باتوں سے خوشبو آئے

 


     

 

  جی ہاں اس مقولہ یا محاورہ پر اگر ہم عمل کربی گے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے . اب ہم یہ دیکھے نگے کہ باتوں سے خوشبو کس طرح آنے گی . یہ بہت آسان سا عمل ہے پر مشکل بھی ہے جس طرح سے ہمارا دین آسان اور مشکل دونوں ہے ….عمل سے آسانی ہے اور لا پرواہی برتنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے . حدیث شریف ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں  زبان ہی ہماری سب سے اچھی دوست بھی ہے اور دشمن بھی زبان شرین ملک گیری ،

علم کے ساتھ عمل اور دولت کے ساتھ شرافت لازمی ہے ورنہ ہماری شخصیت بیکار ہے جہاں تک ہوسکے فضول گوئی سے پرہیز کریں اور خاموش کو بہتر سمجھے خاموشی  عبادت میں داخل ہے محبت اور نفرت کا تعلق انسان کے رویہ پر منحصر ہوتا ہے . حبس طرح ایک پودے میں پھول اور کانٹے دونوں ہوتے ہیں ہر کوئی پھول سے محبت اور کانٹوں سے نفرت کا اظہار کیوں کرتا ہے ؟ . کیونکہ پھول صرف مسرت اور خوشی دیتا ہے جب کہ کانٹے ایذا پہنچاتے ہیں ظاہر سی بات ہے تکلیف دہ چیزوں سے پر کوئی نفرت ہی کرے گا بالکل اسی طرح سے ہم اپنی زبان کو ایک پودے کے اس حصے کی طرح استعمال کرنا چاہیے جس سے ہر کوئی محبت کرتا ہے

ہم دوسروں سے اس طرح سے جڑے رہے کہ ہماری یادیں ہمارے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں مہک بن کر خوشبو لٹاتی رہے نہ کے تعلقات میں دوری آجائے رشتوں اور تعلقات میں ہمیشہ استواری قائم رکھنے کے لئے ہمیشہ اپنی زبان کو ہر وقت قابو میں رکھنا ضروری ہے مخاطب کو خوشی و مسرت  د یں اسکا مطلب یہ نہیں کہ چاپلوس کریں !  خیال رہے کہ  سخت کلامی سے گریز کریں اس کے لئے ہر وقت صبر کا دامن تھامے رہنا ضروری ہے اور نرم  گفتار کو اپنانا چاہئےکیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جلد بازی میں ادا کئے گئے الفاظ تیر کی طرح دل پر گہرے زخم دیتے ہیں ظاہر سی بات ہے تیر دوبارہ کمان میں نہیں آسکتی دوسری بات یہ کہ ہم غلط فہمی کا شکار ہو جا تے ہیں اور حاضر ، غائب پر اپنے منفی خیالات کا اظہار زبان سے ادا کر ڈالتے ہیں .

اس لئے بہتر ہوگا پہلےکسی بھی بات کی تصیح کرلیں پھر بات کریں جس سے ہماری زبان سے اچھے الفاظ ادا ہو سکتے ہیں ایک اور بات ،بات کرنے سے پہلے رشتوں کی نزاکت کو دیکھ لیں ہر رشتہ ہر بات کو ۔ Accept نہیں کرتا مذاق زیادہ نہ کریں جس سے بعض دفعہ بد زبانی اور غلط الفاظ  نکل جاتےہیں .

اپنے ماتحتین کے ساتھ نیک سلوک اور بہتر رویہ قائم رکھیں تاکہ آئندہ وہآپکو اُس پودے کے پھول کی طرح یاد کر سکے . بعض لوگوں میں دوسروں کو تذلیل کرنے کی عادت ہوتی ہے اس بُرى عادت کو اپنے اندر سے نکال دیں اور دوسرے اگر آپ سے غلط بیانی کریں تو دل میں نہ رکھیں اپنا ہو یا غیر ہر ایک کی عزت کریں کیونکہ یاد رہے ہمارا مذہب دوسروں کو عزت دینا سیکھا تا ہے نہ کہ ذلت  اگر کبھی کوئی غلط لفظ اتفاقاً اپنی زبان سے ادا ہو جائے تو فوراً معافی مانگ لیں ۔یہی ہے وه اصول جس کو اپنا کر ہم اپنی باتوں سے خوشبو لا سکتے ہیں۔

(فہمیدہ تبسّم)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]