نوجوانوں کی خودکشیاں ... سماجی برائی کا عروج لڑکیوں کی بہ نسبت لڑکوں کی زیادہ ریکا رڈ کی گئی ! نوجوان نسل بزدلی کا شکار ... اضلاع میں تشویش کی لہر ....

آئے دن نہ سہی ماه دو ماہ میں اضلاع میں اموات کی خبروں میں ایک خبر ضرور خودکشی کی سننے کو ملتی ہے اور خودکشی بھی کسی ضیعف شخص یا عورت کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے نوجوان غیر شادی شده تو کبھی شادی شده کی ، خود کشی کرنا گناہ ہے اس بات سے ہم سب واقف ہیں اور اسلامى تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے پھر کیوں کی جاتی ہیں یہ خودکشیاں کون ہیں اس شیطانی حرکت کے ذمہ دار ، وجوہات اور اسباب جاننے کے لئے ہمیں سماج کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ان خودکشیوں کے پیچھے کہیں سماجی عناصر کا بڑا ہاتھ تو نہیں ہے ؟

     انسان کی زندگی قدرت کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے اس پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ، انسانی جسم اور اسکی روح دونوں پر اللہ تعالٰی نے انسان کے لئے کچھ اصول و ضوابط قائم کئے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ چند احکامات اتارے گئے ہیں قدرت کی طرف سے جس کو عمل میں لاکر وہ دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتا ہے . اگر اس میں ذرا سی بھی لاپرواہی یا بددیانتی و کوتاہی اختیار کی گئ تو پھر پکڑ میں آجائے گا . 
جس طرح سے ہم دنیا میں آنے کا اختیار نہیں رکھتے اسی طرح سے دنیا سے جانے کا اختیار بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے دونوں اختیارات صرف اور صرف مالک حقیقی ، رب کائنات کے ہاتھ میں ہیں . یعنی زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے ، جس طرح سے انسانی اعضاء اور اسکے استعمالات کا اختیار اللہ تعالٰی نے انسان کو عطاکیا ہے اسی طرح سے جسم کی ملکیت کا اختیار اپنے ذمہ لے رکھا ہے ہاں البتہ نیکی اور بدی ، شکر اور ناشکری ہردو کو چننے کا اختیار ہمارے ہاتھ ہے جس سے جنت اور دوزخ جیسے دو ٹھکانے ملتے ہیں ، زندگی اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے جس کے تحفظ کا حکم ہمیں دیا گیا ہے . کیونکہ انسانی جسم کارخانہ قدرت کے لئے کار آمد مانا جاتا ہے . لیکن اس بات کی سمجھ انسان کو نہیں آتی اس وقت جس وقت وہ خودکشی کے لئے خود کو آماده کرلیتا ہے . یہ ایک بہت بڑا گناہ یعنی گناہ عظیم ہے اللہ تعالیٰ اس حرکت سے ناراض ہو جاتا ہے اس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنی کہلاتا ہے اور خودکشی کرنے والے کو دوزخ کے حوالے کرتا ہے . اللہ غفور الرحيم ہے اس کے اختیار میں کسی کا عمل دخل ممکن نہیں ہے . بس جس بارے میں تھوڑی بہت معلومات مل جاتی ہیں وہ اس کے بندوں تک پہنچانا لازمی ہے .
دیگر مذاہب میں اس گناہ کو گناہ نہیں مانا جاتا اور حالات سے سمجھوتہ نہ کرکے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں ، کہیں گھریلو جھگڑے ، کہیں محبت میں ناکامی ، کہیں پر جائیداد کا مسئلہ ، تو کہیں امتحان میں ناکامی بہر کیف کئی وجوہات ہیں خودکشی کی ، یہ عمل راه فرار اختیار کرنے میں شامل ہے یعنی زندگی میں آنے والے سنگین حالات کا مقابلہ کرنا نہیں چاہتے اس لئے خود کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں . کبھی انسان دوسرے انسان کو موت کے گھاٹ اتارا کرتا تھا لیکن اب اپنی زندگی کو خود نقصان پہنچانے لگا ہے .
دور قدیم میں انسانی زندگی عدم دینی معلومات کا شکار تھی دین کی سمجھ کم تھی ، جس کی بدولت خود کشی کومعیوب نہیں سمجھا جاتا تھا . دور حاضر میں جبکہ دین کی تبلیغ ہر لحاظ سے ہر گھر تک پہنچ رہی ہے ایسے میں خود کشی کرلینا بہت بڑا ہٹ دھرمی والا کام مانا جاسکتا ہے اور دوسرا یہ کہ دین صرف کتابوں ، لباسوں اور زبانوں تک محدود ہو کر ره گیا عمل ندارد .
