تکبر سے کیا حاصل؟

تکبر کے معنی غرور ، گھمنڈ ، خود پسندی ، شیخی، فخر ، پرواہ نہ کرنا ، سالک کا اعمال سے بے اعتنائی اور خود بینی کے لۓلیئے جاتے ہیں .
غرور کا سر نیچے یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ جو غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کی دنیا اور آخرت دونوں خراب ہو جاتیں ہیں .
حديث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے گرا دیتے ہیں "
دوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح سے دنیا تین حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک امریکی سپر پاور، بڑی طاقت ، دوسرا روسی سپر پاور بڑی طاقت اور تیسری دنیا جو دونوں کے ساتھ دوستی اور غیر جانبداری کا برتاؤ کرتی ہوئی ہردو سے دوستانہ تعلقات کو قائم کئے ہوئے ہے
  اسی طرح سے مسلم معاشره بھی آج تین حصوں میں بٹ چکا ہے ایک دولت مند طبقہ ، دوسرا حاسدین اور تیسرا جو ان دونوں کو برداشت کر رہا ہے .
دولت مند طبقہ اپنی جائز اور ناجائز دولت کے بل بوتے پر ساری کمیونٹی کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لئے آئے دن سماج میں نت نئے شیطانی حربے ایجاد کررہا ہے جس کی وجہ سے سماج پراگنده اور متردد قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوچکا ہے آج بہت ہی گندے اور واہیات قسم کے افعال ہمارے معاشره میں رونما ہورہے ہیں شرک و بدعت اسراف اور بے حیائی ایسے عام ہوچکے ہیں جیسے وہ ایک کار خیر اور دین کے کام ہوں جس کی انجام دہی ایک فشین بن گئی ہے جس کو دیکھر ابلیس بھی شرما جائے گا اور دوسری طرف اپنی دولت کی نمود ونمائش کے لئے سارے معاشره کو اپنے غرور وتکبر کے پیروں تلے روند نے لگے ہیں . غرور یا تکبر عام طور پر ہمیں دولت ، حسن ، علم اور شہرت میں نظر آتا ہے اگر کسی کو دولت کا غرور ہوتا ہےدولت اسے اندھا کردیتی ہے ، ایسے میں اس کی نظر آسمان پر رہتی ہے زمين پر رہنے والے اسے دیکھائی نہیں دیتے جس سے وہ اتنا گھمنڈی ہوجاتا ہے کہ اس کی عقل ضائع ہو جاتی ہے اور اچھے برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے 
  اب ایسے خود پسند اور اکڑنے والے طبقہ کو دیکھ کر معاشرہ کا دوسرا طبقہ بدخواه يا حاسدين میں شامل ہو رہا ہے یعنی جن کے پاس دولت نہیں ہے وہ دولت مند کو دیکھ کر حسد ، بغض جیسی اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہورے ہیں اور ان کی مخالفت بد اخلاقی بے دینی اور نازیبا سلوک سے کرتے ہیں . تاکہ اپنے دل کو ٹھنڈک مل جائے ۔ بجائے ایسے افراد کو سیدھی راہ یعنی سراط مستقیم پر لانے کے خود گناہوں میں مبتلا ہور ہے ہیں اور اللہ سے ناراضگی کے مرتکب ہوتے جارہے ہیں . جس سے مسلم معاشرے کا ایک تہائی حصہ خالق کائنات کے نافرمانیوں میں اپنی زندگی کو گزار رہا ہے جس کی وجہ سے آفات سماوی وارضی کا نزول ہو رہا ہے .

