خوب صورت حصار

بہت دیر لگادی آپ نے ؟ وہ مصنوعی غصہ کو ظاہر کرتے ہوئے پوچھنے لگی ، سوری دیر تو ہوگئی پر کیا کرتا عين نکلتے وقت باس نے کام دے دیا اب منع بھی نہیں کرسکتا اس لئے کرکے آرہا ہوں ، وہ صفائی بیان کرنے لگا ، خیر چھوڑو یہ بتاؤ کہاں چلنا ہے وہ مسکراتا ہوا اسکے آگے جھک سا گیا . وه بھی زیر لب مسکرادی اور اس کے پیچھے بیٹھ کر گاڑی کو آگے بڑھانے کا اشاره کرنے لگی .
زیبا.. جی ! اس طرح سے ہم کب تک ملتے رہیں گے ؟
ہاں مجھے بھی یہی خیال آ رہا ہے ! آپ اپنے گھر میں میرا ذکر کئے ہیں یا نہیں ؟
میں امی سے دبے لفظوں میں تمھارے بارے میں جانکاری دے دیا ہوں اور تم ؟
ابھی تک تو نہیں ... اگر آپ کہیں تو آج کہہ کر دیکھوں ؟
ہاں زیبا اب یہ روز روز جھوٹ ہم کیوں کہیں تم بھی پڑھی لکھی اور باشعور اور میں بھی ، ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ لینا کا حق ہے .
ہاں پر ہمارے بزرگ بھی تو ہمارے حق میں صحیح فیصلہ ہی کرتے ہیں .
تو تمھارا مطلب ہے ہماری یہ ملاقاتیں غلط ہیں وہ ذرا سخت لہجہ میں گویا ہوا اور گاڑی کی رفتار کو دھیمی کرنے لگا ،
ارے کیا ہوا آپ ناراض ہو گئے ہیں ! میں نے کیا غلط کہا ؟
اب دیکھئے نا ہم دونوں پڑھے لکھے اور ماشاء اللہ سے برسر روزگار ہیں پر پھر بھی اس طرح سے OT کا بہانا بناکر اپنے بڑوں کو دھوکہ دینا غلط ہے نا
اسی لئے تو کہتا ہوں کہ جلد از جلد بات کرلیں گے اور پھر دونوں ایک ہو جائیں گے وہ اسے باہوں میں بھرتا ہوا گاڑی پارک کرنے لگا .
ٹھیک ہے میں آج امی سے آپ کے بارے میں بتا دوں گی .
گڈ یہ ہوئی نا بات اب کہو کیا لو گی مجھے تو جو آپ چاہیں وہی ہونا چاہیے اچھا وہ قہقہہ لگاتا ہوا اسے رسٹورنٹ میں لے گیا۔
زیبا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے احمر نے کافی کا سپ لیتے ہوئے دھیرے سے کہا !
کیا جہیز کے بارے میں کہنے والے ہیں آپ زیبا نے ناراضگی سے جواب دیا 
نہیں نہیں زیبا تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میرا یقین کرو مجھے جہیز اور دین لین سے سخت نفرت ہے ایسی باتیں کرنا تو دور مجھے سننا تک گوارا نہیں 
تو پھر کس بارے میں آپ مجھے بتائیے ...ہاں مگر دیکھو اگر میری بات تمھیں ناگوار گزرے تو با خدا تم مجھے بھول جاؤ اور ہم اپنی اپنی زندگیوں کو قسمت اور وقت کے ساتھ سمجھوتا کرکےخوشحال بنالیں گے ، ہاں مگرکبھی دل میں میرے بارے میں بد گمانیاں پیدا نہ کرنا کیونکہ میں جو بات کہنے جارہا ہوں ہوسکتا ہے اسے سن لینے کے بعد تمہارے دل میں میری جگہ ختم ہوسکتی ہے اور تم مجھ سے بجائے محبت کے نفرت کرنے لگوگی .
آپ پہیلیاں ہی بوجھتے رہیں گے یا کچھ کہے نگے بھی .
اتنی سردی میں وہ پسینے میں شرابور ہو گیا پتہ نہیں کہاں سے شروع کروں وہ زیر لب مسکراتا ہوا اسے دیکھنے لگا .
بات کیا ہے جلدی بتائے ہمیں گھر بھی جانا ہے امی میرا انتظار کررہی ہونگی کیا آپ کے گھر میں ہمارے رشتہ کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا ہے ؟
نہیں زیبا ایسی بات نہیں
تو پھر کونسی بات ہے ؟
وہ بات دراصل یہ ہے کہ میں شادی شده ہوں ...
کیا .......... اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ چھوٹتے چھوٹتے ره گیا .
 آپ اچھا مذاق کرلیتے ہیں ؟
یہ مذاق نہیں حقیقت ہے
تو پھر میرے ساتھ یہ ڈرامہ بازی اور میری زندگی ، میرے جذبات سے مذاق کیوں کیا آپ نے ؟
یہ ڈرامہ نہیں ہے زیبا میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں .
جھوٹ ... اس طرح سے آپ نے دونوں کو دھوکہ دیا ایک اپنی بیوی کو اور دوسرا مجھے 
وه غصہ سے کرسی کو پٹختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی .
زیبا پلیز میری بات پوری ابھی تم نے سنی کہاں
مجھے اور کچھ سننے کی ضرورت بھی نہیں ہے . سمجھے مسٹر احمر وہ خود کو کنٹرول کرتی ہوئی باہر نکل گئی ۔
چلو میں بس اسٹاپ تک چھوڑ دیتا ہوں وہ دوڑے جانے والے انداز میں باہر نکلتا ہوا کہنے لگا .
اس مہربانی کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے .
پلیز پھر دوباره اپنی شکل تمہیں نہیں دیکھا وں گا پلیز بیٹھ جاؤ .
وہ اپنی طرف اٹھتی ہوئی سب کی سوالیہ نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے مجبوراً اس کی گاڑی پر بیٹھ گئی ـ
آدھا راستہ دونوں طرف کی خاموشی سے ہی گزرگیا
پھر احمر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا 
میری پہلی بیوی مر چکی ہے زیبا
صوفیہ اسکا نام صوفیہ ہے وہ مجھے اپنی نشانی کے طور پر ایک بیٹی دے گئی ہے اور میری بیٹی ہر روز مجھ سے یہی سوال کرتی ہے کہ میری امی کہاں ہے ؟ کب آئے گی ؟
میں جواب دینے سے قاصر ہوں ، بس امی جان ہی جھوٹا دلاسہ دیتی رہتی ہیں کہ میکے گئی ہوئی ہے پڑھائی کرنے اس لئے تمھیں یہاں پر چھوڑا ہے . اور دوسری شادی کے لیے مجھے سمجھا کر زور دے کر وہ تھک سی گئی ہیں . سچ میں میرا اراده دوسری شادی کرنے کا کبھی نہیں تھا بس جس دن سے تمھیں دیکھا ہے تمھارے اخلاق سے متاثر ہو کر الله قسم میں نے دبارہ شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا .
 بچی کو ماں کا ثبوت پیش کرنے کے لئے فون پر پڑوس کے آنٹی سے بات کرواتی رہتی ہیں . 
مجھے تم میں بہت سی خوبیاں نظر آئی زیبا
پہلی بار میں نے تمہیں دیکھا تو تم ایک بزرگ خاتون کو بس چڑھنے میں مدد کررہی تھیدوسری بار میں نے تمھیں اٹھ کر نشست دیتے ہوئے دیکھا بہرحال ہر بار تم کسی نہ کسی کی مدد کو آگے آرہی تھی بس دل نے سونچا میری بھی زندگی میں آکر میری بچی اور مجھے اپنا کر میری مدد کرو گی ہمارا سہارا بنوں گی. اور میری بیٹی کو تم سے اچھی ماں ملنے والی نہیں ہے . جو سوتیلی نہیں بلکہ حقیقی ماں کا برتاؤ میری بیٹی کے ساتھ کرے گی . مجھے اور میری بیٹی کو ظاہری رشتے کی نہیں بلکہ حقیقی رشتے کی ضرورت ہے جو صفات تم میں موجود ہیں۔ اس سے یہی توقع باندھ رکھی میں نے ، میرے دل نے تم سے رشتہ جوڑ ا تو کیا برا کیا زیبا ؟ دل پر تو کسی کا زور نہیں چلتا ،
ہاں میں نے یہ بات چھپا کر بہت برا کیا قصور وار ہوں مگر میں مجبور تھا تمھیں کھونا نہیں چاه رہا تھا اور میں وعده کرتا ہوں کہ تمھیں دائمی خوشیاں دوں گا اور تم چاہو تو جاب کو خیر باد کہہ سکتی ہو مجھے تم جیسی بھی ملو گی میں تہہ دل سے تمھیں اپنا لونگا زیبا .
 اب یہ سب باتیں کوئی معنی نہیں رکھتی ، اور جہاں تک دل کی بات ہے اس میں خود غرضی شامل ہے سچائی نہیں اور ویسےمیں کوئی سماج سیوک نہیں ہوں جو اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ کر دوسروں کو خوشیاں دے سکوں وہ تو بس ایک انسانی ہمدردی کے ناطے کردیا اور یہ وقت اور انسانیت کا تقاضا ہے ، میرا اسٹاپ آ گیا گاڑی رکیے !
وہ اتر کر جھٹ سے بس میں سوار ہوگئی 
اس کی خوب صورت آنکھوں میں احمر نے آج نفرت کے شعلے بھڑکتے ہوئے دیکھے ! وہ سہم سا گیا پر کیا کرتا یہ راز ایک نہ ایک دن اس پر عیاں ہونا ہی تھا اب چاہے وہ اپنائے یا ٹھرائے یہ اس کی مرضی پر منحصر تھا ..

امی ! ارے آگئی بیٹی ! جی آج بھی زیادہ کام تھا کیا ؟ وہ جی ہاں امی ... اچها تم فرش ہوجاؤ میں کھانا لگاتی ہوں جی امی سب کھالیے کیا ؟
ہاں سب سو بھی گئے ہیں تمھارے ابو بھی پریشان تھے ابھی زیبا نہیں آئی کہہ کر تم نے کال کیا تو ذرا سکون ہوگیا انھیں 
چھوٹو بھی سوگیا ہاں بیٹی اب جلدی جاؤ رات بہت ہوگئی جی امی
زیبا کچھ پریشان ہو ؟ امی نے پوچھ ڈالا ... نہیں تو بس کام کی تھکن ہے اور کچھ نہیں 
وہ سونے چلی گئی پر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور جا کھڑی طنزیہ مسکراہٹ لیے اسے بنا رہی تھی کہ بڑی آئی مستقبل کا فیصلہ کرنے والی حکمت والی بی بی .. .
 بار بار اسکی آنکھوں میں وہی منظر گردش کررہا تھا اور کانوں میں احمر کے جملے وہ تکیہ کو کبھی گانوں پر رکھ کر دبا رہی تھی تو کبھی آنکھوں پر مگریہ کوشش ناکام ہو ئے جارہی تھی . وہ چھت کو تکے جارہی تھی جو بغیر کوئی مانگ کئے سب پر سہارا بنا ہوا ہے ہر موسم میں سب کو اپنی پناہ میں لیے ایک ذمہ داری سی نبهاه رہا ہے وہ سوچنے لگی کہ کتنے ایسے بے سہارا ہونگے جنہیں یہ چھت بھی نصیب نہیں ہوتی پھر بھی دوسروں کو پناہ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ہے . کسی کے لیے !بس میں بھی شائد دکھاوا کرکے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہوں تب ہی تو مجھے احمر پر یا اس کی باتوں سے ذرا بھی ہمدردی کیوں نہیں ہو پائی کیا میں بھی خود غرض بن چکی ہوں یا .... ریاکار ؟ کیا تقدیس کا لبادہ اوڑھ کر منافقت اور ریاکاری کا رویہ تو نہیں اپنا رہی ہوں . یا الله مجھے سیدھا راستہ دکھا ، ان لوگوں کا جس سے تو راضی ہو .رات کے دو بج چکے تھے وہ پانی پینے کے لئے برآمدے میں آگئی فریج میں ٹھنڈا باٹل تلاش کرنے لگی جہاں پر اسے نا امیدی ہاتھ لگی کیونکہ کڑاکے کی سردیوں میں ٹھنڈا پانی کون پیے گا . حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے ہیں اسے ایک طرح کا درد سا محسوس ہونے لگا . وہ گھڑے سے پانی لے کر پینے لگی . اور آہستہ آہستہ واپس اپنے کمرے کا رخ کرنے لگی امی ابو کے کمرے کی بتی جل رہی تھی اتنی رات گئے ابو امی جاگ رہے ہیں سوے نہیں وہ اسی تفکر میں تھی کہ امی کی آواز نے اسے متوجہ کردیا . زیبا تم یہاں کیا کر رہی ہو بیٹی ؟ جی امی وه پانی پینے آئی تھی لیکن آپ لوگ ابھی تک جاگ رہے ہیں ؟ ہاں بیٹی ہمیں نیند کہاں آتی جس گھر میں جوان بیٹی بیاه کو تیار ہے بھلا وہ ماں باپ کو سکون کہاں ؟ اور جہیز کے نام پر سماج میں لڑکے والے اژدھاؤں کا سا منہ کھولے بیٹھے ہیں تو ہم جیسے کہاں چین کی نیند سو سکے نگے . آج پھر ایک رشتہ جہیز کی خاطر ہمارے ہاں سے چلا گیا .
بس دعا کرو کہ اللہ تمھارا معاملہ آسان کردے ... آمين .
وہ چپ چاپ کمرے میں آکر لیٹ گئی .
ایک ہفتہ بيت گیا نہ احمر کا کال آیا اور نہ ہی میسج وه غیرارادی طور پر فون کو بار بار چیک کرتی اور بس اسٹاپ پر بھی نظریں دوڑاتی مگر دور دور تک اس کا کوئی پتہ نہیں ؛ میں کیوں اسکا انتظار کرنے لگی خود میں نے ہی تو اسے ٹھکرادیا تھا وہ اس خیال کو اپنے ذہن میں لاکر مطمئن سی ہو جاتی ..
اسی کشمکش میں زیبا نے ایک ماہ گزار دیا .
اِدھر والدین جہیز کی مانگ کرنے والے رشتوں سے پریشان رہنے لگے .
آخرکار ایک دن زیبا کے ابو اصغر صاحب کو دل کا دورہ پڑگیا . زیبا ، اسکا چھوٹا بھائی اور امی تینوں بہت رونے پیٹنے لگے مگر لاحاصل .
وہ تو اچھا ہوا کہ فرسٹ اٹیک تھا بچ نکلے اصغر صاحب .
سارے حالات کا جائزہ لینے کے بعد اسے احمر کی محبت اسکا خلوص اور اس کی بیٹی کی معصوم خواہش میں سچائی نظر آنے لگی وہ احمر کی ایک ایک بات پر غور کرنے لگی اس وقت وہ بہت غصے میں تھی اس لیے شاید اسے احمر کا لہجہ زہر لگ رہا تھا اور وہ اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا . آخر کار 
اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ احمر کو اپنا لے گی اسکی پیاری اور ننھی سی گڑیا جيسی بیٹی کو ماں کا پیار دے گی .
زیبا نے سونچا جو ہمیں ٹھکراتے ہیں ہم ان کے لئے کیوں مر مٹے اور ان کے پیچھے اپنا سب کچھ کیوں برباد کرڈالیں، سماج کے ان لٹروں کے منہ پر طمانچہ رسید کرکے انھیں یہ بتا دیں کہ جو ہمیں جی جان سے اپنانا چاہتے ہیں ان کے لئے ہم جی لیں گے. ہماری زندگی سماج کے ان درندوں کے لئے نہیں جو ہمیں جہیز کے نام پر کبھی طلاق دیتے ہیں تو کبھی زندہ جلا ڈالتے ہیں اور کبھی ماں باپ کی چوکھٹ پر بے سہارا چھوڑ جاتے ہیں تو کبھی ساری زندگی طعنے مار مار کر زنده در گور کردیتے ہیں ، زندگی تودوسروں کے دکھ درد کو بانٹ کر جینے کا نام ہے ، کسی کے پاکیزه جذبہ کو اپنا لینے کا نام ہے اور صحیح اور مستند فیصلہ کرنے کا نام ہے ، ناکہ خود غرض اور لالچی لوگوں میں اپنے احساسات جذبات اور سب کچھ قربان کرکے پچھتانے کا نام ہے .
اس نے اپنے ماں باپ سے احمر کے بارے سب کچھ بتا دیا وہ بھی راضی ہوگئے.
پھر زیبا نے احمر کو مسیج کردیا " السلام علیکم ! میں اس معصوم اور پیاری بچی کی ماں بننے کے لئے تیار ہوں جسکا باپ ایک خوب صورت دھوکہ باز ہے "
تمهاری صرف تمهاری زیبا....
دوسرے ہی لمحے reply آگیا کہ وعلیکم السلام بہت بہت شکریہ ، میں بہت جلد تمھارے پاس رہوں گا ... احمر ...
احمر کے میسج کو دیکھ کر وہ مسکراتی ، شرماتی فون کو اپنے بیاگ میں محفوظ کرنے لگی .اسے ایسا محسوس ہونے لگاکہ کسی نے اس سے سرگوشی کی کہ زیبا زندگی اب پوری طرح احمر کے خوب صورت اور مضبوط حصار میں محفوظ ہے ـ
  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ 
روزنامہ منصف گھر آنگن ... 28/ سپتمبر 2022


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]