بابائے قوم مہاتما گاندھی
تعارف : ... موہن داس کرم چند گاندھی جنھیں " باپو " اور بابائے قوم " اور " گاندھی جی " جیسے القاب سے ساری دنیا جانتی ہے . اور ان کے يوم پیدائش 2 / اکٹوبر کو " بین الاقوامی يوم عدم تشدد "کے طور پر منایا جاتا ہے اور ملک میں "گاند ھی جینتی " کے نام سے قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ـ اور تعطیل عام کا درجہ رکھتا ہے .
وہ 2 / اکتوبر 1869ء میں پوربندر میں پیدا ہوئے والد کا نام کرم چند گاندھی اور والده کا نام پتلی بائی تھا . شریک حیات کا نام کستور با کپاڈیہ ہے . جو بعد میں کستور با گاندھی سے جانی جاتی رہیں مہاتما گاندھی کی شادی 13 سال کی عمر میں ہوئی
تعلیم : ... ابتدائی تعلیم والده کی نگرانی میں پور بندر میں حاصل کی ۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے راجکوٹ روانہ ہوئے اور وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کرکے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ولایت ب بھیجے گئے ، اور امتحان کامیاب کرکے وہاں سے ہندوستان لوٹ آئے .
ہندوستان میں بیرسٹری کا کوئی خاطر خواہ سلسلہ قائم نہ کرسکے اسی لیے 1894ء میں جنوبی افریقہ روانہ ہوگئے۔
گاندھی جی کی ظلم کے خلاف پہلی لڑائی : ... جنوبی آفریقہ روانہ ہونے کے بعد انھوں نے وہاں پر سفید فام باشندوں کو ہندوستانیوں پر مظالم ڈھاتے دیکھ کر ان کے لگائے گے پابندیوں کے خلاف جدو جہد کرکے کامیابی حاصل کی۔ یہ مہاتما گاند هی کی پہلی عدم تشدد کی جنگ تھی جو کہ ظلم کے خلاف لڑی گئی تھی .
ملک واپسی : ... مہاتما گاندھی ملک ہندوستان واپس آکر ہر طرف دور ه كرنے لگے اور یہاں کے عوام کے مسائل پر غور و خوص کر کے اسکا جائزہ لیا
.جس میں کسانوں ، مزدوروں اور دلتوں کے مسائل شامل تھے۔ وہ ان مسائل کو اہمیت دینے گئے۔ اور ان کو حل کرنے کی کوشش شروع کی
مہاتما گاندھی "انڈین اوپنین " نامی اخبار کے مدیر بھی رہے ، اس اخبار کے ذریعہ وہ ملک کی بد حالی کو عوام تک پہنچاتے تھے . وه 1906 تا 1908 تک اپنی عدم تشدد ستیہ گرہ کا تجربہ کیا
سیاسی زندگی : .... گاندھی جی کے نزدیک سیاسی معاملات میں شرکت کرنا اور طالب علم بھی رہنا دو کام نہیں ہو سکتے تھے .
1915ء میں مہاتما گاندھی نے احمد آباد کے قرب و جوار میں سابرمتی آشرم قائم کیا ، اس کی خاصیت یہ تھی کہ اس آشرم میں ہریجنوں کے داخلہ کی اجازت دی تھی .
1917ء میں انھوں نے پہلی ستیہ گرہ کی مہم شروع کی جو کہ بہار کے ضلع چمپارن کے مقام سے شروع کی گئی تھی۔
اس کے بعد سلسلہ وار احمد آباد اور کیرالا میں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی تحریک بڑی کامیابی کے ساتھ چلائی
1919ء میں رولٹ ایکٹ کے خلاف اپنی سیتہ گره کے ذریعہ انھوں نے سارے ملک میں ایک زبردست ہلچل مچادی دی .
