زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٧

 
 ہیلو اسلام علیکم .. وعليكم اسلام ! کیا ہورہا ہے رانی صاحبہ جی کچھ نہیں آپ بتائیے ناشتہ ہوگیا ؟ ہاں اثیر کیا کررہے ہیں ؟ کھیل میں مصروف اچھا ، اب سنو ایک اچھی خبر ، وہ کیا ؟ امی نے نئے بزنس کے بارے میں حامی بھرلی ہے . سچ ... ہاں شکر ہے خدا کا ! اب میں ذرا آفس کے لئے بلڈنگ کی تلاش میں جارہا ہوں . دوپہر میں آنے دیر بھی ہوسکتی ، جی ، ٹھیک ہے الله حافظ .. جی فی امان الله .
    کہیں ملی بلڈنگ کچھ آفس کے لئے ہاں بتاتا ہوں ذرا سانس لینے دو اور جی بھر کے تمہیں دیکھنے دو پھر بچے کو بھی پیار کرنے دوارے بھئی آتے ہی حملہ وہ روم میں داخل ہوتے ہی ہما کے سوال پر ہنستا ہوا کہنے لگا۔ اوکے بابا آپکی ساری تھکان اترنے کے بعد ہی بات کرتی ہوں . وہ بھی مسکرادی 
  آسیہ آنٹی کے ہاں خالی ہے سامنے آفس اور پیچھے گھر ہے مجھے تو سمجھ میں آگیا آپ بھی چل کر دیکھ لیتیں . ارے مجھے دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اگر آپ کو بہتر لگا تو آنٹی سے بات کرلیں ، ہاں وہ فرسٹ فلور میں رہنے لگی ہیں . اچھا تو پھر ٹھیک ہے . بات کیجیے اوکے با ت کرکے آج ہی اڈوانس دے دیتا ہوں . جی ، چلئے کھانا نکالتی ہوں ہاں چلو .
  مگر اشہر بیٹا تم یہ الگ بزنس کا خیال کیوں کررہے ہو ؟ آنٹی امی نے سارا بزنس شرجیل کو سونپ دیا ہے اب لڑائی جھگڑا کرنا مجھے گوارا نہیں اور ایسی نیچ حرکت مجھے آتی بھی نہیں رہی دوسری بات وہ ہما کو الگ رکھنے کو بضد ہیں ، جبکہ مجھے سسرال میں رہنا پسند نہیں ان ساری جھنجٹوں سے بہتر ہے کہ بزنس لگالوں ، اور یہیں پر مکان کی ذمہ داری فیملی کی دیکھ بھال بھی ہوجائے گی ، ہاں ! اب تو اور سکون ہوگیا کہ آپ اوپر ہی رہتی ہیں اشہر نے مختصر طورپر کہہ دیا ،، ہاں ؛ آپا ایسا کیوں کررہی ہیں ؟ تعجب کی بات ہے ، آسیہ تشویش کا اظہار کرنے لگی . امی ذرا تو ہم پرستی کی طرف مائل ہوگئی ہیں ، نعوذ بااللہ ! وہ کیوں ؟ پتہ نہیں ہر وقت اسی تفکر میں لگی ہوئی ہیں کہ ایسا کرنے سے یہ ہوجائے گا اگر ویسا کریں گے تو وہ ہو جائے گا، خیر چھوڑے آنٹی مجھے تو کوئی فرق پڑ نے والا نہیں ہے ، باقی انکی مرضی اور منشا ! اچھا ہما کو نہیں لائے ساتھ میں جی نہیں وہ ذرا مصروف ہے اپنے بیٹے کو نہلانے میں ، اچھا ٹھیک ہے ، سارہ اور زارا نظر نہیں آرہی ہیں ، ہاں وہ کالج میں کچھ کام آ گیا تو گئیں ہوئی ہیں آتی ہی ہونگی ، ٹھیک ہے آنٹی میں چلتا ہوں . کل قرآن خوانی کروالوں گا . ہاں ٹھیک رہے گا .
    الحمد اللہ الله تعالٰی کا بڑا کرم ہوا ہر کام آسان اور سہل ہوگیا . ا شہر کو ایک ذہنی سکون مل گیا اور ہما بھی مطمئن تھی . عاصمہ ردا اور شرجیل سب نے آکر اشہر کے نئے بزنس کو دیکھا اور ساتھ میں خوشی کا اظہار بھی کیا آ یسہ بھی خوش تھی . بھانجہ ہی کرایہ دار ٹہرا .
   ہر طرف ا شہر کے بزنس کے چرچے ہونے شروع ہوگئے ، ہما اور اشہر بہت خوش تھے ، ادھر شرجیل کے بڑے بھائی سعودی سے آکر شکیل صاحب یعنی شرجیل کے والد کی دوکان کو اپنے ہاتھ میں لے لیے اور شرجیل نے ادھر اشہر کا سارا بزنس اپنے ہاتھ میں لے لیا ، زندگی حسب معمول چل رہی تھی . نہ کوئی غم نہ پریشانی . اور نہ ہی کوئی تناؤ .
  ہر روز آسیہ کی لڑکی سارہ آکر ہما سے باتیں کرتی اور اثیر کو خوب مزے کرواتی ، ہما کا دل بھی بہل جاتا اور اثیر تو ساره کا اتنا عادی ہوگیا کہ اسے جانے نہیں دیتا خوب رو اور کتابی نقوش کی ساره ہما کو بہت پسند آگئی . دونوں میں گہری دوستی بھی ہوگئی تھی . تعلیم مکمل کرکے وہ فرصت سے گھر میں رہنے لگی . اور آسیہ اس کے شادی کے بارے میں سونچنے لگی .
    آسماں یہ کیسے کیسے رخ دکھلاتا ہے
 آفتاب کو بادل کے سایہ میں بھی لاتا ہے

 خوشی کے رنگ سے خوش تر نہ ہو کوئی
غموں کے اندھیروں میں بھی گھر جاتا ہے

  ایک دن پیر پھسل کر ہما گر پڑی اور .....( جاری ہے)۔ ( باقی آئندہ)۔ (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]