امید کا دامن
کیا ہوا؟
کچھ نہیں ہر بار کی طرح !
مگر کیوں ؟
ہادیہ خاموش ہوگئی
سعدیہ بھی بات کو آگے نہ بڑھا کر اپنی طرف سے خاموش ہوگئی .
لڑکے والے جانے کے بعد ہادیہ کے سوال کا جواب دیتی ہوئی وہ اپنے کمرے کا رخ کرنے لگی.
مشتاق احمد صاحب کی دو ہی لڑکیاں بڑی سعدیہ اور چھوٹی ہادیہ بیگم مشتاق یعنی نازیہ مشتاق ایک پڑھی لکھی اعلیٰ خاندان کی بیٹی تھی اور مشتاق احمد بھی بہت سنجیده اور دین دار آدمی تھے ، سرکاری ملازمت تھی اور دونوں لڑکیوں کو اچھی تعلیم و تربیت اور اعلیٰ اخلاق جیسے زیور سے آراستہ کیا ،گھر میں نہ کوئی شور نہ شرابا بس پُرسکون ماحول اور سلجھی ہوئی زندگی ، بچیاں بھی ماں باپ کی فرمابردار .
بڑی لڑکی Msc کر لینے کے بعد شادی کا ارادہ کیا اور جان پہچان والوں میں کہنا شروع کیا ،
ویسے گھرانہ بہت ہی اچھا تھا نام رکھنے کو کچھ ن تھا ہی نہیں ، کوئی بھی اچھا رشتہ سعدیہ کے لئے آسکتا تھا لیکن ایک مسئلہ یہ تھا کہ رنگت میں سعدیہ ہار گئی یعنی گہری سانولی رنگت رکھنے کی وجہ سے ہر اچھا رشتہ واپس چلا جاتا ، نیک ، پڑھی لکھی ، دین دار بہرحال ہر اچھے وصف کی مالک سعدیہ صرف اور صرف رنگ کی وجہ سے لوگوں کی نظروں کو نہ بھا سکی .
برعکس اس کے ہادیہ گوری رنگت کی مالک اور خوب صورت تھی .
دونوں مانو جیسے دھوپ ، چھاؤں اور دن رات جیسی ہیں . اخلاق میں دونوں برابر صرف ایک رنگ کی وجہ سے دونوں میں فرق آگیا .
اس بات سے گھر کا ہر فرد بخوبی واقف تھا ، مگر کبھی کسی نے ایک دوسرے پر تنقید کرکے دل آزاری کرنے کا باعث نہیں بنا بس خاموشی اختیار کرلی جاتی
نہ ماں نے کم رنگ کا طعنہ مارا نہ بہن نے ہنسی مذاق اڑایا اور نہ ہی باپ نے افسوس ظاہر کیا .
یہاں اس گھر میں ہر کوئی ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرنے والا اور خوف خدا رکھنے والا تھا . کبھی کسی کے جذبات و احساسات مجروح نہ ہوں اس بات کو اہمیت دی جاتی .
بس دل میں ایک قسم کی بے چینی ! آخر لوگ کیوں نہیں سمجھتے ؟ مشتاق احمد صاحب ہر دن یہی سونچ میں رہتے ! لیکن بیوی بچوں کے سامنے مطمئن رہتے . کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ بچیاں خاص کر سعدیہ انکے اضطراری کیفیت سے محرومی کا شکار نہ ہو اور خود کو ماں باپ پر بوجھ نہ سمجھے
لڑکے والے آتے تو اچھے معیار کے پر لڑکی کو دیکھنے کے بعد اپنی کم ظرفی کا مظاہرہ کردیتے . يعنى لڑکا کم رنگ کا ہو گا تو یہی کہتے کہ ہمارا لڑکا کم رنگ کا ہے اس لیے گوری رنگت کی لڑکی چاہیے ورنہ بچے کالے پیدا ہونگے .
اور اگر لڑکا گورا رہا تو ان کا ڈیمانڈ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے لڑکے کا رنگ سفید ہے تو ہمیں
بہو بھی ویسی ہی چاہیے ورنہ میاچ نہیں ہوگا بچہ فیل ہوگا . کالی لڑکی سے شادی کی میری ...
کوئی کہتا بہن کچھ مت سمجھنا آپکی لڑکی لاکھوں میں ایک ہے پر رشتہ دار اور محلے والے ہم پر ہنسی مذاق اڑائیں گے کہ کالی بہو کو بیاہ کر لائے .
کسی کا جواب ہوتا کہ فلاں سیریل کی ہیروئن کی طرح چاہیے تھی بس سنا تھا آپکی لڑکی ویسی ہی ہے پر رنگ میں مار کھا گئی اس لئے سوری ...
