نساء

اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی درجہ دیا ہے۔ مذہب السلام نے عورت یعنی آزادی نسوان کے بارے میں ہر جائز اقدامات کو نافذ العمل کیا ہے انھیں میں تعلیم نسواں بھی ایک ہے جس کو کافی اہمیت سے اجاگر کیا گیا ہے اور زیاده فوقیت دی گئی ہے . یوں ہمارے مذہب اسلام نے مرد اور عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے جوکہ دیگر مذاہب میں موجود نہیں
" حديث مبارکہ ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے " اس حديث سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ مرد کے برابر عورت بھی علم حاصل کرسکتی ہے اور یہی نہیں اور ایک بات یقینی ہوگی ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر درجہ بلند عطا فرمایا ہے۔
  دیکھا جائے تو مرد کو جتنا تعلیم یافتہ ہونا ضروری اس سے کہیں زیادہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرنے سے ایک گھرانہ یا خاندان تعلیم یافتہ ہوسکتا ہے لیکن ایک عورت کے علم حاصل کرنے سے پورا ایک سماج تعلیم یافتہ ہوسکتا یوں کہنا بے جا نا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تحت الثرى سے اٹھا کر فوق اشعور تک پہنچا دیا ہے 
 اگر عورت تعلیم یافتہ نا ہوکر  ان پڑھ گنوار رہتی تو آج ہمارا مذہب اسلام بھی دنيا میں اتنی پہچان نہ بنا پاتا 
 قرآن مجید میں الله تعالی نے پوری ایک سورة النساءخاص عورتوں کے تعلق سے نازل فرمائی ہے . اس کے لحاظ سے اگر ہم عورتیں اپنی زندگیوں کو لے کر چلیں گئیں تو ہماری دنیا وآخرت سنور جائے گی ہم ایک صیح طرز زندگی گزار سکے نگے.
  عورت کے الگ الگ روپ ہیں جس میں وہ پہلے ایک ماں کی حیثیت سے جانی جاتی ہے . ماں کے روپ میں بے لوث محبت ، شفقت، وہمدردی اور ایثار و قربانی کی انمول داستانماں ہوتی ہے . تب ہی تو الله تعالٰی فرماتا ہے "ماں کے قدموں تلے جنت ہے " اتنا بڑا رتبہ دیا گیا تو قابل غور بات یہ ہے کہ ایک ماں کی کیا ذمہ داریاں ہوتیں ہیں . يوں تو ماں بننے کا شرف تقریبا ہر عورت کو حاصل ہوتا ہے . اس لئے ہم ایک اچھی ماں بننے کا سونچے تاکہ اپنی اولاد کی صیح تربیت کر سکیں سب سے پہلے اپنی اولاد کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کریں اوہام پرستی اور شرک وبدعت سے پاک صاف ماحول گھر میں بنائے رکھنا عورت ہونے اور ایک صیح ماں ہونے کے لئے ضروری ہے کیونکہ اسی سے بچہ آگے چل کر دنیا میں اور آخرت میں اپنی پہچان بنا پائے گا . آداب زندگی سکھائیں ،  موقعہ بہ موقعہ اسلامی طریقہ کار کو داخل کریں ، دسترخوان کے آداب ، کھانے پینے کے آداب ، بات کرنے کے آراب، اٹھنے بیٹھنے کے آداب ، ہنسی مذاق کے آداب ، بہر حال ہمارے مذہب نے ہر ہر موقعہ پر آداب بتائے ہیں . مگر افسوس کہ ہم ان کو نظر انداز کردیئے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے خود ظاہر ہے کہ بچے ماں باپ کی کوئی عزت ہی نہیں رکھتے تمیز سے بات تک کرنا انھیں گواره نہیں ان کی یہ طرز زندگی ہمارے ہی بے جا لاڈ و پیار کا نتیجہ ہوتا ہے  اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت تو صرف اور صرف ایک ماں ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے ساتھ میں. لڑکوں کی انجان طریقے سے نگرانی کی جائے کہ وہ کدھر جارہے ہیں کس قسم کا دوستانہ رکھتے ہیں . رات میں کب تک جاگتے ہیں یہ تمام باتوں کو ماں کوخود جانچنا چاہیے اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لڑکوں کی تربیت کی ذمہ داری باپ پر تھوپی جاتی ہے . یہ سراسر غلط ہے باہر کی تھوڑی بہت دیکھ بھال باپ کرسکتا ہے لیکن گھر کی چار دیواری میں جو تربیت دی جاتی وہ اہمیت کی حامل ہوگی جو کہ ماں ہی دے سکتی ہے اس کا اثر باہر نظر آئے گا . ہماری غیر موجودگی میں بھی بچے وہی طریقہ کار اپنائیں جو موجودگی میں اپنا تے ہیں . اور ماں میں ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سختی نہیں برتی اس سے بچہ مانوس رہتا ہے وہ اپنی اولاد سے دوستانہ تعلقات رکھتی ہے. جس جلد سیکھنے کی طرف راغب ہوتا ہے
اکثر عورتوں کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات زیادہ تر اردو میں ہوتی ہیں ہم انگلش میڈیم کے ہیں ہمیں اردو نہیں آتی ایسا خیال کرنا غلط ہے کیونکہ اب وہ زمانہ نہ رہا کہ کتاب خرید کر پڑھی جائے ویب سائٹ پر لاکھوں معلومات آپ کو مہیا ہو جائیں گے .
ازواج مطہرات اس دور میں بھی دین کی باتیں آپ ﷺ سے سیکھ کر دوسرے عورتوں تک بھی باقاعده پہچاتی تھی اور اس کے لئے آپ ﷺ نے ایک دن مخصوص فرمایا تھا .
ماضی میں تعلیم نسواں کی اتنی ترقی ممکن نہ تھی جسکی وجہہ سے خواتین کوعلوم کے بہتر ذرائع تک آزادانہ رسائی نہ ہوسکی لیکن پھر بھی وہ اپنی جہت سے علم حاصل کرنے میں بہت آگے تھیں . اور ایک اچھے اور پاک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے .

ہمیں چاہیے کہ اسلامی تاریخ کھول کر پڑھیں جس میں صحابیات کے واقعات ہیں جو ہمارے لیے کافی ممد حیات اور مددگار ثابت ہوتے ہیں . 

  عورت کا دوسرا روپ بیوی کا ہوتا ہے ... سورة انساء کی آیت نمبر ١ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں " لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اسکا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنيا میں پھیلا دیئے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو . یقین جانو کہ الله تم پر نگرانی کررہا ہے  (ترجمہ ...ابواعلی مودودی رحمہ) 
    عورت کا دوسرا روپ ایک زوجہ یعنی بیوی کا ہوتا ہے . ایک اچھی بیوی ثابت ہونے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے . سب سے پہلے تو دلوں کو بغض ، حسد، جھوٹ اور غرور وتکبر سے پاک رکھنا ضروری ہے .  مو جودہ حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ذیاده تر عورتیں دلوں میں بد گمانیاں پال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ازواجی رشتوں میں کافی تناؤ آجاتا ہے اور بات یہاں تک پہچ جاتی ہے کہ اچھے خاصے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ان تمام کا ایک ہی اہم مرکز ہے اور وہ ہےہماری جاہلیت ہم دنیا کی ڈگری تو لے لیتے ہیں مگر نالج میں صفر اور دین کی تعلیم میں بھی صفر ہوتے ہیں .. محلہ واری اجتماع میں شرکت ہوتی ہے مگر لا حاصل وہاں پر ایک دوسرے کی بُرائی غیبت وغیره سے  اعمال کو اور گنده کر کے آتے ہیں اگر ایک فیصد بھی اس پر عمل کیا جائے گا تو گھر جنت کا نمونہ بن جانے گا . اپنے حقوق کے لئے خاوند سے آنے دن لڑائی جھگڑے کرتے ہیں لیکن کبھی اپنی ذمہ داری شوہر پر کیا ہے یہ نہیں سونچتے 
  اسی غلط اطوار اور ماده پرست دنیا میں نام کمانے کا  غلط خیال کانتیجہ ہے کہ مرد حضرات حرام اور ناجائز کمائی  کی طرف راغب ہو رہے ہیں . لیکن راست نہ سہی برالراست طور پر عورت بھی اس میں شراکت دار اور ذمہ دار ٹھہرتی ہے . اسکا مطلب یہ نہیں کہ عورت کے ساتھ حق تلفی کی جائے اسکے حقوق  برابر اس کو دينا چاہئیے عورت کو ایک درد بھری زندگی دینا بھی مرد کے لئے جوابدہ ہے اس لئے الله تعالی رشتوں میں برکت اور پائیداری قائم رکھنے کے لئے فرماتا ہے
  سورت انساء آیت نمبر ٤ .. " اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ( فرض جانتے ہوئے) ادا کرو . البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمھیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو (ترجمہ ابو اعلیٰ مودودی)  
