محبت کی منزل

آج پھر مجھے وہ مسکراتی آنکھیں نظر آگئی ، جس کو دوبارہ دیکھنے کی آس لیے میں نہ نجانے کتنے طویل انتظار سے گزر چکا تھا ، وہ آنکھیں جن سے مجھے پیار ہوگیا تھا وہ آنکھیں جو مجھے زندگی کا پیغام دے گئی تھی وہی آنکھیں جن کو میں دل میں بسائے پھرتا ہوں ، ویسے میں یہاں تھا بھی کہاں گذشتہ برسوں سے دیار غیر میں اپنوں سے جدا ہو کر زندگی گزار رہا تھا ، یہ زندگی کی بھاگ دوڑ اور یہ رشتوں کی کشمکش ہمیں یہ سونچنے کا اور یہ دیکھنے کا موقع کہاں فراہم کرتی ہے کہ کون کدھر ہے اور کس کو کس کی فکر لگی ہے بس دوڑتے جانا ہے یہاں تک کہ پیر آہستہ آہستہ قبر کی طرف رواں دواں ہوتے چلے جاتے ہیں . اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہم کب بوڑھاپے کی چوکھٹ پر قدم رکھ چکے ہیں اور کب عصر سے مغرب کی جانب گامزن ہو گئے ہیں ، اور موت جو کہ ہماری حقیقی دوست ہے ، ہمارے راستے صاف کئے ہماری منتظر ہے .
ہاں بس جب سے میں نے جوانی کا خوب صورت لبادہ اوڑھ لیا تھا واقعی میں مجھے اللہ تعالٰی نے بہت خوب رو اور پرکشش بنا دیا تھا . مہذب خاندان اور معتدل آمدنی والی ہماری فیملی تھی ، نہ کوئی ریاکاری اور نہ ہی کسی اندھی تقلید میں گرفتار ، بابا اور امی دونوں کے شفقت سے بھر پور ساتھ نے مجھے ایک سافٹ ویئر انجنیر بنا دیا مجھ سے چھوٹی ایک بہن مختصر یعنی چھوٹا خاندان خوشحال خاندان کی طرح ہم سب اپنی اپنی زندگیوں سے مطمئن تھے۔
پھر اچانک ایک دن بابا نے دنیا سے رشتہ زیست توڑ کر دار البقا سے رشتہ جوڑ لیا اب اس اچانک ہونے والے صدمہ سے امی نے بستر پکڑلیا امی اور بابا میں بہت محبت تھی وہ یک قلب دو جان کی طرح رہتے تھے مالک حقیقی کی رضا کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کر نا ہی پڑے گا ، مجھے اپنے پیروں پر کھڑا کرکے جانے والے میرے بابا میری بہن کی شادی کے لیے بھی ساری رقم کا انتظام کرگئے تھے بس مناسب رشتہ ڈھونڈ کر بياه نا ہی مقصد تھا۔
جب بڑوں کا سایہ سر پر قائم رہتا ہے تو بچے بے فکر اور ہر معاملہ سے لاتعلق رہتے ہیں اور باپ تو بچوں کے لئے زندگی کی محاذ جنگ میں ہر فتح حاصل کرنے کے لئے ایک زبردست ہتھیار ہوتا ہے باپ کا سایہ فگن اولاد کی زند گی میں ہر آنے والی مخالف آندھیوں سے لڑنے کے لئے تیار رہتا ہے . ماں کی ممتا باپ کی شفقت جس اولاد کو بھی مل جاتی ہے وہ بڑے نصیبوں والے ہوتے ہیں . انکی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے .
مہک جو میری گڑیا جیسی بہن ہے اور وہ بالکل اپنے نام کی طرح گھر کو اپنی خوب صورت ہنسی اور باتوں سے مہکا تی رہتی ہے اب اس کے لئے مناسب رشتہ کی تلاش میری ذمہ داری بن گئی تھی کیونکہ امی تو آہستہ آہستہ اپنا دماغی توازن بھی کھونے لگی تھی . ایسے حالات میں مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا .خالہ امی اور میری خالہ زاد بہن نبا نے اس معاملہ میں میری بھرپور مدد کی اور مجھے کسی بھی پریشانی سے دوچار ہونے نہیں دیا اور عاكف جیسے شریف اور ہونہار لڑکے سے مہک کی شادی ہوگئی.