کیا بات ہے مشتاق صاحب آپ کچھ پریشان دکھائ دے رہے ہیں ؟ ایک دن مسجد کے امام صاحب نے نماز کے بعد مشتاق صاحب کو تاڑ لیا .
بس کچھ نہیں وہ بات کو ٹالنے لگے
خیر اگر آپ کا نجی معاملہ ہے تو کوئی بات نہیں اگر کہنے والی بات ہو تو مجھے اپنا سمجھیں .
آپ اس مسجد کے مصلی ہیں اور الحمد للہ مسجد کا ہو کہ باہر ہر مسئلے پر آپ اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھاتے آئے ہیں اس لیے آپ اگر کچھ پریشان ہیں تو ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ کی مدد کریں اللہ ہم سب کا مدد گار ہے .مشتاق احمد مسکرا کر چپ ہوگئے اور نماز نفل ادا کرکے گھر آگئے .
اس طرح سے کب تک چلے گا ہماری بچی کے ساتھ رات سوتے وقت نازیہ مشتاق نے شوہر کو جھنجوڑ ڈالا .
اب کیا کرسکتے ہیں نازیہ ؟ یہ ایسی مانگ ہے کہ ہم پوری نہیں کرسکتے آپ ہی بتائیں ہمارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ جو ہم سے ہوسکتا تھا ہم نے کردیا بچیوں کو اعلی تعلیم ، دین اخلاق سب سیکھا دیئے اب اللہ نے اسے كم رنگ ديا تو اس میں ہمارا یا اس بچی کا کیا قصور ہے .
ہم نے تو لڑکے والوں پر کوئی ڈیمانڈ نہیں رکھی؟ وہی ہم پر ہر طرح کا ظلم کررہے ہیں .
ویسےان کا حق تو نہیں بنتا کہ ہماری بچی کو ہر طرح کا نام دینے کا ! پھر بھی ہماری اعلیٰ ظرفی ہے جو ہم انھیں برداشت کرتے آرہے ہیں .
اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں بس صبر کرو اور کچھ نہیں الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
میں تو صبر ہی کررہی ہوں پر پیچھے اور ایک لڑکی ہے اسکا بھی تو خیال کریں نازیہ نے آنکھوں میں آئے آنسو کو ضبط کرتے ہوئے آواز پتا کرکہنے لگی . .
سب خیر کا معاملہ ہوگا ان شاء اللہ مشتاق احمد نے بیوی کو دلاسہ دیا .
اب دیکھئے نا ہادیہ بھی فائنل سمسٹر کے امتحانات لکھ رہی ہے ، ہاں مجھے معلوم ہے نا زیہ پر ہم مجبور ہیں وہ اداس لہجے میں کہنے لگے ، مجھے تو اللہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن یہ لوگوں کی عجیب و غریب باتین سن کر دل میں ایک قسم کی گھبراہٹ ہوتی ہے ، زیاده تر عورتیں سعدیہ کو دیکھکر دیے لفظوں کہتی ہیں کہ "آپکی چھوٹی بیٹی کے بارے میں سونچئے اگر آپ اوکے ہیں ، تو ہمیں بھی وہ بہت پسند ہے . " اب آپ ہی بتائیے یہ لوگ لڑکی دیکھنے آتے ہیں یا بازار سے کوئی شئے خریدنے ! جو اور اچھا اور اچھا اور بہتر اور بہتر کی سونچ رکھتے ہوئے گھر گھر کی خاک چھانتے پھرتے ہیں .
ایسی غلط باتیں آپ کب سے کرنے لگیں نازیہ ؟ مشتاق احمد صاحب بیوی کو تنبیہہ کرنے لگے آپ کی زبان سے ایسے الفاظ نہیں جچتے !
ایک بات کہوں اگر آپ بھی کسی لڑکے کی ماں ہوتی تو شائد ایسا ہی عمل کردکھاتی جو آج یہ خواتین کررہی ہیں کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟
ہاں آپ غلط ہی تو کہہ رہے ہیں مجھے ایسی عورتوں کی لسٹ میں نہ کھڑا کریں جن کے پاس خوف خدا نہ ہو اور صرف ظاہری حسن کی شیدائی ہوں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم عطا کی ہے جس کے ذریعہ میں اپنی اور اپنے سارے خاندان کی صحیح رہنمائی کرسکتی ہوں ، ماشاء اللہ وہ بیوی کی باتوں پر مسکرادیے اور نازیہ مشتاق بھی زیر لب مسکرا کر رہ گئی .
ایک بات کہوں؟ نازیہ نے شوہر کو اچھے موڈ میں پاکر سوال کرڈالا ...
ہاں بتادو اور کچھ باقی ہے ان عورتوں کے تعلق سے دل میں رنجش ...
چھی ! کیسی باتیں کرتے ہیں آپ بھی !
اچھا تو پھر بتادو ...
کیوں ناں سعدیہ کو کسی کالج میں پڑھانے کے لئے بھیج دیا جائے ، بچی کا دل بھی بہل جائے گا اور ... اور ... کیا نازیہ ؟
میرا مطلب ہے کسی کو پسند بھی آجائے گی !
نہیں ! یہ اجازت میں نہیں دے سکتا ! کیوں ؟ کیونکہ کل کو لوگ کہیں گے بچی کی کمائی کھارہے ہیں اور ویسے مجھے یہ سب پسند نہیں ہاں شادی کے بعد شوہر اور سسرال والوں کی مرضی ہے وہ چاہے جاب کروالے یا گھر میں ہی رہنے دیں .
جيسى آپ کی مرضی وہ خاموش ہوگئی
رات بہت ہوگئی اب سوجائیں ! جی .
نماز فجر ادا کرنے کے بعد وہ باہر نکل ہی رہے تھے کہ امام صاحب نے آواز دے کر روک لیا .
بھئی آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر کچھ وقت آپ نکال لیں تو کر لیتے ہیں . !
مجھے آج آفس جلد جانا ہے ! معذرت خواہ ہوں شام میں جلد آجاؤں گا تب کرلیتے ہیں مشتاق احمد صاحب نے نرمی سے جواب دیا .
کوئی بات نہیں شام میں ہی سہی امام صاحب مسکرادیے .
رحمان صاحب جو مشتاق صاحب کے ساتھی ہیں انھیں معلوم تھا کہ مشتاق احمد کو دو لڑکیاں ہیں . اس لئے انھوں نے اپنے لڑکے کے لئے مشتاق احمد صاحب کی بیٹی کو پوچھا .
بھائی میرا لڑکا software ہے مجھے پڑھی لکھی بااخلاق لڑکی چاہیے اور آپ کا رکھ رکھاؤ اور صحبت سے مجھے اندازه ہوگیا کہ آپ ایک اعلیٰ خاندان کے فرد ہیں ، اگر آپکی بیٹی ہمارے گھر کی بہو بن جائے گی تو ہماری قسمت کھل جائے گی .
مشتاق احمد صاحب نے دیے لفظوں میں پوچھا ... صرف پڑھی لکھی یا کچھ اور ؟
کیا مطلب بھائی ؟ رحمان صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا
میرا مطلب ہے آپ پہلے اپنے گھر کے خواتین سے دریافت کرلیں کہ لڑکی میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہیے کیونکہ ہم دونوں کے خیالات سے مختلف ان کے خیالات ہوتے ہیں .
ہاں وہ مجھے معلوم ہے یہی کہ گوری رنگت کی ، پڑھی لکھی وغيره وغيره وه ہنسے لگے ....میری بیٹی گوری نہیں ہے معاف کردیں مشتاق احمد دل گیر اور آزرده سی آواز میں کہنے لگے .
کیا دونوں لڑکیاں کم رنگت کی ہیں؟ رحمان صاحب نے سوال کرڈالا
نہیں چھوٹی ماشاء اللہ گوری رنگت کی ہے
تو پھر آپ چھوٹی کا رشتہ ہمارے لڑکے سے کردیں !
یہ کیسے ہوسکتا ہے بڑی لڑکی کو رکھ کر چھوٹی کی شادی؟ وہ خفگی ظاہر کرنے لگے .
ارے صاحب میں نے کب کہا کہ شادی کردیں آپ صرف بات دے دیں بس ہم بڑی لڑکی کی شادی تک انتظار کرلیں گے کیونکہ ہمیں آپکی لڑکی چاہیے بس چاہیے وہ قہقہ لگاتے ہوئے مشتاق احمد صاحب کو دیکھنے لگے .
وه بھی مسکرا کر رہ گئے .
گھر میں کہہ کر آپ کو جواب دوں گا
ہاں ہاں ٹھیک ہے بھا بھی سے مشوره کرکے ہی جواب دیں .
وہ مغرب کی نماز ادا کرکے امام صاحب سے ملنے چلے گئے
آپ نے صبح مجھ سے کچھ بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا .
جی صاحب !
بتائیے میں اب فری ہوں !
ہاں چلئے وہاں بیٹھ کر گفگتو کرتے ہیں .
دونوں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے اور امام صاحب نے گفتگو کا آغاز کیا
مشتاق صاحب مجھے ایک ہی لڑکا ہے یعنی اکلوتا جی انجینئر ! اچھا ! بیٹی تو کوئی ہے نہیں اب لڑکے کی شادی کرنے کا ارادہ کیا ہوں تو آپ کی بھی لڑکیاں ہیں سنا تھا اس لیے آپ سے ہی پوچھ لینا مناسب سمجھا ـ اگر آپ اجازت دیں تو گھر کی زنانہ کو بھیج دوں گا لڑکی دیکھنے کے لئے !
پہلے آپ یہ دریافت فرمائیں کہ لڑکی کس معیار کی ہونی چاہیے مشتاق احمد صاحب نے جواب دیا .
جی ! مجھے معلوم ہے يعنى میرا ، لڑکے کا اور اس کی ماں کا ایک ہی نظریہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں لڑکی دین دار اور پڑھی لکھی چاہیے کیونکہ اپنی اولاد کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی واقف کروا سکے تاکہ نسل در نسل ہمارے دین کو قائم رکھا جاسکے یہی آج کی بہت اہم ضرورت ہے ، پیسہ، خوبصورتی تو آنی جانی چیز ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی اچھی تربیت ، اور دین ہے اور اچھے اخلاق و کردار . اور الحمد للہ میرے پاس پیسہ کی کوئی کمی نہیں ہے میں جاگیردار ہوں پھر بھی مسجد میں امام کی طرح خدمت کر کے آخرت کا توشہ تیار کرلے رہا ہوں . اور میرا بیٹا بھی صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے۔ آپ گھر میں مشوره کر کے تشفی حاصل ہونے پر ہی مجھے آگاه کریں . جی بہتر.
نازیہ ! جی آج ہی دو رشتے آئے ہیں ! کس کے لئے ؟ وہ پوچھنے لگی پتہ نہیں ! کیا مطلب ؟ وہی ایک تو ہادیہ کے لئے ہے آفس کے رحمان صاحب کا لڑکا اور دوسرا ؟ مسجد کے امام صاحب کا لڑکا وہ کس کے لئے ؟ وہی میں نے ان سے پوچھا نہیں ... اور پوچھے بھی مت کل فجر میں کہہ دیں ہماری لڑکی کالی ہے ! نازیہ نے برا سا منہ بنا کر شوہر کو کہہ دیا
اور وہ رحمان صاحب کو کیا جواب دوں ؟
بڑی لڑکی کے ہوتے چھوٹی کی نہیں کرتے کہہ دیں
ارے وہ لوگ انتظار کرنے کو تیار ہیں ...
اچھا تو کرنے دیں ہاں کہہ دیں پر ابھی دیکھنے کی بات نہ کریں سعدیہ کو برا لگے گا .
ٹھیک ہے کہہ دوں گا .
دوسرے دن مشتاق احمد صاحب بعد نماز فجر امام صاحب سے کہنے لگے ." میں معافی چاہتا ہوں امام صاحب کہ میری بچی کا رنگ کم ہے اس لیے یہ بات پہلے ہی معلوم ہو جائے گی تو ٹھیک رہے گا ، یعنی آپ لوگوں کو آکر لڑکی دیکھنے کی زحمت کیوں ؟
آپ نے مجھے غلط سمجھا مشتاق صاحب مجھے معلوم ہے آپکی بڑی لڑکی کا رنگ کم ہے اور اس بات کو لے کر آپ پریشان ہیں لیکن صرف اس ایک چیز کو لے کر باقی تمام کو نظر انداز کر دینا سراسر بے وقوفی ہے اور میں نے آپ کو اشاره بھی دیا کہ رنگ کوئی معنى نہیں رکھتا ہماری نظروں میں ـ
ہمیں آپ کی بڑی لڑکی ہی پسند ہے اگر آپ اجازت دیں تو آج ہی بات آگے بڑھا لیتے ہیں .
مشتاق احمد صاحب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا وہ بہت خوش ہوکر امام صاحب کو گلے لگا لیے ! اور اجازت دے دی .
اشراق ادا کرکے گھر چلے گئے اور نازیہ کو خوش خبری سنانے لگے .
دیکھا دونوں کو یک ساتھ آگئے رشتے وہ مسکراکر بيوى کو دیکھنے لگے .اور وه مثل مشہور ہے ناں کہ " بغل میں لڑکا شہر میں ڈھنڈورا " ہاں نازیہ بھی ہنسنے لگی .
شام چار بجے امام صاحب کی بیوی نے آکر سادگی سے سعدیہ کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کرلیا اور انگوٹھی پہنا کر گئیں۔
دوسرے دن رحمن صاحب کے گھر والے ہادیہ کو اپنی بہو کے طور پر قبول کرلیے اور اس طرح سے دونوں بہنوں کو الله تعالی نے صحیح رشتے عطا فرمائے ۔ "اللہ تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " .
فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ۔
روزنامہ منصف ... گھر آنگن مورخہ 2 / نومبر 2022