رشتے
بھا بھی آپ پہلے پسند کرلیں اس کے بعد دوسروں کی باری ہوگی ! اس کا دیور رحمت خان بہت ہی عزت سے عید کی خریداری میں لائے ہوئے ملبوسات کو رکھتا ہوا کہنے لگا . " مجھے کونسا بھی چلے گا رحمت آپ یہ سب یہاں کیوں لے آئے ؟ وہ نقاہت سی مسکراہٹ لبوں پر لیے کہنے لگی . پھر بھی آپ پہلے پھر دیگر ، پلیز لیجیے وہ ساری گھٹڑی اس کی طرف کرتا ہوا کہنے لگا . بار بار اصرار سے وہ شرمنده ہونے لگی اور ایک ساڑی اپنے لیے نکال لی . شکریہ بھابھی وہ گھٹڑی اٹھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا .
وہ افطار کی تیاری میں مصروف تھی وقت کم تھا اور کام زیاده . قریباً دس ، پندرہ افراد کا پکوان اور افطار تیار کرنا ہوتا ہے ، ملازموں کے ساتھ وہ اور پھوپھی خدیجہ دونوں ملکر کرتیں ہیں سارے خاندان میں یہ دو ہی بیوائیں تھیں . جو کہ
لاولد بھی تھیں اس لئے ہر چھوٹے بڑے کاموں کی ذمہ داری ان دونوں کو ہی سونپی جاتی
داؤد خان صاحب کو الله تعالٰی نے چار لڑکے اور تین لڑکیوں جیسی عظیم نعمت سے نوازا ، وہ تو خود کاروباری آدمی تھے مدراس سے چمڑے کی درآمد کرتے اور یہاں فروخت کرتے اچھے خاصے منافع کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے تھے ، ساتھ میں زرعی زمین زیاده ہونے کی وجہ سے ساری زرعی پیداوار کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بڑے لڑکے عمر خان نے لے رکھی تھی جوکہ ماموزاد بہن سے رشتہ زوج میں منسلک ہوگئے اور ماں باپ کے فرما بر دار بیٹے بن کر ساری زراعت کو حسن خوبی سے سنبهال رہے تھے .
دوسرا لڑکا رحيم خان جو کہ ڈاکٹر تھےاور اپنی ساتھی ڈاکٹر سے بیاہ رچا کر امریکہ میں فیملی کے ساتھ مقیم تھے
تیسرا لڑکا نصیر خان جو کہ باپ کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانے اور سارا حساب کتاب دیکھنے میں لگے رہے ،بہت ہی ذہین ہونے کی وجہ سے داؤد خان اس بیٹے سے زیاده قریب رہتے تھے لیکن قدرت بھی اسی بندے سے قربت چاه رہی تھی تب ہی تو شادی کے صرف چھ ماہ میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے کم عمری میں حنا کو بیوگی کا روپ دیکھنے کو ملا ماں باپ نے جوان بیٹا کھو دیا ، چوتھا بیٹا رحمت جوکہ ابھی کنوارا تھا . ایم بی اے کیا ہوا تھا اور بھائی کی موت کی وجہ سے سارے منشی کے کام کو حسن خوبی سے انجام دے رہا تھا .
بڑی بیٹی فاطمہ جو بہت دین دار تھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ گاؤں میں رہتی تھی دوسری لڑکی حفصہ جو سعودی عرب میں مقیم ہے اور تیسری لڑکی میمونہ جوکہ ابھی کنواری ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھیداؤد خان صاحب کو تین بہنیں تھیں جن میں ایک بہن خدیجہ بیوه تھی جو بھائی کے یہاں رہتی تھی اور باقی دونوں بھی قریب میں رہتی ہیں .
