انتقام
حنائی ہاتھوں میں قلم تھامے وہ دستخط کرنے کے لئے تیار بیٹھی تھی ، سامنے اسکی نند ہاتھ جوڑے اسے دستخط کرنے سے روک رہی تھی .
حریم جس کے ماتھے پر خوب صورت چاند اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا دلہن بنی پر سکون انداز میں وہ اپنی گردن کو روایتی دلہنوں کی طرح جھکائے بیٹھی رہی
بھابھی پلیز یہ ظلم نہ کرو میرے بچوں پر رحم کھاؤ ماہرہ کی آنکھوں سے آنسو بہے چلے جارہے تھے اور وہ یک ساتھ التجا کرتی اور رحم کی بھیک مانگ رہی تھی . آخر آپ کچھ کہتی کیوں نہیں اس نے حریم کے مہندی لگے خوب صورت ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
، وہ سندھ بدھ جیسے کھو چکی تھی ارد گرد کے سارے منظر اور حالات سے بے خبر اپنے ساجن کے خوب صورت خیالوں میں کھوچکی تھی وہ جو اسکی محبت تھا وہی جو اسکی چاہت اسکی دنیا اسکا کل سرمایہ اور نہ جانے کیا کیا تھا .
اسی کی موت کا بدلہ لینے کے لئے ، انتقام لینے کے لئےاس نے یہ قدم اٹھایا تھا ، وہ اب پوری طرح ٹوٹ چکی تھی بکھر چکی تھی اسے کوئی رشتہ حقیقی اور پائیدار نظر نہیں آرہا تھا وہ اس کھوکھلے رشتوں کے بند هن سے خود کو الگ تھلگ رکھنا چاه رہی تھی جن رشتوں کو وہ اپنی کائنات کل سمجھ بیٹھی تھی آج وہی سارے اسے رسوا کرچکے تھے اب وہ بدلہ لے کر اپنے مصمم ارادوں کی مہر لگانا چاه رہی تھی .
کچھ اپنے ماں باپ کی عزت کا سونچو بھابھی میرا نہیں تو اپنی اولاد کا خیال کرو کل کو وہ بڑی ہوکر آپ پر ہی نشانہ لگائے گی . ماہره کی باتیں اسے کانوں میں سیسہ انڈلینے والی لگ رہی تھی پھر بھی وہ اپنی ایک سالہ ننھی تحریم کو گود میں سلاتی ہوئی دستخط کے انتظار میں تھی .
چلئے آپ لوگ جو پرده نشين ہیں ہٹ جائیے دلہن سے دستخط لینی ہے مردانہ نکاح کے کاغذات لیے حریم کے پاس پہنچ چکا تھا جس میں اس کے مامو اور بھائی بھی موجود تھے .
حریم رضا کیا آپ کو یہ رشتہ منظور ہے ؟ جی منظور ہے کیا آپ کو عبد الرحيم صاحب کے لڑکے قویم صاحب سے عقد ثانی قبول ہے ؟ جی قبول ہے ، قبول ہے قبول ہے .
کتنا ناز تھا ماہره کو اپنے شوہر پر اور کتنی اکڑ تھی اپنی خوبصورتی پر اور ماہره کی ماں جوکہ حریم کی ساس ہر معاملہ میں بیٹی کی رائے لیتی اور ہر چھوٹی بڑی خوشی میں بڑے سے بڑا نذرا نہ بیٹی کی جھولی میں ڈال دیتی کسی کی مجال کہاں جو روکے اگر ہمت کر کے اشہر پو چھ بھی لیتے تو دوٹوک جواب ملتا کہ لڑکی ہے اور وہ تمہارا نہیں ہمارا مال کھارہی ہے اسے ترکہ بھی دیا جائیگا اور ہماری حیات تک ہمارا سب کچھ اسی کا ہے اور ویسے بھی اگر بیٹی کو تحفے ، نذرانے دیتے جائیں گے تو داماد ہماری بیٹی کو خوش رکھے نگے .
اور بیٹا بہو ؟ ہاں تو تم بھی اپنی بیوی سے کہہ دو کہ وہ اپنے میکے سے لائے اب تو ہمارا سسٹم معلوم ہوچکا ہے ! ہم ہماری بچی کو کریں گے اور وہ ان کی بیٹی کو کرے بس اس میں لڑائی جھگڑے کی بات ہی نہیں .
