(72) ... متفق علیہ احاديت(7) 
مختصر تعارف ازواج مطہرات ......
حضرت خدیجہ نام اور لقب طاہرہ تھا . آپﷺ نے 25 برس کی عمر میں مکہ میں حضرت خدیجہ سے شادی کی ، یہ پہلی خاتون تھیں جو آپﷺ کے نکاح میں آئیں ان کے والد خویلد اور والدہ کا نام فاطمہ تھا . آپﷺ کے نکاح میں آنے سے قبل ان کا نکاح ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے ہوا تھا . ان کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے نکاح میں آئیں ان کے انتقال کے بعد 40 سال کی عمر میں حرم نبوت میں داخل ہو کر ام المومنین کا شرف حاصل کیا .
آپ انتہائی پاکیزه اخلاق کی تھیں اسی لئے طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں اور سب سے پہلے اسلام لانے والی خاتون بھی آپ ہی تھیں ،آپﷺ کے نکاح میں 25 برس تک رہنے کے بعد نبوت کے دسویں سال انتقال کرگئیں .

حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد آپﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے شادی کی . یہ ایک قریش قبیلے عامر بن لوی سے تعلق رکھتی تھیں . ان کا بھی پہلا نکاح سکران بن عمرو سے ہوا ان کے انتقال کے بعد سن 10 نبوی میں آپﷺ کے نکاح میں آئیں . اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں انتقال کرگئیں .حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد آپﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ سے شادی کی . یہ ایک قریش قبیلے عامر بن لوی سے تعلق رکھتی تھیں . ان کا بھی پہلا نکاح سکران بن عمرو سے ہوا ان کے انتقال کے بعد سن 10 نبوی میں آپﷺ کے نکاح میں آئیں . اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں انتقال کرگئیں . سخاوت و فیاضی حضرت سودہ بنت زمعہ کے اوصاف میں شامل تھے .
  حضرت عائشہ بنت ابوبکر ..... یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں ، والدہ کا نام زینب تھا . نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبداللہ تھی ، یوں آپﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے نکاح سن 11 نبوی میں کیا پر رخصتی ا ہجری میں ہوئی حضرت عائشہ سب سے کم عمر اور دوشیزہ باکره تھیں . علمی حیثیت سے اور عورتوں میں سب سے زیاده فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی ، فتوے دیتی تھیں اور بے شمار احادیث ان سےمروی ہیں . خوش تقریر بھی تھیں .آپﷺ کے وصال کے 48 سال بعد 66 برس کی عمر میں بنو امیہ کے حکمران امیر معاویہ کے دور میں انتقال کرگئیں .
  حضرت حفصہ بنت عمر .... یہ حضرت عمرؓ کی صاجزادی تھیں والده کا نام زینب بنت مطعون تھا ، حضرت حفصہ کا نکاح آپﷺ سے غزوہ بدر میں ان کے شوہر کے شہید ہونے کے بعد ہوا 45 ھ میں مدینہ منورہ میں انتقال کرگئیں .
  حضرت زینب بنت خزیمہ ..... فقراء ومساکین کے ساتھ فیاضی کرتی تھیں اس لیے ام المساکین کنیت سے مشہور ہوئیں ، والد کا نام خزیمہ تھا . پہلے شوہر عبدالله بن جحش تھے . جو غزوہ احد میں شہید ہوگئے اس کے بعد آپﷺ سے نکاح ہوا ، لیکن نکاح کے دو ، تین ماہ بعد ہی انتقال کرگئیں.
     حضرت ام سلمہ..... حضرت ام سلمہ کا نام ہند اور كنيت ام سلمہ تھی ، پہلے ابو سلمہ سے نکاح ہوا تھا اور دونوں شوہر اور بیوی اسلام قبول کرچکے تھے . ساتھ میں حبشہ اور مدینہ منورہ ہجرت بھی کی ، لیکن غزوہ احد میں ابو سلمہ زخمی ہو کر جان بحق ہو گئے اور ام سلمہ آپﷺ کے نکاح میں آ گئیں ، علمی اعتبار سے آپ حضرت عائشہ کے بعد تھیں اسی لئے آپ سے بھی بہت سی احادیث مروی ہیں .
   حضرت زینب بنت جحش ..... حضرت زینب بنت جحش آپﷺ کی پھوپھی زاد تھیں ، یہی نہیں آپ کی دو بھابھیاں بھی ازواج مطہرہ تھیں( ام حبيبہ جو عبيد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں ، اور زینب بنت خزیمہ جو عبدالله بن جحش کی بیوہ تھیں)، حضرت زینب بنت جحش کا نام زینب اور کنیت ام الحكم تھی والد کا نام جحش بن رباب اور والدہ کا نام امیمہ تھا ، آپ کا پہلا نکاح زید بن حارثہ سے ہوا جو کہ آپﷺ کے آزاد کرده غلام تھے . شوہر بیوی کے درمیان نہ خوشگوار تعلقات کی بناء پر طلاق ہوگئی، زید بن حارثہ وہ واحد صحابی رسول ہیں جن کا ذکر مبارک قرآن مجید میں نام کے ساتھ آیا ہے ، اور جن کا ذکر قرآن عرفان القرآن میں موجود ہے ، طلاق کے بعد حضرت زینب سے آپﷺ نے نکاح کیا، اس طرح سے حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں انتقال کرگئیں . حضرت جویریہ بنت حارث ... حضرت جویریہ کا نکاح انھیں کے قبیلے والے مسافع بن صفون سے ہوا تھا . یہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں . غزوہ مریع میں قتل ہونے کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ آنے والے لونڈی و غلاموں میں حضرت جویریہ بھی شامل تھیں ، اور اس طرح سے مال غنیمت کی تقسیم میں ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں ، آپﷺ نے رقم ادا کرکے آزاد کروادیا اور ان سے نکاح کیا ، اور اس طرح سے نکاح کے بعد قبیلہ بنی مصطلق کے دیگر لونڈی اور غلام بھی آزاد کر دیے گئے . آپ کا انتقال 50 ھ میں ہوا .حضرت ام حبيبہ .... یہ ابو سفیان بن حرب کی بیٹی تھیں ، اصل نام رملہ تھا والدہ صفیہ بنت العاص تھیں جو کہ آپﷺ کی پھوپھی تھیں . نکاح پہلے عبيد الله بن جحش سے ہوا اور مسلمان ہوئیں . حبشہ ہجرت کی اور وہیں شوہر کا انتقال ہوگیا . عدت کے بعد آپﷺ نے نجاشی کے پاس عمرو بن امیہ کو نکاح کے پیغام کے لئے بھیجا ، بجا شی نے خود نکاح پڑھایا ، اور ام حبيبہ مدینہ آ گئیں . 44 ھ میں انتقال کر گئیں .
   حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب ... ان کی پہلی شادی مشکم القرظی سے ہوئی ، ان کا اصل نام زینب تھا جو عزوہ خیبر کے قیدیوں میں سےآپﷺ کے حصے میں آئی تھیں . جو کہ قبیلہ بنو نضیر کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں . ان کی ماں بھی رئیس قریظہ کی بیٹی تھیں . اس طرح سے مشکم القرظی سے طلاق کے بعد کنانہ بن ابی الح حقیق کے نکاح میں آئیں ، جو جنگ خیبر میں قتل ہوا ، اور یہ گرفتار ہوکر آپﷺ کے پاس لائیں گئیں آپﷺ نے آزاد کرکے نکاح کیا . 50 ھ میں وفات پائیں 
  حضرت میمونہ بنت حارث .... حارت بن حزن کی بیٹی تھیں . مسعود بن عمرو سے نکاح ہوا اور علحیدگی ہوگئی اس کے بعد پھر ابود هم کے نکاح میں آئیں مگر 7 ھ میں ان کی وفات ہوئی اور 7 ھ میں ہی آپﷺ سے نکاح ہوا ، 51 ھ میں وفات پائی
  حضرت ماریہ قبطیہ .... بعض روایات کے مطابق انھیں کنیز کا درجہ دیا گیا ، مگر متعدد روایات کے مطابق آپ سے آپﷺ نے نکاح کیا چنانچہ آپ بھی امهات المومنين میں شامل ہیں . اور ابراہیم بن محمد آپ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے .
 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کثرت ازواج مطہرات آپﷺ کے لئے ثواب کی زیادتی کا باعث ہیں اس لیے کہ رسالت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا نے کے باوجود پھر بھی ان کے حقوق کی نگہداشت رکھنا اس میں مشقت و تکليف کا زیادہ سامنا کرنا ہوتا ہے . جو کہ ثواب کی کثرت کا باعث بنتا ہے نیز یہ کہ آپﷺ کا نکاح فرمانا عبادت ہے .
ارشاد باری تعالیٰ ! ازواج مطہرات سے فرماتا ہے" اے نبیﷺ کی بیبیو! تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقوی اختیار کروتو تم( نامحرم مرد سے) بولنے میں( جبکہ ضرورت کے تحت بولنا پڑے) نزاکت مت کرو .( اس سے) اسے شخص کو( طبعاً) خیال( فاسد پیدا) ہونے لگتا ہے . جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعده( عفت) کے موافق بات کہو اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیا کرو اور اللہ کا اور اسکے رسول کا کہنا مانو، اللہ کو یہ منظور ہے( کہ اے نبیﷺ کے) گھر والو ! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو( ہر طرح ظاہراً و با طن) پاک وصاف رکھے اور ان آیات اليہ اور اس علم( احکام) کو یاد رکھو جس کا تمھارے گھروں میں چرچا رہتا ہے بے شک اللہ راز ران ہے پورا خبر دار ہے . " ( سورۃ احزاب ۲۳ تا ۴۳) .
   قرآن پاک کی آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کی ازواج مطہرات سب عورتوں سے افضل ہیں . اور جس عظیم منصب پر وہ سرفراز ہیں بے شک وہ بھی اعلی اور سرفراز ہے .
ہمارے پیارے اپنی ازواج مطہرات پر بے حد شفقت فرمایاقرآن پاک کی آیات(احزاب ۳ تا ۱۳) اس امر کی غماز ہیں کہ جب ازواج مطہرات سارے جہان کی عورتوں سے افضل ٹھہریں تو یہی وجہ ہے کہ اچھے اعمال پر انھیں دگنا ثواب ہے اور تقرب الی اللہ کے منافی امور اگر ان سے وقوع میں خدا نخواستہ آئیں تو ان پر سر زنش بھی دگنی ہے . اس لیے کہ انکی فضیلت و برتری کی وجہ سے دوسری عورتوں کی بہ نسبت ان پر حد بھی دگنی ہوگی . ازواج مطہرات بے حیائی سے مکمل طور پر محفوظ ہوتی ہیں اور حضور صلی االلہ علیہ و سلم کی تعظیم و توقیر کے سبب ہے کہ جس خاتون پاک کو حضور سرور کائنات کی زوجہ مطہرہ ہونے کا شرف حاصل ہو وہ دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہوگی .
اللہ تعالیٰ سورة احزاب کی آیات کے ذریعہ سے ساری مومن عورتوں تک یہ احکامات پہنچا تا ہے کہ ا ۰ پرده 2 . نماز 3. پاکی . 4. حيا . 5 اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت .کو قائم کرو . اور یہ بھی فرماتا ہے کہ وہ غفور رحیم بھی ہے اور پکڑنے والا بھی ہے . یعنی جزا اور سزا کا سارا اختیار اسی کا ہے .
ہم آپﷺ کی امت کی عورتیں ہیں ہم بھی اپنی زندگیوں کو ازواج مطہرات کے نقش قدم پر چلائیں اور ان پانچ احکامات پر عمل کرنے کی سعی کریں تاکہ اللہ تعالی ہم سے راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل ہو .
  فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ، رسیرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ 
روز نامہ منصف ميناره نور 7/10/22

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]