 جہیز اور گھوڑا جوڑا دین لین ان تمام ناموں سے لڑکے والے لڑکی والوں سے کافی رقم وصول کرلیتے ہیں . مگر جب بات مہر کی آتی ہے تو وہ کم از کم اور ادهار رکھا جاتا ہے . ان باتوں سے ہی شوہر اور سسرال کی عزت لڑکی کی نظروں میں گر جاتی ہے بغیر لین دین کی شادی کریں اور مہر کی نقد ادائیگی کردیں تاکہ  رسول کی سنت کو زندہ کرنے والے بن سکے اور علماء اکرام بھی اس نکتہ پر زیاده زور دیں کہ مہر نقد ادا کیا جائے تو ہی نکاح پڑھایا جائے گا کم از کم اس طرح سے رشتوں میں محبت خلوص قائم ہو پائے گا اور اس طرح سے بیوی کی نظروں میں شوہر کی اپنی عزت قائم رہ جائیگی .

   عورت کا تیسرا روپ بیٹی کا ہوتا ہے . ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا بیٹی تو الله کی رحمت ہوتی ہے  جب بی بی فاطمہ آپ ﷺ  سے ملنے آ تیں تھیں .تو آپ ﷺ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے استقبال کے لئے اس لئے کہا گیا ہے کہ  وہ عورت خوش قسمت ہےجس کی پہلی اولاد لڑکی ہوگی اسلام میں بیٹیوں کو رحمت سمجھا جاتا ہے بوجھ نہیں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمايا ہے کہ " جو بھی اپنی بیٹیوں کو محبت سے اور انکے سارے حق دیکر پالے گا تو قیامت کے دن یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے رہائش کا ذریعہ بنے گی . " لڑکی کے حقوق کے بارے میں سورة انساء میں الله تعالٰیٰ  آیت نمبر ٧ میں فرماتے ہیں " کہ والدين کے مال میں سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حصہ مقرر کیا ہے . مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو خواه تھوڑا ہویا بہت اور یہ حصہ( الله کی طرف سے) مقرر ہے 
 (ترجمہ ابو اعلیٰ مودودی)  
اس آیت میں اللہ تعالی نے لڑکیوں کو والدين کی جا ئیداد میں سے تر کہ دینے کی بات کہی گئی ہے یعنی بیٹیوں کے حقوق کے بارے میں الله تعالٰی آگاه فرما رہا ہے .  دیکھنے میں یہ بات قابل غور ہے کہ جہیز میں لڑکیوں کو کار بنگلہ اور پلاٹ فلاٹ ہر آرام و آسائش کا سامان مہیا کیا جارہا ہے . تاکہ آئنده ترکہ نہ پوچھے مگر یہ نادانی اور کم عقلی و جہالت ہے اس سے سماج میں جہیز کی لعنت میں اضافہ ہورہا ہے اور غریب لڑکیوں کی شادیوں میں رکاوٹ حائل ہورہی ہے اور ساتھ میں لڑکے اور اس کے گھر والوں کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی آئندہ مستقبل میں دوبارہ داماد خود پھر ترکہ کے لئے کورٹ میں عرضی داخل کرتا ہے اس لئے نکاح کو آسان بنائیں ورنہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔
اس طرح سے خاندان بکھرنے میں زیادہ تر لڑکیاں ذمہ دار ثابت ہوئی ہیں والدین کے پاس سے ہمیشہ دولت ، خدمت اور جائیداد کی وہ آس لگا رکھتی ہیں کیونکہ شوہر کو وہ یہ تمام چیزوں سے ہی مرغوب کرتی ہیں اگر اس میں کمی آجائے تو کہیں شوہر کے دل میں میری عزت و محبت کم نہ ہو جائے یہ خدشہ انہیں لگا رہتا ہے . اس ڈر کی وجہ سے وہ میکے میں سارے رشتوں کو پامال کرتی رہتی ہے . تاکہ بات طلاق یا خلع پر نہ آجائے 

