آداب گفتگو یا انداز بیاں
گفتگو ہی وہ واحد ذریعہ ہےجس سے بنی نوح انسان ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرتا ہے ، جانور اور انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق زبان کا ہے ، اور اس زبان کے تعلق سے اسلام ہی و ہ واحد مذہب ہے جس نے گفتگو کے آداب سکھائے ہیں انسان کو معاشرتی زندگی جینے کے لیے دوسرے آداب و اطوار کی جس طرح ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایک بہتر شہری کی پہچان بنانے کے لئے گفتگو کے آداب کو ملحوظ رکھنا یاخود پر لازم کرنا اشد ضروری ہے ، مذہب کی پہچان سب سے پہلے رویہ سے اجاگر ہوگی اور ہمارے پیارے بنی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان مبارکہ ہے کہ " تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں . " اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود پیکر حسن اخلاق اور اسوہ حسنہ میں ایک عظیم مثال ہیں اور انسانیت کی فلاح و نجات اسوة الحسنہ کی اتباع میں پوشیده ہے ، ہر قوم کے نبی کا پیغام واحد لاشریک کی عبادت کےساتھ حقوق العباد تھا اور اس حقوق العباد کے بنیاد کی سب سے پہلی اینٹ حسن خلقی ہے جو اللہ کی خلقت کے ساتھ کی جانی ہے اور اس حسن خلقی کی اینٹ شائستہ گفتگو کی بھٹی میں جل کر تیار ہوگی تب کہیں جاکر مضبوط بنیاد اور اسلام کا ستون کھڑا ہوگا . يعنى کہ "زباں شیرین تو ملک گیر ی " کے مترادف ہوگا اگر ہماری زبان صحیح رہی تو ہم ملک پر بھی حکومت کرسکتے ہیں ، دلوں میں اتر سکتے ہیں اگر کڑوی سے کڑوی بات بھی آپ مہذب اور شائستگی سے پیش کریں گے تو زبان کا اظہار کریں گے تو ملک ہی کیا سارےعالم پر بھی چھا کر رہیں گے برخلاف اس کے اگر زبان میں تیز اور جاہلانہ رویہ ہوگا تو سچائی بھی وہاں کوئی معنی نہیں رکھتی ، اور اس بد کلامی سے انسان کے تکبر کا وصف ظاہر ہوگا اور تکبر ہمیں شیطان اور فرعون کے زمرہ میں لاکھڑا کرتا ہے . آج سماج میں دوقسم کے امراض اپنی پوری آب وتاب سے چھا گئے ہیں ایک وبائی امراض اور دوسرے سماجی امراض ، اولذکر کا علاج تو حکیموں ، اطباء اور ڈاکٹرس کے پاس موجود ہے لیکن ثانی الذکر سماجی امراض کا علاج خود سماج کا ہر شہری سماجی ڈاکٹر بن کر ہی کرسکتا ہے . سماجی امراض میں سب سے زیادہ وبائی سماجی مرض ہے بد اخلاقی اور اس کے ذمہ دار ایک دو فرد نہیں بلکہ سارا سماج ہے اس لیے اس لا علاج مرض کا علاج بھی سماج کا ہر فرد ہی کرنا پڑے گا . اس طرح سے سماجی برائیوں کے تدراک کا عمل برسا برس سے لائحہ عمل ہے کئی سماجی مصلحین نے اپنے تئیں عوام میں سماج سدهار کا شعور بیدار کرنے کی سعی کی اور ادبی و علمی لحاظ سے بروقت قرطاس و قلم کے ذریعہ اس سماجی امراض کا خاتمہ کیا جاتا رہا ممکنہ حد تک کامیابیاں بھی حاصل ہوتیں رہیں لیکن آج بھی بہت سی ایسی سماجی بیماریاں ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑی ہوئی ہیں جن کو اکھڑنا مشکل ہے جس میں چھوٹی نظر آنے والی بیماری بد کلامی ہے جس کے دور رس نتائج برے ثابت ہورہے ہیں . بات چیت کا سلیقہ اور طریقہ ہی انسان کو کامیابیوں کی بلندیوں پر لے جاتا ہے .اس ضمن میں جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام غالب توسیعی خطبہ بعنوان " کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور ہے" بتاریخ 21 / مارچ 2023 بمقام مانیسٹر ارنسٹ جاسپر، ای کلاس ، روم نمبر 33 آرٹس کالج جامعہ عثمانیہ 3 بجے دن منعقد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر جناب سی گنیش ، پرنسپل آرٹس کالج و صدر شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ نے کی . مہمانان اعزازی کے طور پر جناب ڈاکٹر ایس اے شکور صاحب ، سابق صدر شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ اور جناب ڈاکٹر ایم اے معيد صاحب سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ اور مہمان خصوصی پروفیسر جناب ڈی رویندر صاحب عزت مآب وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ ، خطیب جناب ڈاکٹر سید تقی عابدی صاحب جو کہ معروف کارڈیالوجسٹ ہی نہیں بلکہ اُردو فارسی اسکالر و شاعر ، کینڈا ہیں . کنویرس میں محترمہ ڈاکٹر انجم انساء بیگم صاحبہ فیکلٹی شعبہ اُردو اور جناب ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب فیکلٹی شبعہ اردو جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد شامل تھے .
جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا اسد الله خان غالب کا انداز بیاں جس کو محترم جاوید معيد سر نے انتہائی مختصر جامع انداز میں بیان فرمایا !کہا کہ غالب کا انداز بیان دوسروں سے جداگانہ تھا موصوف نے کہا کہ غالب نے اردو اور فارسی زبان کے ذریعہ قوم کو بلندیاں ، و سعتیں ، عظمتیں ، نعمتیں عطا کیں ہیں . جس طرح سے رشید احمد صدیقی نے غزل کو اُردو شاعری کی آبرو کہا ہے اسی طرح غالب کو بھی غزل کی آبرو کہا ہے . اور آخر میں معید صاحب نے " ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں " کہہ کر اپنی بات کو ختم کیا .
پروفیسر ایس اے شکور صاحب نے اپنی بات کو مختصر طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کی محفل کے روح رواں تقی عابدی صاحب ہیں اس لئے انھیں سننا اہم ہے وه دہلی میں ولادت پائے ہیں لیکن اپنامسکن کینڈا کو بنایاہے وہ اردو کے سفیر ہیں جس کے ذریعہ وہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو جوڑے رکھے ہیں مغربی ممالک میں اردو کی شمع روشن کئے ہیں 70 قیمتی کتابیں اور 2000 مخطوط موجود ہيں ، تقی عابدی صاحب نے کوویڈ کے دور میں 8 کتابیں تحریر کیں ہیں جس سے ان کی علمی وادبی دلچسپی کا ثبوت ملتا ہے وہ مذہبی ، محقق نقاد ، شاعر طبیب ماہر غالبیات ، ماہر اقبالیات ہیں ہی ساتھ میں دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کئے ہیں .
ڈاکٹر تقی عابدی نے مرزا اسد الله خاں غالب کو برصغیر کا ترقی پسند شاعر اور اپنے ملک کی آبرو کہا ہے غالب کی شاعری جوکہ اردو اور فارسی زبانوں میں موجود ہے اگر ہم گہرائی سے مطالعہ کریں گے تو ہمیں غالب کے احساسات ، جذبات اور تجلیات کا پتہ چلے گا . بقول غالب کا بیان ہے کہ میری شاعری کو لوگ مرے مرنے کے بعد اہمیت دیں گے . حالی نے غالب کو حيوان ظریف کہا ہے جو کہ "خوش طبع آدمی " کی فہرست میں شامل ہے یعنی زندگی میں غالب نے بہت دکھ ، پریشانیاں اور درد سہے لیکن کبھی شکوہ یا شکایت کھلے عام یا برے الفاظ میں نہیں کی نہ دنیا کی اور نہ ہی قدرت کی یہ انکی اعلیٰ ظرفی تھی کہ ہر مسئلہ کو خنده پیشانی سے قبول کرلیتے
" چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں "
رب کائنات نے مستقبل کو عالم غیب میں پوشیده رکھا تا کہ انسان کے دل میں چھپے ہوئے ارادے باہر نمایاں ہو سکے۔ بس اسی کشمکش میں ہم بنده ناصبور کی طرح ناشکری اور غلط بیانی پر اتر آتے ہیں جو کہ غالب کی شخصیت میں شامل نہیں ہے .
