زندگی کے رنگ قسط ٢٤
کیا بات ہے آپ کچھ پریشان نظر آرہے ہیں ؟ ہما نے اس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے پوچھ لیا ، ہاں یار پریشانی اور مصیبت کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے کبھی پریشانی تو کبھی مصیبت انسان کب چین کی بانسری بجا پایا ، گود سے گور تک انسان پریشان حال ہی رہتا ہے . کبھی خود کی پریشانیاں تو کبھی دوسروں کو سکون سے دیکھر پریشانی بہرحال ہروقت ٹینشن لگا رہتا ہے ، ارے میں نے آپ کے بارے میں پوچھا اور آپ ہے کہ فلاسفی شروع کردی ، دنیا سے ہمیں کیا لینا دينا ہمارے خاندان کا ہم دیکھیں گے . ہما نے تنبیہہ کر ڈالی. اوکے چھوڑیے ان باتوں کو چلیئے کھانا نکالتی ہوں کھا کر بات کرتے ہیں .
ہاں اب بتائیے سب خیریت سے ہیں نا . ہاں الحمد لله سب ٹھیک، ہما میں آپ سے کچھ بات کرنا چاه رہا ہوں ؛ مجھےبھی آپ سے بات کرنا ہے . ! اچھا تو پھر پہل آپ سے وہ ہما کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا ، ارے نہیں آپ بتائیے وہ بضد تھی ، خواتین پہلے وہ مسکراتا ہوا کہنے لگا . اچھا ٹھیک ہے میں ہی بتا دیتی ہوں . بات یہ ہے کہ امی نے ہمارے مسائل کیا ہیں پوچھا ہے ، میرا مطلب یہ ہے کہ آخر کیا بات ہوئی جو اتنے مہینوں سے میں یہاں مقیم ہوں ، پھر تم نے کیا جواب دیا۔ کچھ نہیں آپ مجھے یہاں لائے اور میں یہاں ہوں بس اور کیا ! اوکے گڈ بہت اچھا کیا !. خیر جانے دیں، اب آپ بتائیں کیا بات ہے ، اشہر بہت ہی ٹال مٹول کرنے لگا کہ وہ ہما کو حقیقت سے آگاہ نہ کرے لیکن ضروری تھا اب سب کچھ بتادینا . ، ہما میری ایک تجویز ہے اس میں آپکا مشورہ درکار ہے جی ! کہیے! میں سعودی عرب جانا چاه رہا ہوں ، کیوں ؟ وہ ششدر ہوکر پوچھنے لگی ، ارے بابا اس میں اتنا مبہوت ہونے کی کیا بات ہے ، وہ ا شہر کے قریب آکر اس کے سینے سے لگ گئی ، دیکھو آپ یہاں بیٹھ جاؤ میں ساری تفصیلات بتاتا ہوں پھر فیصلہ آپ خود کر لينا اوکے ، اب امی ہمارا بزنس زیادہ تر شرجیل کے حوالے کئے ہوئے ہیں اور میری ذمہ داری بھی زياده نہیں رہی بلکہ یوں کہنا بے جا نا نہ ہوگا کہ مجھے امی بزنس سے بری الزمه کرنا چاہتی ہیں . اور آپ کب تک یہاں اس طرح سے رہنا مجھے پسند نہیں، ہاں تو چلتے ہیں اپنے گھر ہما نے معصومیت سے کہا ، اپنے گھر ؟ وہ سوال کرتا ہوا بيوى کو دیکھنے لگا ، ہاں اور کیا ، آپ بے خبر ہیں امی کو آپ کی موجودگی اس گھر میں گوارا نہیں ، کیا ؟ ؟ ؟ وہ اس بات کو سننے کے لئے تیار نہیں تھی ، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں وہ شوہر کو خفگی سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی ، میں سچ کہہ رہا ہوں ہما آج میں نے ٹھان لیا ہے کہ ساری باتیں آپ سے شیئر کر لوں ، وہ روہانسی اسکی طرف تکے جارہی تھی . مگر کیوں ؟ پتہ نہیں میں خود کافی بورا نا ہوں امی کے اس رویہ سے ، میری عقل ساری کی ساری ختم ہوگئی اور ان کے پلان کیا ہیں وہ اس طرح سے کیوں کررہی ہیں میں سمجھنے سے قاصر ہوں ، مجھے خود تشویش ہورہی ہے اور روز روز انکا رویہ غلط ہی ہورہا ہے ، اب وہ ضد پر ہیں کہ آپ اس گھر میں نہیں رہنا اور اگر آپ کو میں لاؤں گا تو وہ دوسری طرف کرایہ کا مکان لیکر رہ لیں گیں . وہ کہتے جارہا تھا جب ساری باتیں ہو گئیں اس نے ہما کو دیکھا جو زاروقطار رو رہی تھی . اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ، ارے آپ تو زیادہ ہی دل پر لے رہی ہیں یار وہ یک دم اسکو دلاسہ دینے لگا . مجھ سے امی کو کیا شکایت ہے ؟ وہ سوال کرنے لگی ، وہی تومجھے بھی معلوم نہیں .
