يوم اُردو ، يوم قومی تعلیم ، يوم اطفال ، یوم قومی یک جہتی


  يوں تو سال کے باره ماه میں ہر ماہ کسی نہ کسی عظیم ہستی کی يوم پیدائش ہوتی ہے . ، لیکن ماه نومبر کو جسے چار چاند والا ماہ کہنا بے جا نہ ہوگا . کیونکہ ماہ نومبر کی خاصیت یہ ہے کہ اس ماہ میں چار نامور ، مہشور و معروف ہستوں کی ولادت ہوئی ہے . جو کچھ اس طرح سے ہیں .
  9/ نومبر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ
  1 1 / نومبر مولانا ابوالکلام آزاد
  14 / نومبر پنڈت جواہر لال نہرو
  19 / نومبر اندرا گاندھی 
      يوم اردو : .... ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ 9 / نومبر 1877ء سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، آپ بیسویں صدی کے ایک مشہور و معروف اسلامی و مذہبی شاعر ، قانون داں ، مصنف، اور سیاستدان ہیں ، ڈاکٹر اقبال کی شاعری اردو اور فارسی ، دونوں زبانوں میں ہے . اقبال کی شاعری کا بنیادی رحجان تصوف اور احیائے امت مسلمہ کی طرف تھا۔
        انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ملت کے نوجوانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنا ہی نہیں بلکہ ان کے لۓ دعا ئیہ الفاظ کا سہارا بھی لیا ہے ، اور قوم کو جہالت کے اندھیروں اور تہذیب کی پستی کے پاتال سے نکال کر علم کی روشنی اور تہذیب و تمدن کی ترقی اور مذہبی فقدان سے نکال کر ترقی یافتہ بنانا چاہتے تھے . . یہی وجہ رہی کہ انھوں نے اپنی شاعری کا اہم مرکز و مدعا عشق حقیقی اور تصوف ، خودی اور شاہین( پرنده) کو رکھا . اس کے ذریعہ قوم کی زبوں حالی کو نمایاں کرتے رہے، اور اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے قوم کے نوجوانوں کو بلندی اور ترقی کا درس دیتے رہے اور ان میں پائی جانے والی کمزوریوں کا پردہ چاک کر کے ان کی رہبری کرتے رہے ساتھ ہی ساتھ مناظر فطرت کی خوبصورتی چونکہ وہ اس کے بہت زیاده شیدائی ہیں ، اور بچوں کی نظمیں جو کہ نصیحت آموز ہوتیں ہیں اس پر بھی قلم اٹھایا .  
        ایک اور لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی شاعری کا رحجان ہندوستان کے ساتھ مسلمانوں کی طرف زیاده نمایاں نظر آتا ہے .
        ڈاکٹر اقبال کو دینیات تصوف مشرقی و مغربی فلسفہ اور انسانیت کے مقدر کو سمجھنے اور اسکی وضاحت کرنے کے لئے فارسی اور اردو شاعری کے رمزیہ اور نازک انداز کو استعمال کرنے میں اپنے ہم عصر مسلمان فلسفیوں میں نمایاں حیثیت و فوقیت حاصل رہی
          دل پاک نہیں تو پاک ہو نہیں سکتا انساں
          ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت 
          
          21 / اپریل 1938 کو اس عظیم شاعر اور مفکر دین کا وصال ہوا ان کی شاعری ایک زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی . وہ ایک حساس دل و دماغ کے مالک تھے ـ ان کی شاعری يعنى کلام اقبال کی مانگ دنیا کے ہر حصے میں ہے . خاص طور سے مسلمانان عالم ان کے کلام کو بڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے ہیں .
  اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
  تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اقبال نئی نسل کے روح رواں شاعر ہیں انھوں نے نہ صرف قوم میں اسلامی عظمت کو اجاگر کیا بلکہ نئ نسل میں انقلابی تحریک کی بنیاد بھی رکھی۔ وہ مسلمانوں کو ناامیدی کے اندھیرے کو مٹاکر روشن مستقبل کی توقعات کی تلقین کرتے ہیں۔

  نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
  ذرا نم ہو تو مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
   9 / نومبر کو " يوم اردو " کے طور پر مناکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے ، اور جگہ جگہ جلسے منعقد کئے جاتے ہیں جس میں اس عظیم شاعر کو خراج عقیدت پیش کی جاتی ہے . 
   مٹ جائے گنا ہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال
   اگر ہو جائے یقین کہ الله دیکھ رہا ہے .......
     
