بچپن‎


 

صبح سویرے اُٹھ جانا  گھر کے باہر چلے جانا


منھ نہ دھوکر کچھ بھی کھانا گھر آکر پھر ڈانٹ کھانا

امی ابو دیدی بھیا    دادا دادی سے بھی لاڈ جتلانا

پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن

لینےآس چھٹی کی  دوڑ  مدرسه کولگانا

سب سے پہلے بھاگ کر پھر گھر کو جلدی آنا

خوشی خوشی داخل ہوکر سلام بڑوں کوکرنا

پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن

آوازیں پرندوں جیسی ہر وقت کرتے رہنا

بہانا نیند کا کرکے آدھی رات تک جاگتے رہنا

پریوں کی کہانیاں دادی سے سنتے رہنا

پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن

دعوت آنے پر خوشی خوشی تیار ہوجانا

پھر دعوت میں جاکر کرسی پر سوجانا

خوابوں میں ہی دعوت کا مزه لوٹنا

پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن

نہ کسی سے بیر نہ حسد اور نہ ہی لڑائی

کرتے بڑے لڑائی تو چپ ہوکر کر جانا پڑھائی

چپکے چپکے دعا کرنا کہ  ہو جائے ختم یہ لڑائی


پیارا پیارا ہوتا بچپن کتنا پیارا ہوتا بچپن

(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]