ممتا کی قربانی


اُف یہ دونوں پھر آگئے ! آخر کتنی بار سمجھاؤں مجھے تو اب چڑ سی ہونے لگی ہے ان دونوں بچوں اور ان کی ماں سے . کئی بار وارننگ دے چکا ہوں پھر بھی باز نہیں آتے آخر کس کھیت کی مولی ہیں یہ لوگ پتہ نہیں ، بے شرمی کی حد ہوتی ہے اور اس حد کو بھی پار کرگئے ہیں یہ تینوں آج فیصلہ ہوکر رہے گا کہ یا تو یہ کبھی میرے گھر کا رخ نہ کریں یا پھر ان کی ماں کوہی ساتھ لے جائیں ہمیشہ قصہ ہی ختم ! نار ہے بانس نہ بجے بانسری .
وہ بے انتہا غصہ کی حالت میں گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے آپ پر قابو پارہے تھے . دور سے عاصم کو آتا دیکھ کر عریشہ اور اریب دونوں ماں سے لپٹ گئے اور معصوميت سے اپنی ماں کو تکنے لگے ان کی آنکھوں میں آنے والے طوفان کو لیکر دہشت برپا تھی اور وہ نظروں سے سوال کررہے تھے کہ امی کیا ہمارے ساتھ آپ نہیں ره سکتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھ سکتی ؟ صائمہ نے بچوں کی آنکھوں کو پڑھ لیا اور گیٹ کی طرف دیکھنے لگی ، اس کا بھی دل گھبرا رہا تھا وہ ظاہر میں مطمئن نظر آرہی تھی پر اندر کی ہیبت اور پریشانی کو چھپا رہی تھی کیونکہ بچے کہیں پریشان نہ ہو جائیں .
یہ عاصم آج آفس سے جلد کیسے آگئے وہ تشويش سے دو چار ہونے لگی . جو بھی ہو پہلے وہ فریش اپ ہو جائیں پھر معافی مانگ کر بات کو رفع دفع کردیتی ہوں .
آپ دونوں جاکر الماس اور انعم کے ساتھ میں کھیل ليں ـ " ہوا کا زہر جڑوں تک پہنچ ہی جائیگا : بچانے والے شجر کو بچائیں گے کب تک " ( برگ صحرا)
آج آپ جلد آگئے آفس سے ؟ صائمہ نے گھراہٹ والی مسکراہٹ لبوں پر سجاکر شوہر سے مخاطب ہوئی .
ہاں قدرت کو مجھے کچھ تمهاری نافرمانی دیکھانی جو تھی وہ ابھی بھی غصہ میں تھے .
وہ خاموشی سے عاصم کا بیگ اپنے ہاتھوں میں لیتی ہوئی سنی ان سنی کرکے دوباره مسکرانے لگی کیونکہ اسے پتہ تھا عاصم کا اشاره کس طرف ہے بس وہ اس لئے خاموش رہی کہ غصہ میں انسان بے قابو ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار غلط فیصلے لے لیتا ہے اس لۓ خود پر قابو پانے کے لیے اس نے کچن کا رخ کرلیا اور آنکھوں میں آئے بے بسی کے آنسو کو خود ہی پینے لگی .
یہ لیجیے چائے وہ عاصم کے قریب آ کر مسکراتے ہوئے چائے کا کپ تھمانے لگی .
صائمہ بیٹھ جاؤ وہ سنجیدگی سے کہنے لگے اسے پتہ تھا وہ کیا بات کرنے والے ہیں پھر بھی انجان بن کر بیٹھ گئی جی کہیے ؟ میں تم سے سیریسلی بات کرنا چاه رہا ہوں . کیونکہ مجھے اب یہ چوہا بلی کا کھیل پسند نہیں پلیز مجھے اب آئندہ کوئی بھی قدم اٹھانے پر تم مجبور نہ کرو اسےمیری گزارش سمجھو یا حکم بس آخری بار کہے دیتا ہوں کہ آئندہ میرے گھر میں وہ دو بچے نظر نہیں آنا چاہیے سمجھی تم وہ بات کو دبا کر چیخ نے والے انداز میں کہنے لگے ایک لمحے کو صائمہ کانپ اٹھی وہ بہت ہی حساس تھی پر اتنی بھی نہیں کہ کسی کی اتنی بے عزتی کو برداشت کر لے اس نے حضرت علی رضہ کا قول سنا تھا کہ مشکل وقت میں دعا مانگنا چاہیے جہاں انسان کا حوصلہ ختم ہوجائے گا وہاں الله تعالیٰ کی رحمت شروع ہو جائے گی . پر اس میں اب نہ حوصلہ رہا نہ دعا کرنے کے لئے الفاظ باقی رہے وہ تو مشکل اور راحت ہر وقت دعا کرتی رہی تھی پتہ نہیں اس کی دعا میں تاثیر کیوں باقی نہیں رہی الله تعالٰی آزما رہا ہے یا سزا دے رہا ہے وہ کشمکش میں مبتلا تھی اور اپنے گناہوں کا محاسبہ کرنا چاه رہی تھی . اس نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا . دل میں پھٹنے والے آتش فشان کو وہ قابو کرنے کی کوشش کررہی تھی ، یہ کرب اور اذیت کی زندگی کو کیسے گزار رہی ہے وہ خود بہترجانتی تھی .
مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی صائمہ کی شادی عامر سے ہوئی ان دونوں کی زندگی خوشیوں اور آرام و آسائش سے گزر رہی تھی پھر قدرت نے ان کے خوب صورت گلشن میں دو ننھی کلیوں کو ایک ساتھ کھلا دیا جڑواں بچوں کی پیدائش پر عامر اور صائمہ بے انہتا خوش تھے انھیں تو اس نعمت خداوندی پر کیسے شکر ادا کرنا سمجھ نہیں آرہاتھا وه کروڑہا شکر ادا کرنا چاهِ رہے تھے کیونکہ اس پاک پروردگار نے انکی جھولی میں جو خوب صورت کلیاں ڈالی تھی وہ کسی عظیم نعمت سے کم نہیں تھی ، صائمہ کے میکے اور سسرال میں سب خوش تھے کیونکہ آج کے دور میں اولاد جیسی عظیم نعمت کا حاصل ہونا بہت بڑا قدرتی تحفہ کہلاتاہے پرسکون زندگی تھی کسے معلوم تھا کہ آئندہ صائمہ کی زندگی میں بھونچال آنے والا ہے اور وه آزمائش کے لئے چنے جانے والی ہے . عامر کا بزنس تھا اور وہ بہت محنتی بھی تھے . بس ایک رات شاپ بند کرکے گھر کی راہ لے رہے تھے مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکر ہوگئی اور سر کے بل گرنے سے عامر کی موت واقع ہوگئی تھی .. صائمہ پر تو مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا وہ تو گم صم سی ہوگئی اسے آس پاس کی کچھ خبر نہ رہی ذہنی توازن بگڑنے لگا بروقت علاج نہ کیا جاتا تو بس وہ آج پاگل خانے کے حوالے ہوجاتی . میکہ اور سسرالی رشتہ داروں نے اسے بہت سنبھالا ..پھر چند ماہ گزرنے کے بعد اسے عامر کی بہت یاد آنے لگی وہ ہر وقت عامر کو گھر کے کونے کونے میں دیوانوں کی طرح تلاس کرتی بھرتی اس کی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے صائمہ کے والدین کو صائمہ کی دوسری شادی کرنے کی صلح دی .. ایک طرف دوبچوں کے ساتھ کون انکی بیٹی کو اپنائے گا یہ سوال ، تو دوسری طرف بیٹی کی گرتی ہوئی صحت ایسے میں کیا کریں کیا نہ کریں وہ بہت فکرمند بے چین تھے . پر کچھ تو حل نکالناضروری تھا .
اِدھر عاصم نے اپنے بے تحاشہ غصہ کی وجہ سے بیوی پر ہاتھ اٹھا دیا اور اس بے چاری کا سر جاکر دیوار سے ٹکرایا اس نے دواخانے میں دم توڑدیا . پولیس کیس ہوجاتا لیکن تہنیت کے ماں باپ نے عاصم کی نہیں بلکہ ان دونوں بچیوں کی صورت دیکھ کر اس کیس کو رفع دفع کروا دیا . الماس اور انعم کی دیکھ رکھ کے لئے ذمہ داری کو عاصم کی ماں نے یہ کہہ نہیں اپنایا کہ وہ تہنیت کا قاتل ہے اور وه اپنے دوسرے بیٹے آصف جو کہ سعودی میں مقیم ہے وہاں چلی گئیں کئی ماماؤں کو رکھا گیا لیکن سب بے کار اور رائیگاں لا حاصل بات ہوگئی تب عاصم کوعقد ثانی کا خیال آیا اور اس طرح سے رشتے ڈھونڈنے شروع ہوئے لیکن ہر کوئی عاصم کو نفسیاتی مریض سیکو کا خطاب دیکر دور بھاگتا کوئی باپ اپنی بیٹی کو دینے تیار نہ تھا حتی کہ مطلقہ یا خلع یافتہ یا پھر بیوه بہرحال اسی طرح دن مہینوں اور مہینے سال میں گزرنے لگے ایک ایک کرکے سب رشتہ دار بھی عاصم کا ساتھ چھوڑنے لگے .اب دونوں بچیوں کی ساری ذمہ داری ان پر عائد ہوگئی ، ایسے میں وہ اور پاگل پن کا مظاہرہ کرنے لگے لیکن مرتا کیا نہ کرتا والا معاملہ ہوگیا اپنے کئے کی سزا خود بھگت رہے تھے .
قدرت کو عاصم پر رحم آ گیا یا ان دونوں بچیوں پر ، بس صائمہ عاصم کی زندگی میں آگئی لیکن شرط یہ رکھی گئی کہ صائمہ کے سابقہ شوہر کے دو بچوں کو وہ نہیں اپنائیں گے .
اس طرح سے ایک طرف بچوں سے ماں کو بچھڑا دیا گیا تو دوسری طرف عاصم کے بچیوں کو ماں مل گئی .
چند ماہ کا عرصہ تو خاموشی سے بيت گیا پر کوئی ماں اپنے بچوں سے کیسے اور کب تک دور رہ سکتی ہے وہ عاصم کی غیر موجودگی میں عریشہ اور اریب کو گھر لاکر ان کے ساتھ سارا دن بیتا نے لگتی کبھی الماس اور انعم نے اپنے ابو سے اس بات کا ذکر تک نہیں کیا کیونکہ صائمہ انھیں حقیقی ماں کی طرح جو دیکھتی تھی اس طرح سے سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور پھر آہستہ آہستہ عاصم کو اس بات کی بھنک لگ چکی تھی وہ صائمہ کو جناتے ہوئے کئی دفعہ آگاه کرچکے تھے . ہروقت صائمہ معافی چاہتی پھر دوباره غلطی کر بیٹھتی آج عاصم نے آخری بار بطور تادیب کہہ دیا .
مجھے جواب چاہیے صائمہ اگر تمھیں تمھارے سابقہ شوہر کے بچے عزیز ہیں تو پھر تم بھی میرے گھر سے چلی جاسکتی ہو کیونکہ مجھے ان کی موجودگی کھٹکتی ہے میں انھیں برداشت نہیں کرسکتا .
کچھ دیر کی خاموشی تھی جیسے سارے ماحول کو سانپ سونگھ گیا ہو وہ کیا کرے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ایک طرف ممتا تو دوسری طرف مجازی خدا ! میں آپ کو کل جواب دوں گی اس نے ہمت جٹا کر عاصم سے کہہ دیا ! ہاں ٹھیک ہے ابھی باره یا چودہ گھنٹوں ہی کی تو بات ہے میں انتظار کرلوں گا کوئی قباحت نہیں وہ پر سکون انداز سے بیڈ روم کی طرف چل دیئے .
ائے اللہ کہہ دےرات ٹہر جا ذرا یا تو بہت دھیرے چل میری خاطر تو اپنا نظام بدل دے میرے مولا یا پھر اس سنگ دل کو ہی بدل دے . یا پھر مجھے ہی بدل دے وہ کروٹیں بدل رہی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی .
اِدھر عاصم کو بھی نیند نہیں آرہی تھی پتہ نہیں اسے کیا ہوا وہ تو حاکم ہے کچھ بھی قانون صادر کرسکتے ہیں لیکن عاصم کا دل بہت بے چین وبے قرار تھا ، حلق سوکھ رہا تھا وہ اٹھ کر پانی پینے لگے دیکھا تو صائمہ کی آنکھیں رونے سے بہت سرخ نظر آرہی تھی وہ تلمیحانہ انداز سے دیکھنے لگے اور دوباره بستر پر لیٹ گئے .
دونوں نے اضطراری حالت میں رات گزار دی صبح کے پاکیزه اور شگفتہ ہوا کے جھونکوں سے وہ خود کو تازه دم محسوس کرنے لگی اور فجر کی نماز ادا کرکے اپنے معبود حقیقی سے دعا میں سب کی سلامتی مانگنے لگی اور صبر و تحمل کی بھیک مانگنے لگی .
ناشتہ کے ٹیبل پر عاصم نے کل والا سوال دہرا دیا ! تو پھر کیا سونچا صائمہ ؟
جی میں نے ایک فیصلہ لے لیا ہے ! اچھا کیا فیصلہ لے لیا بتادو ! جی اب آئندہ عریشہ اور اريب اس گھر میں نہیں آئیں گے مجھے خدا کا واسطہ آپ اس تعلق سے بے فکر ہوجائیں وہ روتے ہوئے خود کو ضبط کی حد سے گزارنے لگی اور الفاظ جو بے ترتیب و بکھرنے لگے تھے سنبھالنے لگی .