                  ***************************** 

  يوم قومی تعلیم : ...... مولانا ابوالکلام آزاد 11 / نومبر 1888ء کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اصلی نام سید محی الدین احمد ، کنیت ابوالکلام، آزاد قلمی اور تخلص تھا .
  مولانا آزاد 1898ء میں اپنے والد محترم کے ہمراہ ہندوستان آکر کلکتہ میں قیام پذیر ہوگئے ، ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ، اور عربی مادری زبان تھی . فارسی ، اور انگریزی پر بھی عبور حاصل تھا . ابتدائی عمر میں ہی مولانا محمد حسین کی کتاب " آب حیات " کا ترجمہ اردو میں کیا۔ کم عمری میں مولانا آزاد نے عربی ، فارسی ، لسانیات ریاضی ، جغرافیہ منطق ، فلسفہ اور تاریخ اور دیگر علوم پر مختصر مدت میں دسترس حاصل کرلی تھی۔
  مولانا ابوالکلام آزاد ، آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم و سائنسی تحقیقات مقرر ہوئے بقول آزاد (" وزارت تعلیم کی ذمہ داری سنبھالتے ہی میں نے پہلا فیصلہ جولیا وہ یہ تھا کہ ملک میں اعلیٰ و فنی تعلیم کے حصول کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ خود ہم اپنی ضرورتیں پوری کریں ۔ میں اس دن کا منتظر ہوں جب ہندوستان میں باہر سے لوگ آکر سائنس اور فنی تعلیم میں تربیت حاصل کریں . ") اس منصب پر مولانا آزاد نے گیارہ سال تک خدمت انجام دی سائنس اور ٹیکنالوجی کو مولانا آزاد ہندوستان کی معاشی اور معاشر تی ترقی کے لئے استعمال میں لانا چاہتے تھے۔ اور ساتھ ہی ساتھ وه فنون لطیفہ کے بھی شیدائی تھے اس ضمن میں وہ بحیثیتِ وزیر تعلیم فنون لطیفہ کو بھی ایک خاص درجہ عطا کیا . مولانا نے ملک کو جو تعلیمی پالیسی دی بلا شبہ وہ ابھی تک ملک میں عام ناخواندگی اور جہالت و توہم پرستی کو مٹانے میں کامیاب تو نہیں ہوسکی مگر آج ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ضرور شامل ہورہا ہے . مولانا آزاد کی شخصیت ہمہ جہت تھی . ہندوستان کی جنگ آزادی کے مجاہدین میں ان کا نام گاندھی جی اور پنڈت نہرو دونوں کے ساتھ لیا جاتا ہے اورمولانا آزاد کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کے دونوں قائل تھے۔ـ وہ ایک محب وطن اور ہمدرد انسان تھے تحریک آزادی کے علمبردار اور دانش ور، بلند پایہ خطیب ، عبقری ادیب اور مصنف بھی تھے . مولانا آزاد علم و فن کے روشن چراغ ، بلند پا یہ مقرر( ڈاکٹر کیٹلر کے مطابق " میں نے آج تک ایسا مقرر نہیں دیکھا جس کی زبان میں مولانا آزاد کی زبان سے زیاده مٹھاس ہو " ،) جيد عالم دین ، تحریک آزادی ہند کے بے خوف سپہ سالار، لا ذہنیت کے مالک تھے مولانا آزاد کی فکر جس ایک قومی نظریہ کی بنیاد پر تھی اور آپ نے قومیت کے جس تصور کو اختیار کیا اس کی افادیت آج کے بھارت میں برقرار ہے . ایک ذمہ دار و با اختیار وزیر کی حیثیت سے مولانا نے جو کردار نبھایا اسے ہندوستان کبھی فراموش نہیں کرسکتا انھوں نے تحریک آزادی میں جو کلیدی کردار ادا کیا وہ رہتی دنیا تک تاریخ کے صفحات پر زرین الفاظ میں محفوظ رہے گا . آپ کی شخصیت اور کم عمری سے علم وادب کے آسمان پر ایک روشن ستاره کی طرح چمکتے ہوئے ظہور پذیر ہونا ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کی عوام کی لاعلمی کے تاریک نظروں کو روشن کرگیا..
  اُردو ادب بھی مولانا کے مرہون منت ہے آپ کی کتابیں ہی نہیں بلکہ دیگر نثری اصناف میں مضامين ، خطوط کا مجموعہ " غبار خاطر " اور کم عمری میں یعنی بارہ سال کی عمر میں دارالارشاد نامی تعلیمی ادارہ قائم کرنا نیرنگ عالم ( جریدہ) اور اس کے علاوه، 1900ء میں ہفت روزه " المصباح " کے مدیر تھے . 1903ء میں ماہنامہ "لسان الصدق " جاری کیا اس رسالے کو انجمن ترقی اردو کا ترجمان بنا دیا وہ ایک شاعر بھی تھے ـ
  سیاسی سرگرمیوں میں خود کو حاضر خدمت کرتے ہوئے مولانا نے یہ ثابت کردیا کہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانان ہند نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں تک بھی دے ڈالیں ۔
