میں غلط نہیں ہوں

وہ 80 سال کے ضيعف العمر شخص سے تم نکاح کرنا چاه رہی ہو ؟ اور تمھاری عمر سے سے آدھی ؛ لگتا ہے تمھارا دماغ کام نہیں کررہا ہے ارے کیا پریشانی ہے تمھیں تین وقت بے فکری کی روٹی مل رہی ہے کھا کر آرام سے زندگی گزارو کیوں یہ نئے تماشے کرنے جا رہی ہو بھائی کی باتیں سن کروہ خاموش بیٹھی رہی 
میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا وہ مردود شوہر مرگیا اب سکون سے رہ لے مگر میری کہاں سنتی ہے گھروں میں کام کرلونگی کچھ ذریعہ بن جائے گا یہ کہہ کر اس بڈے کے گھر کام کرنے گئی بس کیا ڈالا کی بڈا ایک ہفتہ سے رٹ لگائی کہ اس سے نکاح کرلونگی امی کی غصہ سے بھرپور اور طعنوں و تشنیع کی ملاوٹ سے بھری باتیں یہ بھی وہ برداشت کرتی رہی . آخر کچھ بولوگی یا اسی طرح بت بن کر ہم سب کی سنتی رہوگی بڑی آپی غصہ سے چیخنے والے انداز میں پوچھنے لگی .
کیا کہوں آپی ؟ آپ سب نے تو کہہ دیا ہے اب اور کچھ باقی رہا کہنے کو ؟ ہاں تو تم نے جو ارادہ ظاہر کیا اس کا جواب ہے یہ سمجھی ! اب آئندہ اس آدمی کا ذکر گھر میں نہیں ہونا چاہیے اور تم کام کو نہیں جاؤ گی سن لیا بھائی نے بھی دخل دیتے ہوئے کہا .
رضیہ جو کہ ایک بيوه تھی لاولد بھی ، شادی ہوئے بیس سال گزر گئے پر کوئی اولاد نہ ہوئی بڑی بہن رقیہ کی لڑکی کو گود لے کر اولاد کی طرح پرورش کی لیکن وہ ہوش سنبھالتے ہی اپنی حقیقی ماں کے ہاں واپس چلی گئی . شوہر تو سدا بہار شرابی کوئی دن ایسا نہ گزرا جو رضیہ نے اپنے شرابی شوہر غوث کے جوتے نہ کھائے ہو وہ ایک خانگی اسکول کا واچ مین تھا جتنی تنخواه ملتی سب شراب نوشی میں اڑادیتا اور بے چاری رضیہ اف تک نہیں کرتی الٹا اسکے ظلم اور اذیت کا شکار ہر روز ہوتی خود بھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اسکول جاتی نہیں تھی گھر کے پاس کھیل کود میں وقت گزار لیا جب بڑی بہن دسویں کے سالانہ امتحانات لکھ چکی تو مناسب رشتہ آیا اور بیاه ہوگیا دو بہنیں اور ایک بھائی چھوٹا سا خاندان تھا اکبر میاں جو ایک معمولی ٹیلر تھے کسی طرح سے گھر کی کفالت کی کوشش میں لگے رہتے گھر کے اندرونی حالات سے وہ  دلچسپی نہیں رکھتے ، لڑکا غياث بھی میڑک کرکے میڈیکل ہال پر کام کر رہا تھا .
پیسہ پیسہ جوڑ کر رقیہ کی شادی کردی گئی اور اب رضیہ کی شادی کے لئے رقم اکٹھی کرنی شروع کردی ۔
خدا خدا کر کے کچھ جمع شده رقم سے سادگی سے غوث کے ساتھ رضیہ کا نکاح کردیا گیا شادی کے وقت بتایا گیا کہ غوث گریجویٹ ہے اور کسی اسکول میں کام کرتا ہے بس کوئی بری عادت اس میں موجود نہیں چلو اچھا ہے پڑھا لکھا اور دیکھنے میں خوبرو ہے بہت خوش رہے گی رضیہ ماں باپ نے اطمينان کی سانس لی اور رضیہ وداع ہوگئی .
صرف نکاح کی ایک رات وہ مار نہیں کھائی دوسرے دن سے وہ شراب نوشی کرتا اور اسے مارتا رضیہ نے اسکا یہ برتاؤ دیکھر خلع کا ارادہ ظاہر کیا پر اِدھر میکہ والوں نے کسمپرسی کا رونا رویا اور اُدھر سسرالی رشتہ داروں نے سمجھایا کہ عادت چھوٹ جائے گی تم سمجھاؤ اور اگر نہیں مانا تو چھوڑ دو وہ خود شراب نوشی کی لت سے ایک دن مرجائے گا تب سکون ہو جائے گا .
بہرحال کسی نے اس کی خوشیوں کی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی جسمانی اذیت کی ۔ اس کا دل جانتا تھا کہ وہ کس طرح کی زندگی جی رہی ہے نہ کوئی آرزو نہ ارمان اور نہ کوئی ضرورت شراب کے نشے میں آکر تکلیف دینے والے شوہر سے وہ کیا محبت کی بات کرے گی اس کی کونسی رات شب برات ہوگی ۔ وہ بھی چاہتی کہ اپنے شوہر کی باہوں میں بیٹھے محبت کی باتیں کرے اس کا دل بھی کرتا کہ وہ اسے اچھے اچھے القاب سے پکارے جبکہ وہ تو گالیوں سے مخاطب کرتا رہا ہر وقت وہ یہی سونچتی رہی کہ کیا زندگی اسی کا نام ہے یا ان پڑھ لڑکی کی زندگی ایسی ہوتی ہے کیونکہ رقیہ کا شوہر اسے اچھی اور خوش گوار و سکون کی زند گی دے رہا تھا اور ادھر اسکول کے معلمات بھی بے فکری اور خوشیوں وخوشبوؤں کی طرح مہکتی زندگیاں جی رہی تھیں .  بس زندگی کا بوجھ ہے اٹھانا ہی پڑے گا .
آخرکار وہ دن بھی آگیا جس کا میکہ اور سسرال والوں دونوں کو انتظار تھا غوث کے اندرونی اعضاء سارے خراب ہوچکے تھے وہ چند دن بستر پر پڑا رہا اور ابدی نیند سو گیا .
رضیہ گھر واپس آگئی تھی عدت کے دن پورے ہوئے اب وہ ماں باپ پر بوجھ نہ بننا چاه رہی تھی اس لئے قریب ہی محلہ میں ایک گھرانے میں ملازمہ کی ضرورت تھی یہ سن کر اس نے ماں سے اجازت لے کر کام کو چلی گئی .
افتخار صاحب جو کہ ایک سرکاری آفیسر تھے وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے تھے اچھا خاصہ وظیفہ رکھتے تھے بس کمی تھی تو بیوی کی ، کوویڈ میں بیوی کا انتقال ہوچکا تھا دو لڑکے جو امریکہ میں مقیم تھے اکیلے تھے خدمت گزار کی ضرورت تھی . بیٹوں نے ملازمہ رکھنے کا اراده کیا اور اس بات کو رضیہ نے سن کر حامی بھرلی .
رضیہ کی شرافت ، سادگی اور اعلیٰ اخلاق سے سب متاثر ہوگئے خاص کر افتخار صاحب تبھی انھوں نے اپنا ارادہ ظاہر کیا اور گھر والوں سے اس بارے میں بات کرنے کو کہا انھوں نے بیٹوں کو بتایا وہ بھی راضی ہوگئے کیوں نہ ہوتے ان کی رہ سہی ذمہ داری بھی ختم جو ہونے جارہی تھی .
اب اس کی مخالفت سارا گھر کرنے لگا . وہ کشمکش میں تھی کہ کیا کروں . نہ شوہر نہ اولاد عمر کے آخر حصے میں کون میرا سہارا پر ماں بہن اوربھائی بھی صحیح کہہ رہے ہیں کہ اتنی بڑی عمر والے سے نکاح کرکے میں کوئی غلط قدم تو نہیں اٹھارہی ہوں .
اب اسے کام کو جانے کی اجازت بھی نہیں رہی . اسی طرح سے وہ ایک ہفتہ گزار چکی تھی پھر اتفاق سے اسکول کے ٹیچرس بڈی باٹا پروگرام کے تحت اس کے محلے میں گشت کرنے لگے .اور رضیہ سے ملاقات کرکے احوال پوچھنے لگے .تب رضیہ نے ان کے ہمدردانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے اپنی ساری دکھ بھری کہانی سنائی جو کہ وہ پہلے سے واقف تھے پھر بھی رضیہ سے انھیں دلی ہمدردی تھی کئی مرتبہ تو وہ رضیہ کو اپنے شوہر کے ظلم کو چپ چاپ سہتے ہوئے دیکھ چکے تھے کبھی شوہر کی جگہ خود بھی اسکول کی ڈیوٹی کرنے آجایا کرتی تھی  . آج سب نے افتخار صاحب سے نکاح کرنے کا مشورہ دیا اور رضیہ کی امی کو سمجھایا کہ ضیعفی میں کم از کم رضیہ  ایک اچھے وظیفہ کی حق دار تو ہوگی جو زندگی جینے کا ذریعہ ہوگا اور کسی کی خدمت اگر جائز و حلال طریقہ سے بیوی بن کر ے اس میں برائی کیا ہے اس طرح سے آخرت بھی سنور جائے گی۔
شائد قدرت کو رضیہ کسی بڑے گھر کی بہو بننا منظور تھا سب کی رضا مندی سے وہ بیگم افتخار بن چکی اور اب خدمت گزار بیوی بن کر افتخار صاحب کی فیملی میں عزت کی نگاہوں سے دیکھی جا نے لگی ہے .
فہمیدہ  تبسم نلگنڈہ، تلنگانہ 
14 / جون 2023 روز نامہ منصف گھر آنگن

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]