ایک دن اچانک امی کی طبيعت بگڑنے لگی اورمجھے امی کی کیر ٹیکر نے کال کرکے بلوایا مجھے امی کو فوراً ہاسپتل شفٹ کرنا پڑا ، انھیں بہت سا نس آرہی تھی جوکہ اوٹ آف کنڑول تھی بروقت ڈاکٹر س کوئی نہیں تھے میں بہت گھبرایا ہوا ادھر اُدھر دوڑ رہا تھا مجھے امی کی حالت پر بہت رونا آرہا تھا پر میں بے یارو مددگار کھڑا ہر کسی سے ڈاکٹرس کے بارے میں پوچھتا رہا . تب یہی مسکراتی آنکھیں میرا تاقب کرتی ہوئی میرے قریب آئی اور امی کا چیک اپ کرکے انھیں ایک انجکشن لگواکر وہاں سے چلی گئی جس کے فورا بعد نرس نے آکر اطلاع دی کہ وہ ڈاکٹر ہیں بس امی کو افاقہ ہوگیا میں اس ہمدرد ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرنا چاه رہا تھا پر افسوس کہ وہ دوباره مجھے نظر نہیں آئی اور پتہ چلا کہ وہ اس دواخانہ کی نہیں بلکہ دوسرے ہاسپٹل کی ہیں .
چند مہینوں بعد امی بھی اس دنیا سے کوچ کرگئی مہک اپنے گھر کی ہوگئی میں اور میری تنہائی بس کوئی نہیں تھا میرا ساتھ دینے والا ، پر مجھے دن رات اس برقعہ پوش ڈاکٹر اور اس کی مسکراتی آنکھیں اپنی طرف کھینچتی نظر آتی ، نجانے کیسی کشش تھی ان آنکھوں میں کہ میں بھولنے کی لاکھ کوشش کرتا ، پر میری ہر کوشش رائیگاں جاتی . مجھے ان آنکھوں کو اپنانا تھا پر کیسے؟ اس درميان ہی خالہ امی نے نبا کے لئے مجھے پرپوز کیا ، نبا کو تو میں نےپہلے کبھی اس نظرسے نہیں دیکھا پر اب میری بہن کے بارے میں بھی مجھے سونچنا تھا ماں باپ بھائی سب کچھ میں ہی تھا اور خاندان کی لڑکی تھی نبا !خاص خالہ زاد اور میرا ساتھ دیا تھا اس نے بس ان تمام احسانات کو سونچ کر میں نے بادل نخواستہ حامی بھر لی ، کچھ رشتوں کو جوڑے رکھنےکے لئے چند رشتوں کو اپنا لینا چاہیے یہی انسانیت کا اعلیٰ مقام ہے ، اگر میں نبا سے شادی کا انکار کرتا تو میری پریشانی اور بڑھ جاتی شائد !دل تو چاه رہا تھا کہ اس اسپتال کو جاؤں اور اس حسین مسکراتی آنکھوں والی ڈاکٹر کا پتہ معلوم کرلوں پھر اس سے اپنی دلی کیفیت بیاں کردوں ، لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا تھا کیونکہ خالہ امی نے مجھ سے اپنی بیٹی کےرشتہ کی توقع رکھی تھی پھر کیا تھا چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا .
کہتے ہیں کہ انسان کے گن اس کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں جب تک اسکی سنگت میں نہ رہ لیں معلوم نہیں ہوتے مجھے یہ بات اس وقت سمجھ آئی جب پہلی بار مہک اپنی بھابھی کے ساتھ میکے میں رہنے چلی آئی اور نبا نے ناک بھوں چڑھا کر اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا ، میں اور مہک نے اچھی طرح سے سمجھ کر برداشت کرلیا ، مجھے اس دن نبا میرے دل میں بیھٹی بلند و بالا عمارت کی مسند سے نیچے اترتی نظر آئی جن خوبیوں کے اظہار سے میں نے اسے خوش دلی سے اپنایا تھا ، نبا وہ پہلی والی نبا نہیں رہی آج اس نے اس کے مخالف حرکت کرکے میرے دل کو ٹھیس پہنچائی ، اس دن میرے دل کے نیہاں خانوں میں بند وه مسکراتی آنکھیں مجھے پھر سے یاد آنے لگی ،کتنے عجيب ہوتے ہیں یہ رشتے بھی کبھی بنا مانگے خوشیاں عطا کر جاتے ہیں اور کبھی بغیر اجازت دکھوں کے پہاڑ سر پر ڈال دیتے ہیں . کبھی کبھی دل کی باتیں صاف صاف کہہ دینی چاہیے کچھ فیصلے ہوپاتے ہیں اگر نہ کہی جائے تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں نجانے نبا کے دل میں کیا چل رہا تھا وہ ہروقت گم صم اور بے چین رہا کرتی میرے لاکھ پوچھنے پر بھی نہیں بتاتی . ویسے میں نے بھی تو بھید چھپا رکھا تھا اپنی مسکراتی آنکھوں والی کا !
شادی کے تین سالوں میں مجھے نبا سے زیادہ دوری اختیار ہوتی نظر آنے لگی کیونکہ وہ مجھے صرف مجھے ہی اپنا رہی تھی میرے اپنوں کے لئےاس کے دل میں کوئی جگہ نہیں تھی اور برعکس اس کے میری اپنی دنیا میں صرف وہ ، نبا اور مہک ہی تھے . شائد میں نبا کو وه پیار نہیں دے پایا جس کی وہ حق دار تھی ،زندگی میں رشتوں کی استواری لازمی شئے ہے ورنہ ہم ادھورے ہو کر رہ جاتے ہیں ، میں نے اپنے لحاظ سے بہن اور بیوی کے حقوق کو بہتر طور پر نبھانے کی کوشیش کی پر نبا بہت ضدی تھی وہ ہمیشہ سے اپنے حق میں ہی فیصلہ لیتی اور مہک سے نفرت کرتی اور مجھ سے ناراض رہتی ، جس دن مہک میکے آتی نبا کسی نہ کسی بہانے اپنے میکے چلی جاتی میں اور میری بہن گھر میں اپنے خوشیاں تو کبھی غم بانٹ کرلیا کرتے مگر میرا دل ایک عجیب سی اضطراری کیفیت سے دوچار رہتا یہی کہ نبا جان بوجھ کر اپنے میکے گئ کیا مہک کا آنا اب اسے اتنا چبھ رہا ہے کہ وہ ہم بہن بھائی کو چھوڑ کر جارہی ہے .ایک دن تو حد ہوگئی میری بہن میکے آئی اور نبا نے اس کی دلی کیفیت سے لاتعلق ہو کر مجھ سے لڑائی جھگڑا کرنے لگ گئی اور خالہ امی کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی .
آج نبا نے مجھ سے خلع لینے کی بات کہی ،محض اس شک و بد گمانی سے کہ میں ہمیشہ اپنی بہن کی ہی پرواہ کرتا ہوں اور اسے نظر انداز کرتا جارہا ہوں میں نے لاکھ سمجھایا پر وہ نہیں مانی . عاكف دبئی میں رہنے کی وجہ سے مہک اور بچوں کی ذمہ داری مجھے نبھانی پڑتی تھی ، عاکف کی ماں یعنی مہک کی ساس ہمیشہ اسے میکے میں رہنے کی تاکید کرتی رہتی کہ شوہر کی غیر موجودگی میں میکہ میں رہنا ہی بھلا ہے پر یہاں کے حالات کچھ اور تھے نبا کو میری بہن اور اس کے بچوں سے چڑ سی ہوگئی تھی اس کی ایک وجہ مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبا نے مجھے ابھی اولاد کی خوش خبری نہیں دی تھی اور مجھے بچے بہت پسند تھے اپنے بھانجے اور بھانجی میں مجھے خوش دیکھ کر اسے بہت غصہ آجاتا اس طرح سے وه مجھ سے بات بے بات لڑائی جھگڑا کر تی ، روز روز کی توتو میں میں سے میں تنگ آگیا تھا اب ہمیں علحیدگی اختیار کرلینی لازمی تھی .
میں نے بھی اسے جانے دیا ! ایسا فضول اور بے بسی و بے اعتباری کے رشتے کا کیا فائدہ جس میں میاں بیوی کی ایک بات اور ایک رائے شامل نہ ہو اور ویسے ہمیں الله تعالٰی اولاد جیسی نعمت بھی سے تو نہیں نوازا تھا شائد ہمارا ساتھ اتنا ہی تھا.
