عہد آصفی کی قدیم تعلیم میں بہمنی عہد حکومت کے مدارس پر ایک نظر
اسلامی قانو ن سے معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے ہر مسلمان کو خواه وه مرد ہو یا عورت تعلیم کا حکم ہے اور علم حاصل کرنے کی بڑی ترغیب دی گئی ہے . مسلمانوں کے لئے علم حاصل کرنا بمنزلہ فرض گردانا گیا ہے . انحضرت صلی الله علیه وسلم کے اقوال یعنی "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے " اور . "علم حاصل کرو اگر وہ چین میں کیوں نہ ہو " یہ ایسے صاف اور صریح احکام ہیں جن کے بعد مزید کسی صراحت کی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر حمیداللہ نے اپنے مقالہ " عہد نبوی میں نظام تعلیم " میں تفصیل کے ساتھ اس امر پر روشنی ڈالی ہے . اور ثابت کیا ہے کہ ہر مسلمان پر خواه وه مرد ہو یا عورت تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے . ارشاد نبوی صلہ اللہ علیہ وسلم کے تحت ہر مسلم حکومت نے یہ کوشش کی ہے کہ اسکی جانب سے نثر و اشاعت تعلیم کا بھی پورا حق ادا ہو رعایا کو اس نعمت سے مستفید کرنے کے ذرائع پوری فراخدلی سے مہیا کئے جاتے رہے
اسلامی ممالک میں خواه وه عربوں کی حکومت کے تحت ہوں یا ترکوں کے مغلوں کے تحت ہوں يا ایرانیوں کے افغانوں کے تحت ہوں یا مصریوں کے تعلیم کسی نہ کسی طریقہ سے رائج رہی اور حکومت کی جانب سے اہل علم کی واجبی سرپر ستی برابر ہوتی رہی
واضح ہو کہ مسلمان حکمرانوں نے اشاعت تعلیم اور علم کو پھیلانے میں بڑی کوشش اور جدو جہد کی ہے . مساجد میں مدارس اور مکاتب پہلی صدی ہجری میں قائم ہوگئے تھے . اور یہ مدرسے نہ صرف شہروں کی حد تک محدود تھے بلکہ قضبات اور دیہاتمیں بھی قرآن شریف کی تعلیم کے مدرسے موجود تھے تاریخوں سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ 400 سال تک مسجدوں اور خانقاہوں میں تعلیم ہوتی اور حلقہ درس گرم رہا کرتا تھا لیکن پانچویں صدی سے دوسرا دور شروع ہوتا ہے کیونکہ اسی زمانے سے ممالک اسلامی میں عظیم الشان درس گاہیں یا دوسرے الفاظ میں دارالعلوم اور جامعات قائم ہو گئے تھے۔
اسلامی مدارس کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں . ایک تو ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے مدرسے جو عموماً مکتب یا مدرسے کہلاتے تھے دوسرے اعلیٰ تعلیم کے مدرسے جو دارالعلوم سے موسوم ہوتے تھے یہ کالج اور جامعات کی حیثيت رکھتے تھے . یہ تمام مدرسے خواہ وہ ابتدائی ہوں یا اعلیٰ پبلک اپنے چندوں سے قائم کرتی تھی یا پھر وہ کسی ایک اہل خیر کی ہمت سے چلتے تھے۔ کوئی ادارہ سرکاری نہیں ہوتا تھا۔ دارالعلوم ہر طرح اپنے آپ آزاد تھے اور آزادانہ علم کی اشاعت ہوتی تھی تاریخ کے صفحات پر صد ہا اسلامی درسگاہوں کے نام سنہری حرف میں نظر آتے ہیں علامہ شبلی مرحوم اور مولاناابو الحسنات ندوی نے اپنی کتابوں میں مدارس اسلامی کی جو تفصیل درج فرمائی ہے انکی فہرست بھی طویل صفحات کی متقاضی ہے حجاز، عراق، مصر، شام، اسپین ، ایران ، اور ہندوستان میں صدہا مدارس اور جامعات قائم تھے۔ جو تشنہ گان علم کیلئے آب حیات بنے ہوئے تھے۔ ان کے قطع نظر خود دکن کے بھی کئی مدرسے تاریخ میں مشہور حیثیت رکھتے ہیں ۔
اس موقع پر ہم سلطنت بہمنی کے مدارس پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں واضح ہوکہ دکن کی پہلی خود مختار اسلامی سلطنت بہمنی ہے جس کا پرچم747 ہجرى سے900ہجری تک دکن کے بڑے حصہ پر لہراتا رہا اس سلطنت کے اکثر بادشاه خود صاحب علم وفن ہی نہیں تھے بلکہ اہل علم و ہنر کے سر پرست اور مربی کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں خصوصاً سلطان محمد شاہ فیروز شاہ اور احمد شاہ وغیره کا دور حکومت علم وفن کی ترویج کے لئے مشہور و معروف ہے اور پھر اس سلطنت کی آخری دور میں محمود گاواں وزیر اعظم کی وجہ سے جس طرح علم وفن کی آبیاری ہوتی رہی وہ محتاج بیان نہیں
