سچی محبت
کیا کہا اس نے ؟
وہی ضد پکڑے بیٹھی ہے
اب کیا کریں ؟
میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے !
اس بچی نے پریشان کررکھا ہے .
بس ایک ہی ضد پکڑی ہوئی ہے کہ اب میں اس گھر میں نہیں جاؤنگی !
ہاں تو یہ سب آپ ہی کا کیا کرایا ہے ، میری کہاں سنتے ہیں آپ .... بیگم رضا نے سختی سے جواب دیا ، دیکھو بیگم یہ وقت ہم دونوں لڑائی جھگڑے کرنے کا نہیں ہے ،
بہت ہی نازک گھڑی آن پڑی ہے ہم پر مختار رضا نے بیوی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا .
الشباجو ان کی اکلوتی بیٹی تھی .
شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی میکے آکر دوبارہ نہ جانے کی ضد لگائے بیٹھی ہے .
وجہ صرف یہ ہے کہ نمازوں کو ادا کرنے کے لئے شوہر کی طرف سے سختی !
مختار رضا کی اپنی ذاتی دوکان تھی جس میں وہ لیڈیز ایمپوریم لگائے ہوئے تھے .
الحمد للہ بہت ہی عمده طریقہ سے دوکان چل رہی تھی اولاد میں صرف ایک لڑکی تھی الشبا جو کہ بی ٹیک کرچکی تھی .
مختار رضا صاحب نے اپنے دوست ابراہیم صاحب کے لڑکے التمش جو کہ لکچرر ہے سے اپنی بیٹی کی شادی کرڈالی.
نکاح تو ہر دو کی رضا مندی سے ہی طے پایا
پر اب لڑکی سسرال جانے سے انکار صرف ایک ہی وجہ سے کررہی ہےاور وہ ہے نماز ....
اب بیگم رضا یعنی بلقیس رضا کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے ہی اس رشتہ سے مطمئن نہیں تھی .
کیونکہ الشبا آزاد خیال لڑکی اور ابراہیم صاحب کا گھرانہ ذرا پابند کہلاتا تھا .
پر مختار رضا نے ایک نہ سنی اور چٹ منگنی پٹ بیاه کرڈالا ۔ الشبا سے اس رشتہ کے بارے میں پوچها گیا تب اس نے بھی رضامندی ظاہر کردی تھی . اب اس کا کہنا ہے کہ وہ پینٹ اور شرٹ پہننے والے مرد نمازوں کے اتنے پابند نہیں رہتے اس خیال سے اس نے حامی بھرلی تھی .
التمش بہت ہی سمجھ دار اور سلجھا ہوا لڑکا تھا ، وہ الشبا کو دل و جان سے چاہتا ہے پر جہاں دین کا معاملہ ہو وہاں پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ، اور وہ بھی فرائض میں شامل ہو ،
ہیلو ! السلام علیکم... جی وعلیکم السلام الشباگھر کب آرہی ہو؟
کبھی نہیں !
ایسا نہ کہو الشبا
میرا قصور کیا ہے بتاؤ تو سہی
مجھے کچھ نہیں پتہ بس میں اب آنے والی نہیں ہوں !
امی نے یا بابا نے کچھ کہا ؟
نہیں!
تو پھر؟
میشا نے کچھ کہا ؟
نہیں!
کام زیادہ کرنا پڑرہا ہے کیا؟
نہیں!
اب بتا بھی دو آخر کیوں نہیں آنا چاہتی ہو؟
مجھے کال مت کریں پلیز !الشبا .. الش سنو تو اس نےکال کٹ کردیا .
بیٹی الشبا ! جی بابا ...! آپ نے ناشتہ کرلیا ہاں بابا اچھا اب ذرا میرے پاس بیٹھو اِدھر آؤ !جی
اب بتاؤ کہ آپکی پرابلم کیا ہے ؟
جی کچھ نہیں تو پھر چلو چلتے ہیں التمش آپ کا انتظار کررہے ہیں .
