میرا اپنا
کہتے ہیں کہ عورت اپنے دل کے دکھ درد کو آنسوؤں کی شکل میں ڈھال کر باہر نکالتی ہے اور دل کو ہلکا کرلیتی ہے ، لیکن مرد اپنے دکھ درد کو کس طرح باہر نکالے وہ نالاں فریاد تو کرنہیں سکتا اور دل کھول کررو بھی نہیں سکتا کسی سے درد دل بیاں بھی نہیں سکتا اس لیے شائد اندر ہی اندر اپنے غموں کو چھپا کر رکھتا ہے اور گھٹن بھری زندگی کو خود اپنے ہی کا ندھوں پر بوجھ بنا کر اسی بوجھ تلے ہر روز تل تل مرتا جاتا ہے اور یہی اسکا نصیب سمجھ لیتا ہے .
مگر آج یوسف احمد نے اپنے تکیہ کو اپنا ہمراز بنالیا اور اپنے سارے غم آنسوؤں کی شکل میں تکیہ کی نظر کرنے لگے اور تکیہ بھی یوسف احمد کی دی ہوئی سوغات کو اپنے دامن میں بھرنے لگا . .وہ آج بہت رونا چاه رہے تھے اور اکیلے رونا چاه رہے تھے انہیں کوئی ہمدرد کندھے کی ضرورت نہیں تھی نہ ہی کسی درد شریک کی وہ خود آپ ہی اپنے غمگسار بن کر اپنے غموں کا معاملہ طے کرنے جارہے تھے ، پہلو تکیہ پر سوئی ہوئی نادره پر ایک اچٹی نظر ڈالی ، جو بے خبر سورہی تھی شائد زیادہ تھک چکی تھی یا پھر سارے معاملات خالق حقیقی کے سپرد کرچکی تھی ورنہ وہ بھی ہر طرح سے ان کی شریک حیات کے ساتھ ساتھ شریک غم بھی تو تھی .
یوسف احمد کو آج زندگی کا محاسبہ کرنا تھا وہ ایک معصوم بچے کی طرح انگلیوں پر اپنی ساری زندگی بھر کی اچھائیاں اور برائیاں گن گن کر جاننے لگے ، عدالت احتساب نے ان کو کٹھرے میں لاکھڑا کردیا تھا۔ اور اب وہ ایک مجرم بن کر جواب دینے کے لیے تیار ہورہے تھے ، خودی منصف اور خود ہی مجرم ہورہے تھے .
کیسے دکھ اور اذیت بھرے دن تھے جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھے ماں باپ کو دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تین اولادیں تھیں ، جن میں یوسف احمد گھر کے بڑے بیٹے اور بعد کی دو بہنیں بلقیس اور نرجس ، چھوٹی اور خانگی ملازمت کی وجہ سے والد کو بڑی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی والدہ تو بس صبر و شکر ادا کرنے والی بندی جیسے کہ اللہ میاں کی گائے نہ مستقبل کی کوئی فکر نہ لڑکیوں کی بیاه کے بارے میں تنا ؤ جو ہوگا سو ہوگا ! لے دے کے باپ بیٹے کو سارے گھر کے بارے میں سونچنا پڑتا ، ایک دن يوسف احمد کے والد یونس احمد نے بیٹے سے سارا حال دل کہہ سنایا " اب میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اور میری کمائی بھی اتنی نہیں کہ کچھ حصہ اچھے برے دن کے لئے اٹھا رکھ سکوں، تمھاری دو بہنوں کی شادی کرنی ہے اور لوگ بہت جہیز کی مانگ کررہے ہیں اب تم ہی کچھ کرو بیٹے مجھ سے تو اب کوئی اور ذریعہ معاش ہو نہیں پاتا اور میں تھک چکا ہوں ، " باپ کے زبانی يوسف احمد نے سارا حال سنا اور دلاسہ دینے لگے آپ پریشان نہ ہوں بابا کچھ نہ کچھ حل نکل آئے گا . الله بڑا کارساز ہے اس کی حکمت کے آگے ہر چیز محتاج ہے ، ہاں بیٹا بس یہی سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہوں .
انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد یوسف احمد نے روزگار کی تلاش شروع کردی اور ایک ہوٹل میں نوکری شروع کردی. بس آہستہ آہستہ سے گھر میں تھوڑی بہت تبدیلی آنی شروع ہوگئی اور پھر تین سال بعد جمع پونجی ہوگئی اِدھر بلقیس کو ایک اچھے سے گھرانے کا رشتہ آیا . اور لڑکا سرکاری ملازم تھا اچھے اور معیاری لوگ تھے لیکن ساتھ میں دان دہیز میں بہت کچھ پوچھ لیا قرضہ اور اڈوانس تنخواہوں کو لے کر یوسف احمد نے خوشی خوشی بہن کو وداع کردیا ، سارے خاندان اور باہر والے سب نے یوسف احمد کو بہت سراہا اور یوسف احمد کی محنت اور گھر پر ہونے والے قربانی و ایثار کے جذبے کی مدح سرائی ہونے لگی .
پھر دوسری بہن نرجس کو بھی اسی طرح سے دہری محنت و مشقت اور الله کریم کے رحم و کرم سے سرکاری ملازم لڑکے سے ہی نکاح ہوگیا دیکھنے میں خوب صورت اور نازک و سڈول جسم والی بلقیس و نرجس بیاه کر چلی گئیں .
ماں باپ اور بیٹے نے سکھ چین کی سانس لی مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اس کے کام وہ کرجاتا ہے بس حكم خدا وندی کے مطابق ایک دن یونس احمد اس دار فانی سے کوچ کر دار البقا چلےگئے ، ماں کی حالت ہلکان ہونے لگی ماں کو سنبھالنے اور نوکری کے چکر میں یوسف احمد نے عمر کی بہت سی سیڑھیاں طے کرلی دونوں بہنوں کے بچوں کی پیدائش کے اخراجات اور ان کی بے جا رسم و رواج سے کبھی نہ ختم ہونے والے قرضے اور ذہنی تناؤ نے یوسف احمد کو وقت سے پہلے بوڑها پے کی دہلیز پر لا کھڑا کردیا .
اب ماں نے بستر غم پکڑ لیا تھا ، لہذا بیٹے کے سر پر سہرہ سجا دیکھنا چاه رہی تھی . پتہ نہیں کب معبود حقیقی کا بلاوا آ جائے اور جانا پڑ جائے ، یوسف احمد کی آگے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش صرف خواہش بن کر رہ گئی کیونکہ جب کبھی بھی وہ گریجویشن کرنے کی سونچتے کوئی نہ کوئی مسئلہ سامنے ناگ بن کر لہراتا ہوا آجاتا یہاں تک کہ فاصلاتی تعلیم کا اراده کیا پر وہاں بھی وقت اور حالات نے کچھ نہ کرنے دیا . بس انٹر کی تعلیم اور اس معمولی سی نوکری نے ان کی ساری خواہشات اور بڑے بڑے ارادوں کو مات دے دیا ، دنیا نہ سہی انھوں نے دین اور آخرت میں بلند ترین درجہ حاصل کرلیا.
فجر کی اذان نے یوسف احمد کو احستاب کے کٹھرے سے باہر نکال دیا وہ وضو بناکر مسجد جانے لگے . ساری رات جاگنے کی وجہ سے سر چکرانے لگا اور آنکھیں چھبنے لگی . نماز سے فارغ ہو کر وہ کچھ دیر لیٹے رہے پھر کام پر جانے لگے
نادره چائے لاکر کہنے لگی آج آرام کرلیں آپ رات بھر سوئے نہیں ہیں وہ چونک کر بیوی کو دیکھنے لگے ، نادره تو سورہی تھی اسے کیسے پتہ کہ میں رات بھر جاگ رہا تھا اس سوال کو بیوی سے بغیر پوچھے خاموشی سے چائے پی کر باہر نکل آئے ، یہ سونچ کر کہ کہیں وہ کچھ اور نہ کہہ دے . ہوٹل میں نوکری کرنے سے انھیں وہاں تھوڑا بہت پرموشن آگیا اور ذرا تنخواہ میں اضافہ ہوگیا مگر آج کے اخراجات کو ہر طرح کی آمدنی کم ہی لگتی ہے .
اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے اور خود سے فیصلے لینے کے قابل ہو جاتی ہے تب ماں باپ کی کسی اولاد کو ضرورت درپیش نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کی فیشن پرست اور جدت پسند ، خود مختار دنیا کے گلشن میں چھبتے ہوئے خار معلوم ہوتے ہیں ، ماں باپ ایک غیر اہم اور غیر ضروری سامان ہے جس کو کباڑی کی دکان میں رہنا چاہیے ، وہ اب ایک ایسا لیبل بن چکے ہیں کہ جہاں ضرورت ہو چسپاں کردیا جائے گا، وہ اپنے سونچوں کے سمندر میں گم تھے کہ ہوٹل کے مالک نے یوسف احمد کی حالتِ زار پر رحم کھا کر گھر جاکر آرام کرنے کو کہا ، نادره نے پوچھ لیا کیا بات ہے آپ کچھ پریشان نظر آرہے ہیں لیکن وه خاموش رہے
" جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے : اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانہ ہے " .
جب اعضاء کمزور ہو جاتے ہیں اور اپنوں کے دیئے کرب کو سہنے کی طاقت نہیں رکھتے اور سماعت میں فریب و مکار لفظوں کے کہنے سننے کی سکت نہیں ہوتی ہے تو رشتے بھی ڈولنے لگتے ہیں اور جملوں اور الفاظ کے تیر سے سارے بند هن کرچی کرچی ہو کر خود کو بکھر دیتے ہیں . خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے یہ تو معلوم تھا پر شر پسند اور خطرناک بھی ہو گا یہ کسے معلوم ہوگا ، جس وقت ہمارے اپنے سپنے سجانے کی عمر ہوتی ہے اس وقت یہی خون سفید پوش ہو جاتا ہے اور اسی خون کا واسطہ دے کر سارے رشتے ناطے ! سارے سپنوں کو چکنا چور کردیتے ہیں، یوسف احمد کی خاموشی سے نادره کو ڈر سا ہونے لگا وہ سونچنے لگی کہ یہ خاموشی عام سی خاموشی نہیں ہے یہ تو وہ خاموشی ہے جو ایک سمندر میں طوفان سے پہلے چھا جاتی ہے یہ وہ خاموشی ہے جہاں سے زندگی میں ایک بڑا سا تہلکا مچنے والا ہے اس کا دل گھبرا رہا تھا وہ بے چین اور بے قرار تھی پر کرتی بھی کیا اسکا تو یوسف احمدسننے والے نہیں .
دوپہر ہوگئی وہ دستر خوان بچھا کر انھیں کہنے کے لیے کمره میں آگئی پر اس کا دل دھک سا رہ گیا کیونکہ وہ شوہر کو لیٹے لیٹے چھت کو گھورتے ہوئے دیکھا ایسا تو کبھی نہیں ہوا پھر یہ بدلاؤ کیوں ؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھی !
چلئے کھانا کھالتے ہیں اس نےخیالوں میں کھوئے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، ہاں تم چلو میں آتا ہوں ! کیا بات ہے آپ کھل کر کہتے کیوں نہیں ؟ کچھ نہیں بس ذرا طبیعت ناساز ہے وہ مسکرا دیئے " کتنی خاموش مسکراہٹ تھی : شور بس آنکھ کی نمی میں تھا "
اچھا تو پھر کھانا کھا کر آرام کر لیں افاقہ ہو جائے گا . ہاں چلو وہ اٹھ کر جانے لگے .
لیٹنا تو محض ایک بہانا تھا پھر عدالت احتساب نے انھیں تاڑ نا شروع کردیا . پھر محاسبہ کا عمل شروع ہو گیا .
ماں آسیہ نے بہو نہیں بلکہ اپنی پرچھائی کو گھر لے آئی سچ میں نادره بھی بالکل ساس جیسی سلجھی ہوئی کتابی شکل وصورت اور نیک صفت تھی ، لب پہ نہ گلہ نہ کوئی شکوہ سارے رشتوں کو بخوبی نبھانے والی ، مجھے نادره سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی کیونکہ اسے بچوں کو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کرتے نہیں دیکھا پھر ہماری زندگی کے خوب صورت اور ہرے بھرے باغ میں تین پھول کھلے میں نے اللہ کا بڑا شکر ادا کیا کہ مجھے اولاد جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے ، اولاد کی تربیت اور انکی پرورش سب ماں باپ کے ذمہ ہوتی ہے یوسف احمد سونچنے لگے کہ ماں باپ کے اوصاف اور کردار بچوں میں داخل ہوتے ہیں اور ان کی صحیح تربیت ہی ماں باپ کی آخرت کی پونجی ہوتی ہے ، بڑا لڑکا ازلان اور دو لڑکیاں ملیحہ اور مرحا ، ان تینوں سے یوسف احمد بہت خوش تھے . لیکن
کچھ بچے پیدائشی انقلابی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان میں منفی تاثرات زیاده پائے جاتے ہیں کچھ ایسا ہی از لان تھا بے خوف اور لا پرواہ دیکھنے میں خوب رو لیکن ضدی اور بد اخلاق بھی تھا لڑکیاں تو خیر خوب صورت اور خوب سیرت تھیں . حالانکہ والدين نے تینوں بچوں کو اچھی تربیت دی لیکن ازلان نے ان کی تربیت کو نہیں اپنا یا اور ہمیشہ سے بد اخلاقی کا مظاہرہ کر تا رہا .