چونکہ ماہ صیام کی آمد تھی دونوں بہنوں زینب اور کلثوم کو بھائی کے گھر مہمانان خصوصی کے طور پر رہنا تھا . فاطمہ اور حفصہ کی آمد سے خوشیاں دوبالا ہو گئیں
کافی پررونق سحر و افطار کے اوقات دیکھنے کو ملتے ہنسی خوشی سب عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے .پھوپھی خدیجہ کو بیوه ہوئے بیس سال کا عرصہ گزر چکا تھا وہ بھی ایک سال کی سہاگن ہی رہ پائی تھی ، کار کے حادثے میں اپنے شوہر قمرالدین خان کو کھوچکی تھی . سسرال میں ساس اور سسر نے بہو کو میکے یہ کہہ کر بھیج دیا کہ جوان لڑکی کی نگرانی اور دیکھ بھال ہم سے نہیں ہو پائے گی بہتر ہوگا کہ وہ میکہ میں اپنوں کے ساتھ میں رہے . چاہے دوسرا بیاہ کر دیں یا اسی طرح رہنے دیں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں سب میکے والوں پر رکھ چھوڑا.
ماں باپ اور بھائی سب داؤد خان صاحب ہی تھے انھیں بہن کا یہ روپ بہت غم گین کرگیا وہ کرے بھی تو کیا کرے بس بہن کو کم عمری میں ملا بیوگی کا روپ دیکھ کر آہیں بھرتے رہتے ، خاندانی روایات کا تقاضہ تھا کہ اعلیٰ خاندان کی لڑکیوں میں عقد ثانی معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور پھر چاہے وہ لاولد ہی کیوں نہ ہوں اس طرح سے عقد ثانی کو انجام نہیں دیا جاتا کم عمرمیں بیوہ ہونا مانو بڑی بد نصیبی اور برا مقدر ہی مانا جاتا .
" میمونہ کے لئے پڑوس گاؤں سے بہترین رشتہ آیا ہے اچھا گھرانہ ہے اور پڑھے لکھے مہذب لوگ ہیں لڑکا بھی ماسٹر س کرا ہوا ہے وہ لوگ عید الفطر کے دوسرے دن آنے والے ہیں "، داؤ خاں صاحب بیگم کو تفصيل بتاتے ہوئے افطار کے دستر پر بیٹھ گئے ، جی ٹھیک ہے ضیافت میں کیا کیا بنانا ہے ہم طے کرلیں گے ہاں ٹھیک ہے وہ مسکراتے ہوئے بيوی کو دیکھنے لگے۔
اس دن حنا اندر ہی رہیں تو بہتر ہوگا زینب نے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا ، حنا جو شربت گلاسوں میں ڈال رہی تھی ہاتھ رک سے گئے "میں نے کسی سے مشوره نہیں لیا ہے کہ کون مہمان کے ساتھ رہیں اور کون نہیں " داؤد خاں صاحب نے اپنے غصہ پر قابو پاتے ہوئے بیوی سے مخاطب ہو کر کہا ، بیگم داؤد بہت سہم سی گئی جی آپ مطمئن رہیں میں سب سنبهال لوں گی . چلئے دعا کا وقت ہے سب دعا کرلیں خدیجہ پھوپھی نے اشاره دیا ۔
" تم میری بات کو سمجھتی نہیں ہو فوزیہ آخر کیوں اس طرح کی ضد لیے بیٹھی ہو " رات کے دو بج رہے تھے وہ ٹہلنے کی غرض سے برآمدے میں چہل قدمی کررہا تھا ، ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا چونکہ ماه صيام ہونے کی وجہ سے اندھیرے نے نور کی چادر اوڑھ لی تھی ، اس کے بابا اور امی میں گفتگو دھیمی لیکن باہر تک سنائی دینے والے انداز میں ہورہی تھی . وہ سنی ان سنی کرتا لیکن وہاں حنا کا نام آیا جس کی وجہ سے وہ قدم کو آگے نہ ڈال پایا امی کہہ رہی تھیں کہ "ابھی وقت نہیں گزرا میرا مشوره مان لیجیے اور حنا کے عقد ثانی کے بارے میں سو نچیے ، لڑکی کم عمر ہے آخر اس کی اپنی زندگی ہے ہم اس طرح سے قید میں نہیں رکھ سکتے " ، تو کس نے رکھا ؛جائے وہ اپنے میکے ہم نے نہیں روکا وہ خود اپنے فیصلے سے مطمئن ہے ، ارے کہاں جائے گی بیچاری وہاں سوتیلی ماں اسکا جینا دوبھر کردے گی . اب اس کے نصیب کی بات ہے فوزیہ یہ ہماری غلطی کہاں ٹھہری ، میری بہن بھی تو جوانی میں بیوه ہوئی تھی آپ نے اس وقت یہ سب باتیں نہیں کیں کیوں ؟ اس کے بھی ارمان تھے آرزوئیں تھیں کیا اس کا دل نہیں کرا ہوگا دوباره سے گھر بسا لینے کو ؟ کیوں نہیں کرتا ؟ مگر آپ پر منحصر تھا وہ ، اور آپ خاندانی روایات اصول اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر چپ کرادیتے ہیں اور کسی کی کہاں سنتے ہیں ، اس لیے دوباره اس غلطی کو نہ دہرائیں جو ہوا سو ہوا اب اس معصوم کو اس طرح کی زندگی نہ دیں خدارا .وقت کے ساتھ اصول اور قوانین و روایات نہیں بدلتے فوزیہ وہ گمبھیر آواز میں کہنے لگے ہمارے خاندان میں دو خصمی کا رواج نہیں ہے ، فوزیہ ! .یہ انسانی روایات ہیں قانون قدرت تو سب کو یکساں دیکھتی ہے اور سب کے ساتھ انصاف ہوتا ہے شریعت میں بیوه يا مطلقہ کا دوسرا نکاح جائز ہے اور یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس طرح سے سماجی برائیوں کا ازالہ بھی تو ممکن ہے فوزیہ نے دبے لفظوں میں کہا فو... ز ... یہ وہ غصہ سے آگ بگولہ ہوگئے وه سہم سی گئی تم کیا بکواس کئے جارہی ہو تمھیں خود نہیں معلوم جاؤ جاکر آرام کرلو وه باہر نکل پڑے رحمت دھیرے سے اپنے کمرہ کا ر خ کر کے اندر آگئے .
قدامت پسند لوگ بھی بڑے عجيب ہوتے ہیں خود کی ذات پر ظلم پر ظلم ڈھاکر محض سماج خاندان کو خوش اور مطمئن دیکھنا چاہتے ہیں ، اپنے آباد و اجداد کے بنائے گے بعض شرکیہ عقائد کا احترام کرتے ہوے ان بے جا رسوم سے اور نئے نئے اصول و ضوابط کا اصدار کرکے اپنے اہل و عیال پر غائبانہ ظلم ڈھاتے رہتے ہیں . نہ اس کے انسداد کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں . بجائے اس کے ان تمام غلط رسوم و عقائد کو نسل در نسل منتقل کرنے کی سعی میں لگے رہتے ہیں ، ان بے جا افعال اور واہیات اور لغو باتوں میں خواتین کی شراکت داری زیادہ غور طلب ہوتی ہے لیکن یہاں پر معاملہ الٹا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے فوزیہ نے ہر ممکنہ طور کوشش کی کہ شوہر اس بارے میں اپنا نظریہ تبدیل کرلیں لیکن وہاں پر بات دو طرفہ کی آکر دم توڑتی نظر آتی ہے ، ایک تو خود اپنی بہن خدیجہ کے ساتھ ہوئی ناانصافی کی کس طرح سے تلافی کرسکے دوسرا حنا کا دوسرا نکاح کریں بھی تو کس کے ساتھ کریں ؟ وہ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے اپنے خیالوں میں گم تھے ، فوزیہ نے بھی انھیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا ،
پہلا سیرن ہونے کو تھا ا ادھر حنا اور خدیجہ دونوں سحری کا انتظام کر رہے تھے ، رحمت خاں کی نیند تو اسی وقت جاتی رہی جس وقت داؤد خان صاحب اپنے کمرے سے باہر نکل آئے تھے .باری باری وہ ہر کمرے پر دستک دیتی ہوئی آکر سحر کرنے کے لئے بیٹھ گئی سب آگے صرف رحمت خاں کا انتظار تھا ، " آج آپ نے آنے میں دیر لگادی برخوردار وہ بیٹے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگے ، کیونکہ رحمت دس منٹ لیٹ ہو گئے تھے ،جی بابا وہ بس آگے کچھ نہ کہہ پایا .