سماجی برائیوں کی فہرست میں زیادہ سے زیادہ اہمیت کی حامل برائی " جہیز " ہے اس کے تحت ہمیں کئی لڑکیاں غیر حقیقی موت یعنی خودکشی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ماں باپ پر بوجھ نہ بن کر خود کو موت کی اذیت میں مبتلا کرنا ، کالی رنگت کی وجہ سے خود کشی کر لینا ، سسرال کے طعنے اور شوہر کی بے رخی ، سسرالی رشتہ داروں کا غلط رویہ اور خود کی انا کو ٹھیس ، ذلت ، غیر مذہب کے لڑکوں سے بیاہ رچا کر بربادی کے نتائج کا سامنا نہ کرتے ہوئے خود کشی کو گلے لگانا جیسی تمام وجوہات لڑکیوں کو خودکشی کرنے پر آماده کرتی ہیں.
لیکن آج کے دور میں سماج کی برائیوں میں ایک بہت بڑا بدلاؤ یا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ، وہ یہ ہے کہ لڑکوں کی یعنی نوجوانوں کی خودکشیاں زیادہ ہورہی ہیں بہ نسبت لڑکیوں کہ اور اس کی تعداد اضلاع میں نمایاں پائی گئی ہے اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ ذمہ دار عناصر کون ہیں ؟ اور پھر اس کا تدارک کس طرح کیا جائے ؟ ... یہ بہت ہی اہم سوالات ہیں جو سماج پر کاری ضرب لگارہے ہیں اور اسے سارا معاشره ملکر کر حل کرنا پڑے گا ایک دو سے نہیں بلکہ ہم سب کی یہ امتحان کی گھڑی ہے . آئیے سب سے پہلے وجوہات خودکشی پر نظر ڈالتے ہیں .
خود کشی اور وہ بھی پڑھے لکھے لڑکے نے کرلی اس کی وجہ کیا ہے ... یہی کہ لڑکی نے محبت کو ریجکٹ کردیا ، Break up ہوگیا ، یا گھر والے اس رشتے کو ماننے سے انکار کردیے ، یا پھر کسی اور کے ساتھ اپنی گرل فرینڈ کی شادی ہوگئی ، دوسری وجوہات میں دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ جاب کے انٹرویو میں ناکامی ، مسابقتی امتحانات میں ناکامی یا نشانات کم حاصل ہونا ، پڑھائی کا بوجھ ، ساتھیوں کی طرف سے جسمانی یا ذہنی ایذا رسانی، گھریلو حالات جس میں سوتیلے رشتوں سے ملنے والی تکالیف ،بے روزگاری ، بنیادی ضروریات کا لا حاصل ، غربت اور نشہ اور دیگر بری لتوں میں مبتلا ہونا جس میں لڑائی جھگڑے ، غنڈہ گردی ، چوری ، پولیس کی نظروں میں پڑھ کر کیسوں میں مبتلا ہونا یہی پر ختم کہاں ہوئی فہرست آگے چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں دوستوں کی اعلیٰ معاشرتی زندگی سے متاثر ہونا ، نفس امارہ میں پڑھ کر بے جا خواہشات کا پایہ تکمیل کو نہ پہنچ پانا، غلط طریقہ سے اعلیٰ رندگی کو حاصل کرنے کی سعی کرنا وغيره . اتنا نہیں آگے بڑھتے ہیں تو کچھ اور وجوہات سامنے آتے ہیں جن میں مردانہ بانجھ پن اور شادی شده زندگی کی دیگر محرومیاں اور مذہب سے دوری جیسے خوفناک انکشافات سامنے آرہے ہیں .
اللہ سبحان تعالٰی فرماتا ہے کہ " اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو ، صاحبان احسان بنو ، بے شک اللہ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے " ....سورة البقره 195 : 2 یعنی کے الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم خود اپنی موت کو اپنے ہاتھوں انجام نہیں دے سکتے یہ اختیار تو صرف الله کو حاصل ہے اور لوگوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا یہاں احسان کی بات کرکے الله تعالٰی ہمیں اپنے دل اور دماغ اور نفس کو پوری طرح مطمئن کرنے کو کہا کیونکہ ان اندرونی اعضاء کی بے چینی و بے قراری اور بگاڑ ہی ہمیں خود کشی کرنے پر اکساتی ہے . واضح رہے کہ اگرسماج میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان مندی و دیگر اخلاقی اقدار کو رو بہ عمل لایا جائے گا تو ایسی وارداتیں کم ہونے کا امکان ہے .
