اردو کی ترقی میں مستشرقین کا حصہ
( تحقیقی مقالہ)
اردو میں شاعری کا مزاق یوروپین باشندوں کو جو کہ ہندوستان میں مقیم تھے انیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوا۔ اور ہندوستان میں اس زمانے میں اردو شاعری بہت شباب پر تھی جا بجا مشاعروں کی مجالس اور گھر گھر شعرا و سخن کے چرچے تھے۔اور ہندوستانیوں اور یوروپین باشندوں میں مخلصانہ تعلقات کے باعث زیادہ تر اہل يورپ مسلمانوں کی مجلسوں اور صحبتوں میں شرکت کرتے تھے جس کی وجہ سے ان میں بھی شعر و شاعری کا مذاق پیدا ہوا اور ان میں تو کچھ اردو کے بہت اچھے اردو صاحب دیوان شاعر بھی ہیں اور کئی اصناف سخن میں ان کا کلام پایا جاتا ہے اور چند ایسے ہیں جو اردو اور فارسیدونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے چند کا ذکر ذیل میں دیا جا رہا ہے
اسبق: پورا نام رابرٹ گارڈنر اسبق ہے . قصبہ ہر م چی ضلع ایٹہ میں پیدا ہوئے د . شاعری کے شوق کی وجہ سے شکر . اور شکر کے والد فنا سےاصلاح لینے لگے . مرزا عباس حسین ہوش ہو لکھنوی کے شاگرد ہوئے گارڈنر کو بھی اپنا کلام دکھاتے تھے۔ انھوں نے کئی تخلص اختیا کئے مثلا شعاع شمیم نسیم اور آخر اسبق اختیار کیا۔ اکثر مشاعروںمیں ان کی غزلیں کامیاب رہتی تھیس نمونہ کلام یہ ہیں۔
اسفان: اسٹفین یا اسٹو سن نام ہے اسفان تخلص ہے یہ بھی دہلی میں پیدا ہوئے والد تو یوروپین تھے اسفان کم عمری سے ہی اردو سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اس لئے ہمیشہ اردو شعرا و علماء کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے . اسفان کا نمونه کلام یہ ہے
اس طرح سے کئی اور یوروپین شعرا ہیں . جن کے کلام میں مضامین کی لطافت الفاظ کی تلاش اور محاورات کی ترکیب قابل داد ہے یہی نہیں بلکہ نے اسلوب پر تشبیہیں اور استعارے ہونے کی دلیل بھی ہے . ایک غیر زبان بو کر بھی جس جستجو سے يوروبين اقوام نے بماری زبان وادب کو ترقی دی ہے اس طرح سے ہم اہل زبان ہوکر بھی نہیں کر پائے ہمارے لئے ایک فکر کی بات ہے .
از: فہمیدہ تبسم ( ریسرچ اسکالر , جامعہ عثمانیہ)