  عورتوں کے حقوق کے تعلق سے مولانا کا موقف شریعت اسلام کے پیش کرده احکامات پر ہی مبنی ہے . مولانا کی نظر میں عورت انسانی معاشرے کی ایک اہم رکن ہے. آپ کے خیال میں مرد کے ساتھ ساتھ عورت بھی اپنے فرض منصبی کی اہل ہے ، آپ کے ذہن میں عورت کے مقام ومرتبے کی بابت بہت بلند اور ارفع تصورات تھے ـ اور مولانا ابوالکلام آزاد کے اخلاق اطوار کردار اور ساری سیرت خود آپ کی ماں کی تربیت اور پرورش کا نتیجہ ہے ۔ انسانی فطرت کا نمو ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے . مولانا آزاد کی تمام تر خوبیاں جیسے انسان دوستی رواداری کی تعلیم آپ کی ماں سے ملی تھی . مولانا آزاد کے ذہن پر ان کی والدہ محترمہ کے اس طرز زندگی، ایثار و قربانی کا بہت گہرا اثر پڑا تھا . جس کے نقوش تمام انسانیت کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئے .
   مرد مومن کی وفات 22 / فروری 1958ء کو ہوئی 
اس موقع پر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کا یہ شعر موزوں لگتا ہے .
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل ہے ہوتا ہے چمن میں دیده ور پیدا 
                     ....... ......... ..........
   نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو !
   تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں
      ***************************************
  يوم اطفال : ... پنڈت جواہر لال نہرو 14/ نومبر 1889ء کو شہر الہ آباد میں پیدا ہوئے والد کا نام موتی لال نہرو اور والدہ کا نام سوپر پنائی تھصو تھا .
  يوم اطفال یا بال دیوس بھارت میں 14 / نومبر کو منایا جاتا ہے . بچے مستقبل میں سماج کے ایک بہترین معمار ہوتے ہیں ، وہ بڑے ہوکر قوم کے مستقبل کی اہم ترین طاقت ہوتے ہیں . اس لئے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہی کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے . اس تربیت کے ذمہ داران میں سب سے پہلے بچہ کی ماں ہوتی ہے کیوں کے بچہ کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے . دوسرا مدرسہ یعنی اسکول جہاں پر وہ تعلیم حاصل کرتا ہے . تیسرا سماج ہے جس میں رہ کر وہ ہر بات کو سنجیدگی سے یا لا ابالی پن سے اپنی یادداشت میں محفوظ کرلیتا ہے .
  اگر گھر کی صحیح تعلیم و تربیت اور مدرسہ کی صحیح رہنمائی اور ا ساتذہ کرام کی صحیح تدریس اور بہتر سماج کی صحبت کسی بچہ کو حاصل رہی تو وہ ایک زبردست شہری بن کر دنیا کی ہر نئی ترقی کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کر خود کی ملک کی ترقی کا ذریعہ بنے گا بشرطیکہ آموزشی عمل صحیح اور مناسب ہونا چاہیے 
  يوم اطفال با معنی دیگر بچوں کی عید ہے اس لحاظ سے Unicef اقوام متحدہ کا ادارہ بھی 1953ء کو عالمی یوم اطفال منایا ہے . اس طرح سے اس تہوار کے منانے کا اہم مقصد بچوں کی پرورش ، صحت ، فلاح و بہبودی اور ان کے حقوق تک ان کی رسائی اور ان کی حوصلہ افزائی وغيره شامل ہیں .
  جس طرح سے عالمی سطح پر يوم اطفال پرجوش انداز سے منایا جاتا ہے بلکہ اسی طرز پر ہمارے ملک ہندوستان میں بھی منایا جاتا ہے . جب بھی ہم يوم اطفال کا نام سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک ایسی شخصیت کی شبیہ آجاتی ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے وہ ہیں ہمارے آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم جناب پنڈت جواہر لال نہرو ، انکی یاد ہر سال 14 / نومبر کو بطور يوم اطفال کے طور پر مناکر تازه کرلی جاتی ہے کیونکہ يوم اطفال ہنڈت نہرو کے يوم پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے .
  جب پنڈت نہرو کی وفات 1964 ء میں ہوئی تب ہی سے بھارت میں یہ قومی تہوار منایا جانے لگا ہے . پنڈت نہرو ایک عالم شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں گلاب ، اور بچوں سے بے حد پیار تھا۔ جب کبھی بچے نظر آتے وہ ان سے ضرور گفتگو کرتے اور بچے بھی انھیں پیار سے " چاچا نہرو " کہہ کر پکارتے . ان کے مطابق آج کے بچے کل کے ہندوستان کا روشن مستقبل ہیں .
  