  ذرا غور کیجے !! ہم ہر روز ان چھوٹے چھوٹے اور جاہل قسم کے لڑائی جھگڑوں میں ہی اپنی زندگیوں کو الجھا کر رکھ دیئے ہیں جس میں مردوں کو بھی شریک کررہے ہیں یہ کہاں کی عقل مندی اور عالمیت ہے . دوسری اقوام ہم سے کئی گنا آگے نکل چکی ہے اور تو اور ہمارے مذہب اسلام میں کبھی طلاق ثلاثہ ، تو کبھی تسلیمہ نسرین کے لجا کہہ کر، کبھی سلمان رشدی اور کبھی وسیم رضوی نے آیتوں کو ہی ہدف کرنے کا کہہ کر پاک اور مقدس مذہب اسلام میں مداخلت کرتے ہوئے اس میں تبدیلیوں کی انتھک کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں .
مذہب اسلام کی عورتیں ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ہمارے گھرانوں کو اسلام کا گہوارہ بنائیں اور ہماری اولادوں کو اسلام کے سپاہی بنائیں یہ ہماری دین سے دوری کی وجہ ہے جس سے مرد بھی پریشان ہیں اور بچے بھی بچوں کی بگاڑ کی وجہ ہم نہ بنے اولاد کو دینی تربیت دیں ہر جگہ موقعہ بہ موقعہ دعاؤں کا اہتمام کریں بچوں کو ہر موقع پر پڑھی جانے والی دعائیں سکھائیں تاکہ بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور دین کی اہمیت ان کے دلوں میں بڑھتی جائے گی . سلام کو عام کریں . خواتین اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں صحابیات کے واقعات کو پڑھیں وہ کس طرح سے سیدھی سادھی زندگیوں کو گزارتے ہوئے اسلام کے لئے اپنی قربانیاں دی ہیں . جہاد فی سبیل الله میں اپنی خدمات کو انجام دیکر اپنے مذہب کا پرچم بلند کیا ہے عورت ہوتی ہے ہر قدم پر قربانی کی مثال اور ایثار و محبت کا پیکر . عورت انسانیت کی عزت ہے مگر اسکا استحصال کرکے دنیا میں ترقی کے نام پر ہر طرف بربادی پھیلائی جارہی ہے .
   
  آج امت مسلمہ کو ایک دین دار باشعور عورت کی ضرورت ہے جو مرد کی ہمت اور اولاد کی ڈهال بنے اسلام کو پھیلانے میں اس لئےاسکی حفاظت کے لۓ اپنی روزمره زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ لگائیں یہ ضروری اور ممکن ہے .
 تاکہ اللہ تعالی کی ناراضگی ختم ہو جائے اور آفات و بلاؤں کا نزول ختم ہو جائے اور ہم سب کی تو بہ قبول ہو جائےآمين

  اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی درجہ دیا ہے۔ مذہب السلام نے عورت یعنی آزادی نسوان کے بارے میں ہر جائز اقدامات کو نافذ العمل کیا ہے انھیں میں تعلیم نسواں بھی ایک ہے جس کو کافی اہمیت سے اجاگر کیا گیا ہے اور زیاده فوقیت دی گئی ہے . یوں ہمارے مذہب اسلام نے مرد اور عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے جوکہ دیگر مذاہب میں موجود نہیں
" حديث مبارکہ ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے " اس حديث سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ مرد کے برابر عورت بھی علم حاصل کرسکتی ہے اور یہی نہیں اور ایک بات یقینی ہوگی ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر درجہ بلند عطا فرمایا ہے۔
  دیکھا جائے تو مرد کو جتنا تعلیم یافتہ ہونا ضروری اس سے کہیں زیادہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ ایک مرد علم حاصل کرنے سے ایک گھرانہ یا خاندان تعلیم یافتہ ہوسکتا ہے لیکن ایک عورت کے علم حاصل کرنے سے پورا ایک سماج تعلیم یافتہ ہوسکتا یوں کہنا بے جا نا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تحت الثرى سے اٹھا کر فوق اشعور تک پہنچا دیا ہے 
 اگر عورت تعلیم یافتہ نا ہوکر  ان پڑھ گنوار رہتی تو آج ہمارا مذہب اسلام بھی دنيا میں اتنی پہچان نہ بنا پاتا 
 قرآن مجید میں الله تعالی نے پوری ایک سورة النساءخاص عورتوں کے تعلق سے نازل فرمائی ہے . اس کے لحاظ سے اگر ہم عورتیں اپنی زندگیوں کو لے کر چلیں گئیں تو ہماری دنیا وآخرت سنور جائے گی ہم ایک صیح طرز زندگی گزار سکے نگے.
  عورت کے الگ الگ روپ ہیں جس میں وہ پہلے ایک ماں کی حیثیت سے جانی جاتی ہے . ماں کے روپ میں بے لوث محبت ، شفقت، وہمدردی اور ایثار و قربانی کی انمول داستانماں ہوتی ہے . تب ہی تو الله تعالٰی فرماتا ہے "ماں کے قدموں تلے جنت ہے " اتنا بڑا رتبہ دیا گیا تو قابل غور بات یہ ہے کہ ایک ماں کی کیا ذمہ داریاں ہوتیں ہیں . يوں تو ماں بننے کا شرف تقریبا ہر عورت کو حاصل ہوتا ہے . اس لئے ہم ایک اچھی ماں بننے کا سونچے تاکہ اپنی اولاد کی صیح تربیت کر سکیں سب سے پہلے اپنی اولاد کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کریں اوہام پرستی اور شرک وبدعت سے پاک صاف ماحول گھر میں بنائے رکھنا عورت ہونے اور ایک صیح ماں ہونے کے لئے ضروری ہے کیونکہ اسی سے بچہ آگے چل کر دنیا میں اور آخرت میں اپنی پہچان بنا پائے گا . آداب زندگی سکھائیں ،  موقعہ بہ موقعہ اسلامی طریقہ کار کو داخل کریں ، دسترخوان کے آداب ، کھانے پینے کے آداب ، بات کرنے کے آراب، اٹھنے بیٹھنے کے آداب ، ہنسی مذاق کے آداب ، بہر حال ہمارے مذہب نے ہر ہر موقعہ پر آداب بتائے ہیں . مگر افسوس کہ ہم ان کو نظر انداز کردیئے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے خود ظاہر ہے کہ بچے ماں باپ کی کوئی عزت ہی نہیں رکھتے تمیز سے بات تک کرنا انھیں گواره نہیں ان کی یہ طرز زندگی ہمارے ہی بے جا لاڈ و پیار کا نتیجہ ہوتا ہے  اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں لڑکیوں کی تعلیم و تربیت تو صرف اور صرف ایک ماں ہی بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے ساتھ میں. لڑکوں کی انجان طریقے سے نگرانی کی جائے کہ وہ کدھر جارہے ہیں کس قسم کا دوستانہ رکھتے ہیں . رات میں کب تک جاگتے ہیں یہ تمام باتوں کو ماں کوخود جانچنا چاہیے اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لڑکوں کی تربیت کی ذمہ داری باپ پر تھوپی جاتی ہے . یہ سراسر غلط ہے باہر کی تھوڑی بہت دیکھ بھال باپ کرسکتا ہے لیکن گھر کی چار دیواری میں جو تربیت دی جاتی وہ اہمیت کی حامل ہوگی جو کہ ماں ہی دے سکتی ہے اس کا اثر باہر نظر آئے گا . ہماری غیر موجودگی میں بھی بچے وہی طریقہ کار اپنائیں جو موجودگی میں اپنا تے ہیں . اور ماں میں ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ سختی نہیں برتی اس سے بچہ مانوس رہتا ہے وہ اپنی اولاد سے دوستانہ تعلقات رکھتی ہے. جس جلد سیکھنے کی طرف راغب ہوتا ہے
اکثر عورتوں کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات زیادہ تر اردو میں ہوتی ہیں ہم انگلش میڈیم کے ہیں ہمیں اردو نہیں آتی ایسا خیال کرنا غلط ہے کیونکہ اب وہ زمانہ نہ رہا کہ کتاب خرید کر پڑھی جائے ویب سائٹ پر لاکھوں معلومات آپ کو مہیا ہو جائیں گے .
ازواج مطہرات اس دور میں بھی دین کی باتیں آپ ﷺ سے سیکھ کر دوسرے عورتوں تک بھی باقاعده پہچاتی تھی اور اس کے لئے آپ ﷺ نے ایک دن مخصوص فرمایا تھا .
  ماضی میں تعلیم نسواں کی اتنی ترقی ممکن نہ تھی جسکی وجہہ سے خواتین کوعلوم کے بہتر ذرائع تک آزادانہ رسائی نہ ہوسکی لیکن پھر بھی وہ اپنی جہت سے علم حاصل کرنے میں بہت آگے تھیں . اور ایک اچھے اور پاک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے .

ہمیں چاہیے کہ اسلامی تاریخ کھول کر پڑھیں جس میں صحابیات کے واقعات ہیں جو ہمارے لیے کافی ممد حیات اور مددگار ثابت ہوتے ہیں . 

  عورت کا دوسرا روپ بیوی کا ہوتا ہے ... سورة انساء کی آیت نمبر ١ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں " لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اسکا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنيا میں پھیلا دیئے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو . یقین جانو کہ الله تم پر نگرانی کررہا ہے  (ترجمہ ...ابواعلی مودودی رحمہ
    عورت کا دوسرا روپ ایک زوجہ یعنی بیوی کا ہوتا ہے . ایک اچھی بیوی ثابت ہونے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے . سب سے پہلے تو دلوں کو بغض ، حسد، جھوٹ اور غرور وتکبر سے پاک رکھنا ضروری ہے .  مو جودہ حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ذیاده تر عورتیں دلوں میں بد گمانیاں پال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ازواجی رشتوں میں کافی تناؤ آجاتا ہے اور بات یہاں تک پہچ جاتی ہے کہ اچھے خاصے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ان تمام کا ایک ہی اہم مرکز ہے اور وہ ہےہماری جاہلیت ہم دنیا کی ڈگری تو لے لیتے ہیں مگر نالج میں صفر اور دین کی تعلیم میں بھی صفر ہوتے ہیں .. محلہ واری اجتماع میں شرکت ہوتی ہے مگر لا حاصل وہاں پر ایک دوسرے کی بُرائی غیبت وغیره سے  اعمال کو اور گنده کر کے آتے ہیں اگر ایک فیصد بھی اس پر عمل کیا جائے گا تو گھر جنت کا نمونہ بن جانے گا . اپنے حقوق کے لئے خاوند سے آنے دن لڑائی جھگڑے کرتے ہیں لیکن کبھی اپنی ذمہ داری شوہر پر کیا ہے یہ نہیں سونچتے 
  اسی غلط اطوار اور ماده پرست دنیا میں نام کمانے کا  غلط خیال کانتیجہ ہے کہ مرد حضرات حرام اور ناجائز کمائی  کی طرف راغب ہو رہے ہیں . لیکن راست نہ سہی برالراست طور پر عورت بھی اس میں شراکت دار اور ذمہ دار ٹھہرتی ہے . اسکا مطلب یہ نہیں کہ عورت کے ساتھ حق تلفی کی جائے اسکے حقوق  برابر اس کو دينا چاہئیے عورت کو ایک درد بھری زندگی دینا بھی مرد کے لئے جوابدہ ہے اس لئے الله تعالی رشتوں میں برکت اور پائیداری قائم رکھنے کے لئے فرماتا ہے
  سورت انساء آیت نمبر ٤ .. " اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ( فرض جانتے ہوئے) ادا کرو . البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمھیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو (ترجمہ ابو اعلیٰ مودودی)  