ابرونا دھونا نہیں بلکہ الله پر بھروسہ کرکے ہم خود اپنا فیصلہ صادر کردیں گے بتاؤ کیا کرنا ہے وہ ہما سے ہی پوچھ بیٹھا؛ میں ہاں آپ ہی ، مجھے نہیں پتہ ارے دماغ پر زور ڈالو کچھ نہ کچھ حل ضرور نکل آئگا جان پہلے جاکر چائے لاؤ اس کے بعد دیکھیں گے . وہ چائے لانے چلی گئی .
اے غم زندگی کچھ تو دے مشورہ ، تیرے امتحان کا وقت آپہنچا . یہ رشتوں کے بند هن نہیں دل میں بسے سپنے ہیں جو کبھی حقیقت بن کر ابھرتے ہیں تو کبھی صرف سایہ بن کر رہ جاتے ہیں . وه چائے بناتی ہوئی کھو سی گی ، یہ سب کیا ہورہا ہے ، میں نے وقت اور حالات کے ساتھ ہر ایک سے سمجھوتہ کرلیا تھا پھر مجھ سے کیوں ناراضگی برتی جا رہی ہے اگر وہ اشہر کو مجھ سے علیحدہ کرنا چاہتی ہیں تو صاف کہہ سکتی ہیں مجھے اس طرح سے ذلیل کرنے کا مقصد کیا ہے ، سسرال میں بہو کو رہنے کی جگہ میسر نہیں تو وہ کہاں جائے گی ، ؟ کدھر رہ لے گی ؟ یہ کیسا مرحلہ امتحان ہے ، یہ کیسی آزمائش ہے چائے کے ابال سے اسکی توجہ اُدھر ہوگئی
چائے بڑی مزید ار ہے ہما جی شکریہ وہ نارمل سا جواب دے گئی ، اب بتاؤ کیا کریں گے ؟ آپ نے امی سے نہیں پوچھا کہ ہما یہاں نہیں۔ رہے گی تو پھر کدھر جائے گی ؟ میں نے امی کو بہت سمجھایا ہما لیکن وہ ہر نقصان کی ذمہ دار آپ کو ٹھرا رہی ہیں ، خاندان کے سارے اموات کی آپ واحد ذمہ دار مانتی ہیں ، اب ان کے دماغ میں فتور چڑ گیا ، میں کچھ بھی کہوں اسکا منفی ہی جواب دیتی ہیں خیر جانے دو ہم اپنے حساب سے کریں گے . آپ کا خیال کیا ہے ؟ آپ بیرون ممالک جانے کے بجائے یہیں پر دوسرا بزنس لگا لیجیے ، وہ کیسے ؟ اشہر دل چسپی سے پوچھنے لگا . ہما نے بھی ٹھان لیا کہ سارے رشتوں کو توڑے بغیر رشتوں میں استواری قائم رکھتے ہوئے زندگی جی کر بتائے گی اور ا شہر کا ہر قدم پر ساتھ دے گی ، اشہر کو کبھی ٹوٹنے نہیں دے گی ..
جو کچھ رقم ہمارےہاں محفوظ ہے اس سے ہم الگ بزنس شروع کردیں گے . الله نے چاہا تو انشاء الله ترقی ہوگی اس طرح سے ہم بکھرنے سے ره جائیں گے اور ایک اور بزنس ہماری ملکیت میں آجائے گا، ہاں یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن کرنا کیا وہ بھی سونچو رانی ، یہ سب آپ مجھ پر چھوڑ دیں اور وعده کیجیے کہ آپ امی سے اس معاملہ میں بحث نہ کریں جو ان کی رضا ہے وہی کرنے دیں. او ہما آپ سچ میں پری ہو جس کے دل میں کدورت نہیں نفرت نہیں صرف محبت ہی محبت بھری ہو . جان میں بڑا نصیب والا ہوں وہ شرمانے لگی . اشہر نے اسے اپنی مضبوط باہوں میں بھرلیا اور ڈھیر ساری چاہتیں اس پر نچھاور کرنے لگا۔
زندگی وہ نہیں جو دوسروں سے ناامید ہو چلیں
زندگی تو ہر گھڑی ایک نئی امید و کاوش کا نام ہے
جس نے خود اپنے عزم سے رنگا ہے زندگی کو
وہی حق دار بنا ہے تصویر قوس قزح کا یہاں
آسمان سے مانگ لو خوش رنگ سبھی
بن جائے گی تمهاری رنگین زندگی تبھی
( جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)