میرا بھارت مہان ہے



گزشته چند دنوں سے ایک خبر نظر سے گزار ہی ہے . اور ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے کہ معصوم بچے نے مندر کے اندر جاکر پانی پیا جس کے نتیجے میں لڑکے کو بری طرح زدو کوب کیا گیا . اور ساتھ میں یہ بھی جتلایا جارہا ہے کہ غازی آباد پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں یادو نامی شخص کو گرفتار کرکے اسکے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے
  

جہاں تک اس بُری خبر کا تعلق ایک مذہبی رنگ دینے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہیں پر اس کے غلط اور زہریلے اثرات سماج کو پراگندہ کرنے میں آگے آرہے ہیں
  

 یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ ایک سکے کے دو رخ ہوتے ہیں . اور ہم صرف ایک رخ سے اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ ملک میں قومی یک جہتی اور بھائی چارگی ختم ہوگی ۔ بلکہ سکے کا دوسرا رخ دیکھنے کے بعد آج بھی ہماری زبانوں سے یہ ضرور نکلے گا کہ  میرا بھارت مہان ہے چند مفاد پرست افراد اور شر پسندعناصروں کی نازیبا حرکیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ہمارے ملک کی سالمیت ختم ہوگی اسيا بالکل بھی گمان نہیں کرسکتے ہیں .
      

اس ماده پرست دنیا میں جہاں مذہب و ملت ، سیاست اور نسل ورنگ کی ہمہ اقسام جنگیں برپا ہیں وہیں پر ہم فخر محسوس کرسکتے ہیں کہ ابھی ہمارے ملک کی ایک منفرد پہچان باقی ہے جس میں تہذیب ، رنگ و نسل اور زبان وغيره کو بالائے طاق رکھ کر ایک قوم کی طرح اپنی نشانی بنائے ہوئے ہے
       

 ہاں یہ بات صیح ہے کہ ملک میں آئے دن ہونے والے چھوٹے چھوٹے غیر اخلاقی واقعات کو سوشل میڈیا نے اپنا زہریلا کردار ادا کرتے ہوے اس قدر اہم اور بڑھا چڑھاکر پیش کرتا ہے کہ ایک مثبت اور خالص ذہنیت کے حامل فرد کو بھی منفی تاثرات ابھارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ٹکنالوجی نے دنیا کو ترقی کی جتنی آگے کی صف میں لاکھڑا کیا وہیں پر ہمارے معاشرے اور سماج میں اس کے بُرے اثرات نے بھی اپنا لوہا منوایا ہے . نوجوان نسل تو اس کے منفی اثرات سے بگڑ رہی ہے اور آئندہ اس نئی نئی ٹکنالوجی سے اور نہ جانے کیا کیا دجالی فتنوں کو ہم اپنی زندگیوں پر نمودار ہوتے دیکھنا باقی رہے گا
          

مذہبی رواداری کی ہم بات تو بہت کرتے ہیں لیکن ہم    میں اتنے بھی اخلاقی اقدار موجود نہیں کہ حقوق العباد کیا ہیں آئے دن ہمارے گھرانوں میں رشتوں کا قتل عام ہوگیا ہے پڑوسیوں سے بغض ، حسد، اور بد کلامی توہماری عادات میں شامل ہوگئی کوئی ہم سے آگے نہ نکل جائے دن رات اسی فکر میں نئی بیماریوں کو ہم دعوت دے رہے ہیں ۔ حرام سونچ ، حرام طرز زندگی کو ایسی ڈھٹائی سے گزار رہے ہیں جیسے کہ وہ حلال ہے
         

 خیر بات ہماری دوسری اور مدعا دوسرا تھا وہ یہ کہ بھارت کی مہانتا کا سارے ملک میں 22/مارچ 2020 سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا تب ہر بھارت و اسی پریشان تھا . ملازم سرکار تو کرم خدا کا سکون میں تھے مگر جو يوميه محنت مزدوری کرکے اپنی گزر بسر کرنے والا مزدور طبقہ تھا اسکی ربوں حالی کو کون دیکھتا سرکار تو بہت باتیں کرتی مگر عمل ... ایسے بُرے وقت میں کہاں ہندو کہاں مسلمان کون عیسائی کون پارسی ہر کوئی اپنی ذمہ داری سمجھ کر ایک دوسرے کی مدد کو آگے آگیا۔ سچ مچ اس وقت جو سکون ہمارے قلوب کو حاصل ہوا شائد ہی کبھی ہوا ہوگا ۔
         

 میرے بهارت کی مہانتا کی ایک اور جیتی جاگتی تصویر پیش کرتی ہوں
          میں جس منڈل میں برسر روزگار ہوں وہاں کا ماحول دیکھر ہی مجھے اس تحریر کو پ قلمبند کر نے۔  مجبور کیا ہے . اس منڈل میں ایک مسلم گھرانہ ہے جوکہ جاگیرار گھرانہ کہلاتا ہے اس خاندان کے بزرگ جن کا نام محمود علی ہے انتہائی معتبر اور مہذب شخصیت کے مالک ہیں گاؤں کی مسجد انہی کے زمین کا ایک حصہ ہے اس سے  منسلک قبرستان کا دائرہ اس خانہ ان کے  افراد میں جو خلوص محبت اور اپنائیت اپنے اور غیروں کے بےد موجود ہے وہ شاند ہم کو کم ہی دیکھنے کو ملے گی
         

 گاؤں کا ہر چھوٹا بڑا ، عورت مرد بلا مذہب و زبان کےان کی بہت عزت کرتے عيد تہوار کے اور خوشی کے مواقع پر آکر انکے پیر چھو کر دعا لیتے کیا مسلمان کہاں کا ہندو یہاں تو صرف اور صرف عقیدت کی بات ہوتی ہے ہولی ہو کہ رمضان ہر دو میں سارے گاؤںمیں جشن منایا جاتا ہےمحمود علی صاحب کے گھر  تیس چالیس لیٹر دودھ سے سویاں بنائی جاتیں اور ہر کوئی آکر سیر ہوتا دیوالی کے پٹاخے ہر گھر میں جلائے جاتے فجر سے پہلے لگائے جانے والے منادر کے بھجن کو اذان کے اوقات میں بند کردیا جاتا افطار کے اوقات پوجا پاٹ بند تراویح کے اہتمام کے طورپر اور آتے جاتے دعا ؤں میں یاد رکھنے کی گزارش یہ سب میں مجھے تو کوئی سیاسی چال يا طبقہ واری دباؤ نظرنہیں آتا بس خلوص محبت ، بھائی چارگی ، اپنائیت یہی ان کی مثبت سوچ بس محمود علی صاحب کا ایک اور طریقہ دیکھئے کہ بعد نماز عصر مسجد کے باہر کرسی پر براجمان ہو جاتے اور ہر آنے جانے والوں کی خبر لینا خیر خیریت معلوم کرنا دوسرا ہر قسم کی قرآنی آیات کو دعا کے طور پر ضرورت مند کے اوپر پڑھ کر دم کرنا
          کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ تو قرآن کی آیات ہے .
          

خلاصہ مضمون یہ کہ جہاں تک ہو سکے ماحول اور معاشرے کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ عوام میں مثبت ذہنیت کو ترقی ملنے کے زیادہ مواقع فراہم ہو سکے

پھر صرف ایک دو نہیں بلکہ ملک کےہر شہری کی زبان پر ہوگا میرا بھارت مہان ہے
    شکریہ
  

  فہمیدہ تبسّم( ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]