تعلیمی سال




کہاں گیا وہ تعلیمی سال   کدھر گیا وہ تعلیمی سال
امنگیں نئ تھیں ارادے نئے تھے    کتابوں کے سارے اسباق ننے تھے

خوشی سے نہال دل سب کے تھے     آنکھوں میں ستارے چمک رہے تھے



سبھی اسباق پہلے پہل پڑھ لیے تھے۔۔     مدرسہ جا نے کی طلب لیے تھے 

مگر تھا نہ پتہ ہر کسی کو۔    کہ قدرت کے ارادے کچھ اؤرہی تھے

و با نے یہ کیسی مچائی ہے دھوم     سب ہی بشر سکون کی سانسیں لئیے   تھے

ہے قدرت جلال پر آج لوگو۔ تم گناہ کی خبر سے بے خبر 
 سوئے ہوئے تھے
 
غلطیوں کی زد میں بڑوں کے آئے بچے 
  جو  شو غیوں میں بچپن کی  مگن تھے

  دوبارہ نازل کی سزایں  جو صدیوں پہل خدا نے نازل کئے تھے

قدر نہ جانی نعمتوں کی سبھی نے۔    چھین لیے قدرت نے سوغات جو دیئے تھے

ہے وقت تو بہ کا سب کے لیے    گنا ہوں کی گٹھڑی جو سر پر لیے تھے

 
۔ عرش مولا کے ساے میں آجایں سب     مٹاکر گناہ جودلوں میں موجود تھے

بحال زندگی سبھی کی ہو گی  خدا کی قدرت جو رحم کھا ے گی

پھر ہم بھی اسکول جانیں گے۔ شادمانی ہر طرف مناینگے


  پھرہو جائیگا نیا یہ سال   امنگوں بھرا شکر والا سال

(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)

 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]