" اپنے " کتنا مہذب ،چھوٹا اور آسان لفظ ہے لیکن اس ایک لفظ کے پیچھے انسان کیا کیا پاتا اور کیا کچھ نہیں کھو دیتا ہے ، اپنا سپنا ، اپنی آرزوئیں ، اپنی خواہشات ، اپنے اصول ، اپنے ارادے ، اپنا مستقبل ، اپنا وجود ،اپنا خون ، اپنا گھر ، اپنا خاندان ، اپنی اولاد ، اپنے رشتہ دار ، اپنا وطن ، اپنی تعلیم ، اپنی تربیت ، اپنا کاروبار ، اپنی نوکری ، اپنے ماں باپ بھائی بہن بہرحال اس اپنوں کے چکر میں ساری زندگی کٹ جاتی ہے لیکن لا حاصل صرف لفظ رہ جاتا ہے اور معنى بدل جاتے ہیں اپنا سب کچھ بدل کر غیر ہوجاتا ہے .
کبھی اپنوں کی خاطر اپنا سب کچھ کھو دینا پڑتا ہے ایسا ہی یوسف احمد نے کیا تھا well education اور اعلیٰ ملازمت کا سپنا دیکھنا چھوڑ دینا پڑا ، کیونکہ اپنے ماں باپ کا سہارا بن کر انکی پریشانی کو بانٹنا جو تھا . وه سرکاری اسکول میں زیر تعلیم تھے پر کلاس میں اول درجہ کے نشانات حاصل کرنے والے طالب علم تھے . بہنوں کی خوشیوں کی خاطر اپنی تعلیم ، اپنا مستقبل اور اپنی آرزوئیں سب قربان کردینی پڑی، ماں باپ کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے اپنی زندگی کو ان پر فوقیت دینی ضروری تھی . لیکن آج وہی اپنے رشتے ان سے دھوکہ کرگئے ایسا دھوکہ جس کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی کوئی کفاره ہوگا ، سونچا تھا لڑکا میرے بازو کا سہارا بنے گا کیونکہ یہ ہر با پ سونچتا ہے اور اسے سوچنے کا حق بھی تو حاصل ہے ، یہ تو خاص اپنا خون ہوتا ہے .
جب گھر میں اولاد نرینہ کی پیدائش ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی باپ کو ہوتی ہے وہ اس خوش گمان میں رہتا کہ اب میرے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والا ہلکا کرنے والا میرا حصہ دار آگیا اور میرے کاندھے کو مضبوطی دینے والاآگیا ہے ، میرا نام روشن کرنے والا ، میری ادھوری تمناؤں کو پورا کرنے والا آگیا ، بس یہی خوش فہمی ازلان کی پیدائش پر يوسف احمد کو ہوئی تھی ، مگر جیسے جیسے وہ عمر کی ایک ایک سیڑھی پر قدم رکھ رہا تھا اپنے عادات و اطوار سے باپ ہی نہیں بلکہ سارے گھر کے افراد کے دلوں سے اترتا جا رہا تھا پتہ نہیں کیوں وہ باپ سے بد ظن ہو رہا تھا اسے باپ کی غربت سے چڑ سی ہوگئی تھی اور باپ کی سادہ سی زندگی سے الجھن ہو رہی تھی وہ ایک ہائی فئی اور معیاری زندگی کا مشتاق تھا ، بجائے ساتھ دینے کے وہ یوسف احمد کے خلاف کھڑا ہورہا تھا یہ اوصاف انھیں بہت پریشان کررہے تھے وه کبھی دبے لفظوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتے تو دو ٹوک جواب دیتا . اور بلا جھجک کہہ دیتا کہ اولاد کی خواہش ہی نہیں رکھنا بلکہ ان کو اچھی زندگی دینا بھی ماں باپ کا فریضہ ہے جس سے ان کی عزت نفس مجروح ہو جاتی ، اب وہ محتاط رہنے لگے يعنى کہ اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے پر اثر تو لہجہ رکھتا ہے ناں بس بیٹے کہ لہجے سے وہ ڈرنے لگے کہ کہیں ازلان کی گستاخی سےخود اپنے وجود کی بے عزتی نہ ہو جائے اور ذلت سے خود اولاد کے سامنے منہ نہ چھپانا پڑ جائے ، کسمپرسی اور درماندگی کی حالت میں بھی ازلان کو گریجویٹ بنایا ، پر اسے قدر کہاں تھی وہ تو خود کو ہمیشہ اوباش دوستوں میں مصروف رکھتا اگر گھر میں ہوتا تو بس گھوڑے بیچ کر سوتا رہتا کبھی ماں یا بہنیں کچھ ہمت جٹا کر کہہ دیتی تو ایسے بے ہودے جملوں سے ان پر وار کردیتا کہ سب کا منہ بند ہوجاتا بس مجموعی طورپر وه ایک نافرمان اور بد اخلاق اولاد کے زمرہ میں آچکا تھا مدد تو درکنار خود بے انتہا لا پرواہ بن چکا تھا نہ گھر کی فکر اور نہ ماں باپ کے تئیں کوئی ہمدردی ۔ يوسف احمد کبھی کبھی آنکھوں میں آئے آنسو کو مسکراہٹ میں تبدیل کر دیتے وہ دل اور ذہن پر زور ڈالتے کہ مجھ سے کہاں غلطی سرزد ہوئی . جس کی سزا آج بھگت رہا ہوں .
دل پر جو وار ہوا وہ بہت ہوا : کہنے کو تو بس دل ذرا بے تاب ہوا
نادرہ نے آکر پھر سے یوسف احمد کو دیکھا وہ خاموش بیٹھے باہر کا تماشہ دیکھ رہے تھے بچے میدان میں کھیل رہے تھے باہر کافی شور سا برپا تھا اور ان کے دل میں ایک ویرانہ سا چھایا ہوا ، کاش بچے بڑے نہ ہوتے ؟ بچے اگر بچپن میں ہی رہتے تو کتنا اچھا ہوتا ان کے دل صاف اور خوب صورت پاکیزه پھولوں کی طرح ہوتے اپنی خوشبو سے ہر طرف ماحول کو معطر کر دیتے ، ان میں کوئی کھوٹ نہیں ملاوٹ نہیں بغض و کینہ نہیں بس ہردم ہنستے مسکراتے لڑتے بھی تو مل جاتے سچ میں کتنا پیارا ہوتا ہے بچپن ...
آپ سے مجھے کچھ بات کرنی تھی ! نادره نے قریب آکر يوسف احمد کو احستاب کے دائرہ سے باہر نکالا، ہاں بولو ! کیا بات ہے ؟ جی ملیحہ اور مرحا کی شادیاں ہوچکی ہیں اب از لان کے بارے میں آپ نے کیا سونچا ہے ؟ وہ سوال کرکے منہ تکنے لگی ... نادرہ تم بہت معصوم ہو اور تھوڑی سی نا سمجھ بھی وہ زیر لب مسکراکر کہنے لگے ... کیوں ؟ نادره نے مصنوعی خفگی ظاہر کی ! ہمارے بیٹے نے لڑکی دیکھ لی ہے ! اچھا کہاں ؟ وه روہانسی انداز میں پوچھنے لگی ! بلقیس کی نند کی لڑکی ہے ! پر آپ نے کبھی مجھ سے اس بارے میں ذکر نہیں کیا ؟ مجھے پتہ چلے تب نا ! تو کیا .... ہاں نادرہ بغیر اطلاع دیئے از لان نے یہ رشتہ خود طے کرلیا ہے ؛ بلقیس آپا نے آپ کو نہیں بتایا ؟ وہ پوچھنے لگی ! نہیں ! پر کیوں مجھے خود اس تعلق سے کوئی خبر نہیں ! وہ رونے لگی آخر کو ہمارے اپنے کیوں ہم سے یہ سلوک کررہے ہیں ؟. نادره رشتے تو تکلیف دینے کے لئے ہی ہوتے ہیں تم اس طرح سے روکر اپنی صحت کیوں خراب کررہی ہو وہ بیوی کو پیار سے سمجھانے لگے. وہ پلو سے آنسو پونچتی ہوئی خاموش ہوگئی .
ملیحہ اور مرحا کے بیاہ میں میری بہنوں نے ایک آنے کی مدد نہیں کی جس مصیبت سے میں نے یہ دو لڑکیوں کی شادیاں کیں ہیں وہ میں ، میرا رب اور تم بہتر جانتی ہو ، اور ہمارا بیٹا جوکہ بجائے ہماری مدد کرنے کے الٹا ہمیں غریبی کا طعنہ دیکر ہم سے الجھتا تھا . آج وہ بیرون ملک میں برسر روزگار ہوچکا ہے اور خود مکتفی کیا ہوگیا وہ ہمیں خاطر میں نہیں لارہا ہے ، ازلان پہلے کب ہماری سنتا تھا جو اب ہم سے رائے طلب کرے گا ، نادرہ نے افسوس سے کہا اور بلقیس آپا یہ ہم سے رابطہ کئے بغیر رشتہ کررہی ہیں ؟ آخر کو ہم اس کے ماں باپ ہیں ہمارا بھی اپنی اولاد پر کوئی حق بنتا ہے وہ ہمیں دھوکہ دیکر اور ہم سے چھپا کر صرف اس لیے اس رشتے کو راز داری سے کررہی ہیں کہ ہمارا بیٹا آج اچھے پوزیشن پر ہے اور ہماری ضرورت ہی نہیں ہے اس لیے کہ ازلان کو UK جانے میں ہم نے مدد نہیں کی ، اس نے خود انتظام کرلیا اور ہمیں اطلاع دیئے بغیر چلا گیا یہ کہہ کر کے دوسرے شہر میں نوکری ملی ہے . نادرہ اتنا بڑاجھوٹ کیوں کہا اس نے ؟ یوسف احمد کا صبر ختم ہوچکا تھا وہ اب بیوی کے سامنے ایک چھوٹے بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے پوچھنے لگے ، نادره شوہر کی اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبراگئی پھر دلاسہ دینے لگی ... " آپ اپنی اولاد پر شک نہ کریں "خدارا اپنے بچوں کے تعلق سے بد گمان نہ ہوں " ہوسکتا ہے وہ ہمیں روتا ہوا دیکھ نہیں پاتا ، یا پھر ہم اسے اتنی دور نہیں جانے دیں گے اس خیال سے وہ چھپا رکھا ہوگا جانے کی بات ، شائد ہمیں سرپرائز دینا چاه رہا تھا وہ یوسف احمد کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہنے لگی . آپ ازلان سے خود بات کیوں نہیں کرتے وہ سوال کرنے لگی
"وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے : میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا "
میری اس سے بات ہوئی نادره پر اس نےصاف جھوٹ کہہ دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور پتہ ہے کیا کہا اس نے اگر ہوئی تو بھی آپ اس میں دخل مت دیں کیونکہ آپ کو بات کرنی نہیں آتی . میرے ایک دوست نے لڑکی کی تصویر دیکھائی اور ازلان کا مسیج بھی کہ اسے یہ رشتہ منظور ہے . اچھا ! نادره ششدر ہو گئی تھی ، بلقیس آپا سے پوچھ لیتے ہیں وہ مشوره دینے لگی .
" سبھی رشتے گلابوں کی طرح خوبشو نہیں دیتے
کچھ ایسے بھی تو ہوتے ہیں کانٹے چھوڑ جاتے ہیں "
وه تو ایسے انجان بن رہی ہے جیسے کچھ معلوم ہی نہیں ہے اس رشتہ کے تعلق سے ہمارا اپنا خون غیر نکلا دوسروں سے کیا گلہ .