پھر میں سعودی عرب چلا گیا ، مہک کو عاکف نے اپنے پاس بلوالیا وہ اپنے شوہر اور دونوں بچوں کے ساتھ خوش تھی . 
بعض کام کسی ایسے لمحے کے منتظر ہوتے ہیں کہ وہ لمحہ اپنی اہمیت دیکر گزر جاتا ہے ، آج بھی میں یہی سوچتا ہوں کہ اگر عاکف پہلے میری بہن کو بلوا لیتے تو شائد میری از و اجی زندگی نہ بگڑتی اُدھرمہک ہمیشہ سے خود کو کوستی رہتی کہ اسکی وجہ سے ہی نبا نے مجھ سے جھگڑا کیا اور میکہ چلی گئی ، وہ ایک ہنستے کھیلتے گھرانے کو برباد کر گئی شائد اس کی باتوں میں سچائی تھی پر اب سب کہنے سننےسے لاحاصل ہے مجھے تو کوئی اولاد نہیں ہے بس تن تنہا اپنی زندگی کو ڈولتی نیاه کی طرح لے چل رہا ہوں نہ جانے کب کونسا طوفان آجائے گا اور میری کشتی ڈوب جائے گی . 
      آج مہک مجھ سے ملنے آئی ہوئی تھی اور عقد ثانی کے لئے اشاره کرنے لگی میں اسکی بات کو ٹال نے لگا ، کیونکہ ابھی میرا اور نبا کا رشتہ قائم ہے اور میں اس طرح سے نبا کو نہیں چھوڑ سکتا ہاں میں مانتا ہوں کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی پر شائد اس کی نظر میں میں ہی غلط ہوں ، میں سکون کی تلاش میں بچوں کو لے کر پارک آگیا اچانک مجھے وہ مسکراتی آنکھیں نظر آگئی میں مچھلی بے آب کی طرح تڑپتا بچوں کو کھیلتا چھوڑ کر اس عظیم ہستی کی طرف دوڑے جانے والے انداز میں چلتا ہوا گیا اور بالکل مخالف میں حاضر ہوگیا اس طرح سے اچانک مجھے سامنے پاکر وہ بہت گھراگئی پھر میں نے ہی اپنا تعارف پیش کیا وه اپنے ذہن پر زور ڈالتی ہوئی سونچ نے لگی پھر آنکھوں سے ہی مسکراہٹ عیاں کرنے لگی .
میں نے جھجھکتے ہوئے اس کا نام پوچھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا . میں خود سے شرمنده ہوگیا اور جانے کے لئے پلٹ گیا .
چلو مسکان ! اب بہت دیر ہوچکی ہے چلتے ہیں کوئی آکر اس سے مخاطب ہوئی اچھا تو محترمہ کا نام مسکان ہے میں زیر لب مسکرا کر آگے بڑھ گیا .
سعودی سے پوری طرح کام نپٹا کر دوبارہ یہاں آفس جوائن کرلیا تھا میں نے. مہک بھی انڈیا آئی ہوئی تھی اب وہ میرے پاس زیادہ آنا پسند نہیں کرتی 
میں ہی اس کے گھر جاتا اور بچوں کو لے کر پارک کو چلا جاتا اور اس طرح سے آفس کی تھکان بھی اتر جاتی اور میری تلاشتی نظریں اس پیکر خلوص کو ڈھونڈتی پھرتی ، میری آ س و اميد بے قرار ہو کر گھر لوٹ آتی . 
