مدرسہ سماج کی بنیاد ہے .... مریال گوڑه میں تعلیمی میلہ کا انعقاد
شریمتی جیوتی بائی پھولے کی يوم پیدائش کے موقع پر 3 / جنوری کو بمقام منڈل پر جا پریشد آفس ، مریال گوڑه ، ضلع نلگنڈہ میں منڈل سطح پر ایف ۔ ایل ۔ این پہلا قدم کے تحت تدریسی و اکستابی اشیاء کے شاندار میلہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں تلگو و اردو میڈیم تحتانوی سطح کے ستر سرکاری مدارس کے اساتذہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحتیوں کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہمہ اقسام کے تمام مضامين کے تیار کرده چارٹس کی نمائش کی ، بہتر سے بہترین چارٹس جو کہ معلم کے لئے ایک معاون کی حیثيت رکھتے ہیں . اور جو کہ اسباق کی مناسبت سے تیار کئے جاتے ہیں طلباء کے اندر شعور بیدار کرکے سبق کو با معنی اور فائده مند بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں منتظمین کی زیر نگرانی اپنے اپنے کامپلیکس کے تحت لائے گئے ان چارٹوں کے میلہ کا افتتاح رکن اسمبلی جناب این بھا سکراؤ صاحب کے ہاتھوں عمل میں لایا گیا جھنوں نے اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہر ایک استاد کو انعام کا مستحق قرار دیا اور کہا کہ استاد مدارس میں اسی طرح سے بچوں کو اپنے تدریسی و اکتسابی اشیاء کے ہمراہ درس و تدریس کا اہتمام کریں تاکہ بچہ تعلیمی ترقی کے مدارج طے کرسکے منڈل ایجوکشنل آفسر جناب بالاجی نائک نے تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی اور تیقن دیا کہ یہاں جن اساتذہ کو انعام حاصل ہوگا انھیں ضلعی سطح پر بھیجا جائے گا اسی طرح نوڈل آفسر سانبھا شیوا سر نے امدادی و انتظامی امور کا جائزہ لیا بعد ظہرانہ ڈسٹرک ایجوکیشنل آفیسر. جناب بلارم بھکشا پتی صاحب نے ساری نمائش کا فرداً فرداً معائنہ کیا اور تمام اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچہ کا مدرسہ سے جڑنا اور مدرسہ کا سماج سے جڑنا ہی انفرادی و اجتماعی اور تعلیمی و معاشی ترقی کی ضمانت ہے اسی لئے ہم سب کو چاہیے کہ مدرسہ کا ماحول خوشگوار بنائیں تاکہ بچہ مدرسہ آنے کے لئے خوشی محسوس کرے اسی میں اس کی مجموعی ترقی مضمر ہے جب تک ہم اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوپائیں گے ہماری ہر قسم کی ترقی بے کار اور رائیگاں ثابت ہوگی کیونکہ سماج کی بنیاد ایک اچھا مدرسہ ہے اور ایک بہتر اور شاندار سماج کی تعمیر میں مدرسہ کا کلیدی کردار ہوتا ہے جو کہ معلم کے غوروفکر ، بصیرت و حکمت اور انسانی ہمدردی سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچ پاتا ہے . آج سرکاری مدارس کے طلباء مسابقتی امتحانات میں بہترین مظاہرہ کرکے اپنے مستقبل کو روشن بنارہے ہیں لیکن وہیں دوسری جانب چند ایسے خاندان بھی ہیں جو اپنے بچوں کی تعلیم کو ترک کرواکر انکی زندگی کو تاریک بنارہے ہیں چنانچہ ہمیں ان بچوں پر نظر نہیں رکھنی ہے جو تعلیم میں بہتر ہیں بلکہ ان بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ راغب کریں جو اپنی روزمره کی زندگی میں کئی مشکلات اور مسائل کا سامنا کررہے ہیں یہ کسی ایک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا فرض بنتا ہے .