اک تیری رفاقت ‏ (‏قسط ‏ ‏١٢)

 
 منصور کو ماں کے فون کال کا بے صبری سے انتظار تھا . وہ از خود نئے منصوبے بناتا پھر مٹاتا کبھی سونچتا ابھی انڈیا چلے جائے ، اور کبھی اراده کرتا کہ کچھ ماه رک جا ئے پھر چلے جا ئے تا کہ عائشہ کے ساتھ زیاده عرصہ گزار سکے ، اور ڈیلیوری تک رہ سکے ، کبھی خوش ہوتا کہ اب یہاں کا روزگار بس وہیں پر کچھ کرلونگا ، مگر سب پلانگ ایک طرف اور ماں کا فون آنے کے بعد کیا حکم صادر ہوگا ویسا ہی کرنا پڑے گا ، خود کو تسلی دیتا ہوا ، اور فون کے انتظار میں خود کو دیگر کاموں میں محو کرتا رہا .  آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ماں محترم کا فون آ گیا . اسلام عليكم : امی وعلیکم السلام بیٹے !سب خیریت امی !جی بیٹا ، تم کہو میں ٹھیک ہوں امی ، وه بیٹا ایک خوش خبری سنانے کے لئے کال کری ہوں   ،جی ، وه نارمل طریقہ کار کو اپناتا ہوا پوچھنے   لگا ، وه عائشہ حاملہ ہے کیا؟ ذرا حیران کن آواز میں جواب دیا ہاں بیٹا الله تعالی نے ہماری دعاوں کو قبول کرلیا ہے اب میں بھی دادی اور تم باپ بننے والے ہو ، امی یہ سب آپکی دعاؤں کا صلہ ہے امی ، شا ئد بیٹا ، میں بہت خوش ہوں بیٹے ، اور میں بھی بے حد امی ، ٹھیک ہے پھر میں رکھتی ہوں بیٹا ، جی ! وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر ماں سے اجازت طلب کرنے لگا کہ وه کب آئے ؟
   دیکھو بیٹے اب آنا بے فيض ہے اب تو سب ٹھیک ٹھاک بی ہے ، پھر امی کب آجاؤں دیکھیں گے آگے کا ابھی سے کیوں وہ ایک چھوٹے معصوم بچے کی طرح ماں کے سارے احکامات کو بغور سنتا رہا مگر مجال ہے جو اپنا اراده ظاہر کرے . بس وہ رکھ دی اور یہ بھی             اب رئیسہ بیگم کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں . منصور اورعائشہ بھی صاحب اولاد ہونے جارہے تھے . بیٹے سے بات تو کرلی بس رسماً مگر آگے کا کیا کرنا ہے وہ سوچ میں پڑگی.
  " سانپ مرے نہ لاٹھی ٹوٹے " کے مصداق کام ہو . اسی تفکر میں وہ بے چین و بے قرار سی رہنے لگی . وه خود کو نئے وسوسوں میں ڈالے عائشہ اور منصور اور انکے ہونے والے بچے کے بارے نئے فتور ذہن میں بسانے لگی ،
ماں ممتا کی مورت ہوتی ہے ، ماں کا آنچل زمانے کی ہر آنے والی  آندھی اور طوفان میں اولاد کو چھپا لیتا ہے . ماں کی محبت قدرت کا انمول تحفہ ، ماں عظیم نعمت ، ماں سے بڑھ کر کوئی ہستی ہی نہیں جو اولاد کی ہر خوشی کے لئے خود کو ہر قدم پر قربان کردیتی ہے ، ماں کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے ، ماں کے تعلق سے بہت اقوال ہیں ، جو نہ قابل فراموش ہیں جنکی مد حاسرائی میں ہم خود ی کو ضم کئے ہوئے ہیں ، دنیا میں ماں جیسی ہستی جس کو الله تعالى نے عطا فرمائی وہ بڑا نصیبوں والا کہلاتا ہے . یہ حقیقت بھی ہے . جبکہ اگر اس ماں نے اپنے معنی و مفہوم کا صیح استعمال اولاد کی زندگی میں شامل کرلے اس کے برعکس اگر ماں نے خود غرضی اور مفاد پرستی اور اولاد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال میں لالے تو پھر یہ تمام قیمتی اقوال کا مول بے معنى لگتا ہے. بے مقصد اور ایک گھٹن بھرا رشتہ کہلاتا ہے . اولاد کی صحیح تربیت اور انکی زندگی کا صحیح طرز اور روشن مستقبل کے تعلق سے سو نچنا ایک اچھی ماں کے اوصاف میں شامل ہے 