آج پورے ایک ہفتہ بعد مجھے دوبارہ وہ برقعہ پوش مسکراتی آنکھوں والی میرا مطلب ہے مسکان پھر سے نظر آگئی میں بے چین و بے قرار دل لیے اس کی طرف دیکھتا رہا وہ بھی مجھے دیکھنے لگی لیکن فوراً ہی دوسری طرف رخ کرنے لگی میرا دل اس سے بات کرنے کو تڑپ رہا تھا میں نے آہستہ سے ایک طرف قدم بڑھا دیا وہ مجھے اپنے پاس آتا دیکھ کر آگے کو بڑھ گئی . کوئی دوسری خاتون میرے قریب آگئی اور کہنے لگی آپ مسکان سے ملنا چاہ رہے ہیں شائد ؟ جی میں نے جواباً سر کو حرکت دی وہ گونگی ہے ... کیا ؟؟ میں نے زور سے چیخنے والے انداز میں کہا !ہاں اور وہ ڈاکٹر ہے جی مجھے معلوم ہے میں نے جواب دیا وہ چلی گئی اور میرے کچھ کہنے سننے سے پہلے ہی وہ مجھے حیرت میں ڈال گئی میرا تجسس اور بڑھ گیا ایسے کیسے ہوسکتا ہے بھلا میں فکرمند انداز سے اپنے آپ کو سوال کرتا ہوا بچوں کی طرف لوٹ آیا
نیند آنکھوں سے کوسوں دور کھڑی مجھے لعن طعن کر رہی تھی ، کہہ رہی تھی کہ اچھا ہوا جو نبا تجھے چھوڑ گئی اگر وہ ہوتی تو بے چاری غیرت سے خودکشی کرلیتی یا پھر تجھے مار کر قاتلہ کا تمغہ گلے میں ڈال لیتی ، کیونکہ ایک شریف انسان کو زیبا نہیں دیتا کہ وہ کسی شریف اور باحجاب لڑکی یا خاتون کا پیچھا کرے . آج پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں ہر قدم سونچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے ، اور زندگی میں بعض فیصلے بھی ہم غلط کربیٹھتے ہیں جسکا پچھتاوا تا حیات رہتا ہے . آنکھوں سے نیند اڑجانا ، دل بے چین و بے قرار ہونا کسی سے ملاقات کرنے کےانتظار میں گھڑیاں گن لينا یہ سب محبت کے اصول ہوتے ہیں تو کیا میری محبت ابھی زندہ ہے مسکان کی محبت کو آج بھی میں دل میں لیے بیٹھا ہوں !کیا شادی شده انسان کو بھی محبت ہوتی ہے؟ اگر ہوتی ہے تو کیوں؟ کیا وہ اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا یا اسکی شادی ایک سمجھوتہ ہوتی ہے . جو بھی ہو میں نے برا ارادہ کیا ہے پر میں دل سے مجبور ہوں ! یہ کوئی میرے بس کی بات نہیں ہے میں نہ چاہتے ہو ئے بھی اس کی طرف کھینچا چلا جارہا ہوں . یا خدا یہ مجھے کیا ہوگیا ! میری مدد کر مولا !دوسرے دن میں نے پارک جانے کا خیال کیا پر مجھے میرے ضمیر نے روک دیا. یہ کہہ کر کہ اگر وہ شادی شده ہے تو اسکی بدنامی ہو جائے گی اس طرح سے کسی کو بد نام کرنا کسی شریف بخت کا کام نہیں . اور اگر کنواری ہے تو تم اب معتبر شخصیت کے مالک ہو کیونکہ ایک شادی شده شخص با اخلاق ہوتا ہے . اور تم جیسے شادی شده سے وہ کیونکر بیاه رچائے گی . تم نے نبا سے رشتہ زوج جوڑا ہے تو محبت بھی اسی سے کرنی ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دینا یہ ہمارے مذہب میں شامل نہیں اور نبا نے تمھیں ایسے وقتوں میں ساتھ دیا تھا جبکہ دنیا والے تمھارا ساتھ دینے سے دور بھاگ رہے تھے . اور جس رشتے کو تم نے بخوبی نبھایا وہ ہے بھائی کا اب ایک اچھے شریک حیات ہو یہ بھی ثابت کردکھاؤ .
میں ان تمام باتوں کو دماغ سے جھٹک کر گاڑی کی طرف چل دیا ! یہ کیا گاڑی سے ٹیک لگائے نبا کھڑی میرا انتظار کررہی ہے . نبا میں بے اختیار اسکا نام لیکر گویا ہوا . جی آپ کی نبا وہ مسکراتی ہوئی میرے قریب آگئی . چلیں بچے ہمارا انتظار کررہے ہونگے پارک جانے کے لئے ...
ہاں چلو چلتے ہیں اسکو با ہوں میں بھرتا ہوا کار کا فرنٹ ڈور کھولنے لگا .
میں نے اپنے اٹھتے ہوئے قدم کو نبا کی راہ میں ڈال دیا جو کہ میری محبت کی منزل تھی اور دل میں اراده کرلیا کہ عشق کی باتیں نبا سےکروں گا . 

   فہمیدہ تبسم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔
روزنامہ منصف گھر آنگن مورخہ 8 / فروری 2023

ا

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]