اب رہا تیسرا طبقہ جونہ دولت مند ہے اور نہ ہی حاسدین ہے بلکہ اپنے دین پر قائم ہے جس کو الله اور اس کے پیارے نبی کی حکایات پر عمل کرنا پسند ہے وہ اپنی زندگی کو ایک ہی دھارے میں لیے چلتا ہے جو کامیابی و کامرانی کی منزل کی طرف لے جاتا ہے . ایسے چند گنے چنے لوگوں کے سماج یا معاشره میں شعور بیدار کرنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے .
     قصہ مختصر اپنے دولت ، حسن ، علم اور شہرت کو اپنیکوششوں کی وجہ نہ سمجھے بلکہ یہ ، نعمت خداوندی ہے جو آپ کو بطور آزمائش عطا کی گئی ہے ، اس کا مثبت استعمال اور پرخلوص انداز سے معاشره میں استعمال میں لانا اور بجائے خود نمائی کرنے کے ضرورت مندوں اور قوم وملت کی ترقی میں صرف کریں تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہوگی اور رب کائنات آپ کو اور نوازے گا اپنی ڈھیر ساری نعمتوں سے اور اسکی رضامندی جنت کے داخلے کی ضامن ہے . مڈل کلاس کے افراد اپنی سفید پوشی کی لاج رکھنے کی کوشش میں سرگراں ہے . لیکن ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے غلط کاموں کو سوسائٹی سے خارج کریں ناکہ حوصلہ افزائی کریں کیونکہ خاموشی بھی ایک طرح سے رضامندی کی نشانی کہلاتی ہے .
دور قدیم کے اوراق کا ہم مطالعہ کریں گے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جتنےخاندانی ، شہرت یافتہ ، دولت مند اور اعلیٰ پیشہ کے لوگ ہوتے تھے اتنا سادگی پسند ہوتے تھے ان کے اندر بردباری اور خلوص و ہمدردی جیسے صفات کوٹ کوٹ بھرے ہوتے تھے . یہ ان کے بڑے ہونے کی نشانی مانی جاتی تھی کہ اپنے سے کم تر لوگوں کے ساتھ شفقت اور رحم دلی سے پیش آتے تھے . غرور اور تکبر کا کبھی اظہار نہیں ہوتا اور نہ ہی ویسی صفات کو پسند کی نگاه سے دیکھا جاتا .
جدید یا دور حاضر پر نگاه ڈالیں تو آج ہمیں اپنے تعلیم یافتہ اور معتبر و مہذب کہلانے پر شک محسوس ہورہا ہے .
اللہ تعالٰی دولت سے نوازا تو اس کا بے جا استعمال کرکے سماج میں شادی بیاه میں اسراف اور فشين کے نام پر بے حیائی اور luxurious Life تک رسائی حاصل کرنے میں جٹ گئے ہیں . ایسے بے دین اور مغرور افراد کی اولاد میں بھی غرور جیسی غلط صفت پنپ رہی ہے جو ہمیں کئی طرح سے ان کے اندر نظر آتی ہیں بچے معصوم ہوتے ہیں لیکن ان صفات کی وجہ سے وہ بھی معبود حقیقی کو ناراض کرتے جارہے ہیں ، اور اپنے ماں باپ کی غلط حرکتوں اور کارناموں و صغيره و کبیره گناہوں کے فہرست پر اپنا stamp لگاکر اسکو مستند بناتے جارہے ہیں جن میں چند قابل ذکر یہ ہیں
 . گورا رنگ ، کتابی چہره بہترین خدوخال ، گردن اکڑا کر چلنا ، کن اکھیوں سے دیکھنا ، خراماں چلنا ،گھر میں سب کے لاڈ و پیار کی وجہ ، زیاده کام کرنا ، کلاس میں اچھے یا امیتازی نشانات سے کامیابی ، اساتذہ کی نظروں میں اہمیت کے حامل ہونا ، طلباء میں مشہور و معروف ہونا ، دولت ، اکلوتی اولاد ، کوئی دوست یا ساتھی کا نہ ہونا ، ہاسٹل یا اقامتی اسکولس کی زندگی بڑوں کو سلام نہ کرنا ، کسی مہمان کے استقبال کے لۓ اٹھ کھڑے نہ ہونا یا نشست خالی نہ کرنا ، لبوںپر طنزیہ مسکراہٹ سجانا ، دو ٹوک جواب دينا. یہ ایسی صفات ہیں جن میں آج کا نوجوان طبقہ دلدل کی طرح پھنس رہا ہے . نوجوان اس بات کی گره بانده لیں کہ کنول کا پھول کیچڑ میں ہی کھلتا ہے اپنے علم اور اعلیٰ اخلاق سے اپنے اسلاف یا سرپرستوں کی بری عادتوں کو اچھائی میں بدلنا چاہیے . کیونکہ ان نشانیوں میں سے کوئی ایک بھی اگر کسی بنده يا بندی میں پائی گئی تو وہ غرور کا مرتکب کہلائے گا .
خود پسندی سے انسان خود کو ایک خول میں بند کر لیتا ہے نہ کسی سے سیدھے منہ بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو خاطر میں لاتا ہے .
ہمارے معاشره میں خود پسندی یا تکبر زیادہ تر لڑکیوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے . جس کی وجہ سے ازواجی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں اور دوسری جانب غیر مذہبی یا بين مذہبی شادیاں رچائی جارہی ہیں کیونکہ لڑکیوں میں غرور یا تکبر کی ایسی انتہائی بری صفت نمو پارہی ہے کہ جس کے نتیجے میں لڑکی دماغی طور پر مفلوج ہورہی ہے لیکن ظاہر میں وہ خود کو پوری طرح سے مکمل یا پرفیکٹ سمجھ رہی ہے ایسے خیالات کی وجہ سے وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ ہمیں کسی کی صلاح یا مشوره یا پھر نصیحت کی ضرورت نہیں ہے ہمارا فیصلہ صحیح اور صد فیصد کامیاب فیصلہ ہوگا . جس کی بدولت آج معاشره میں
 غیر مذہب کے لڑکوں سے رشتہ زوج جوڑا جارہا ہے
غرور کی سب سے پہلی وجہ دین سے دوری ہے اکثر گھرانوں میں لڑکیوں کی تربیت دین کی بنیاد پر نہیں کیجاتی بلکہ انہیں دنیاوی یا عصری تعلیم کی طرف زیاده راغب کیا جاتا جس کی وجہ سے وہ صرف مسابقتی امتحانات کی تیاری اور دوسروں پر بسقت حاصل کرنے کی مشق کرتے ہیں . جس سے ان کے اندر دوسروں کے تعلق سے حسد ، کینہ ، اور غصہ اور حقارت سے دیکھنا دوسروں کا حق چھیننے کی کوشش کرنا ، دھوکہ، جھوٹ اور بغیر محنت کے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی حریص اور بڑوں کے ساتھ بداخلاقی بد تمیزی سے پیش آنا جیسے تمام برے اور خطرناک برائیاں جنم لے رہی ہیں .
" آج کی تعلیم صرف کتابی نصاب کی تکمیل نہیں بلکہ بہتر معاشره کی تشکیل ہے " . اور معاشرہ " میں " سے نہیں " ہم " سے ہے جس کے آفتاب ضیا سے ساری دنیا منور ہوگی ..
   فہمیدہ تبسم نلگنڈہ ، تلنگانہ ۔ روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 22 / جون 2023


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]