ان پر عمل آوری ہی د ين و دنیا کی کامیابی و کامرانی ثابت ہوگی ، دین سے بے راہ روی اختیار کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف جان لینا ہے ذرا سونچیں جس بچہ کو ایک ماں نو ماہ اپنے کوکھ میں سنبهال کر رکھتی ہے دنیا میں آنے کے بعد موسمی و وبائی امراض اور ہر طرح کی مشکلات سے اسکی حفاظت کا سامان مہیا کرتی ہے . وہی بچہ بڑا ہو کر اسکی آنکھوں کے سامنے اقدام خودکشی یا پھر خودکشی کرلیتا ہے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی ! اس لیے بچپن سے بچوں کو عصری تعلیم کی جتنی اہمیت دکھائی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ دینی تعلیم سے رغبت دلانا ضروری ہے تا کہ اچھے برے حرام حلال کی تمیز اور اس کے نتائج سے بخوبی واقفیت ہو سکے . قرآن حکیم کی آیات خود کشی کی ممانعت اور حرمت پر دلالت کرتی ہیں . نفس اماره یعنی انسان کی خواہشات جو اسے بری باتوں یا ممنوعات شرعی کرنے پر مجبور کرتی ہے اس پر پوری طرح گرفت رکھنا ضروری ہے اس کے لئے ہمیں بہترین اقوال اور دینی کتب کے مطالعے کا شوق بچوں کے اندر بچپن سے ہی اجاگر کرنا چاہیے . انتظار حسین کا لکھا ناول " زرد کتا" جس میں انھوں نے نفس امارہ کے بارے میں بہت ہی خوب صورتی سے منظر کشی کی ہے کہ انسان لاکھ پیچھا چھڑانے کی کوشش کر لے لیکن وہ اس کے دل میں بسا رہتا ہے جب تک کہ اسے دین کی دوا دیکر نہ ختم کیا جائے . نفس امارہ کی مثال اس کتے کی سی ہے جس کو باہر چھوڑ دیا جاتا ہے باوجود پھر بھی وہ اندر آکر پلنگ کے اوپر یا نیچے بیٹھ جاتا ہے یعنی پیچھا نہیں چھوڑتا اس لیے انسان کو اس سے اپنی توجہ ہٹانے کے لئے مناسب اور بہترین راستے اختیار کرلینے چاہیے جس میں سب سے اعلی و ارفع راستہ دین کا ہے جو ہمیں خوف خدا کے ساتھ ساتھ دنیا کی رنگیوں اور آرائشوں سے بے بہرہ کردیتا ہے . حديث مبارکہ ہے کہ " پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ .. تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ، اور تمهاری آنکھوں کا تم پر حق ہے . " اس حديث سے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اپنے جسم کو بھی تکلیف میں ڈالنا گناہ ہے . بعض جگہ
گھریلو حالات اور رشتے نوجوان نسل کو خودکشی کرنے پر مجبور کررہے ہیں شوہر بیوی میں ہمیشہ سے بے رخی اور لاتعلقی اور ساس بہو کی روز روز کی کٹ کٹ نے ان کے دماغوں کو شل کرکے رکھ دیا وہ زندگی کو اداس مقام اور ایک غیر انسانی مسکن سمجھ بیٹھے ہیں جہاں پر رہنا مناسب نہ جان کر موت کو گلے لگا رہے ہیں . لڑکیاں اپنی ناجائز خواہشات اور دیگر شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر نوجوانوں پر نامردی ، بزدلی ، ہیز پن کا الزام لگا کر خود کو رشتہ زوج سے علیحدہ کررہی ہیں لیکن اس کے دورس نتائج سے وہ غافل ہیں کہ اس بات کا اثر کسی کی زندگی کا خاتمہ بالکفر ہو رہا ہے .
موبائل فون کا استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ مانو جیسے ہماری سانسوں میں اس کی ا کسیجن جاری ہے اس آلہ نے ہماری نوجوان نسل کی نس بندی بھی انجان طریقہ کار سے کردی ہے . آدھی آدھی رات تک نوجوان اپنے اسمارٹ فون سے چپکے رہتے ہیں جس سے کئی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہونے لگے . رگوں میں کمزوری ، اندھا پن ، بہرہ پن ، یاداشت کمزور ، لكنت ، سر درد ، گردن درد وغيره جسمانی کمزوریوں کا شکار تو ہو ہی رہے ہیں ساتھ میں روحانی و نفسیاتی امراض میں بھی مبتلا ہورہے ہیں جیسے خود اعتمادی کا کھوجانا ، شکوک و شبہات ، حسد، بغض اور اکیلا پن محسوس کرنا ، احساس کمتری ، ڈرو خوف وغيره شامل ہیں .