عید قریب تھی سب تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں ہر طرف آخری عشرہ کی دھوم مچی ہوئی تھی .
الله الله وه نورانی راتیں وہ مقدس عبادات میں ملبوس راتیں ، وہ معفرت کی راتیں سب اپنی اپنی طرح کی عبادات میں مشغول ہوگئے کسی کو کسی کی خبر کہاں ...
"ہے مہینہ برکتوں کا ،رحمتوں کا ، نعمتوں کا
باٹنے رب کے خزانے آگیا ہے ماه رمضان "
"عید مبارک " سب کو عید مبارک ہو
مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے ....
آئیے صاحب آپ کا بہت بہت استقبال ہے ہمارے غریب خانے پر وہ مہمانوں کا تہہ دل سے استقبال کرنے لگے . بہت ہی مہذب لوگ تھے خاندانی تھے اس لیے پہلی ہی نظر میں داؤد خان صاحب کے دل میں اتر گئے لڑکا بھی بہت خوبرو اور سلجھا ہوا تھا . خواتین بھی سب سنجیده اور متمدن نظر آرہی تھیں .
ہمیں لڑکی پسند آگئی خان صاحب ہماری طرف سے " ہاں " ہے آپ سنائیے آپ کا فیصلہ ! دو دن بعد لڑکے کے والد خان صاحب کو مطلع کرنے کے لئے کال کئے ، جی مجھے بھی منظور ہے پر میں اپنے لڑکے کی شادی بھی کرنے کا ارادہ کررہا تھا . داؤد خان نے اطمينان سے جواب دیا ، کوئی بات نہیں آپ جیسا مناسب سمجھیں کیجے ہمیں کوئی اعتراض نہیں شجاعت خان نے خوشی ظاہر کی
ایک کام دو کاج والا معاملہ ہو جائے گا تو بہتر رہے گا .
آپ رحمت کی شادی کی بات کررہے ہیں ؟ فوزیہ نے شوہر کو فون پر بات کرتے سنا تھا پوچھ بیٹھی ، ہاں فوزیہ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ حنا کا دوسرا نکاح کردیں ہاں پر میں نے رحمت کی شادی کی بات کہاں کی ؟ وہ حیرت زده ہوکر پوچھنے لگی . تو اب کرلیتے ہیں ، حرج ہی کیا ہے ! کیا مطلب ؟ مطلب صاف ہے حنا کا نکاح رحمت سے کردیں نگے ۔ کیا ......... فوزیہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑگے ـ آپ ہوش کے ناخن کیجیے میرے کنوارے لڑکے کا نکاح ایک بیوہ سے یہ کیسے ممکن ہے اور ویسے حنا کو پھر اسی گھر میں بہو بنانا یہ کہاں کی حماقت ہے ، ٹھیک ! اگر آپ کو اس طرح کے نکاح میں اعتراض ہے تو پھر میں شجاعت خان صاحب کے لڑکے کا رشتہ بجائے میمونہ کے حنا کے لئے مانگ لوں گا . ارے ایسے کیسا ہوسکتا ہے ؟ میری بچی کو پسند کر لیا گیا اور آپ ہیں کہ وہاں حنا کو بیاہ کر دینے کی بات کررہے ہیں . مجھے تو آپ کی صحت پر شک ہونے لگا ہے ، طبعيت تو ٹھیک ہے نا آپ کی فوزیہ انہتائی تشویش سے پوچھنے لگی ، سب ٹھیک ہے ہماری صحت الحمد للہ اچھی ہے لیکن ہمیں آپ کےذہنی توازن میں کچھ گڑبڑ معلوم ہورہی ہے ، وه غصہ کو قابو میں رکھتے ہوئے کہنے لگے .حنا کے لیے آپ کو میرے بچے ہی نظر آرہے ہیں " ارے میں پوچھتی ہوں دنیا میں لڑکوں کی قحط پڑی ہوئی ہے جو آپ کو رحمت یا پھر سلمان خان نظر آرہے ہیں "
فوزیہ آپ خواه مخواه الجھ رہی ہیں ہمارے کہنے یا نہ کہنے سے رشتے جوڑتے اور ٹوٹتے تھوڑے ہی ہیں یہ تو آسمانی فیصلے ہوتے ہیں بس زمين والوں کی نیت اور عجلت اور صبر و شکر کو خالق کائنات پرکھنا چاہتا ہے ، اور اس طرح سے ہم ہر قدم پر ثابت قدم رہ کر رب کے ہر فیصلے کو خنده روئی ، شکرگزاری سے قبول کرلیں گے تو کوئی معاملہ بگڑے گا نہیں بلکہ سنور جائے گا .اگر قسمت میں حنا اور رحمت یا پھر حنا اور سلمان خان کی جوڑی لکھی ہوئی ہے تو کوئی نہیں ٹال سکتا ہے . اور اگر قدرت کو یہ فیصلہ منظور نہ ہوگا تو کوئی لاکھ کوشش کرلے حاصل نہیں کر پائے گا .
آپ کو ایک بات کی خبر نہیں ہے کہ رحمت کا ارادہ حنا سےنکاح کرنے کا ہے ، جھوٹ ! آپ مجھے جھوٹا دلاسہ دیکر اس رشتے کو نہیں جوڑ سکتے فوزیہ خاں رونے لگی ... میرے بچوں کو بخش دیجیے وہ ہاتھ جوڑ کر شوہر سے منت سماجت کرنےلگی۔
ٹھیک ہے فوزیہ آپ پریشان نہ ہوں میں کچھ کرونگا وہ بیوی کو خاموش کرانے کے لیے ایسا کہہ گئے۔ ،
وہ راست رحمت سے حنا کے بارے میں رائے معلوم کرنے لگے .
" جی بابا مجھے منظور ہے . " وہ باپ داؤد خان کے سوال کا جواب بلا جھجک دینے لگے کیونکہ اب اگر وہ والد کے سوال کو ٹال مٹول کر جاتے تو زندگی کے ایک اہم مقصد اور مقام سے خود کو محروم کر جاتے ، اور رحمت کو خود سے زیادہ حنا کی فکر لاحق تھی اس لیے وہ جواب دے کر خود سے مطمئن ہوگئے مگر بیٹا آپ کی امی نے اس رشتے کو ناپسند کیا ہے اس کا کیا کریں ایک بار آپ حنا بھابھی سے بھی پوچھ لیں بہتر ہوگا . ٹھیک ہے .
"بیٹی تمھیں اس گھر کی بہو بنے رہنا پسند ہے یا بياه کرکے جاؤ گی ". وہ بہو سے دوٹوک انداز میں پوچھنے لگے . حنا کو اس طرح کے سوال کی توقع نہیں تھی وہ خاموشی سے گردن جھکا ے آنکھوں میں آنسو لیے خود کو مصروف کرنے لگی ، حنا میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں ؟ جی بابا مجھے کہیں نہیں جانا بس آپ لوگوں کے ساتھ ہی رہنا ہے . ٹھیک ہے پھر ہمیں آپ کا فیصلہ منظور ہے . سسر کے ذومعنی جملے کو وہ نہ سمجھ پائی
فوزیہ ایک بات کہوں؟ جی کہے ! فوزیہ بہت ہی بے چین اور اداس موڈ لیے کمرے میں ٹہلنے لگیں انھیں خدشہ لگا ہوا تھا کہ داؤد خان کے فیصلے کبھی ٹل نہیں سکتے اور زیادہ استفسار کی گنجائش بھی نہیں
، عورت ہی عورت کی کھلی دشمن ہوتی ہے ؛ وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کےمقولے کے لئے تیار نہیں تھی شوہر سے سن کر حیران ہوگئی ، اب دیکھو نا آپ حنا کے عقد ثانی کے تعلق سے لبمی چوڑی تقریر کرگی جبکہ میں نے پہلے مخالفت کی کیونکہ مرد کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے اور اگر میں آپ کی بات کو مان کر جلد بازی میں کوئی فیصلہ لیتا تو سارے خاندان میں ہماری کوئی عزت نہیں ره پاتی پھر آپ کی بات پر کافی غور و خوض کے بعد اپنے ضمیر اور دل سے لڑائی جھگڑا کرتا رہا کبھی دل کہتا کہ فوزیہ سچ کہہ رہی ہے تو ضمیر گواہی دیتا کہ ایسے موڑ پر دل کی نہیں بلکہ دماغ کی سنی چاہیے اور جو اصول اب تک چلتے ہوئے آرہے ہیں اس پر نظر ثانی کیوںاسی کشمکش میں ہم نے آخر مصمم ارادہ کرتے ہوئے خود کوایک نتیجہ پر پہنچایا اور دونوں بچوں سے بھی رائے لے لی میں نےتو آپ منحرف ہو گئیں اور آپ نے عورت کا غلط روپ دیکھا دیا . اگر اس معاملے میں آپ صاف دل ہوتی تو میں بہت خوش ہو جاتا . مگر افسوس آپ نے ایک عام عورت کی طرح برتاؤ کر دیکھایا یہ عورت ذات سے دشمنی کا کھلا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے . فوزیہ ؟