مریال گوڑه ضلع نلگنڈہ کا تعلقہ ہے جوکہ ضلع سے 44 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور ریاست کے صدر مقام یعنی حیدرآباد سے 142 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ار بن علاقہ ہے اطراف واکناف 24 گاؤں ہے جس میں سب سے زیاده ا ہم ويمولا پلی ہے جوکہ ٹاون سے 8 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے جہاں سے ناگارجنا ساگر کا بایاں کنالleft canal لال بہادر شاستری سارے مریال گوڑہ اور اطراف کے گاؤں کو زرعی لحاظ سے سیراب کرتا ہوا گزرتا ہے . 2011 کی مردم شماری کے مطابق جملہ آبادی 104702 جس میں 88193 ہندو اکثریت اور اس کے بعد 15185 مسلم ، 1277 عسیائی اور صرف 47 سکھ شامل ہیں ، ہندو مذہب اور تلگو زبان درجہ اول کا مقام رکھتی ہے اس کے بعد اسلام اور اردو درجہ دوم رکھتے ہیں . جہاں تک خواندگی کے تناسب کو دیکھا جائے گا تو مریال گوڑه میں %80 خواندگی ریکارڈ کی گئی ،موسمی لحاظ سے گرم علاقہ ہے اورمیریال گو ڑا دھان کی افزائش کے لیے مشہور ہے اور یہ تلنگانہ میں دھان کی اعلیٰ منڈیوں میں درج ہے۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ مریال گوڑه ایک صنعتی علاقہ ہے اور اسے چھوٹا ممبی یعنی منی ممبی کہا جاتا ہے .ایگریکلچر مارکیٹ یارڈ تلنگانہ میں سب سے بڑا ہے، جس کی رقبہ 45 ایکڑ ہے۔ ناگرجنا ساگر کی بائیں نہر کا پانی میریال گوڈا اور اس کے اطراف کو سبز اور تجارتی لحاظ سے بھرپور بناتا ہے۔
تہذیب و تمدن کی بات نکلتی ہے تو ہمیں مریال گوڑه آندھرا اور حیدر آباد کی ملی جلی تہذیب کا گہوارا لگتا ہے کیونکہ یہاں سے نیشنل ہائی وے وجئے واڑہ ، ادنکی اور دیگر آندھرا کے اضلاع 100 اور 150 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے حالانکہ حیدر آباد ان سے کم ترفاصلے پر ہے لیکن ان اضلاع کی چھاپ زياده دیکھائی دیتی ہے جس سے آندھرا کا کلچر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے . واڑہ پلی جہاں پر کرشنا اور موسی کا سنگم ہوتا ہے مریال گوڑه سے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کو وزیر آباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، یہی نہیں واڑہ پلی سمنٹ فیکٹریوں کے لئے بھی مشہور و معروف ہے . یہاں پر دو منادر مہشور ہیں ایک آگشیواره مندر اور دوسرا لکشمی نرسمہا سوامی ٹمپل
خواندگی ٪80 ریکارڈ کی گئی لیکن مسلمان گھرانوں میں خواندگی کا فیصد کم ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسلم معاشره کے کافی خاندان خط غربت کی لکیر کو پار کرگئے ہیں۔ مجموعی طور پر اردو میڈیم سرکاری تین تحتانوی اور ایکاثر معصوم بچوں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کررہا ہے . غریب خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہورہی ہیں اور خاندان بکھر رہے ہیں ، ان تمام سماجی برائیوں کا تدراک ضروری ہے پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب " بھارت کی کھوج " میں ایک فقره کہا کہ " کثرت میں وحدت " . اس میں بہت گہرائی والی بات چھپی ہے یعنی کہ ہر علاقے میں لوگ وہاں انسانیت کے اتحاد کے مقصد کے لئے آتے ہیں اور ہمارے لئے انسانيت کا یہی تقاضہ ہے کہ ہمارے معاشرہ کو دیگر معاشروں کی طرح لاکھڑا کریں اور مساویانہ حقوق کے پاسدار بنائے تب ہی یہ ممکن ہوگا کہ ہم نے انسانیت کے اتحاد میں اپنا کردار ادا کیا ہے
"نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا !"... راحت اندوری !
فہمیدہ تبسم اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد .
روز نامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 12 / جنوری 2023