ایک جگہ وہ مخاطب ہیں " کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب ! شرم مگر تم کو نہیں آتی . " یعنی خود کو گہنگار کہتے ہوئے وہ رب کے سامنے شرمنده ٹھہراتے ہیں .
غالب نے انگریزوں کی طرز زندگی کو پرکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ انکی کامیابی کا راز معلوم ہوسکے اسی لئے انھوں نے ان کی تعریف اور مدح سرائی میں قصائد لکھے جس سے یہ اندازه ہوتا ہے کہ اس قوم کو جنش یعنی حرکت سے سروکار ہے تبھی غالب نے مرده پرستی کی مخالفت کی ہے جو کہ ہماری قوم میں پائی گئی سستی ، کاہلی سے انسان مرده میں شمار کیا جاتا ہے . مرزا غالب حاضر جواب اور تخیل کی بلندی پر موجود تھے وہ فطرت کا مطالعہ بار یک بینی سے کرتے تھے . آج بھی ان کی شاعری میں ہمیں انسانی زندگی کی ترقی مضمر نظر آتی ہے . وه ایک پر مزاح شخصیت کے مالک تھے لطائف کہنے میں مہارت رکھتے تھے .
مرزا غالب کے دور سے ٹھیک بیس سال بعد اسی نظریات کو سرسید نے پیش کیا اور سرسید کے بعد بیس سال کے عرصہ بعد انہی نظریات کو مولانا الطاف حسین حالی نے پیش کیا اور آخرکار اقبال نے بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو اسی نظریہ کو اپنی خودی میں لاکھڑا کیا یعنی مدعا ایک ہے لیکن انداز بیاں مختلف ہے .
مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں يارب
آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کا ش کے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
تاکرے غمازی کرلیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
غالب کے گفتگو کا انداز بہترین ہوتا تھا وہ شکایت بھی اتنے حسین انداز میں کرتے کہ مخاطب شرمنده ہوجاتا . غالب کی نظر میں مشکلات کا نام ہی زندگی ہے جیسے " مشکلیں اتنی پڑی کہ مجھ پر آساں ہوگئیں " ، والا معاملہ ہوتا . شائد دنیا میں غالب جس چیز کے حقدار تھے وہ انھیں دنیا نے نہیں دی تھی ، انھوں نے دلی کو عروج سے زوال تک دیکھا اور شاہی خاندان کو اجڑ تے ہوئے دیکھا یہی وہ اسباب تھے کہ مرزا غالب نے اپنی شاعری میں درد سے حد درجہ گزرتے ہو ۓاشعار کہے ہیں لیکن اپنی فطری شوخی کو بھی چھپایا نہیں جن میں وہ خطوط کے ذر یعہ بیاں کرتے نظر آتے .
سر سید احمد خاں نے آئین اکبری کی تلخیص مرزا غالب کو لکھنے کو کہا ، مرزا نے اس وقت بھی انگریزوں کی معاشرت کے طرف دار نظر آتے ہیں .
سرمائے صد افتخار ہے غالب کی شخصیت ، مشکل سے مشکل بات کو ایک خاص انداز میں اور خاص طریقے کار سے پيش کرنا یہ غالب ہی کا ہنر ہے . وہ ہر مذہب کے ساتھ رواداری برتا کرتے تھے
" کعبہ میرے پیچھے کلیسا میرے آگے "
اے غالب شعر و ادب اور ترا انداز بیاں اور ہے .
آج قوم میں پھر مرزا اسد اللہ خاں غالب ، سرسید، مولانا الطاف حسین حالی اور ڈاکٹر علامہ اقبال کی اشد ضرورت ہے جس سے ہمارے سماجی امراض کا خاتمہ ہو سکے .
ہے اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور .( مرزا اسد اللہ خاں غالب)
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے .( ڈاکٹر علامہ اقبال)
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
جو ڈھونڈے گا وہ پائے گا ( مولانا الطاف حسین حالی)
فہمیدہ تبسم ، اردو پنڈت ، رسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد .
روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 30 / مارچ 2023