1920ء میں گاندھی جی کی قیادت میں انڈین نیشنل کانگریس نے ہندوستان کی آزادی کی ایک کامیاب جد وجہد کی تھی۔
1942ء میں جب کانگریس مشن ناکام رہا تو اس وقت گاندھی جی نے اپنی تاریخی قرار داد ہندوستان چھوڑ دو پیش کی اور ہم وطنوں کو " کرو یا مرو " کا نعره دیکر یک جٹ کیا
ملک کی آزادی کے سلسلے میں انھوں نےکئی بار جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ، مگر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب رہے اور دیش کے ہزاروں لوگوں کے جانوں کی قربانیوں اور کروڑوں لوگوں کے تعاون سے تقریباً دو سو سال انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہمارے ملک کو سول نافرمانی جو کہ عدم تشدد پر مبنی تحریک کی قیادت کی ، اور اس کے ذریعہ ملک کو آزاد کرانے والے رہنماؤں میں سرفہرست رہے ـ
ذاتی کردار : ... وہ ایک سادگی پسند انسان تھے رہنے کے لئے ایک کٹیا کو پسند کرتے تھے . صبح سویرے اٹھ کر چہل قدمی کرنا اور پھر دن میں چرخہ چلانا ان کی عادت میں شامل تھا۔ ان کے نزدیک کام ہر عمر میں کیا جانا چاہیے تھا . اسی لئے وہ کام کر کے تھکان محسوس نہیں کرتے یہاں تک کے وہ ضیعفی کی حالت میں بھی کسی نہ کسی کام میں مشغول رہتے تھے .
کم کھانا ، كم سونا اور کم بولنا گاندھی جی کے اوصاف میں شامل تھا . وہ صفائی ستھرائی کے معاملے میں سخت پابند تھے . اور ان کی نظر میں کوئی امیر یا غریب نہیں تھا سب آپس میں بھائی بھائی تھے
اس لئے ملک کی عوام انھیں " باپو " کے نا م سے یاد کرتی ہے . اور ساری دنیا " مہاتما " کے نام سے مخاطب کرتی ہے . بقول مہاتما گاندھی " ایک میٹھا بول کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیریت سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو . "
وہ عورت کی بہت عزت کرتے تھے . ان کے نزدیک ایک عورت کی کتاب دنیا ہے ، کیونکہ وہ کتابوں سے اتنا نہیں سیکھتی ہے جتنا دنیا سے سیکھتی ہے . جبکہ مرد کتابیں پڑھتا ہے اور عورت دنیا کا مطالعہ کرتی ہے .
وہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو بھیک مانگ کر کھانا پڑے تو کوئی عذر نہیں مانگو اور بھوکے مر جاؤ مگر غلام مت بنو .
بقول گاندھی جی کے سچ بولنے والا بھی چوکنا رہنا چاہیے .
مہاتما گاندھی ہندوستانی آزادی کو سماجی بتدیلی کے لۓ ضروری سمجھتے تھے .
گاندھی جی چاہتے تھے کہ ملک میں تعلیم کے ذریعہ ملک کی ثقافتی ترقی ہو اس لئے انھوں نے پیشہ ورانہ تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ ثقافتی ترقی کی اہمیت پر زور دیا ، ان کے نزدیک کسی بھی ملک کی پہچان اس کی ثقافت سے ہوتی ہے .
گاندھی جی کی ساری زندگی بنیادی حقوق کی حصولیابی کے لئے صرف ہوئی ، یہی وجہ ہے کہ وہ کروڑوں لوگوں کی دل کی دھڑکن بن کر رہتی دنیا تک اپنے نشاں چھوڑ گئے.
گاندھی جی اور ان جیسے زعماء آزادی ہند کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہمارا ملک ایک جمہوری نظام حکومت میں شا مل کیا جانے لگا .
عدم تشدد ، سچائی پسند ، انسانی خدمت ، ستیہ گرہ عوامی رہنما جیسے اعلی اوصاف کے مالک اور ایک محب وطن غریبوں کے دکھ درد محسوس کرنے والے ہمدرد رہنما اور اپنی سیاسی و سماجی قوت و حیثیت کا صحیح استعمال کرنے والے سماجی مصلح ، عدم تشدد کا پیغام دینے والے محبت کے پیکر اور سچائی کے پیامر انسان سے انسانیت کا رشتہ استوار کرنے والی عظیم ہستی ، ہمیشہ قوم کی خدمت و بھلائی کا جذبہ رکھنے والے قومی رہنما کو 30 / جنوری 1948ء کو تشدد کا نشانہ بنا کر نتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر ہلاک کردیا