زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢٢



دوپہر کو وہ لنچ ٹیم پر گھر پہنچا. حسب دستور ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا وہ کسی سے کچھ کہے بغیر ظہرانہ شروع کردیا ردا اور عاصمہ بھی اکر بیٹھ گئے جبکہ شرجیل موجود نہیں تھے ۔ بھیا ! . بھابھی کیسی ہیں اور اثیر ، سب خیریت ! وہ طویل گفتگو سے گریز کرتا ہوا کہنے لگا . وہ کھانا ختم کرتا ہوا اٹھ کر چلا گیا .
 امی بھیا نے ایسی بے رخی کیوں برتی وہ ماں سے سوال کرنے لگی ، برتنے دو اس سے ہمیں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ، عاصمہ نے برجستہ جواب دیا .
 دن گزرنے لگے اور ہما میکے میں رہنے لگی ، قریب چھ ماہ ہونے کو تھے کہ اس کی ماں نے بالمشافہ بات کردی " آخر بات کیا ہوئی بیٹی جو اشہر میاں اس طرح سے تمھیں یہاں رکنے کو کہہ رہے ہیں اور اب چھ ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے ، دیکھو ہما کوئی اولاد ماں باپ پر بوجھ نہیں ہوتی اور خاص کر بیٹی تو رحمت ہوتی ہے لیکن اسکا جائز مقام بیاہ کے بعد سسرال ہوتا ہے ۔ میکہ تو مہمان خانہ ہوتا ہے . " مجھے شک سا ہورہا ہے کہ وہاں کچھ زیاده ہی تناؤ والا معاملہ چل رہا ہے اور ا شہر تم سے کچھ راز رکھے ہوئے ہیں . ہاں امی مجھے بھی ویسا ہی کچھ سمجھ آرہا ہے ، خیر چھوڑئیے اس بات کو میں  آپکوتیقن دیتی ہوں کہ اشہر سے آج کل میں اس بارے میں بات ضرور کرونگی.
  دیکھا امی میری بات آپ سمجھ نہیں پارہے تھے یہ دیکھئے بینک سے نوٹس آئی ہے ، بیس دن کے اندر اندر پچاس لاکھ داخل کرنا ہے ورنہ ایک گاڑی ضبط کرلی جائے گی . وہ اداس لہجہ میں عاصمہ کے سامنے نوٹس رکھتا ہوا کہنے لگا . تو کیا ہوا تم تو ایسے بتا رہے ہو کہ ساری گاڑیاں ضبط کرلیے جائیں گے . ایک ہی تو گاڑی نا ، امی آج ایک ہے آگے کو پتہ نہیں .... بس کرو اشہر تم تو نا ہر وقت بد شگونی کی باتیں ہی کرتے ہو ، بیوی ایک بد شگونی لے کر گھر آئی اور یہ ہے کہ ہمیشہ سے دوسروں پر طعنہ مارتے رہتا ہے . اور سارے بزنس کا خاتمہ کرنے کو سونچتا ہے .
  ہما ہم سب کے لئے نیک شگون ہے امی اور آپ اس بیچاری پر غلط بیانی کرکے خواه مخواه خود کو گناہ میں ڈال رہی ہیں .

ذرا کیا رنگ بدلا زندگی نے اپنا
سب نے اپنا اپنا رنگ دکھلا دیا 
   ہما کے پاپا کے وصال کے بعد وہ لوگ مجھے گھر جمائی بنانا چاه رہے تھے تب آپ سب نے ناراضگی ظاہر کی تھی . اب کیوں مجھ سے اور ہما سے آپ لوگوں کو گھن سی ہورہی ہے ، اگر ایسی بات تھی تو اس وقت ہی ہمیں جانے کا موقعہ دے دیا ہوتا سب سکون اور خوشی سے رہ لیتے .
  مجھے کیا پتہ تھا کہ ہما اور تمھیں گھر بلوانے والے پر ہی بلا آئے گی ، تمہارے پاپا کو تم سے اور تمھاری بیوی سے بہت محبت تھی اس لئے تم دونوں کو بلوائے ، اور نتیجہ کیا نکلا خود سپرد خاک ہوگئے۔ کاش تب وہ میری بات مانتے تو آج زندہ رہتے شائد ! آپ کفر کی باتیں کیوں کر رہی ہیں امی ! موت اور حیات کا فیصلہ تو صرف خدا واحد ہی کرتا ہے ، وہ ماں کو سمجھا تا ہوا کہنے لگا ، مجھے کسی کی کوئی بات سے ذرا بھی لگاؤ یا دل چسپی نہیں ہے ، بس مجھے جو کچھ سمجھ آرہا ہے وہی کررہی ہوں ، اب ہما اس گھر میں نہیں آئے گی ، مگر امی آخر کو کب تک وہ وہاں رہ سکے گی ، تو تم گھر جمائی بن جاؤ اس میں برا کیا ہے ، وہ اس طرح کے جملوں کے لئے تیار نہیں تھا، ماں کی بے رخی اور سنگدلی نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔ امی پھر یہاں کا بزنس کون دیکھے گا ؟ اس کی فکر تم نہ ہی کرو تو بہتر ہوگا ، آپ تو مجھے خاطر میں ہی نہیں رکھ رہی ہیں امی ، تم گھر کے داماد نہیں ہو جو خاطر مدارت کروں !
 آخر کو آپ مجھ سے  چاہتی کیا ہیں امی ؟ سارا بزنس شرجيل کے حوالے کردو اور تم جاکر سسرال میں گھر جمائی بن جاؤ ، بس اور کچھ نہیں میری  یہی چاه ہے اور اسے تم حكم بھی مان سکتے ہو ، وه ہکا بکا اور متحیر ہوکر سننے لگا ، اور جواب اس کے پاس موجود نہ تھا ، عاصمہ وار پر وار کررہی تھی اور وہ اس طرح کے حملوں کے لئے تیار نہیں تھا پہلے ہما کو طلاق یا خود سے علحیدگی کی شرط اب جا کر گھر جمائی بننے کی ایسی کتنی شرائط کو اور سہنا ہوگا ، یہ کیسا امتحان ہے . کیسی آزمائش ہے میں تو تھک سا گیا ہوں وہ خود کو بہت ہی کمزور سا محسوس کرنے لگا ، ان تمام باتوں میں تمہاری ہی بھلائی ہے عاصمہ نے اسے دوباره مخاطب کیا ، کیا بھلائی ہے امی ذرا اس کی تفصیلات سے بھی مجھے آگاه کردیں مہربانی ہوگی . تمہارے سسر  سردار خاں کے سارے بزنس کے مالک تم ہی ہونگے اور جائیداد کے بھی اور خوب صورت حسين بیوی بھی تمھاری ہی ملکیت ہوگی . اور ماں کے رشتے سے بھی بندھے رہو گے .
  واہ ری زندگی تیرا رنگ تو دیکھا 
اب روپ نرالے دیکھنے باقی ہیں
    (جاری ہے)(باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
  
 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]