  سیاسی سرگرمیاں : ... انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دیں 
  1919 : میں کانگریس میں شرکت کی اور ہوم رول لیگ کے سکریٹری بن گئے 
  1916 : میں پہلی بار ان کی ملاقات بابائے قوم مہاتما گاندھی سے ہوئی 
  1920 : میں اترپردیش کے ضلع پرتاب گڑھ میں اولین کسان مارچ کا اہتمام کیا 
  1920 - 22: میں تحریک عدم تعاون کے سلسلے میں دو مرتبہ جیل بھیجا گیا .
  1923 : میں پنڈت نہرو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جزل سکریڑی منتخب ہوئے 
  1926 : میں مدراس کانگریس میں نہرو کانگریس کو آزادی کو بطور نصب العين اختیار کرنے کے لئے راغب کرنے میں کافی سرگرم رہے تھے۔
  1928 : میں لکھنو میں سائمن کمیشن کے خلاف ایک جلوس کی قیادت کی 
  1929 : انڈین نیشنل کانگریس کے لاہور اجلاس کے صدر منتخب ہوئے 
  1930 - 35 : کے دوران نمک ستیہ گرہ اور کانگریس کے ذریعے شروع کی گی دیگر تحریکات کی پاداش میں انہیں کئی مرتبہ جیل بھیجا گیا .
  14 / فروری 1935 میں الموڑه جیل میں انھوں نے اپنی " خود نوشت سوانح " مکمل کی 
  1936 : میں لندن کا دورہ کیا
  1938 : میں اسپین گئے 
  1940 : کو پنڈت نہرو کو زبردستی جنگ میں شامل کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کئے گئے انفرادی سیتا گره کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔
  1942 : بمبی میں اے آئی سی سی کے اجلاس میں اپنی تاریخی بھارت چھوڑو قرار داد پیش کی 
  8 / اگست 1942 کو انہیں دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کیا گیا یہ ان کی طویل ترین اور آخری گرفتاری تھی .
  مجموعی طور وہ نو 9 مرتبہ جیل گئے 
  1946 ء میں پنڈت نہرو نے جنوب مشرقی کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اس کے علاوه از سر نو مزید 1951 سے 1952 تک کے لیے منتخب ہوئے . 27 / مئی 1964 کو پنڈت جواہر لال نہرو کی وفات ہوئی 
      ***************************************

