سوتیلا رشتہ بھی حقیقی رشتہ کی طرح قابل احترام ہے



ماں کو دنیا کی عظیم ہستی کہا گیا ہے. ماں کے قدموں تلے جنت ہے . ماں دنیا کے لئے ایک عظیم نعمت ہے ۔ اگر ماں نہ ہوتی تو آج دنیا میں ہر کوئی در بدر بھٹکتا رہتا
   
ہاں یہ صد فیصد سچائی ہے اس بات سے کسی کو انکار نہیں لیکن جب یہی " ماں " کے نام کے ساتھ اگر لفظ " سوتیلے " کا اضافہ کردیتے ہیں تو پھر ماں کے معنی و مفہوم پوری طرح سے بدل کیوں جاتے ہیں . کیا تب وہ ماں عظیم نہیں کہلاتی جب اسکے پیروں تلے جنت نہیں ہوتی ؟ اور کیا تب وہ ممتا کی دیوی نہیں کہلاتی ؟ " سوتیلا پن " یہ ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے ۔ جو تقریبا جانبداری برتا کرتا ہے اس رشتے کو نبھانا بڑا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور یہ مسلہ آج تک سماج میں زیر بحث ہے . آج کئی خاندانوں میں سوتیلی مائیں موجود ہیں اور انکے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے وہ تو کسی کو دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی انکا کوئی ہمدرد ہوتا ہے
     
مرد حضرات کا یہ حال ہوتا ہے کہ بیوی کے انتقال، طلاق یا پھر خلع لینے پر درسری شادی یعنی عقد ثانی کر لیتے ہیں اس سے ان کی زندگی تو بہتر ہو جاتی ہے لیکن اگر آنے والی بیوی چاہے کتنی ہی نیک سیرت کیوں نہ ہو خاندان والے اسکی دل آزاری کرتے ہیں اور ہر وہ طریقہ اپناتے ہیں کہ کسی بھی طرح ماں باپ اور بچوں میں ملاپ نہ رہے ـ اور آخر کار نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ باپ تو ماں کی تائید کرتا ہے اور بچے بیچارے بے سہارا کہلاتے ہیں یہی وجہہ ہے کہ اور ایسی ہی نادانیاں ہیں جو خاندان ٹوٹ رہے ہیں تب ایک ہی سوال ذہن میں باربار ابھرتا ہے کہ . کیا سوتیلی ماں " ماں " نہیں کہلاتی
      
 زندگی کا دوسرا نام " سمجھوتہ " ہے انسان کو کبھی کبھی دوسروں کی خوشیوں کی خاطر اپنے جذبات و احساسات کو قربان کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن یہ قربانی بھی ایک قسم کی جیت ہوتی ہے ۔ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ رشتوں کا احترام ہر کسی پر لازم و ملزوم ہے اگر انہی رشتوں کو ہم مقدس بند هن کی طرح اپنا ئیں گے تو پھر کیا بات ہے اور اپنی زندگی کو یوں بنا لیں کہ وہ ایک خوب صورت مہکتا پھول ہے جو اپنی مہک سے سارے سنسار کو معطر کررہا ہے

(  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد )

 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]