جگنو



کون جانے کہاں سے آیا   زمین  یا آسمان سے آیا
ساتھ میں اس کے چاند نہیں ۔  ستاروں کی برات نہیں

دیکھا ہم نے تارہ زمین پر     اڑتا پھرتا ستارہ زمین پر
جاکر پکڑے دل للچائے۔  من سےتو  وہ خوب ہے بھا ئے

تاریکی کو دن ‌میں بدلے  منظر کو ہر روشن کردے
 تب جاکر راز یہ  دیکھا ۔ اللہ کی قدرت کو  دیکھا

نہ ہے شمع نہ وہ ستارا    نام ہے جگنو وه ہے اجالا
 موسم برسات اس کو بھاتا   رات کو دن کر نے آتا
 
 بولے ابو ڈر ہے کیسا۔   چھو کر دیکھو لگتا کیسا
 اس کے پیچھے دوڑا بھاگا۔   مجھ سے  تیز ہےوہ بھاگا
 
ہنس کر پوچھا جگنو۔     بنو گے تم بھی جنگو ؟
علم سے کر لو خود کو روشن    ۔  کرنامنظرکو ہر روشن

 علم فلک کا تم ہو ستارہ۔     روشن تم سے ہوہر کناره
  دیں و دنیا کے تم جگنو۔  علم و ہنر کے  تم جگنو

میں نے سن لی جگنو کی۔    بات ہے سچی جنگو کی
  ہوگی محنت جگنو جیسی   روشن دنیا جگنو جیسی

 ( فہمیدہ تبسّم )

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]