اگر آ گئے تو ؟ وہ برجستہ سوال کربیٹھے ! نہیں ایسا اب ہرگز بھی نہیں ہوگا آپ مجھ پر اعتبار رکھیے، میں نے سونچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا ہے چاہے آپ مجھ سے اسٹامپ پیپر پر معاہدہ لکھوالیں دستخط کردونگی.
لیکن اتنا سخت فیصلہ ؟ وہ حیران کن انداز سے پوچھنے لگے .
جب ابراہیم علیہ السلام سےاللہ تعالٰی نے اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مانگی تو اللہ کی رضا کے آگے وہ سر تسلیم خم کردیے وہ معبود حقیقی کا حکم ماننے کے لئے رضا مند ہوگئے انھوں نے اپنی اولاد کو قربان کرنے کے لئے انکار نہیں کیا پس میں نے بھی مجازی خدا کی رضا مندی کے لئے اپنی ممتا کو قربان کر دینے کا ٹھان لیا ہے اس لئے آپ بے فکر بغیر کسی ٹیشن کے اطمينان رکھیے آئندہ آپ کی بات پر عمل ہوگا .
وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی اسے الله نے ہمت اور حوصلہ عطا جو فرمایا تھا اب وہ ہر دباؤ سے آزاد ہوچکی تھی .
ٹھیک ہے صائمہ تم میرا اور ایک فیصلہ سن لو عاصم کی بات پر وہ پریشان ہوگئی یا اللہ اب اور کیا حکم صادر ہونے والا ہے .
جی کہیے وہ نظروں کو فرش پر دوڑانے لگی . کیونکہ آنکھوں میں آئے آنسو کہیں عاصم نہ دیکھ لے 
آج سے ہمارے چار بچے ہیں .کیا؟ وہ یک دم سر اوپر اٹھا کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے عاصم کو دیکھنے لگی ، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ہاں صائمہ میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے تو یونہی تم سے پوچھ لیا. کہ تمھارا ارادہ معلوم ہو جائے تم بہت عظیم ہو صائمہ تم قدرت کی آزمائش میں کامیاب ہوگئی ہو اللہ تم سے راضی ہو جائے گا ان شاء اللہ ، رات بھر مجھے بھی نیند نہیں آئی تب آئی جب میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ایک بار میری خودسری انانیت اور تکبر کی وجہ سے میں بچوں سے ماں کو دور کرچکا ہوں اب دوباره ایسی بے وقوفی کرکے میں اس طرح سے دوسری مرتبہ غلطی کا مرتکب اورسزا کا مستحق نہیں ہونا چاہتاہوں تم نے میرے لئے اپنی ممتا کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرے حکم کی لاج رکھ لی تمھاری یہ ادا مجھے بہت متاثر کرگئی ہے تومیں بھی الله کی رضا اور ایک ماں کی ممتا کی خاطر اپنے غصہ کو قربان کررہا ہوں اور یہ حسن اخلاق میں نے تم ہی سے سیکھا ہے . ضد ، غرور اور خود غرضی سے نہیں بلکہ سمجھوتہ اور ایک دوسرے کے خیالات کی عزت کرنے سے رشتوں میں پائیداری قائم رہتی ہے انسان سب سے زیاده اپنے اصول کو چاہتا ہے اگر دوسروں کی خوشی کی خاطر وہ اپنے اصول بدل دے گا تو ہر طرف امن اور سکون قائم ہو جائے گا . صائمہ تم نے میری آنکھیں کھول دی ہے .

صائمہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو امڈ آگئے " راستہ مل گیا کشتی کو جزیروں کی طرف : میں نے طوفانوں کی جانب جو بڑھا دی کشتی " ( برگ صحرا) ، وہ عاصم کو پرستشی نگاہوں سے دیکھنے لگی جبکہ عاصم کی نگاہیں اسکا طواف کرنے لگی ، آسمانِ زیست میں جب متبرک فیصلوں کے بادل گھر کے آجاتے ہیں تو ہر طرف نور کی بارش ہونے لگتی ہے اور سارا سماں منور نظر آنے لگتا ہے . جس سے وجودزندگی منور و مقدس ہو جاتی ہے .
. یہی تو ہے قربانی یا قربان ہونے کےاصل معنی و مقصد کہ ہم اپنے نفس پر قابو رکھیں...
دوسروں کی خوشیوں میں شامل ہونا
خود کی خوشی کو ہے حاصل کرنا .
   فہمیدہ تبسم نلگنڈہ ، تلنگانہ ۔
روزنامہ منصف گھر آنگن مورخہ 5 / جولائی 20 23



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]