محمد شاہ بہمنی خاندان کا وہ پہلا حکمران ہے جس نے علمی خدمت کو اپنا نصیب العين بنایا تھا اسکے عہدمیں ملک کی توسیع کے بجائے علم وفن کی ترویج پر زیادہ کوشش کی گئی . بادشاہ خود ذی علم تھا۔ اس کو رعایا نے " ارسطو " کا خطاب دیا تھا۔ متعدد تاریخوں سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس نے کثرت سے درسگاہیں قائم کی تھیں قابل علماء کو جمع کرلیا تھا علماء اور طلباء کے لئے وظائف مقرر کئے گئے تھے اسکے زمانے میں گلبرگہ علم وفن کا مرکز بن گیا تھا جہاں بڑے بڑے علماء و فضلا ء جمع تھے فیروز شاہ بہمنی علمی قابلیت میں اپنے فاضل استاد سے بھی آگے نکل گیا تھا۔ مختلف زبانوں کے ادب پر اس کو کافی عبور حاصل تھا . سخن فہمی ، سخن سنجی ، اور سخن گوئی میں کمال تھا۔ عروجی اس کا تخلص تھا یہ امر قابل تعجب اور حیرت ہے کہ وہ نہ صرف مشرقی زبانوں بلکہ مغرب کی کئی ایک زبانوں سے واقف تھا۔ اور اس کے محل میں ہر ملک و ریار کی عورتیں جمع تھیں وہ ان کے ساتھ اسی ملک کی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ اس نے اپنے دور حکمرانی پچیس سال علم و ہنر کی خدمت گزاری میں بسر کئے علم کی سرپرستی کو اپنا شعار بنالیا تھا علم وفن کی ایسی مخلصانہ خدمت کی کہ اس کی علم دوستی کا شہره دور دور تک پہنچ گیا تھا . فیروز شاہ اکثر اوقات علمی مباحثہ اور علمی سرگرمیوں میں منہمک رہا کرتا علماء اور فضلاء کی محفلوں میں بسر کرتا سلطنت بہمنی میں ہر جگہ بڑے بڑے حلقہا نے درس قائم ہوگئی تھے جہاں طالبان علم کا جمگٹھا ہوتا اور فارغ التحصیل ہوکر قلمرو بہمنی کے گوشے گوشےمیں علم و ہنر کی ترویج اور علم کی پر نور شعائیں پھیلانےمیں مصروف ہو جاتے
سلطانی محل ایک کالج کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہر ہفتہمیں تین دن( ہفتہ، پیر، چہارشنبہ) کو خود سلطان فیروز شاہ درس دیا کرتا تھا۔ اگر کسی دن صبح میں فرصت نہ ہوتو رات کو درس ہوتا تھا غرض کہ اسکے زمانے میں ہر طرف علم و فن کا چرچا اور گھر گھر علم کا ذوق پھیل گیا تھا۔
احمد شاہ مالک تاج و تخت بنا تو اس نے بھی علم وفن کی ترویج کو اپنے حکومت کا طره امتیاز بنالیا اس کے زمانےمیں اہل کمال شعراء اور ادیب علماء و فضلاء دور دور سے اس کے دارالحکومت " بیدر " میں آنے لگے اور اسکو انھوں نے اپنا وطن بنالیا
شاہ نعمت اللہ رح کے مرید ملا قطب الدین جیسے صاحب ارشاد و ہدایت اور محمد بن ابو بکر المغربی جو اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے سلطان کے زمانے میں گلبرگہ آئے اور اپنی کتاب شرح ہسنل انصافی کو سلطان کے نام پر معنون کیا ان کے علاوه ایران کا مشہورِ شاعر آزرینیر دیگر علماء کبا ء مثلاً مولانا محمد گاز ونی ملا احمد قزوینی میر ابو القاسم وغيره علماء وفضلاء بیدر میں جمع ہوگئے تھے ۔ سلمان احمد شاہ نے ان اصحاب کو انعام و اکرام کے علاوہ عہدہ ہائے جلیلہ سے سرفراز کیا تھا۔ ان اصحاب کی وجہ سے گلبرگہ کی طرح بیدر میں بھی حلقہ درس قائم ہوگے تھے اور شائقین علم و فن دور دور سے آکر سیراب ہوتے رہے
حضرت خواجہ سید محمود گیسو دراز رحمتہ الله علیہ، سلطان فیروز شاہ کے زمانے میں گلبرگہ شریف لاکر یہاں مقیم ہوگے سلطان احمد شاہ بہمنی آپکا مرید اور معتقد تھا . حضرت کی خانقاه ایک مدرسه یا کالج کی حیثیت رکھتی تھی خواجہ صاحب روز آ نہ نماز ظہر کے بعد طلباء اور مریدوں کو حدیث، تصوف ، سلوک کے علاوه فقاء اور کلام کی تعلیم بھی دیا کرتے تھے جو لوگ عربی اور فارسی سے ناواقف ہوتے انکو دکنی زبان میں سمجھاتے تھے بہمنی سلطنت کا مشہور مدرسہ ، مدرسہ محمود گاواں ہے جس کے آثار اب تک باقی ہیں اس مدرسہ کا بانی محمود گاواں تھا۔ جو ایران سے ایک تاجر کی حیثیت سے دکن میں آیا اور" بید ر " میں شاہی ملازم بنا اور رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے وزرات عظمیٰ کے درجہ پر پہنچ گیا وہ اس زمانے کے جملہ علوم سے واقف تھا خصوصاً علم ہند سہ اور علم طب سے زیادہ شغف تھا سلطنت بہمنی کے شکست کے بعد بھی یہ مدرسہ قائم رہا۔ چنانچہ عالم گیر کے زمانےمیں اس مدرسہ کے مدر امام المدا سین مولانا محمود حسین تھے1108 ہجری میں مدرسہ پر بجلی گری جس کی وجہ سے ایک حصہ تباہ ہوگیا
فہمیدہ تبسّم(ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد)