زندگی کے رنگ قسط ٢٦
عاصمہ ورده کو لیے ہال میں ٹہل رہی تھی ۔ السلام عليكم امی ا شہر ماں کو سلام کرتا ہوا اپنے روم کی جانب جارہا تھا ، وہ حیران کن نظروں سے بیٹے کو تاک رہی تھی ، آج وہ بہت خوش اور مطمئن نظر آرہا تھا، عشائیہ پر عاصمہ نے پوچھ ہی لیا. کیا بات ہے آج بہت مسرور نظر آرہے ہو کوئی خاص بات ہے کیا؟ کچھ نہیں امی ایسی کوئی بات نہیں ، اسے ابھی سے اس مدعا پر بات کرنا پسند نہیں تھا . اچھا ہما اور اثیر خیریت سے ہیں ناں ، وہ غیر ارادی طور پر پوچھ ڈالی ، اتنے مہینوں بعد بیوی اور بچے کی خیر خیریت ماں کے منہ سے سننے کے بعد اسے عجیب سا لگا ، ہاں امی سب ٹھیک الحمد لله، ردا اور شرجیل فارغ ہو کر اپنے روم میں چلے گئے اور وہ بھی اپنے روم میں آ گیا .
رشتوں میں وہ پہلی جیسی محبتیں کہاں باقی رہیں سب رشتے مفاد پرست ہوگئے ہر کوئی خودنمائی کے بھنور میں پھنس گیا ہے . ریاکاری عام ہوگئی ہے ، ایسے مواقع بہت کم میسر ہوتے ہیں جہاں ہم خود کو رشتوں سے صاف دل اور نیک نیتی سے ملتے ہیں . ورنہ ایک دوسرے کی تذلیل ، ہتک اور توہین ، گستاخیاں ، بزرگوں سے ہے ادبی یہ سب عام سا ہوگیا ہے .
دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کرلے ہمارے مذہب اور ہمارے اطوار و اقدار کبھی الگ نہیں ہوسکتے اور ہونے بھی نہیں چاہیے، جس کا نتیجہ ہر لحاظ سے اچھا نکلے ان باتوں کو بالائے طاق رکھ کر لوگ ایک سراب کی طرف دوڑے جارہے ہیں ، وہی کم سونچ ، بد گمانیاں اور ایک دوسرے سے سبقت لینے کی سعی توہم پرستی ، بدعت اور شرک آخر کو کیا حاصل ہوگا وہی جو ہمارے حق میں ہوگا اور پھر ناکامی نامرادی اور نا امیدی ، اور الله رب العزت کی ناراضگی مگر یہاں کون سمجھے گا اس فلسفے زندگی کو وہ ان ہی خیالوں میں گم تھا کہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا .
جب الله تعالٰی ہماری زندگی کو ایک اچھے موڑ پر لانے کا اراده کرتا ہے تو ہمیں ایسے حالات اور ایسی آزمائش سے گزارتا ہے . کہ جس پر ہم صبر و شکر کا دامن تھامے اسکی رضا مندی حاصل کر لیں ۔
فجر کی نماز ادا کرکے وه گھر میں داخل ہو رہا تھا کہ پڑوس کے حمید بھائی نے آواز دی ارے ا شہر میاں کہاں غائب رہتے ہو آجکل دکھائی نہیں دیتے . جی اسلام علیکم انکل! وه زرا کام زیاده رہتا ہے نا ا س لئے بس اور کچھ نہیں ، اچھا اور کہو کیسا ہے بزنس کا حال چال ارے میں تو بھول ہی گیا کہ وہ سارا بزنس آپ کے بہنو ائی کے حوالے ہوگیا ، شائد آپ کوئی نیا بزنس لگا رہے ہو کیا ؟جو زیاده کام لگا رہتا ہے یاں انکل میں نے ہی شرجیل کو اس طرف رکھا اور نئے کی طرف میں نے توجہ مرکوز کی ہے ، اچھا کیا بیٹے آجکل تو لوگ بہت دھوکے دے رہے ہیں کسی غیر سے تو اپنا اچھا ہے نا . ہاں ! اچھا ٹھیک اب چلتے ہیں . الله حافظ اوکے .
یہ حمید انکل کو کس نے کہا کہ شرجیل بزنس کے ذمہ دار بن گے وہ دل ہی دل میں سو نچتا ہوا اندر آگیا . ارے اشہر آج تم ہما کی طرف نہیں نکلے جی نہیں ، کیوں ؟ کچھ نہیں ناشتہ وغیره ادھر ہی ہو جاتا اس لئے پوچھنے لگی . رسوئیا نہیں آئی کیا امی ؟
ہاں اور ردا کہاں ہے کیوں ؟ میں اور ردا ناشتہ تیار کرلیتے ہیں ، نہیں خیر جانے دو تم بیٹھو میں خود بنائے دیتی ہوں وہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔
اسے یاد آیا کبھی کبھی ایسا ہی وقت آجاتا تو ہما جلد وقت پر سب کا ناشتہ تیار کر دیتی تھیں . امی کو کچن میں جانے نہیں دیتی ۔
کسی نہ کسی دن یہ ہونا ہی تھا ، کسی اور دن کیوں ؟ آج ہی بتاد تیا ہوں . امی آپ سے ایک بات کہنی تھی کیا بات ؟ وہ ہما کو .. وہ تو میں نے کہہ دیا نا کہ وہیں رہنے دو ، اب اور کیا ؟ میں نےسعودی جانے کا اراده کیا ہے ؛ اچھا کب جارہے ہو وہ پرسکون انداز سے پوچھنے لگی اسے ماں سے اس طرح کے جواب کی توقع نہیں تھی . ہما نے روک رکھا ، کیوں ؟ اسے پسند نہیں ، اچھا ! تو تم اب ہر فیصلہ ہما کی پسند نہ پسند سے کرنے لگے ہو . وہ حقارت سے کہنے لگی ، ہاں امی آپ اور ہما دونوں کے فیصلے میرے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں . تو پھر میرا فیصلہ سن لو ، کہ تم سعودی عرب چلے جاؤ .
اب تو وہ کشمکشِ میں مبتلا ہوگیا عاصمہ بھی اسے روکے رکھے گی اس خوش فہمی میں وہ کہہ دیا اب کیا کریں ، نہیں امی میں نے کچھ اور سوچ رکھا ہے کیا؟ یہیں پر ایک اور بزنس کی شروعات نیا بزنس کرلوں گا !کیوں ؟ اب ہما کے گھر جانا مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے اور سعودی عرب جا کر وہاں اگر کام نہ ملا وہ بھی رائیگاں ہو جائے گا بہتر یہی ہے کہ یہیں پر کچھ کرلوں ۔ مرضی تمھاری ، جی پھر تو آپ کی اجازت پکی سمجھوں گا . ہاں ٹھیک ہے .
اچھا کیا جو بزنس کے بارے میں ہما کا مشوره شامل ہے نہیں کہا ورنہ امی اسے بھی رد کر دیتیں ۔ وہ دل میں خيال کرتا ہوا باہر نکل گیا .
یہ زندگی کا بازاریہاں سب برابر کے خریدار
تصویر وہی بھلی لگے جس کے رنگ چمکدار
رشتوں میں نکھری اس تصویر کو دیکھو
کسی کونے میں پڑی ایک نظر اُنس کی طلبگار
( جاری ہے) ( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)