جامعہ عثمانیہ‏ ‏کچھ تعارف



حیدر آباد میں ایک اردو یونیورسٹی کے قیام کا خیال عہد مختار الملك ہی میں پیدا ہوچکا تھا اور 1692ء میں شیخ احمد حسین خاں رفعت یار جنگ اول نے اس بارے میں ایک تحریر ی یاد داشت مختار الملک کی خدمت میں پیش کی تھی جس پر انھوں نے لکھا تھا، " ہمہ را حری دیدم و مسرور شدم و تحسین کردم درا کثر مطالب اتفاق وارم وایں تدبیر رامفید ہندارم " لیکن اس خوشنودی کے باوجود یہ درسگاہ اس عہد میں قائم نہ ہوسکی غالباً فضا ہموار نہ ہوسکی تھی . اس کے نو سال بعد لما دا سلطنة میں یہ تحریک پھر اٹھی اور انھوں نے 1301ء میں باغ عامہ کے ایک جلسہ میں جس کی صدارت جو حکمران وقت غفران مکان کر رہے تھے تظام یونیورسٹی کی خیالی بنیاد رکھی جو برطانوی پارلمینٹ کے ایک رکن مسٹر بلنٹ کے تخیل جامعہ مشرقیہ پر مبنی تھی اور اسکے کچھ عرصوں بعد جب غفران مکان اور عماد ا سلطنتہ دونوں نیلگری میں تھے اور سرسید احمد خان بھی وہاں پہنچے تو جریدہ روزگار نے یہ خبر شائع کرکہ : ... " ہم سمجھتے ہیں کہ صاحب ممدوح نظام یونیورسٹی کی بنائی مشورت کیلئے طلب کئے گئے ہیں  " .

  مگر بقول محمد مرتضٰی یہ تحریک ایک بجلی تھی جو چمکی اور غائب ہوگئی پھر نو ہی سال بعد جس نظام کالج کا جلسہ تقسیم انعامات غفران مکاں کی صدارت میں منعقد ہوا تو وقار الامرا نے بحیثت وزیر اعظم ایک یونیورسٹی کے قیام کا ذکر کیا اور ان کے عہد کی عام علمی وادبی ترقی کے پیش نظر قومی امکانات پیدا ہوگئے تھے کہ ایک مشرقی یونیورسٹی جلد قائم ہو جائے گی .

  چنانچہ شبلی نعمانی نے اپنے رسالہ الندويہ میں لکھ دیا کہ وہ دارالعلوم ندوہ کو اس مشرقی یونیورسٹی سے ملحق کردیں گے . اس واقعہ کے دس سال بعد 1322ء محمد مرتضیٰ نے ایک کتاب " روح ترقی " لکھی جس میں نظام یونیورسٹی کے قیام کی طرف اہل ملک اور حکومت کو پرزور الفاظ میں توجہ دلائی جس کا چرچا ملکے علم دوست طبقہ میں کچھ عرصہ تک رہا اور مایوسی چھاگئی تھی کہ سلطان العلوم میر عثمان علی خاں تخت نشین ہونے اور ملک کی ہر جہتی فلاح و بہود کی کوشش از سر نو شروع ہوئیں 

   1322ء میں قدیم دارالعلوم نے ایک ایجوکشنل کانفرس کے قیام کے لئے اہل ملک کے نام اپیل شائع کی جس میں نظام یونیورسٹی کے قیام پر زور دیا اور چند ماہ بعد جب محتا المملک کے نبیرے آخی سالار جنگ کی صدارت میں دارالعلوم کی ساٹھ سالہ جوبلی منائی گئی تو اس میں یونیورسٹی کے قیام کی طرف توجہ دلائ گئی دوسرے ہی سال 1333 ء میں ایجوکشنل کانفرس کا پہلا اجلاس سر اکبر حیدر نواز جنگ کی صدارت میں منعقد ہوا تو انھوں نے اپنے خطہ افتتاحیہ میں پشین گوئی کی کہ : ..... " خدا نے چاہا تو چند سال میں دارالعلوم ایک عظیم الشان یونیورسٹی بن جائے گا جس کی نظیر ہندوستان بھر میں نہ ہوگی اور کاس فیض دور دور تک پہنچے گا اور لوگ ملک ملک سے اس سے مستفید ہونے کے لۓ آئیں گے اور حیدر آباد مرکز علوم و فنون بن جائے گا . " ( ماخذ داستان ادب حیدرآباد) ۔