 جہیز اور گھوڑا جوڑا دین لین ان تمام ناموں سے لڑکے والے لڑکی والوں سے کافی رقم وصول کرلیتے ہیں . مگر جب بات مہر کی آتی ہے تو وہ کم از کم اور ادهار رکھا جاتا ہے . ان باتوں سے ہی شوہر اور سسرال کی عزت لڑکی کی نظروں میں گر جاتی ہے بغیر لین دین کی شادی کریں اور مہر کی نقد ادائیگی کردیں تاکہ  رسول کی سنت کو زندہ کرنے والے بن سکے اور علماء اکرام بھی اس نکتہ پر زیاده زور دیں کہ مہر نقد ادا کیا جائے تو ہی نکاح پڑھایا جائے گا کم از کم اس طرح سے رشتوں میں محبت خلوص قائم ہو پائے گا اور اس طرح سے بیوی کی نظروں میں شوہر کی اپنی عزت قائم رہ جائیگی .

   عورت کا تیسرا روپ بیٹی کا ہوتا ہے . ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا بیٹی تو الله کی رحمت ہوتی ہے  جب بی بی فاطمہ آپ ﷺ  سے ملنے آ تیں تھیں .تو آپ ﷺ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے استقبال کے لئے اس لئے کہا گیا ہے کہ  وہ عورت خوش قسمت ہےجس کی پہلی اولاد لڑکی ہوگی اسلام میں بیٹیوں کو رحمت سمجھا جاتا ہے بوجھ نہیں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمايا ہے کہ " جو بھی اپنی بیٹیوں کو محبت سے اور انکے سارے حق دیکر پالے گا تو قیامت کے دن یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے رہائش کا ذریعہ بنے گی . " لڑکی کے حقوق کے بارے میں سورة انساء میں الله تعالٰیٰ  آیت نمبر ٧ میں فرماتے ہیں " کہ والدين کے مال میں سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حصہ مقرر کیا ہے . مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو خواه تھوڑا ہویا بہت اور یہ حصہ( الله کی طرف سے) مقرر ہے 
 (ترجمہ ابو اعلیٰ مودودی)  
اس آیت میں اللہ تعالی نے لڑکیوں کو والدين کی جا ئیداد میں سے تر کہ دینے کی بات کہی گئی ہے یعنی بیٹیوں کے حقوق کے بارے میں الله تعالٰی آگاه فرما رہا ہے .  دیکھنے میں یہ بات قابل غور ہے کہ جہیز میں لڑکیوں کو کار بنگلہ اور پلاٹ فلاٹ ہر آرام و آسائش کا سامان مہیا کیا جارہا ہے . تاکہ آئنده ترکہ نہ پوچھے مگر یہ نادانی اور کم عقلی و جہالت ہے اس سے سماج میں جہیز کی لعنت میں اضافہ ہورہا ہے اور غریب لڑکیوں کی شادیوں میں رکاوٹ حائل ہورہی ہے اور ساتھ میں لڑکے اور اس کے گھر والوں کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی آئندہ مستقبل میں دوبارہ داماد خود پھر ترکہ کے لئے کورٹ میں عرضی داخل کرتا ہے اس لئے نکاح کو آسان بنائیں ورنہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔
اس طرح سے خاندان بکھرنے میں زیادہ تر لڑکیاں ذمہ دار ثابت ہوئی ہیں والدین کے پاس سے ہمیشہ دولت ، خدمت اور جائیداد کی وہ آس لگا رکھتی ہیں کیونکہ شوہر کو وہ یہ تمام چیزوں سے ہی مرغوب کرتی ہیں اگر اس میں کمی آجائے تو کہیں شوہر کے دل میں میری عزت و محبت کم نہ ہو جائے یہ خدشہ انہیں لگا رہتا ہے . اس ڈر کی وجہ سے وہ میکے میں سارے رشتوں کو پامال کرتی رہتی ہے . تاکہ بات طلاق یا خلع پر نہ آجائے 

  ذرا غور کیجے !! ہم ہر روز ان چھوٹے چھوٹے اور جاہل قسم کے لڑائی جھگڑوں میں ہی اپنی زندگیوں کو الجھا کر رکھ دیئے ہیں جس میں مردوں کو بھی شریک کررہے ہیں یہ کہاں کی عقل مندی اور عالمیت ہے . دوسری اقوام ہم سے کئی گنا آگے نکل چکی ہے اور تو اور ہمارے مذہب اسلام میں کبھی طلاق ثلاثہ ، تو کبھی تسلیمہ نسرین کے لجا کہہ کر، کبھی سلمان رشدی اور کبھی وسیم رضوی نے آیتوں کو ہی ہدف کرنے کا کہہ کر پاک اور مقدس مذہب اسلام میں مداخلت کرتے ہوئے اس میں تبدیلیوں کی انتھک کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں .
مذہب اسلام کی عورتیں ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ہمارے گھرانوں کو اسلام کا گہوارہ بنائیں اور ہماری اولادوں کو اسلام کے سپاہی بنائیں یہ ہماری دین سے دوری کی وجہ ہے جس سے مرد بھی پریشان ہیں اور بچے بھی بچوں کی بگاڑ کی وجہ ہم نہ بنے اولاد کو دینی تربیت دیں ہر جگہ موقعہ بہ موقعہ دعاؤں کا اہتمام کریں بچوں کو ہر موقع پر پڑھی جانے والی دعائیں سکھائیں تاکہ بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور دین کی اہمیت ان کے دلوں میں بڑھتی جائے گی . سلام کو عام کریں . خواتین اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں صحابیات کے واقعات کو پڑھیں وہ کس طرح سے سیدھی سادھی زندگیوں کو گزارتے ہوئے اسلام کے لئے اپنی قربانیاں دی ہیں . جہاد فی سبیل الله میں اپنی خدمات کو انجام دیکر اپنے مذہب کا پرچم بلند کیا ہے عورت ہوتی ہے ہر قدم پر قربانی کی مثال اور ایثار و محبت کا پیکر . عورت انسانیت کی عزت ہے مگر اسکا استحصال کرکے دنیا میں ترقی کے نام پر ہر طرف بربادی پھیلائی جارہی ہے .
   
  آج امت مسلمہ کو ایک دین دار باشعور عورت کی ضرورت ہے جو مرد کی ہمت اور اولاد کی ڈهال بنے اسلام کو پھیلانے میں اس لئےاسکی حفاظت کے لۓ اپنی روزمره زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ لگائیں یہ ضروری اور ممکن ہے .
 تاکہ اللہ تعالی کی ناراضگی ختم ہو جائے اور آفات و بلاؤں کا نزول ختم ہو جائے اور ہم سب کی تو بہ قبول ہو جائےآمين

فہمیدہ تبسم اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد


  

Popular Posts

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]