اے وطن



               تمھاری  مٹی    میں جو خوشبو ہے اے وطن

               وہ دیگر زمینوں میں کہاں ہے اے وطن


پیار محبت خلوص یک جہتی یہ ہے تتلیاں گلشن وطن

ان سے ٹھنڈک آنکھوں کی سب کو ہے اے وطن


دے کر اپنی اپنی خوشیاں مرکر لی ہے آزادی

کھو کر پایا ہے اب پاکر کھو نا نہیں ہے اے وطن


بہتی ندیاں پربت سارے وادیوں کا یہ کہنا ہے

دنیا ساری پیاری ہے اس سے پیارا ہے تو اے وطن


علم و ہنر کا گہوارہ تو تیری پہچان میٹھی بولیاں

دُنیا نے ہے تجھ سے سیکھا اپنائیت کا درس اے وطن


وه دانش ور وہ علمبردار وہ مصلح کہاں ہیں

آج پھر تجھےمدرسے کی ضرورت آن پڑی ہے اے وطن


اعاده جو تو کرلے گا پھر سے سارے اسباق کا

ناکامی نہ ہوگی دُنیا میں پھر سے تجھے اے وطن


تیری مٹی میں وہ خوش بو قائم رہے اے وطن

جو آکر ہوا آباد اس خوش بو میں ہی مدفن ہوا اے وطن


✍️ فہمیدہ تبسّم (ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ) 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]