اشہر کو گھر میں عداوت یا مغائرت کا ماحول بنانا پسند نہیں تھا پر یہ بے بس تھے کیونکہ ساری جائیداد اور سارے جمع شده رقم سب ان کے والده کے نام تھی والد غلام احمد صاحب سرکاری آفیسر تھے اور سرکار کی نظروں سے بچنے کے لئے سرکاری معاملات سے خود کو بری رکھنے کے لئے بیوی کو مالكن بنادیا مختار کل بناکر وہ تو اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ گئے لیکن بیگم غلام احمد نے بیٹے کو خاطر میں نہ لاکر سارے معاملات میں داماد سے رائے مشوره کرنے لگیں ، آخرکار سامنے نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ بیٹے نے ماں کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے خود کو ہی سزا دے دی اور ایک د ن چپ چاپ پھانسی لے کر خود کشی کرلی . چند دن تو سوگ منایا گیا لیکن دوباره ماں بیٹی نے حریم کو اپنی دہشت کا شکار بنانا شروع کردیا اور تحریم کو ان کے حوالے کرکے میکے جانے کی رٹ لگادی ۔ اب بیچاری حریم جوکہ پہلے ہی سماج کے طعنوں سے پریشان تھی اور لوگوں میں اسے اسی طرح بد نام کر دیا گیا کہ اس کے کردار غلط ہونے کی وجہ سے ہی شوہر نے خود کشی کرلی ہے . کہتے ہیں کہ داماد کا صرف دیوان خانے تک کا ہی داخلہ ہوناچاہیے اگر گھر کے اندر داماد داخل ہو جائے تو پھر بیٹا باہر ہوجایگا یہاں تو بیٹے نے اپنی بزدلی کا ثبوت دیکر حرام موت کو گلے لگا لیا اب بے چاری حریم اور بیٹی تحریم کو بے سہارہ کرگیا ادھر حریم کے میکے میں بھی اسے طعنوں اور تشویر کا سامنا کرنا پڑرہا تھا کہ عجیب بے دین شخص ہے بیوی بچی کی پرواہ کئے بغیر موت کو گلے لگالیا اب ہم معاشره میں کیا منہ دکھائیں اگر کرنا ہی تھا تو تینوں مرجاتے نہ ہمیں جوابدہ ہونا پڑتا اور نہ ان ماں بیٹی کی زندگی وبال بنتی روز روز کی باتوں سے وه بے زار ہوچکی تھی ہروقت نماز میں اور دوسروں عبادتوں صرف اپنے شوہر کے گناہوں کا کفارہ آنسوؤں سے ادا کرتی رہتی مالک حقیقی سے ا شہر کی مغفرت کے لئے گڑگڑا کر دعائیں کرتی رہتی . اشہر خود کی دا تی کار چلاتے تھے اب وہ کرایہ پر لگانے کے لئے حریم نے ساس کو کہا پر انھوں نے سنی ان سنی کردی رہا سہا ذریعہ بھی ختم ہوگیا۔ گھر کے سامنے کار کھڑی رہتی اور ساس طعنوں سے نوالے ڈالتی کہاں سے آئے گا خرچہ کیا قارون کا خزانہ ہے جو بیٹھ کر کھانے لگی ، اپنے میکے جاتی کیوں نہیں .
ماہره جو سامنے ہی رہتی ہے آئے دن جلتی پر تیل ڈال کر جاتی اور ماں کے سامنے خود کو معصوم بتاتے ہوئے سارا خرچہ یہاں سے اینٹہتی رہتی شوہر بيوى بچے سب کا گزارہ یہیں پر ہوتا .
حریم اب اپنے کمرے میں مقید رہتی پر ان ماں بیٹی کو نوکرانی ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رہنا چاہیے . " تم یہ روتی صورت بنائے کمرے میں گھسی نہ رہو کام کرنے سے کوئی مرتا نہیں سمجھی " ساس نے غصہ سے آگ بگولہ ہوتے ہوئے کہا ! اور بھابھی ذرا میرے میاں کو کھانا لگادونا آفس سے آئے ہوئے ہیں ماہره ماں کے پہلو میں بیٹھی مسکراکر کہنے لگی .
قویم کو کھانا لگاتے ہوئے اسے جھجک محسوس ہورہی تھی پر کیا کرتی پردے کا بہانا بناکر کام نہ کرنے کی ترکیب ہے یہ طعنہ سننا پڑتا ..
ماہره مجھے اچھا نہیں لگتا کہ تمہارے ہوتے ہوئے حریم مجھے کھانا پروسے ایک دن قویم نے دبے لفظوں میں بیوی سے شکایتِ کردی. ہاں تو اس میں برا کیا ہے وہ سب کام تو کرتی ہوئی آرہی ہے اب اسے بیٹھا کر کھلائیں گے کیا امی ہمارے ؟ وہ غصہ سے شوہر کو دوٹوک جواب دینے لگی اور کان کھول کر سن لیں آج سے آپ کا سارا کام و ہی کرے گی مجھے باربار آواز دینے کی ضرورت نہیں ویسے بھی مجھے آج کل ذرا طبيعت صحیح نہیں رہتی وہ تو بس اپنی بھابھی پر ظلم بڑھانے یہ سب کہہ گئی لیکن اپنے اوپر ہی ظلم ڈھالیا اس نے ! اب قویم صاحب کو حریم کی عادت ہوگئی اور ہر چھوٹی بڑی بات ہو کہ کام و ہ سیدھے حریم کے پاس چلے آتے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ کے بنے کھانوں کی تعریفیں سے شروع ہو کر بات حریم کی خوب صورتی پر آ کر رک گئی تب تک ماہره کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اب جوکہ دونوں میں نکاح کی بات چھڑ گئی تو پچھتاوا ہو رہا ہے یہاں تک نوبت آنے کی وجہ تو وہ خود ہے اور حریم نے بھی اچھا سوچ سمجھ کر فیصلہ لے لیا کہ میرے شوہر کا حق مارکر کھانے والی کو اس کے حقیقی حق میں میں حصہ دار بن جاؤں گی اور ساری زندگی مجھے تحفظ ملے گا نہ سسرال کا ڈر نہ میکے والوں کا ٹینشن جو ہوگا دیکھا جائے گا .
ادھر ماں بیٹی گالی گلوج اور بد دعائیں دیتی رہیں اور ادھر قویم صاحب نے ماہره کی سوکن حریم کو بناڈالا . اور حریم نے اشہر کا انتقام اپنے جیتے جی لے لیا .
انسان کبھی کبھار دوسروں کو اپنے ظلم و ستم اور دہشت کا شکار بنا کر خوش ہوتا ہے کہ اس نے دنیا میں جیت حاصل کرلی لیکن قدرت کی عدالت میں فیصلے صحیح ہوتے ہیں .. وہ بہت بڑا وکیل ہے اور انصاف کرنے والا ہے .
فہمیدہ تبسم ، اردو پنڈت ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ، تلنگانہ روز نامہ منصف گھر آنگن مورخہ 19 / اپریل 2023