 سر اکبر حیدر نو از جنگ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ کلمات شائد دعاوں کی قبولیت کی گھڑی کے وقت ادا ہو ئے تھے جو الله تعالی نے قبول فرمالیے اور آج جامعہ عثمانیہ سچ میں علوم و فنون کا ایک مرکز بن گئی ہے کہ ساری دنیا میں یہ اپنی مثال آپ ہے . 1336ء میں سر اکبر حیدر نواز جنگ نے سرکاری فضا ہموار کر کے قیام جامعہ کے لئے ایک عرضداشت سلطان العلوم کی خدمت میں پیش کی جس کی اجازت ان احکام کی شکل میں ملی کہ : حیدرآباد دکن میں ایک جامعہ( یونیورسٹی) قیام جامعہ عثمانیہ . یکم محرم الحرام 1337 ء سے قائم کی جائے 2 . جامعہ عثمانیہ کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی ، اخلاقی ، ادبی ، فلسفی، طبعی، تاریخی ، طبی ، قانونی ، زراعتی اور تجارتی اعلیٰ تعلیم کا اور دیگر علوم و فنون وسود مند ہیشوں اور صنعت وحرفت وغيره سکھائے اور ان سب میں تحقیقات وترقی کا انتظام کرے 3 . جامعہ عثمانیہ کی خاص خصوصیت یہ ہوگی کہ جملہ علوم کی تعلیم زبان اردو میں دی جائے گی اور اسکے ساتھ انگریزی زبان و ادب کی تعلیم لازمی ہوگی وغيره . 

  اس منشور کے حاصل ہوتے ہی یکم محرالحرام 1337ء سے جامعہ کا قیام عمل میں آیا اور کلیہ جامعہ عثمانیہ کی تعلیمی جماعتی ں ذالحجہ 1337ء مطابق 7 / اگست 1919ء سے شروع کردی گئی اور بی ۔ اے کا پہلا امتحان 1992 میں لیا گیا جس میں 73 امیدوار کامیاب ہوئے۔ کلیہ جامعہ عثمانیہ کی صدارت کے فرائض عماد الملک کے فاض فرزند مہدی یار جنگ کے سپرد کئے گئے اور پھر مسعود جنگ ، ڈاکٹر عبد الستار صدیقی اور محمد عبدالرحمن خاں یکے بعد دیگرے اسکے صدر مقرر ہوئے . اسکے بعد صدر کلیہ کی بجائے ایک پرو وائس چانسلر کا عہدہ قائم کیا گیا جس پر ڈاکٹر میکزی اور میر قاضی محمد حسین فائز ہوئے پھر یہ عہدہ راس چانسلری میں تبدیل کیا گیا جس پر اعظم جنگ ، على ياور جنگ اور ڈاکٹر رضی الدين یکے بعد دیگرے مقرر ہوے - اب على یاور جنگ اسکے دوبارہ وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے ۔ جو عماد الملک کے نواسے، مہدی خاں کوکب کے بھتیجے اور خود بھی عالم و فاضل ، کئی زبانوں کے ماہر اور تاریخ و سیاسیات کے پروفیسر ہیں ( ماخذ: .. داستان ادب حیدرآباد  از سید محی الدین قادری زور ) 

  سچ میں موجوده دور میں یہ جامعہ اتنی ترقی کرچکی ہے کہ اسکو دیکھ کر ہمیں رشک محسوس ہوتا ہے . لیکن ساتھ میں دل اداس بھی ہوتا ہے کہ اس جامعہ کو ایک سیاسی میدان بناکر مفاد پرست طاقتیں اس سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں اور اس جامعہ کو بدنام کررہی ہیں . جامعہ اپنے مقصد کو کھودے گی یہ ڈر ہمیشہ سے لگا ہوا رہتا ہے ـ اس یونیورسٹی کی حفاظت اور شر پسند عناصر سے اسکو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فرض بنتا ہے ۔ کیونکہ میری تیری نہیں بلکہ ہم سب کی جامعہ ہے ـ اور ملک کی قومی یک جہتی کی مثال ہے  جس جس مذہبی ہی نہیں بلکہ اخلاقی ، فلسفی ، طبعی ، تاریخی ، طبی ، قانونی، زراعتی ، تجارتی اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے ماحول کی آلودگی اور مفاد پرست طاقتیں اسکا استحصال کرنے کے لئے ایک جٹ ہو رہی ہیں اس لئے علمی وادبی طبقہ اس پر نظر خاص رکھنا ضروری ہوگیا ہے تا کہ ہر کوئی اس سے مستفید ہو سکیں .

(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)

  

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]