یہاں گھر کی حالت سب اسے پتہ تھی اور کوڑی کوڑی جوڑ کر میں نے سارے معاملات کو انجام تک پہنچایا اب جبکہ اس کی کمائی کی ہمیں ضرورت ہے وہ ہمارا سہارا بننا چاہیے تھا ایسے حالات میں وہ ہم سے لا تعلقی برت ر ہا ہے . اور ماہانہ صرف دو ہزار ہمیں بھیج رہا ہے اس سے میں کیا گمان اور توقع رکھوں گا نادره . ازلان کے رویہ نےمجھے کہیں کا نہیں چھوڑا
میرے گنا ہوں کی سزا سمجھوں یا آزمائش یا میری سادگی یا پھر تمھاری معصومیت ؟ کیونکہ ماں باپ کی فرمابرداری میں اولاد کے رہنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں ایک تو خود اولاد پیدائشی فرمابردار اور نیک دین دار جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہوتی ہے ، دوسری حکمت والی ماں جو اولاد کے سامنے اپنی بے بسی اور دکھ بھری زندگی کی داستان کا رونا رو کر اپنے بچوں کو قابو میں کر لیتی ہے . خیر
میں نے اپنا احتساب کرلیا ہے نادره جس میں باوجود نیکیوں کا پلڑا بھاری ہونے کہ چند کوتا ہیوں کی وجہ سے جو کہ معمولی سمجھی جاتی ہیں ، میرا یہ پلڑا ہلکا پھلکا ہو چلا اور وہ بھول جو دیکھنے میں معمولی نظر آتی ہے لیکن اثر انداز بہت ہوتی ہے اپنی زندگی اور آخرت پر اور وہ ہے "سادگی اور صاف گوئی " " بردباری " ہمیں کبھی بھی اپنی اولاد کے ساتھ صاف گو اور سادگی اور نرم مزاجی سے پیش نہیں آنا چاہیے جس سے انکی نظروں میں عام انسان بن کر رہ جاتے ہیں اگر تھوڑا بہت ڈر خوف اور دبدبہ میں نے از لان پر بتایا ہوتا تو وہ آج میری اور تمھاری عزت کرتا اور ہماری قدر ہوتی ہم سے ہر بات پوچھ کر تا اور ہم سے خوف کھاتا ، سارے خاندان میں ہماری قدر و منزلت ہوتی دوسری غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ ہم اپنی اپنی ذمہ داریوں میں گم تھے لیکن اسے میں ، غلطی بھی نہیں مانتا ... والدين کی مصروفیات کا مثبت اثر بھی تو اولاد پر پڑتا ہے ، از لان یہ بھی تو سوچ سکتا تھا کہ میرے ماں باپ آج میری خوشیوں کی خاطر دن رات محنت مشقت کررہے ہیں ، کل میں بڑا ہوکر اپنے والدین کو دنیا جہاں کی خوشیاں دوں گا ... " اور پھر يوسف احمد نے سرد آہ بھر کر کہا : اللہ تعالٰی اولادنہ دے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی آزماتا ہے ... مثل مشہور ہے ولی کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر ولی بھی پیدا ہوسکتا ہے ... لیکن نادره میں اتنا ٹوٹ چکا ہوں کہ مجھے خود کو سیمٹنا دشوار ہو رہا ہے " ... یوسف احمد کی آنکھوں میں پھر ایک بار آنسو تیرنے لگے ...
" آپ خود کو اتنا ہلکان نہ کریں ... مایوس نہ ہوں ، زندگی کے مشکل سے مشکل حالات کا آپ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ، کبھی آپ نے ہمت نہیں ہاری ، آج کیوں حالات سے گھبرا گئے ہیں آپ؟ یہ آپ کا حوصلہ ہی تھا جو آج ہم اس مقام تک پہنچے ہیں ، ہم نے کسی کے ساتھ کچھ برا نہیں کیا ہے ، ہمارا بھی انشاء اللہ برا نہیں ہوگا ... اللہ تعالیٰ چاہے تو پل میں دلوں کو پھیردے ... ہمارا بیٹا ضرور ہماری طرف پلٹے گا . یقین رکھیں اللہ پر ، زندگی کے کسی موڑ پر از لان کو ہماری کمی ضرور محسوس ہوگی ... آج نہیں تو کل ایسا ضرور ہوگا ، دیکھ لینا ... "
نادرہ کی باتوں نے یو سف احمد کو بڑا حوصلہ بخشا ، انھوں نے آنسو پو نچے اور مسکرا کر نادره کی جانب دیکھتے ہوئے کہا :
" مجھے اس کل کا شدت سے انتظار رہے گا ... "
فہمیدہ تبسّم اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد ۔
روزنامہ منصف ، گھر آنگن مورخہ 7 / ڈسمبر 2022