مگر میں نے صرف اپنے بچوں کو اس معاملے سے دور پرے رکھنا چاہا ، میں تو ابھی بھی حنا کے عقد ثانی کی حمایت میں ہوں ، وہ شرمنده سی ہونے لگی ، یہ معیوب بات تھوڑی ہے جو آپ اس قدر پریشان ہورہی ہیں اور ویسے بھی جب لڑکے یا لڑکی کی شادی کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے خاندان میں رشتے دیکھنا چاہیے ہے نا .... وہ سوالیہ نظروں سے بیوی کو دیکھنے لگے۔ وہ ششدر رہ گئی کہ یہ وہی داؤد خان ہے جو خاندانی روایات کے خلاف ایک قدم آگے نہیں بڑھایا کرتے ، اچانک اتنی زبردست تبدیلی یہ کیسے ممکن ...
اچھا تو کون ہے ذرا ہمیں بھی تو بتادیں جو حنا کو اپنا سکے ؟ داؤد خان بھی پوری طرح بحث کرنے کے موڈ میں تھے .
ارے آپ کہہ کر تو دیکھیں کسی سے بہت رشتے آجائیں گے . وہ ہار ماننے سے انکار کرنے والے انداز میں کہنے لگی .
اور اگر وہاں حنا کے ساتھ غلط سلوک کیا جائے گا تو ... تب کیا کروگی ؟یہ اس کی قسمت کا لکھا ہوگا ہمیں کوئی سروکار نہیں .... وہ چہره کا رخ دوسری جانب کرتی ہوئی کہنے لگی۔
داؤد خان بیوی کی تنگ نظری پر دوباره افسوس کرنے لگے اور چہره پر پھیکی مسکراہٹ لیے کہنے لگے ،
دنیا میں عورتوں کے ساتھ جو مظالم ہو رہے ہیں نا اس کی ذمہ دار زیادہ تر خود عورتیں ہی ہیں فوزیہ ! کیونکہ وہ اپنی خود کی خوشی سے ہٹ کر دوسری عورت کو خوش نہیں دیکھ پاتی، اپنی ذات سے ہٹ کسی دوسری عورت کے بارے میں خوش گمان نہیں ہوسکتی ، وه بہت مفاد پرست ہوتی ہے ، سماج میں آئے دن نت نئے طریقے ایجاد کرنے کا سہرہ عورت کے سر ہی جاتا ہے . مجھے مورد الزام ٹھہرا نے سے پہلے اپنے دل پر لگے بد گمانی کے زنگ کو نیک نیتی سے صاف کرلینا ضروری ہے ،فوزیہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ حنا کا نکاح رحمت سے کرنے کا ارادہ میرا کافی پہلے سے تھا پر میں نے اس بات کو دل میں ہی مقید کر رکھا ،کیونکہ میری بہن یہ نہ سمجھے کہ اولاد کی خوشیوں کے بارے میں بھائی نے سونچا پر بہن کی خوشی کو نظر انداز کرگئے . تمھیں ایک اور بات بتاتا چلوں میری بہن نے خود مجھ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کی ہے کہ حنا اور رحمت کا نکاح کردیں اور کہنے لگی کہ وہ دور الگ تھا میرے بارے میں نہ سونچیں جو ہوا سو ہوا اب ان فیصلوں کو ہٹاکر نئے فیصلے لینا چاہیے اور اس نے ایک سچی بات کہہ دی کہ "بڑوں کے فیصلے بچوں کی زندگیوں کو سنوارنے والے ہونے چاہیے نا کہ تباه و برباد کرنے والے ہوں "