نہیں ....
کیوں بیٹا ؟
بابا وہاں نا ہاں بتاؤ ! مجھے فجر کی نماز کے لیے اٹھاتے ہیں اتنی صبح اٹھنا میرے لئے دشوار کن مرحلہ ہے
اچھا تو باقی کے چار نمازیں تو ادا کرلو بیٹی
میں پانچ نمازیں تو نہیں ادا کرسکتی! تو پھر ؟دو ادا کر سکتی ہوں بابا وه لا ڈ و پیار سے مختار رضا کو بتانے لگی پر التمش ہے نا مجھے پورے پانچ نمازیں ادا کرنے کو کہتے ہیں اور اگر نہیں پڑھی نماز تو وہ بھی سب کے سامنے ڈانٹتے ہیں ، مجھے اپنی انسلٹ نہیں کروانی ہے وہاں جاکر ، ٹھیک ہے بیٹی میں التمش سے بات کرونگا ، اب تو خوش ہاں مگر بابا وہ آپکی بات ماننے والے نہیں ہیں نماز کے معاملے میں وہ بہت سخت ہیں اس لیے میں یہیں ره جاؤں گی ، آپ پلیزمجھے جانے کے لیے تنگ نہ کریں ، بلقیس بیگم دونوں باپ بیٹی کی گفتگو سن رہی تھی ، ہاں تو اس میں غلط کیا ہے نماز تو ہر مسلمان عورت اور مرد پر فرض ہے ، تو امی جی آپ نے مجھے یہ سب باتیں پہلے کیوں نہیں بتائی؟ مختار رضا اور بلقیس بیگم دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ... وہ ... وہ ... اس لئے کہ آپ پڑھائی کرکے تھک جاتی تھی ناں اس لئے آپ کو ذرا چھوٹ دی جاتی تھی ، مگر بیٹی اب تو آپ کو ایک دیندار گھرانا ملا ہے آپ کی وہاں پر قدر کی جاتی ہے تو آپ بھی ان کا خیال رکھنا چاہیے ناں اس میں آپ ہی کی بھلائی ہے دین و دنیا کی ٹھیک ہے میں التمش سے بات کروں گا ! کیا بابا ؟ وہی کہ ہماری بیٹی دو نمازیں ادا کرے گی اسے تنگ نہ کیا جائے ! اب تو خوش ؟ خوش وہ باپ سے لپٹ گئی .
آپ مطمئن رہیں انکل بس الشبا اس گھر آجائے مجھے اور کیا چاہیے میں آہستہ آہستہ سب سیکھا دونگا ، ہاں شابا ش بیٹے ہم کل آرہے ہیں جی بہتر میں انتظار کروں گا .
مختار رضا نے داماد سے فون پر گفتگو کر کے ساری تفصیلات دے دی .
دوسرے دن الشبا اور اس کے ماں باپ ابراہیم صاحب کے مکان پہنچ گئے وہ بہت خوش تھی کہ اسے پھر سے التمش مل گیا پر دل میں ڈر تھا کہ کہیں وہ پھر سے پانچوں نمازوں کو ادا کرنے کے لئے نہ کہہ دے .
ساس نند نے آکر الشبا اور بلقیس کو اپنے ساتھ لے گئیں اور التمش مختار رضا کے ساتھ بیٹھے باتیں کرنے لگے . نظریں تو الشبا پر تھیں اور گفتگو ان سے ہورہی تھی وہ تھی ہی اتنی پیاری اور معصوم کہ التمش اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتے پر دو ماه کا ساتھ نبھا کر وہ ایسے چلی گئی کہ اسکی راتوں کی نیند اور دن کا چین سب کچھ چھین گیا .
