زندگی کے رنگ قسط ٢١
حالات ناساز گار ہیں وہ الگ بات ہے لیکن امی کا جاہلانہ رویہ اسکی سمجھ سے قاصر ہے . آخر کو وہ ایک پڑھے لکھے اور مہدب خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے ایسا سلوک کیوں کر رہی ہیں ، وہ ان باتوں کی گہرائیوں میں جانا چاه رہا تھا مگر اسےکچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا . توہم پرستی کو اپنا رہی ہیں آخر ایسا کرکے انھیں کیا حاصل ہوگا . لاکھ کوششوں کے باوجود اسے نیند نہیں آرہی تھی ، ایک تو بیوی ، بیٹا دور دوسرے ماں کی بے رخی کرے تو کیا کریں جائیں تو کدھرجائیں ، سچ اس وقت اسے باپ کی بہت یاد آرہی تھی پاپا اگر ہوتے تو آج مجھے اس طرح پریشان ہوتے نہیں دیکھ سکتے ، ماں تو ممتا کی مورت ہوتی ہے ، بچوں کے لئے سائبان ہوتی ہے ، ایک اچھی دوست ، رہبر اور ایک دعا کی مانند معصوم ہوتی ہے ، کیا یہ سب بے کار باتیں ہیں یا دل کی تسلی کے لئے کہی جانے والی باتیں ہیں . يا دنیا داری یا دکھاوے کے فقرے ہیں ، سب مائیں دنیا کی اگر میری ماں کی طرح سونچیں گئیں تو خاندان سارے کے سارے بکھر جائیں گے اور اولاد کو ماں جیسے مقدس اور پاک رشتے سے نفرت ہوجائے گئی . اس رشتے کی قدر وقیمت اور اہمیت دنیا میں باقی نہیں رہے گی ، وہ سگریٹ پر سگریٹ کے کش لیتے جارہا تھا . وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ، جب اس نے گھڑی پر نظر ڈالی رات کے تین بج رہے تھے . اف تین بج چکے وہ پلنگ پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند کر خاموش اور ذہن کو ہلکا رکھتا ہوا کسی بھی خیال سے پاک رکھتا ہوا سونے کی سعی کرنے لگا .
صبح اٹھ کر وہ سیدھا ہما کے ہاں چلا گیا ، وہ بھی بہت بے چین تھی . اشہر کو دیکھتے ہی خوش ہوگئی اور ناشتہ کی تیاری کرنےلگی ، آپ رات زیاده دیر تک کیوں جاگے ؟ نہیں تو کس نے کہا وہ انجان بنتا ہوا پوچھنے لگا ، سچ بتائیں ، ہاں سچ ہی تو کہہ رہا ہوں آپ اور آپ کے بیٹے کی وجہ سے ڈسٹ بنس ہوتا رہتا کل رات تو چین کی نیند سوگیا . اچھا تو پھر آنکھیں سرخ کیوں ہیں؟ نہیں ! وه وه تو بس يو نہی ، بس اور کوئی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں . چلئے ناشتہ کرلیتے ہیں . ہاں چلو .
امی اور ردا سب خیریت سے ہیں نا ، آپ یہاں آکر کتنے ماہ ہورہے ہیں ہما وه چڑتا ہوا کہنے لگا وه بھی ہنس دی .
سچ آپ کی ہنسی سے میر ا سارا ٹیشن رفو چکر ہو جاتا ہے . بڑا سکون اور ایک قسم کا ہلکا محسوس کرتا ہوں میں . وہ نوالہ ہما کو دیتا ہوا مسکرادیا، وہ بھی مسکراتی ہوئی نوالہ اشہر کو دینے لگی .
محبتوں کے مسافر ہیں ہم منزل ایک ہماری
یہ نفرت کے خار والے راستے جدا نہ کر پائیں گئے
ایک بات پوچھوں ؟ ہاں ہاں کیوں نہیں ایک کیا سو باتیں پوچھ سکتی ہو، وہ کافی اچھے موڈ میں تھا، آپ مجھے یہاں کیوں رکھنا چاه رہے ہیں ؟ ہما بزنس کے بارے میں وہاں سب گڑبڑ چل رہی ہے اور ایسے حالات میں امی آپ کو نشانہ بنا رہی ہیں ، انھیں بھی کہیں نہ کہیں غلط فہمی ہوئی ہے اب ایسے میں آپ کا وہاں رہنا مجھے مناسب نظر نہیں آرہا تھا ، اور کچھ دن آرام بھی ملتا آپ کو بس یہی سب سوچ کر میں نے یہ قدم اٹھایا اور کچھ ـ جی وہ بھی مسکرادی، ہما آپ میرے بارے میں دل میں کوئی غلط گمان نہیں رکھنا وہ اسے دیکھتا ہوا کہنےلگا ، آپ بھی نا ایسی باتیں کردیتے ہیں کہ بس ، وہ بھی مسکرادیا ، اوکے میں چلتا ہوں لنچ کہاں کررہے ہیں . وہاں ، ٹھیک ہے . وہ اثیر کو کس کرتا ہوا چلا گیا
آپ چاہے مجھ سے کچھ نہ کہیں میں نے تو اندازہ لگا لیا ہے کہ میری موجودگی اس گھر والوں کو پسند نہیں ہے . پر کیوں آخر میں نے ایسا کیا غلط کیا جو مجھے بائیکاٹ کیا جارہا ہے ، وہ من ہی من میں سونچتی ہوئی کام میں مصروف ہوگئی .
کس موڑ پر اب لائے گی تو زندگی مجھے
بر موڑ تیرا خطرے سے خالی نہیں ہے .
(جاری ہے)( باقی آئندہ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)