ماں سے گھر جنت بھی جہنم بھی
ماں سے رشتے جڑتے بھی بکھر تے بھی
ماں جو چاہو تو فلک کے تارے سارے ہمارے
ماں جو نہ چاہو تو زرے بھی نہ ہو پائے ہمارے
دنیا کی بلند ہستی  میں شامل ماں ہے
ہر اک کی کامیابی میں مضمرہوئی ماں ہے

 قدرت نے ہر رشتہ کو دنیا میں  بے مقصد اور بے ضرر نہیں پیدا کیا . . ہر ر شتہ اسکی اپنی نوعیت کے اعتبار سے اپنی قدر و قیمت رکھتا ہے رشتوں کا احترام ہر کسی پر لازم و ملزوم ہے . یہ نہیں کہ صرف یک طرفہ طور پر نبھانے والے بخوشی رشتوں کو عزت سے جوڑتے اور بنائے رکھنے میں خود کو ہر طرح کی کوشش وسعی کرتے رہیں خدا کو راضی کرنے کے لئے بہتر سے بہتر طور پر ہر چھوٹے  بڑے رشتے کو بہت اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے رہیں .
 تو کیا وہ نادان ہیں ،یا کم عقل ہیں ، یا تو پھر احمق ہیں ،  یا دنیا داری سے پرے ہیں ، یا پھر جاہل ان پڑھ ہیں ،
  جن کی تمام تر سچی اور نیک نیتی کو استمال نہیں بلکہ استحصال کے طور پر مصرف میں لاکر مخالف سمت کے رشتے خود کو قابل فہم اور ہوشیار اور حکمت والے کہلاتے ہیں ، اور اپنی ناجائز ترقی کو خود کی کوششوں اور حکمت عملی کا مظہر مانتے ہیں .
  کچھ ایسا ہی رویہ رئیسہ بیگم نے منصور اور عائشہ کے تئیں قائم کر رکھا تھا ، خود کی مکاری اور غلط زاویہ نظر کو وہ ان دونوں کی نیکی پر مسلط کرتی ہوئی  شاطر انہ طریقے سے اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھرنا چاہتی ہے جبکہ وه بہت ہی غلط راستہ اختیار کئے ہوئے ہے اور دولت کی حرص میں اس قدر پاگل ہوگئی ہے کہ دوسروں کی بلکہ خود اولاد کی خوشی کی بھی پرواه نہیں ہے 
 باربار عائشہ کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھنا مانو اب رئیسہ بیگم کی عادت سے بن گئی تھی . اُدھر منصور ہمیشہ فکر مند رہتا کہ کیسی چل ری ہوگی اسکی عائشہ کی روزمرہ زندگی کیونکہ اسے سب کچھ پتہ تھا بس وہ رشتوں کے احترام کے خاطرخاموش تھا اور گھر کو خوشیوں کا آشیانہ بنائے رکھنے میں شوہر بیوی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی  ایک پڑھے لکھے اور دین دار ہونے کا ثبوت وه ہر گھڑی اور ہر موقعہ پر امتحان کی صورت میں ادا کررہے تھے . پھر بھی عشو کی خاموشی سے اسے ڈر تھا وہ ہر مسئلہ اور ہر غلط حرکت کو بخوبی اپنا لیتی ہے اور ماں یا بہنوں کی کبھی شکایت اپنے ہونٹوں پر ہرگز بھی نہیں لاتی  . اب اسکی عائشہ اکیلی نہیں بلکہ اب اسکا ہونے والا بچہ بھی ہے اس لئے اسے اور زیادہ ٹنشین ہو رہا تھا . ملازمہ کو کام پر نہ رکھنا اور پتہ نہیں کیا کیا اذیتیں اسکی ماں اس کو دے رہی ہوگی . اسے ایسے کئی شکوک نے آگھیرا ، سابقہ کے حرکات کو وہ نظر انداز کرتا گیا لیکن اب آگے اگر ایسا ہی کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار وہ خود کو مانے گا اور عائشہ کی سادگی کا ناجائز فائده اٹھانے والی ماں کو  چھوٹ دینے والا بیٹا کہلائے گا . اور  فرائض کی عدم ادائگی کرنے والا شوہر کہلائے گا . کل کو خدا نخواستہ کچھ ہوجائے تو اسکا ذمہ دار صرف اور صرف وہ ہی ہوگا 
  يا الله ہر معاملہ خیر کا کر . ایک دوسرے میں محبت خلوص کو قائم ودائم فرما اور معصوم جانوں کی حفاظت فرما کسی بھی ناگہانی آفت و بلا اور مصیبت سے سب کی حفاظت فرما اور ہم سب کو حقوق العباد کی ادائگی کرنے والے بندے بنا ـ وہ دعا گو ہوگیا 
  (جاری ہے)۔  ( باقی آنیدہ)

(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
  

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]