یہی وہ وجوہات ہیں جنکی بناء پر نوجوان خودکشی کرنے پر آماده ہو رہے ہیں .
اس یہودی آلے کے غلط استعمال نے ہماری نسلوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے جہاں پر مریض کو مہلک انجکشن لگاکر انسان کو مار نے کی قانون نے اجازت دی ہے اور اس کو ایک خوب صورت نام " قتل بہ جذبہ رحم " کا نام دے دیا جاتا . ایسے مغربی ممالک کے اس آلے کے ذریعہ ہم دين سے لاپرواہ اور بے دخل ہوتے جارہے ہیں . اگر اسکا ایسا ہی استعمال کیا جائے گا تو انجکشن کی جگہ یہ آلہ ہی کام کرے گا ، استحصال نہ کرکے استعمال کریں گے تو یہ فون روشن مستقبل کا ضامن ہوگا پر اس بات سے انحراف بھی نہیں کیا جاسکتا کہ انسان ہر وقت برائی کی راہ پر پہل کرتا ہے ناکہ بھلائی کا راستہ اختیار کرے گا .

خود سے زیاده پڑھی لکھی لڑکیوں سے شادی کرنے کا فیصلہ بھی نوجوانوں کو حرام موت کی طرف لے جارہا ہے کیونکہ یہاں پر احساس کمتری اور بتری کا معاملہ پیش آرہا ہے . بے روزگاری نے نوجوان نسل کو اس طرح کی موت کو دعوت دینے پر آمادہ کررہی ہے . صرف ڈگریاں ہاتھ لگی ہیں نہ کمائی ہے اور نہ سماج میں کوئی پہچان بنی ہے گھریلو ذمہ داریاں کاندھوں پر لادی جارہی ہیں ایسے میں دماغ کام کرنا بند کردیا اور خودکشی کرلی . وہیں دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ چند ایسے نوجوان بھی ہیں جو اپنے والدین کو ڈرانے دھمکانے کی نیت سے خود کشی کر لیتے ہیں . کہیں پر بے جا لاڈ و پیار کی بدولت بچوں میں بری عادتیں پنپنے لگتی ہیں جیسے ڈرگس جس کی طلب کی بد ولت لڑکوں کو خودکشی کا بھیانک لبادہ اوڑھایا جاتا ہے .
  ان تمام تر وجوہات کو ایک جانب رکھتے ہیں دوسرا پہلو دیکھا جائے تو ممکنہ حد تک ہمیں اس فعل بد کو روکنے میں مدد مل جائے گی اور حاصل مضمون بھی شائد یہی ہوگا کہ ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا بے حد ضروری ہے اپنے بچوں کے تعلق سے اور جہاں تک ممکن ہوسکے اقامتی مدرسوں سے دور رکھیں کیونکہ خود غرضی ، تنہائی پسند اور رشتوں کی قدر و قیمت گر جائے گی ، اور اسی سے سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں . والدین یا سرپرست اپنے فرائض کی تکمیل میں کوتاہی نہ برتیں تاکہ بچوں کو بگڑنے کا موقعہ فراہم نہ ہو سکے . وقتاً فوقتاً قرآن اور حدیث میں وارد ہونے والی سزا سے ڈرائیں ، اور بتائیں کہ حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اختیار میں ہے . راست اور بالواسطہ طور پر تربیت ميں خودکشی کرنے والوں کی دنیا اور آخرت سے محرومی کی تعلیم دیتے رہیں . اور بچوں کو سنیں ان کے مسائل کو حل کریں ان سے دوستانہ تعلقات قائم کریں انھیں بتاتے رہیں کہ وہ آپ کے لۓ کتنے اہم ہیں . ان کی زندگی قوم اور اسلام کےلئے کتنی اہم ہے اور خود ان کے لئے کتنی اہم ہے . خود سے کمتر لوگوں کی مثالیں دیتے رہیں اور ہمیشہ دینے والے ہاتھ بننے کی تلقین کرتے رہیں . بچوں کو نافرمان اور کمزور دل بنانے والے اسباب کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں . فیصلوں میں بچوں کو شریک کریں انھیں اہمیت دیں ان سے رائے مشوره کریں بھلے ہی عمل نہ ہو پر انھیں احساس ہو کہ وہ آپ کے لئے کتنے اہم ہیں . اختیار دیں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کا تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہوسکے ممکنہ حد تک ہر معاملہ میں بچوں کی کونسلنگ کریں تاکہ وہ ذہنی طور پر مستحکم بن پائے ـ

اسلام کی حفاظت ہم سب کا اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے .
" سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا
اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے "
فہمیدہ تبسم اردو پنڈت ، ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد .
روز نامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 9 / فروری 2023



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]