اشاعتیں

افسانچہ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حلال کمائی

آج جو فیصلہ وہ کرکے نکلی وہ اٹل تھا بس اسے فیصلے سے مکرنا نہیں ہے بہت سونچ سمجهکر اس نے یہ فیصلہ لیا تھا . بہت کرلیا صبر اب اور صبر کی گنجائش نہیں جو ہوگا دیکھا جائے گا، آخر اسکی اپنی زندگی ہے اسکا اپنی زندگی پر پورا اختیار ہے کب تک وہ اس طرح سے گھٹ گھٹ کر جیے گی اسکی خوشیاں وہاں اسکی منتظر تھی . ایک خوب صورت مستقبل پھولوں بھری راہوں سے اسکا استقبال کر رہا تھا . اس غربت کی زندگی نے اسے دیا ہی کیا ہر وقت غریب ہونے کی اذیت اور ماں کا اداس چہره جس کو دیکھر زندگی اور دنیا سے کوفت ہونے لگتی ہے بھائی کی آس اور امیدوں سے بھری آنکھیں جن میں ایک امیر بننے کے سپنے دم توڑتے نظر آتے ہیں اور جو کبھی پورے نہیں ہونے والے ہیں . بکسے میں ماں کا سونے کا ایک تولے کا کالی پوت کا لچھا تھا جو اس نے اپنے پھٹے پرانے پوچھ میں رکھ لیا کالج بیگ میں دو جوڑے کپڑے کتابوں کی جگہ رکھ لیے اور پڑوس کی آنٹی نے پروسوں ہی ایک خوب صورت سینڈیل اور برقعہ رمضان کے موقع پر دلوایا تھا کالج کے لئے بس وہی پہن کر رخسانہ اپنے عاشق عمران کے بتائے ہوئے اڈریس پرجلد از جلد پہنچنا چاہتی تھی . یہ راستہ اوخدا کیوں اتنا طویل لگ رہا ہے فرلا...

فیس بک

تصویر
ہاتھوں میں دستانے اور پیروں میں جراب پہنتے ہوئے وہ پورے حجاب کے ساتھ اپنی امی کو اللہ حافظ کہتی ہوئی باہر آگئی . اور اپنے بیا گ سے آئی فون نکال کر فیس بک اکاونٹ چیک کرنے لگی . جس میں اسکے بائے فرینڈ کے ڈھیر سارے پیغامات موجود تھے . الشبا ایک دین دار گھرانے کی لڑکی تھی اور ماں باپ کی بہترین تربيت میں بھی شامل تھی . شیما ہمیشہ اپنی پڑوسن رقیہ سے کہتی کہ ہر اتوار جو خواتین کا اجتماع ہوتا ہے اس میں شرکت کریں تاکہ راعنا اور رقیہ کو بھی دینی معلومات حاصل ہوں . پر رقیہ مسکراکر یہی جواب دیتی کہ اسکے شوہر ہفتہ بھر میں ایک دن ہی گھر پر رہتے ہیں اس لئے وہ نہ آنے کی معذرت چاہتی . رقیہ کے دو بچے ایک لڑکی راعنا اور لڑکا رافع بہت ہی سلجھے ہوئے بچے تھے ان کے گھر ایل۔ ای ڈی تھا پروہ نمازوں کے بھی پابند تھے . شیما ہمیشہ سے طنزیہ ، بالواسطہ طور پر کہتی رہتی کہ آپ کا گھرانہ دین سے بے بہرہ ہو رہا ہے بچوں پر کڑی نظر رکھنا چاہیے. ساتھ ہی ساتھ اپنی الشبا کی ڈھیر ساری تعریفیں کرتی جاتی کہ ہماری لڑکی دیکھئے پردے کی پابند ہے ماشاءاللہ دین میں کافی آگے ہے . پورے حجاب سے باہر نکلتی ہے جبکہ راعنا صرف اس...

صحیح فیصلہ

: اسلام علیکم میڈیم !ارے آئیے سلو خالہ اندر آجائیے ، جی شکریہ ہاں ہاں یہاں بیھٹے !جی شکریہ میڈیم  کہیے سلو خالہ کیا لیں گئیں آپ ؟ نہیں پہلے آپ میری ساری تصاویر دیکھئے پھر پینا کھانا سب کرلونگی ، نہیں نہیں سلو خالہ آپ ذرا کچھ کھا پی لیں کیونکہ کافی دھوپ میں آئی ہیں اور وہ بھی پیدل چلکر شائد ؟ جی میڈیم آپ کو اللہ اچھا رکھے بڑا خیال کرتی ہیں آپ میرا سلو خالہ دعا دینے لگیں . میں نے آپ کو کئی بار کہا کہ آپ آٹو میں آجائیے میں کرایہ ادا کردونگی مگر آپ ہیں کہ پیدل چلنے کی ضد میں دھوپ چھاؤں کو دیکھے بغیر نکل پڑتیں، حمیره میڈیم یہ تو آپ کا بڑکپن ہے ورنہ آج کے زمانے میں کون ہم جیسے غریبوں کی پرواہ کرتا ہے اور تو اور مشاطہ ہونا تو مصیبت ہے کہ ناحق کہ بدنامی کا ٹوکرا سر پر سجانا جیسا ہے ، سب یہی کہتے ہیں کہ چند گنے چنے تصاویر رکھ کر لوگوں کو لوٹتی ہیں یہ مشاطيں ، گھر گھر جاکر کھانا سیکھ لیا ہے انھوں نے وغیره وغيره . ایسی بات نہیں سلو خالہ رشتے تو آسمان پر ہی طے ہو جاتے ہیں آپ لوگ تو صرف ذریعہ یعنی اسباب ہیں ، قسمت کا جوڑا جہاں ہو وہیں ہوگا نا ؟ حميره میڈیم نے دھیرے سے سمجھاتے ہوئے سلوخا لہ کو ن...