زندگی کے رنگ قسط ٢٨
ہما کو ڈاکٹر نے بیڈ رسٹ کہہ دیا ہڈی فرا کچر ہوئی تھی . . ا شہر بہت پریشان ہوگیا ، وہ ہما کو پوری طرح سے دیکھ بھال کرنے کے لئے ایک خاص ملازمہ کا انتظام کرديا ـ اور خود بھی زیادہ تر وقت اس کی خدمت میں صرف کردیتا .
ساره بھی اثیر کی اچھی خاصی دیکھ رکھ کرلیتی. عاصمہ کو ہما کی طبیعت کی ناسازی کی اطلاع ملی وہ اور ردا دونوں مزاج پرسی کے لئے آگئے۔ " ارے یہ سب کیسے ہوا ، گھر میں آئے کچھ ہی عرصہ ہوا اور یہ حادثہ رونما ہوگیا ، یہ تو بہت بُرا ہوگیا " وہ اشہر کو کہنے لگی ، امی یہ سب تو اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے کسی جگہ یا مقام ، یا پھر انسانوں سے نہیں ہوتا ،
تم اس بات پر یقین کرویا نہ کرو مجھے تو گھر صحیح نہیں ہے ایسا کچھ سمجھ آرہا ہے ، وہ اپنی ہی دھن میں کہے جارہی تھی پاس میں سارہ کھڑی سب سن رہی تھی۔ اشہر اور ہما خود میں شرمنده ہورہے تھے ، ردا نے بھی ماں کو اشاره کیا مگر وہ ہر ایک سے لاپرواہ بولی جارہی تھی .
ساره کا زياده تر وقت نیچے ہی گزرتا تھا . جوان دلوں میں امنگیں اور جذبات اور محبت کے ولولے زیادہ ہوتے ہیں . کچھ ایسا ہی حال ساره کا ہونے لگا وہ آہستہ آہستہ اشہر کی جانب کھینچے جارہی تھی جبکہ اشہر ان تمام باتوں سے بے خبر ہما کی تیمار داری میں محو تھا . اشہر تو ہر وہ جذبے سے پاک تھا جو ساره نے اپنے دل میں بسانے شروع کئے تھے ، وه سارہ کو ایک چھوٹی بہن کی نظر سے دیکھا کر تا تھا ، اور اتنے دنوں سے سارہ بھی ا شہر کو ایک بھائی کی نظر سے دیکھا کرتی تھی ، کہتے ہیں کہ رشتوں میں پردہ داری ضروری ہے ورنہ درمیان میں شیطان حائل ہوجاتا ہے اور اپنے غلط اور شیطانی وسوسوں سے اشرف المخلوقات کو مٹھی میں کرلیتا ہے جس سے وہ مجبور ہو کر ہر غلط قدم اٹھا لیتا ہے . رشتہ جب جائز رہا تو بے پردگی جائز ہے . ساره اور اشہر کا رشتہ نا محرم کا ہے جس میں پرده کرنا لازمی ہے مگر اس بات کو نظر انداز کر دینے سے بات کہاں سے کہاں تک چلی جائے گی یہ نہ کبھی اشہر نے سونچا اور نہ ہی ساره نے بھی خیال کیا؛ اب وہ دل کے آگے اپنی ہار مانتی ہوئی اشہر کو حاصل کر لینا چاه رہی تھی جو کہ مشکل ہی نہیں ناممکن تھا . ہما اور اشہر کی محبت دنیا کی ایک انوکھی محبت تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی خوشیوں کی خاطر کئی قربانیاں دیں تھیں . اس لئے ساره کی ا شہر کے دل تک رسائی نا ممکن فعل تھا مگر وہ دیوانی ہوچکی تھی اور ا شہر کو حاصل کرنے کے لئے ہر حربہ از مانے کے لئے تیار تھی .
یہ محبتیں ، یہ چاہتیں کس موڑ کی منتظر ہیں
ہم تو لے بیٹھے ہیں دل اپنا اس ظالم کے انتظار میں
ہما بھا بھی جی ایک بات ہوچھوں ہاں ا شہر بھیا آپ کو کتنا چاہتے ہیں ؟ ارے یہ سوال آپ کے ذہن میں کیوں آیا ؟ وہ حیرت سے الٹا سوال کر بیٹھی . بس یوں ہی ! اوکے ! اچھا آپ ہی بتائیے ساره کے وہ مجھے کتنا پیار کرتے ہیں ، میں ہاں آپ اور کیا ، مجھے کس طرح معلوم ہوگا ؛ آپ نے اندازه تو لگالیا ہوگا اتنے عرصہ سے ہمارے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جو ہو رہا ہے آپ کا ، ہاں بھابھی پر وہ سب تو ٹھیک ہے اور یہ بات تو محسوس کی جانے والی ہے نا، آپ نے کیا محسوس کیا اس بارے میں پتہ کررہی تھی . اچھا ہما مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی ، اب آپ مجھے کیوں تاک رہی ہیں وہ ذرا نروس سی ہونے لگی .
کہیں آپ بھی کسی کو اپنا خوب صورت دل تو نہیں دے بیٹھی ہیں ؟ ہما کے سوال پر سارہ بہت ہی گھبرا گئی ، ارے بھا بھی آپ بھی نا ، یہ محبت اور پیار والی باتیں کسی کو دل دینے سے یا کسی کا دل لینے سے ہی زبان سے نکلتی ہیں سمجھی میڈیم وہ سارہ کو چھیڑتی ہوئی کہنے لگی .
(جاری ہے .... ) ( باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)