يوم قومی یک جہتی : .... اندرا پر یہ درشنی نہرو الہ آباد میں 19 / نومبر1917 کو ایک معزز و مہشور گھرانے میں پیدا ہوئیں. اکولے نوویلے انٹریشنل ، جنیوا، پونا اور بمبی میں واقع پوپلس اون اسکول ، بیڈ منٹن اسکول، برسٹل وشو بھارتی، شانتی نکیتن اور سمرولے کالج آکسفورڈ جیسے معزز اداروں سے تعليم حاصل کی وہ آزار ہند کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بیٹی تھیں . اور پارسی نوجوان فیروز گاندھی سے شادی کرکے ان کی شریک حیات بنیں انھیں تمام دنیا کی متعدد سرکردہ يونيور سیٹوں کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی کی گئی . یہی نہیں غیر معمولی علمی پس منظر رکھنے کی وجہ سے کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے قومی میرٹ سرٹیفیکٹ سے بھی نوازا گیا۔
  محترمہ اندرا گاندھی آزادی کی جد و جہد میں فعال طو ر پر شامل تھیں . ان کا پہلا کارنامہ اپنے بچپن کے زمانے میں وہ عدم تعاون تحریک کے دوران کانگریس پارٹی کی مدد کرنے کی غرض سے 1930 میں . " بال چرخہ سنگھ "، اور بچوں کی " وا نر سینا " قائم کی
  1942 میں وہ جیل بھی گئیں 
   ۔ 55 -1947 کو آل انڈیا کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں 
   اس کے بعد 1958 میں کانگریس کے شبعہ خواتین کی صدر مرکزی انتخابی کمیٹی اور مرکز پارلیمانی بورڈ کی ممبر بنیں .
 ۔ 60 1959 میں انڈین نیشنل کانگریس کی صدر بنائی
  گئیں ـ
      1977 - 1967 تک ایٹمی توانائی کی وزیر ، خارجی امور کی وزارت کا اضافی چارج اور خلائی امور کی وزارت ، لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد وزیر اعظم منتخب ہوئیں .
      1978 میں لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کردی گئی .
      1980 میں منصوبہ بندی کمیشن کی چیئر پرسن رہیں اور ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں اس کے ساتھ ہی سکھوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز بھی کیا جس میں گولڈن ٹمپل( سنہری گردوارہ) جو کہ سکھوں کا مقدس مانا جاتا ہے فوجی حملے کئے گئے .
      اس کا بدلہ لیتے ہوئے دو سکھوں نے 31 / اکتوبر 1984 کو جو کہ انھیں کے محافظ تھے گولی مار کر ان کو قتل کرڈالا 
      اعزازات : ... 1953 میں یو ایس اے میں مدر ایوارڈ
       اولمپک آرڈر 1983
       جواہر لال نہرو ایوارڈ 1984
       آرڈر آف جوز مارٹی 1985
       بھارت رتن 1971 .
       جانوروں کے تحفظ کے لئے 1971 میں ارجنٹائن سوسائٹی کے ذریعے اغرارزی ڈگری بھی حاصل ہوئی 
       1972 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے میسکین اکادمی ایوارڈ ، ایف اے او کا دوسرا سالانہ تمغہ اور
       1976 میں ناگری پر چارنی سبها کے ذریعے ساہیتہ واچپتی ایوارڈ 
       سفارتکاری کے میدان میں بہترین کارگردگی کے سلسلے میں اٹلی نے از ابيلا ڈی ایسٹے ایوارڈ 
       بیل یو نیورسٹی نے ہاولینڈ میموریل ایوارڈ عطاکیا.
       
       مختلف تنظموں او اداروں میں سرگرم عمل : ... ا ۰ کملا نہرو مموریل اسپتال 
       2 گاندھی اسمارک ندهی ، کستور بہ گاندھی میموریل ٹرسٹ 
       3. سوراج بھون ٹرسٹ کی چیر پر سن 
       4. الہ آباد میں کملا نہرو و د دیالیہ قائم کیا 
       5. ۔ 64۔ 1960 یونیسکو کے اگزیکیو ٹیو بورڈ کی رکن
       6. قومی دفاع کی رکن
       7. سنگیت ناٹک اکادمی، قومی یک جہتی کونسل ، ہمالیائی کو ہ پیمائی ادارے ، دکشن بھارت ہندی پرچار سبھا ، نہرو میموریل میوزم ، لائبریری سوسائٹی اور جواہر لال نہرو مموریل فنڈ جیسے اداروں سے بھی منسلک رہیں .
       . ادبی خدمات : مشہور اشاعتوں می۔ 69 - 1966 دی ریڑس آف اینڈیور ،
     72 -1969 انڈیا (لندن )
     1975 انڈے ( لو سین)
     اور تصانیف و تقاریر کے مختلف مجموعے بھی شامل ہیں .
     سرکاری دورے : افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان، میانمار، چین ، نیپال ، اور سری لنکا ، اس کے علاوه فرانس ، عوامی جمہوریہ ، وفاقی جمہوریہ جرمن ، گیانا، ہنگری ، اٹلی، ایران اور عراق کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر کئی ممالک کا دورہ کیا 
        محترمہ اندرا گاندھی ایک لیڈر شپ کا جذبہ رکھنے والی خاتون تھیں اور دنیا بھر کی مقبول عام شخصیت کی مالک اور ملک کی عوام کے دلوں میں قومی یک جہتی کے جذبہ کو فروغ دینے والی پہلی خاتون وزیر اعظم رہیں،مگر افسوس کہ اس قدر چاق و چوبند رہنے والی خاتون کو غلاموں نے موت کے گھاٹ اتار دیا 
        ہر سال انکی يوم پیدائش 19 / نومبر کے موقع پر يوم قومی یک جہتی منایا جاتا ہے .

فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد
       
          ********************************
  

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]