حلال کمائی
آج جو فیصلہ وہ کرکے نکلی وہ اٹل تھا بس اسے فیصلے سے مکرنا نہیں ہے بہت سونچ سمجهکر اس نے یہ فیصلہ لیا تھا . بہت کرلیا صبر اب اور صبر کی گنجائش نہیں جو ہوگا دیکھا جائے گا، آخر اسکی اپنی زندگی ہے اسکا اپنی زندگی پر پورا اختیار ہے کب تک وہ اس طرح سے گھٹ گھٹ کر جیے گی اسکی خوشیاں وہاں اسکی منتظر تھی . ایک خوب صورت مستقبل پھولوں بھری راہوں سے اسکا استقبال کر رہا تھا . اس غربت کی زندگی نے اسے دیا ہی کیا ہر وقت غریب ہونے کی اذیت اور ماں کا اداس چہره جس کو دیکھر زندگی اور دنیا سے کوفت ہونے لگتی ہے بھائی کی آس اور امیدوں سے بھری آنکھیں جن میں ایک امیر بننے کے سپنے دم توڑتے نظر آتے ہیں اور جو کبھی پورے نہیں ہونے والے ہیں . بکسے میں ماں کا سونے کا ایک تولے کا کالی پوت کا لچھا تھا جو اس نے اپنے پھٹے پرانے پوچھ میں رکھ لیا کالج بیگ میں دو جوڑے کپڑے کتابوں کی جگہ رکھ لیے اور پڑوس کی آنٹی نے پروسوں ہی ایک خوب صورت سینڈیل اور برقعہ رمضان کے موقع پر دلوایا تھا کالج کے لئے بس وہی پہن کر رخسانہ اپنے عاشق عمران کے بتائے ہوئے اڈریس پرجلد از جلد پہنچنا چاہتی تھی . یہ راستہ اوخدا کیوں اتنا طویل لگ رہا ہے فرلا...