جب داؤد خان نے اپنی بات ختم کردی ، تب خاموشی سے شوہر کو سن کر فوزیہ کو جیسے الہام سا ہونے لگا وہ آنکھوں میں ندامت کے آنسو لیے داؤد خان صاحب کے قریب آگئی اور کہنے لگی " آپ مجھے معاف کردیں ، آپ کی بات میں سچائی ہے ، میں ہی غلط تھی میں نے ایک عورت کی طرح نہیں بلکہ ایک ماں کی طرح سونچا جو اپنوں کے پیار میں اندھی ہوچکی تھی ، میں یہ بھول چکی تھی کہ حنا بھی میری اپنی ہے صرف خون کا رشتہ ہی حقیقی اور اپنا نہیں ہوتا بعض دفعہ چند ایسے رشتے ہماری شہ رگ کے قریب ہو جاتے ہیں کہ ان سے ہمارے جذبات ، احساسات اور خلوص کی ڈور بہت مضبوط بندھ جاتی ہے جس طرح سےخونی رشتے کی ہوتی ہے ، ہم ہر رشتہ کا احترام کریں اور اسکو عزت دیں جب ہی رشتوں میں تقدس اور پاکیزگی قائم رہ پائے گی اور ہمارے رشتے پائیدار کہلائیں گے خلوص محبت سے جتنے یہ مضبوط ہوتے ہیں ہماری لاپرواہی ، بے احتیاطی و بے اعتنائی سے یہ ٹوٹ بھی جانے کا امکان ہوتا ہے کیونکہ رشتے نزاکت میں اپنی مثال آپ ہیں، اب دیکھئے نا خیالات میں جب رشتے مداخلت کرنے لگتے ہیں تو اصول بھی بدل جاتے ہیں میں نے حنا کی طرف داری میں آپ سے بحث کی تھی مگر جب رحمت سے اس لڑکی کو آپ نے رشتہ زوج میں جوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تو میری سونچ اور خیالات یک دم سے تبدیل ہوگئے حالانکہ میرے بیٹے کی موت کے بعد وہ لڑکی میرے گھر اور ہم سب . کی خدمت دل و جان سے کررہی ہے ، میں نے اس کے تئیں غلط رائے دیکر آپکی نظروں میں خود کو بہت نیچے گرادیا . اور خدیجہ کی اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ وہ دوسروں کی اولاد کے بارے میں مثبت سونچ رکھتی ہے ہمیں اپنا نظر یہ حیات بتدیل کرنا چاہیے ، ہم جیسے اعلی خاندان کے افراد ہی دقیانوسی تصورات کو نمٹانا چاہیے تاکہ ایک عام گھرانہ اس طرح کے بوجھ تلے دب کر زندگیوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے . کاش میں اس غلطی کی سزا بھگت سکتی ...
کیوں نہیں سزا تو آپ کو ضرور ملے گی اور وہ یہ ہے کہ آپ حنا کو بیٹی کی طرح وداع کریں گی اور بہو کی طرح خوش دلی سے اس کااستقبال کریں گی ، داود خان صاحب نے ہنستے ہوئے فوزیہ کو اپنی باہوں میں بھرلیا ، وہ شرماتی ہوئی منظور ہے کہنے لگی۔
ویسے ایک بات بتاتا چلوں فوزیہ آپ کو داود خان نے محبت بھری نظروں سے بیوی کو دیکھا جی اب کیا ہے وہ پوچھنے لگی ... " عورت اتنی سنگ دل بھی نہیں ہوتی جتنا اسے بد نام کیا جاتا ہے " بس ذرا جلد باز ہوتی ہے ، دونوں کی ہنسی یک ساتھ چھوٹ گئی
چلیے ہم سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سے عملی جامہ پہنانے والے بن جائیں . جس سے ہمارا رب اور رسول( ص) دونوں راضی ہو جائیں ....
✍️ فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ .