دریا
دریا دریا پیاریا پیاریا بہہ کر جاتا سارا سارا
بہتا پانی کیسا سچا لگتا جیسے آئینہ اچھا
گلہ نہ کرتا بہتاجاتا مشکل آساں کرتا جاتا
رنگت اسکی نیلی دیکھو آکاش زمین پر اترا دیکھو
مذہب ، ملت یہ نہ کہتا پانی نعمت ہے یہ کہتا
حکم ربی بجا ہےلا تا دوڑ اجاتا بہتا جاتا
بہتا دریا اٹھتا دریا پیار ادریا نیلا دریا
ناگن جیسا لگتا دریا سب کی دلار ا اپنا دریا
سبق ہم کو دیتا دریا مدام چلنا کہتا دریا
طوفانوں سے ڈر ہے کیسا سیلابوں سے خطرہ کیسا
علم کو مانوپانی جیسا بہتا جائے دریا جیسا
دریا جیسا چلتاجائے علم رکے نہ بڑھتاجائے
علم کا کوئی مول نہیں وہ خاص ہے کوئی عام نہیں
کرنا چاہو قوم کی خدمت دینا چاہو سب کو راحت
لازم علم کو خود پر کرنا دریا جیسا خود کو کرنا
دریا جیسا بہتے جانا علم و ہنر دیتے جانا
(فہمیدہ تبسّم , نلگنڈہ،تلنگانہ)
