بوڑھا بابا درخت
ندی کے کنارے ایک گاؤں تھا ، اس گاؤں کے لوگوں میں بڑا خلوص قائم تھا وہ ہر آنے والے مسافر کی اچھی طرح خاطر مدارت کرتے تھے ، گاؤں کے بیچوں بیچ ایک گھنا درخت تھا جس کی جڑیں اس کی ضیعفی کی شہادت دے رہی تھیں . گاؤں کی پنچایت بھی اسی درخت کے نیچے ہوتی اور ہر اہم معاملہ جو بھی ہو اسی درخت کے نیچے ہوتا تھا . اب مسافرين کی آمد و رفت اور انکی ضیافت بھی وہیں ہوتی سایہ دار درخت ہونے کی وجہ سے زیادہ مجموعہ بیٹھک کرسکتا تھا . گرما کی چھٹیوں میں سارے گاؤں کے بچے یہیں آکر کھیلتے اور جھولے ڈال کر جھولتے . انسانی زندگی کا یہ ایک بڑا وسیلہ تھا جبکہ اوپر ٹہنیوں پر پرندوں کے ڈھیر سارے گھونسلے موجود تھے . اچانک ایک دن بیٹر کاٹنے کی گاڑی مشین لے کر آگئی اور اس درخت کو کاٹنے کی تیاری کرنے لگی . یہ بری خبر سارے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی اور سارے گاؤں والے کام کاج چھوڑ کر دوڑے دوڑے چلے آئے اور اس غلط کام کو روکنے لگے . اب اس درخت میں وہ پہلی جیسی خاصیت نہیں ہے اس کے پتے سوکھ کر جھڑنے لگے اور جڑیں کھو کھلی ہوگئی ہیں جو دور دور تک پھیل کر زیر زمین دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لئے ہمیں...