آپ کو ہماری ذرا فکر نہیں ہوئی الشبا ؟ وہ سوتے وقت بہت ہی پیار سے پوچھنے لگے ہاں فکر تو تھی پر آپ کی سختی کو یاد کرکے مجھے آنے سے ڈر لگا .
ایک پروگرام بنایا ہے میں نے اگر آپ راضی ہیں تو کل سے ہی تیاری شروع ہوگی ! کونسا پروگرام ؟ الشبا اٹھ بیٹھی ! کیوں نہ ہم عمره کی سعادت حاصل کرلیں ؟ التمش نے مسکراتے ہوئے الشبا کو دیکھا ، الشبا کی حالت تذبذب سی ہوگئی ا !
کیا ہوا الش ؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا التمش نے اسے بلایا ، ہاں میں یہ سونچ رہی تھی کہ وہاں تو بہت نمازیں ادا کرنی پڑتی ہے اس لیے وہاں جانا میرے لئے کیسا رہے گا .
اس مقدس سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد ہم خودبخود رحمت کے سایہ میں داخل ہو جاتے ہیں آپ چل کے تو دیکھیں پھر دوبارہ جانے کی تمنا کروں گی . پلیز میری خاطر الش ! اگر وہاں جاکر بھی میرا دل نماز کے لیے راضی نہیں ہوا تو میں گہنگار ہو جاؤں گی اس لیے مجھے جانا مناسب نہیں لگتا وہ دھیرے سے کہنے لگی . آپ کو اتنی معلومات تو ہیں کہ نماز نہ پڑھنے سے گناه ہوگا تو پھر کیوں نہیں پڑھتی ؟ عادت نہیں بے اس لیے تو اب عادت بنالو وہ اسے سمجھانے لگا ، ہاں مگر کیسے دل راضی نہیں ہوتا وہ اپنی مجبوری بتانے لگی ، اسی لئے وہاں جاکر آجائیں سب ٹھیک ہوگا ! کیا ؟ صحیح کہا نا میں نے .
کافی تکرار کے بعد الشبا نے عمرہ کرنے کے لئے رضا مندی دے دی بس پھر کیا تھا التمش بہت خوش تھے کہ وہ الشبا کو ساتھ لے کر عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے ہیں .
انسان کے دل کو پلٹنے میں دیر نہیں لگتی اگر خالق حقیقی کی رضا مندی شامل ہو وہ اپنے بندوں کو گرنے سے بچاتا ہے اور گمراہی کے دلدل سے نکالنا چاہتا ہے الشبا بہت خوش قسمت ہے جو اسے نیک صفت انسان سے الله تعالٰی نے رشتہ زوج سے جوڑا .
عمره سے واپسی کیا وہ ایک نیا جنم ہی لے کر تو آئی اس کی تو ساری سونچ ہی بدل گئی میکہ اور سسرال والے سب حیران تھے کہ پہلے کی الشبا اور اب کی الشبا میں کتنا فرق ہوگیا ہے . التمش نے نکاح کے صحیح معنى و مفہوم کو سمجھا ہے ، آج ہمارے معاشره میں ایسے بہت سے گھرانے موجود ہیں جہاں والدین تو پانچوں وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں لیکن اولاد کو چاہے وہ لڑکا ہو کہ لڑکی نماز کی ادائیگی کی تاکید نہیں کرتے ، اولاد کو سب سے پہلے دی جانے والی تربیت میں نماز ہی ہونا چاہیے جس سے ان کی زندگی پاکیزه ہو جائے گی . اور
شادی شدہ جوڑے ہنی مون پر جانے کے لئے بہت ہی عجلت کرتے ہیں بجائے اس کے اگر اللہ تعالٰی کے مقدس مقامات کا دیدار کرلیا جائے تو ہماری ازواجی زندگیاں کتنی سہل اور آسان گزر جا ے گی . یہی ہے شوہر اور بیوی کی سچی محبت .
فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ، ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔
روزنامہ منصف گھر آنگن ... 4 / جنوری 2023